کیا صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے لئے خوش آیند ثابت ہوں گے؟

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کا پاکستان اور بھارت پر کیا اثر پڑے گا، اس بات کا اندازہ کرنا فی الوقت کافی مشکل ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کو “شاید دنیا کا سب سے خطرناک ملک” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان “ایک بہت اہم مسئلہ ہے” جس کونظر میں رکھنے کے لیے بھارت کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالیں گے۔ امریکہ کی نظر میں ڈاکٹر شکیل نے اوسامہ بن لادن کا کھوج لگانے میں ایک اہم کردار ادا کیا، مگر پاکستان نے انہیں دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے وجہ سے قید کیا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر پاکستان کے وزیرِ داخلہ نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ُپاکستان امریکہ کی کوئی کالونی نہیں۔”

دوسری جانب ٹرمپ نے بھارت کا ایک اسٹریٹیجک پارٹنر ہونے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں بھارت کے ایک سچے دوست ہوں گے۔ تاہم انتخابات کی ایک تقریر میں ٹرمپ نے بھارت پر امریکی نوکریاں چوری کرنے کا الزام بھی لگایا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ الیکشن سے صرف دو ہفتے قبل ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گے، اور اگر دونوں ملک بات چیت پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ ایک “زبردست کامیابی” ہو گی۔ پاکستان نے ٹرمپ کی اس پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا۔

ان سب باتوں سے کیا مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے؟ کیا ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں گے؟ یا پھر بھارت کو ترجیح دے کر پاکستان کو تنہا کیا جائے گا؟ کیا ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو محض ایک مسئلے کی نظر سے دیکھے گی؟ یا پھر واقعی ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کر کے خطے میں پائیدار امن پیدا کر سکیں گے؟

ان سب سوالات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت سے متعلق پالیسی پر فیصلے اکیلے نہیں بلکہ ٹرمپ  انتظامیہ کو امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر لینے ہوں گے۔ حالیہ سالوں میں کیپٹل ہل نے پاکستان کو ناپسندیدہ اور دشمن قرار دینے سے گریز نہیں کیا۔ حال ہی میں دو امریکی سینٹرز نے پاکستانی ریاست کو دہشت گردی کا ماخذ قرار دینے کے لئے سینیٹ میں ایک بل متعارف کیا۔ اس کے برعکس، اوبامہ انتظامیہ نے پاکستان کی طرف متوازن رویہ اختیار کیا تھا اور کیری-لوگر-برمن ایکٹ بھی متعارف کیا جس میں امداد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے جمہوری اداروں کو مظبوط بنانے پر بھی زور دیا ۔ اس کے علاوہ جب ۲۰۱۲ میں کانگریس نے بلوچستان پر سماعت کی، تو صدر اوبامہ نے خود کو اس سماعت سے یکسر الگ رکھا۔

اب امریکہ کے دونوں ایوانوں یعنی “ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز” اور سینیٹ میں “رپبلیکن پارٹی” کی اکثریت ہے، اور آنے والے صدر پاکستان سے ایک مسئلے کی حیثیت سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر وائٹ ہاؤس اور کیپیٹل ہل مل کر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ پاکستان کے لئے یقیناً ایک منفی پیشرفت ہو گی، جبکہ بھارت کو خاصا فائدہ ہو گا۔ امریکہ کے جانبدارانہ رویے سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو گا۔ جیسا کہ میرے ساتھی “ایس اے وی” مصنف حمزہ رفعت لکھتے ہیں، امریکہ کو “بھارت کا حمایتی بننے کے بجائے پاک-بھارت تعلقات میں ایک متوازی کردار ادا کرنا ہو گا۔”

ایسا نہ ہونے کی صورت میں ٹرمپ کی پالیسیوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ مزید دیرپا اورتعلقات سخت  کشیدہ ہو جایئں گے جس کے سبب ایک طرف امریکہ اور بھارت کے تعلقات مضبوط تر اور  دوسری طرف پاک چین دوستی مزید گہری ہو جائے گی۔

Click here to read this article in English

***

Posted in , Pakistan, United States

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi is an Associate Professor in the School of Politics and International Relations at the Quaid-e-Azam University, Islamabad. His research interests border on nationalism and ethnicity, theories of International Relations and democracy/democratization. He is the author of "The Politics of Ethnicity in Pakistan: The Baloch, Sindhi and Mohajir Ethnic Movements," published by Routledge in 2012. He was an SAV Visiting Fellow in January 2017.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *