پاکستانی میڈیا، حکام، اور سچ

Media-journalism-newspapers

کچھ عرصہ قبل پاکستان کے معروف انگریزی اخبار “ڈان” کے مشہور ترین کالم نگار سرل المائڈہ نے ایک سنسنی خیز خبر دی۔ خبر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کلعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے سے مطعلق سولین اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ خبر کے مطابق سولین حکومت نے عسکری قیادت پر زور ڈالا کہ وہ مسعود اظہر اور جیشِ محمد، حافظ سعید اور لشکرِ طیبہ اور حقانی گروپ جیسے عسکریت پسند لیڈران اور جماعتوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کریں۔

 

سرل المائڈہ کی خبر سے ایک تنازعہ چھڑ گیا، اور حکومت نے المائڈہ کا نام “ایگزٹ کنٹرول لسٹ” پر ڈال کر ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی۔ وزیرِ اعظم کے دفتر نے بھی بیان جاری کیا کہ سولین اور فوجی قیادت کے بیچ اختلافات کی خبر جھوٹ ہے۔

 

 اگرچہ اب سرل المائڈہ کا نام “ایگزٹ کنٹرول لسٹ” سے ہٹا دیا گیا ہے، پاکستان میں کئی مبصرین کی رائے ہے کہ سرل المائڈہ کے خبر کی تصدیق کرنے کے لئے حکومت کے یہ معاندانہ اقدامات ہی کافی ہیں۔ اس محاذ آرائی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر وزیرِ اعظم نواز شریف کے فوج کے ساتھ غیرمستحکم تعلقات روشنی میں آ رہے ہیں۔ نواز شریف اور “سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ” کے بیچ پیچیدگیوں کی موجودگی کوئی راز نہیں، مگر یہ حالیہ تناوؤ ایک بہت اہم موڑ پر آ کر نمایاں ہوا ہے۔

hamzah-panama-e1476476818847

پاکستان میں بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نواز آرمی چیف راحیل شریف، جو کہ ملک میں بےانتہا مقبول ہیں، کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ “ڈان” کی خبر سے یہ رائے عامہ مزید مظبوط ہوتی ہے۔ اس وقت حکومتی اور عسکری قیادت کے بیچ اختیارات پر جنگ جاری ہے۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرل المائڈہ پر پابندی صرف اس جنگ سے توجہ ہٹانے کے لئے لگائی۔ جنرل شریف کی جلد آنے والی “ریٹائرمنٹ” کے بعد نواز شریف کو نئے چیف کا انتخاب کرنا ہو گا۔ عوام اس اہم فیصلے میں حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کے بارے میں اب انتہائی چوکس ہو گی۔

 

دوسری جانب، فوج کے لئے اس مبینہ پیچیدگی کے نتائج اور بھی زیادہ منفی ہیں۔ اس وقت پاک بھارت تعلقات نازک ہیں اور امریکہ پاکستان پر کلعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے زور ڈال رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ پاک فوج خطے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لئے کچھ جہادی تنظیموں کی کفالت کرتی ہے۔ ان حالات میں”ڈان” کی خبر سے ایسے خیالات کو مزید تقویت ملتی ہے۔

 

اس ساری صورتِ حال میں شاید سب سے زیادہ نقصان پاکستان میں صحافت کی آزادی کو ہوا ہے۔ یہ ایسا پہلا واقعہ نہیں جب پاکستانی میڈیا کو ریاستی اداروں کے اندرونی نظام کے بارے میں خبریں افشاء کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ دو سال قبل، معروف صحافی حامد میر نے آئی ایس آئی پر افغان طالبان کی حمایت کرنے اور امریکہ کو ڈرون حملوں کے ہدف فراہم کرنے کے الظامات لگائے۔ فوج کی اس مخالفت کی وجہ سے جلد ہی حامد میر فوج کے بے شمار حامیوں، حریف میڈیا تنظیموں، اور منفی عوامی رائے کا نشانہ بن گئے۔  اپریل ۲۰۱۴ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حامد میر شدید زخمی ہو گئے، اس واقعہ کا ذمہ دار بھی انہوں نے آئی ایس آئی کو ہی ٹہرایا۔

 

ایک اور مثال “نیو یارک ٹائمز” کے اسلام آباد بیورو چیف ڈیکلن والش کی ہے، جنہوں نے بلوچ عوام کے ساتھ حکومت کی زیادتیوں پر کئی تفصیلی خبریں لکھیں۔ تنیجے میں مئی ۲۰۱۳ میں ہونے والے انتخابات سے صرف چند روز قبل پاکستانی حکام نے والش کو ۷۲ گھنٹوں کے انرر انرر پاکستان چھوڑنے کا نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس میں پاکستان سے نکالے جانے کی وجہ ڈیکلن والش کی “ناپسندیدہ سرگرمیاں” بتائی گئی تھی۔ اسی طرح متعدد پاکستانی صحافیوں نے پولیس، انٹیلیجنس اداروں، اور حکومت کے ہاتھوں دھمکیوں، “سنسرشپ،” اور تشدد کی اطلاعات دی ہیں۔

 

آزادیِ صحافت پر اس حالیہ حملے اور سرل المئڈہ کے ساتھ ہونے والے واقعات کے ذریعے پاکستانی میڈیا کو ایک مرتبہ پھر ایک واضح پیغام ملا ہے: میڈیا کو اپنی حدود میں رہنا ہو گا۔  تاہم “ڈان” نے اپنا موقف برقرار رکھتے ہوئے ایک بیان میں کہا: “صحافت میں اقتدار کے گلیاروں سے بے پناہ دباؤ ے باوجود اپنے سامعین سے وعدہ نبھانے کی ایک طویل اور عظیم روایت موجود ہے” اور “ڈان” “ریاست کی تنگ نظر، خود غرضی پر مبنی، اور مسلسل تبدیل ہوتی قومی مفاد کی تعریف” کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔

 

آج کے دور میں جب صحافت “وکی لیکس” جیسے انقلابی حربوں سے متاثر ہے، کیا پاکستانی حکام واقعی یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے سفر کرنے پر پابندی لگا کر سچ کا گلا گھونٹ سکتے ہیں؟ نوازشریف میڈیا اور فوج دونوں کو فریب دے کر راضی رکھنے کی کوشش میں ہیں، مگر یہ ایک خطرناک کھیل ہے۔ عوام کا حافظہ کمزور ضرور ہے، مگر یہ حکمتِ عملی اگر وقتی طور پر نواز شریف کے حق میں کامیاب ہو بھی گئی، تو یاد رہے کہ “سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ” چوکس ہے۔ نواز شریف کے لئے بد قسمتی سے پاک فوج معاف کرنے اور معاملے کو بھلا دینے والوں میں سے نہیں۔

Image 1: Jon S, Flickr

Image 2: Rana Sajid Hussain/Pacific Press/LightRocket, Getty Images

 

Posted in , Civil-Military Relations, Internal Security, Pakistan

Muna Adil

Muna Adil

Muna Adil holds a Master of Arts in Journalism from the University of Central Lancashire, United Kingdom. She tweets at @munazainab

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *