عالمی جنگ برائے دہشت گردی میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ صفِ اوّل ریاست کے طور پر رہنے کے بعد، پاکستان کو اب بھی ایک پیچیدہ اور تغیر پذیرخطرے کا سامنا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ بغاوت اور اسلامک اسٹیٹ خراسان پرووِنس (آئی ایس کے پی) سے وابستہ جارحیت پسند عسکری تنظیمیں تشکیلِ نو اور ترقی پا کر، امریکی انخلا کے بعد کے دور میں خود کو پاکستان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کر چکی ہیں۔ گزشتہ ماہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے جلسے میں ہونے والے خودکش بم دھماکے، بنوں اور کوئٹہ میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے عسکریت پسند تشدد میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، (جس) نے پاکستان کو مؤثر فوجی ردعمل دینے پر اُکسایا ہے۔ اس میں باجوڑ میں آپریشن سربکف کا از سر نو آغاز اور ٹی ٹی پی کی قیادت کو نشانہ بنانے والے کابل میں فضائی حملے جیسے اقدامات شامل ہیں، جن کے نتیجے میں چند دن قبل افغانستان کے ساتھ خطرناک سرحدی جھڑپیں ہو ئیں۔ 2024 پاکستان کی حالیہ تاریخ کےمہلک ترین سالوں میں سے ایک تھا، جس میں پچھلے سال کی نسبت عسکریت پسندحملوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا، جس نے پاکستان کو عالمی دہشت گردی انڈیکس میں دوسرے نمبر پر پہنچا دیا۔اور تشدد کسی کمی کے بغیر 2025 میں بھی جاری رہا۔
تاہم یہ اعداد و شمار پاکستان کے سیکیورٹی بحران کا محض ایک حصہ ظاہر کرتے ہیں۔ فوجی آپریشنز پر وفاقی وصوبائی تنازعات، سرگرم کارکنان کی گرفتاری، بڑے پیمانے پر احتجاج اور مقامی امن کونسلوں اور عسکری گروہوں کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ سمیت جب انتظامی اور جغرافیائی و سیاسی مشکلات متراکب ہو جائیں تو عسکریت پسند تشدد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا بحران ایسی تطابقی حفاظتی حکمت عملیوں کا تقاضا کرتا ہے جو حفاظتی پالیسیوں میں ریاستی اداروں اور مقامی آبادیوں (کمیونٹیز) کے درمیان دوبارہ اعتماد پیدا کرنے والی اصلاحات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی ناکامیوں سے سبق لیتی ہوں۔جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں پاکستان کو ٹی ٹی پی کی پشتون قوم پرستی کے عناصر سمیت مذہبی بغاوت ، بی ایل اے کی نسلی قوم پرست تحریک اور آئی ایس کے پی کے بین القومی (ٹرانس نیشنل)ایجنڈے (کے لیے)—ایک یکساں حفاظتی ردعمل کےبجائے ہر گروہ کے لیے مخصوص حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔
فوجی آپریشنز پر وفاقی و صوبائی تنازعات، سرگرم کارکنان کی گرفتاری، بڑے پیمانے پر احتجاج اور مقامی امن کونسلوں اور عسکری گروہوں کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ سمیت جب انتظامی اور جغرافیائی و سیاسی مشکلات متراکب ہو جائیں تو عسکریت پسند تشدد میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان کے سیکیورٹی بحران کا تناظر
امریکہ کے انخلا اور اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، پاکستان میں عسکریت پسند تشدد میں تباہ کن اضافہ ہوا ہے اور 2021 کے بعد کے منظرنامے میں تین گروپ غالب رہے ہیں۔فگر1 پاکستان میں سب سے زیادہ فعال عسکری گروپوں کے عمومی رجحان کو ظاہر کرتی ہے، جو آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ (اے سی ایل ای ڈی) کے ان اعداد و شمار پر مبنی ہے جو 2020-2024 کے دوران ریاستی افواج کے ساتھ مسلح جھڑپوں اور شہریوں کے خلاف تشدد کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں دونوں نے 2020 میں نسبتاً کم سطحوں (بالترتیب 53 اور 83 واقعات) سے اپنی سرگرمیاں بڑھا کر 2024 میں 775 اور 748 کے عروج تک پہنچا دیں۔آئی ایس کے پی کی سرگرمی میں اتار چڑھاؤ رہا جس کا عروج 2022 میں تقریباً 50 واقعات پر ہوا، جبکہ اسلامک اسٹیٹ-پاکستان پرووِنس(آئی ایس پی پی کی سرگرمیاں) تمام عرصے میں کم رہیں۔ مجموعی طور پر تشدد کے دوبارہ ابھرنے کا مطلب محض ماضی کے خطرات کی واپسی نہیں بلکہ یہ تین مختلف عسکری تحریکوں کا ارتقا ہے جنہوں نے اپنی حکمت عملیوں کو ڈھالا، اپنے عملی دائرہ کار کو بڑھایا اور پاکستان کے منظرنامے پر اپنے اثرات کو مزید گہرا کیا ۔

خطرناک تکڑی سےمقابلہ: ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی
ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی تین مختلف عسکریت پسند گروہ ہیں، جن میں سے ہر گروہ اپنے الگ نظریات، مقاصد اور حربوں کے ساتھ پاکستان کی سیکیورٹی کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھارہا ہے۔
ٹی ٹی پی پاکستان میں سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد تنظیم ہے، جس کے 6,000-6,500 جنگجو افغانستان-پاکستان خطے میں سرگرم ہیں۔اس کا دوبارہ ابھرنا ساختی تنظیمِ نو اور افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے منسلک ہے، جس نے قیدیوں کی رہائی میں آسانی دی، محفوظ ٹھکانے فراہم کیےاور نظریاتی یکجہتی مہیاکی۔2018 سے نور ولی محسود کے زیرِ قیادت ٹی ٹی پی نے مرکزی کمانڈ کو چھوٹے اور مطابقت پذیریونٹس کے ذریعے غیر مرکزی آپریشنز کے ساتھ متوازن رکھتے ہوئے ذرائع کے مطابق ستر سے زائد عسکریت پسند جماعتوں کا کامیابی کے ساتھ انضمام کیا ہے۔اس گروپ نے شہریوں کو اندھا دھند نشانہ بنانے سے بھی دانستہ دوری اختیار کی ہے تاکہ اپنا تاثر بدلا جا سکے اور پشتون قوم کے محافظ کے طور پر عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔ مزید برآں ٹی ٹی پی سوشل میڈیا پر معلوماتی جنگ (انفارمیشن وار فیئر) میں مہارت حاصل کر چکا ہے اور اسے بھرتی کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔مزید برآں ٹی ٹی پی کے یاد گارِ شہادت کے مواد کے حالیہ تجزیے سے عملیاتی خاکے کا ارتقا ظاہر ہوتا ہے: ڈیرہ اسماعیل خان، جو تین صوبوں کے سنگم پر واقع ہے، ایک کلیدی عملیاتی مرکز کے طور پر دوبارہ اُبھرا ہے، جبکہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ہلاک شدگان زیادہ تر خیبر پختونخوا سے ہیں۔ مزید برآں 2025 میں ٹی ٹی پی نے اپنا الخندق نامی (موسمِ) بہار کاحملہ شروع کرنے کا اعلان کیا، جس میں روایتی گڑھوں کے علاوہ چترال، پشین اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں تک کارروائیاں بڑھا دی گئیں۔ یہ حربے اور عملیاتی خاکے ملک میں ٹی ٹی پی کی مضبوط گرفت کی نشاندہی کرتے ہیں اور پاکستانی ریاست کے لیے ٹی ٹی پی کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی مشکلات کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ی ایل اے ایک نسلی قوم پرست بغاوت کی نمائندگی کرتی ہے جو قبائلی مزاحمتی تحریک سے ایک ماہر متشدد تنظیم میں تبدیل ہو گئی ہے جس کی پہنچ وسیع تر اور تدبیرات مزید جان لیوا ہوتی جا رہی ہیں۔ وسیع تر بغاوت بلوچ راجی آجوہی سنگر (بی آر اے ایس) اتحاد کی تشکیل کے باعث مضبوط ہوئی ہے، جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے کو بھارت اور افغانستان دونوں سے بیرونی حمایت ملتی ہے۔یہ گروپ ایک نیٹ ورک اسٹرکچر (تنظیمی ترتیب) کے ذریعے کام کرتا ہے جو مخصوص ذیلی گروہوں پر مشتمل ہے، جن میں مجید بریگیڈ خودکش یونٹ، انٹیلی جنس ومیڈیا سیلز اور تربیتی کیمپ شامل ہیں۔اس تنظیمی ترتیب نے خواتین خودکش بمباروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ اس سال مارچ میں جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ اور 2024 میں بی ایل اے-جیانڈ دھڑے کے ذریعہ آپریشن ہیروف (سیاہ طوفان) جیسے مربوط (اور) گہرے اثرات مرتب کرنےوالے حملوں کےقابل بنایا ہے۔ بی ایل اے چینی سرمایہ کاری کو بھی تزویراتی طور پر نشانہ بناتا ہے، جبکہ اپنے اقدامات کو جواز دینے کے لیے سوشل میڈیا کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتا ہے، جیسا کہ خودکش بمباروں کااپنے مقاصد بیان کرنا اور پاکستان-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نوآبادیاتی منصوبے کے طور پر پیش کرنا ۔ پہلی بلوچ بغاوتیں قبائلی مرکزیت رکھتی تھیں اور جغرافیائی لحاظ سے محدود تھیں جبکہ آج کی تحریک نوجوان، متوسط طبقے اور غیر قبائلی آبادیات سے جنم لے رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مارچ میں بی آر اے ایس کی جانب سے بلوچ نیشنل آرمی (بی این اے) کے قیام کا اعلان اس تحریک کے ایک روایتی حربی طاقت میں تبدیل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔
آئی ایس کے پی، جسے 2025 کی امریکی سالانہ خطرے کی تشخیص (اینول تھریٹ اسسمنٹ) میں اسلامک اسٹیٹ کی ہلک ترین شاخوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا گیا، ایک بین القومی (ٹرانس نیشنل) جہادی خطرے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا عملیاتی دائرہ کار افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی ہے۔ روایتی بغاوتوں کے برعکس آئی ایس کے پی اسلامک اسٹیٹ کے غیر مرکزیت والے ماڈل کی پیروی کرتا ہے، جس سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔امریکہ کے انخلا کے بعد، آئی ایس کے پی نے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے ہدفی قتل (ٹارگٹ کلنگ) پر توجہ مرکوز کی ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان، ایران اور روس جیسی ریاستوں تک کارروائیوں کو بڑھا دیا ہے۔ آئی ایس کے پی (نسبتاً) کم سرگرم آئی ایس ایس پی کے ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں (اپنی) موجودگی برقرار رکھتا ہے۔ تاہم پاکستان میں اس کی سرگرمیاں افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ تزویراتی دشمنیوں کی وجہ سے پیچیدہ ہیں۔ یہ دشمنیاں (ایک دوسرے پر)سبقت پانے کے رویے کے باعث تشدد میں اضافہ کر سکتی ہیں، کیونکہ یہ گروپ برتری پانے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، جو خطے کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے۔ 2024 اور 2025 میں پاکستان نے آئی ایس کے پی کے خلاف ہدفی کارروائیاں شروع کیں، جن میں 2024 میں 48 اراکین پرمشتمل بیرونی آپریشنز سیل کا پردہ فاش کرنا،اس سال مارچ میں کابل حملہ ایئرپورٹ کے ماسٹر مائنڈ محمد شریف اللّٰہ (“جعفر”) کی گرفتاری؛ اور جون میں پروپیگنڈہ کرنے والے ابو یاسر الترکی کی گرفتاری شامل ہیں۔اگرچہ 2025 میں آئی ایس کے پی کی سرگرمیاں محدود رہی ہیں، اس کا غیر مرکزی نیٹ ورک اور بین الاقوامی گٹھ جوڑپاکستان کے لیے ایک مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔
اگرچہ پاکستان کو 2007-2014 کے دوران متعدد محاربانہ خطرات کا سامنا رہا ، آج کا منظرنامہ زیادہ ارتقا یافتہ عناصر پیش کرتا ہے جو ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں پاکستان کے وسائل کم اور بین الاقوامی حمایت بھی محدود ہے۔ یہ پیچیدہ، کثیرالسطحی بحران بنیادی طور پر ایک نئے حفاظتی ماڈل (خاکے) کا تقاضا کرتا ہے— ایک ایسا ماڈل جو انتہا پسندی اور عسکریت کے محض تدبیراتی مظاہر (ٹیکٹیکل مینیفسٹیشنز)سے نہ نمٹے، بلکہ براہ راست اس جواز کے فقدان کو بھی حل کرے جو ان کی بقا اور اثر و رسوخ کے تسلسل میں مدد دیتا ہے۔

بحران کے تسلسل کو توڑنا: متشدد تکڑی کے لیے مخصوص طریقے
پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔اس تشدد کے نتیجے میں انسانی (جانوں کا) ضیاع حیرت انگیز ہے، جہاں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو بڑھتے ہوئے محارب حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو نہ صرف داخلی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان کے علاقائی تعلقات اور مستحکم انسداد دہشت گردی کے لیے درکار اتفاق رائے کو بھی خطرے یں ڈال رہے ہیں۔ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کا مؤثر اندازسے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو مخصوص، شواہد پر مبنی عملیاتی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جو ہر گروپ کی منفرد خصوصیات کو مدنظر رکھیں اور ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سبق لیں۔
ٹی ٹی پی، ایک مذہبی بنیاد پر متحرک گروپ جو موقع دیکھ کر پشتون قوم پرستی کا فائدہ اٹھاتا ہے، کے خلاف ایک کثیر الجہتی عسکری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔فوجی کارروائیوں کو درج ذیل پر مرکوز ہونا چاہیے: صوبائی امیروں اور شعبہ جاتی سربراہوں کے خلاف درست نشانے بازی (پریسیژن سٹرائکس) کے ذریعے گروہ کی قیادت کا شیرازہ بکھیرنا؛ مرکزی قیادت اور ضلعی سطح کے کمانڈروں کے درمیان رابطے کے ذرائع کو منقطع کرنا؛ اور اس کی میڈیا کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا۔ڈیرہ اسماعیل خان،جو کہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے—کا ایک عملیاتی مرکز کے طور پر دوبارہ اُبھرنا—صوبائی سرحدوں کے پار عسکریت پسندحرکت کو روکنے کے لیے قریبی بین الصوبائی ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے۔اب جبکہ کے پی کے کم از کم 15 اضلاع میں ٹی ٹی پی سیلز کی موجودگی کے شواہد ہیں اور یہ چترال تک پھیل چکے ہیں، پاکستان کو ان سرحدی علاقوں میں اپنی سکیورٹی اور شہری موجودگی (سولین پریزنس) بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، چونکہ ٹی ٹی پی نے پشتون قوم پرستی کو اجاگر کیا ہے، اس لیے مقامی آبادیوں میں اس گروپ کے بھروسےکو کم کرنے کے لیے متبادل بیانیے کی تجدید ضروری ہے۔ مشروط اور معاشرتی حمایت یافتہ مذاکرات صرف ان اعتدال پسندوں کے لیے ہونے چاہئیں جو ہتھیار ڈالنے میں حقیقی عزم کا مظاہرہ کر رہے ہوں۔ 2022 کا جنگ بندی معاہدہ جو چند مہینوں میں ہی ختم ہو گیا تھا کے سمیت پچھلے امن معاہدوں کی ناکامی اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ مذاکرات کی کسی بھی کوشش سے پہلے محدود اور ہدفی فوجی دباؤ کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے زیرِ قیادت خیبر پختونخوا صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں حالیہ کشیدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں خیبر پختونخوا میں مؤثر انسدادِ دہشت گردی تعاون کے لیے اب بھی قابل ذکر سیاسی رکاوٹوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد، صوبائی قیادت اور سکیورٹی فورسز کے درمیان باقاعدہ مشاورتی ضابطۂ کار قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ٹی ٹی پی کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار متحدہ ردعمل کو فعال بنایا جا سکے۔
بی ایل اے کے زیرِ قیادت بلوچ نسلی قوم پرست بغاوت کو ختم کرنے کے لیے وسیع تر سیاسی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے جو معاشی و سماجی اصلاحات، وسائل کی تقسیم، شکایات کے ازالے اور بلوچوں کی بامعنی شمولیت کا احاطہ کریں۔ سیاسی مذاکرات اور طاقت کی حقیقی شراکت پر مبنی یہ طریقہ کار جس میں انتہا پسند عناصر کے لیے مخصوص کارروائیاں مختص کی گئی ہیں—مکمل فوجی ردعمل کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ فوجی ترجیحات میں خفیہ معلومات (انٹیلیجنس) پر مبنی ہدفی کارروائیاں شامل ہونی چاہئیں تاکہ: اہم بنیادی ڈھانچے (انفرا اسٹرکچر) کی حفاظت کی جا سکے، خاص طور پر سی پیک منصوبے اور گیس کی تنصیبات؛ ماہر جارحیت پسند یونٹس جیسا کہ مجید بریگیڈ کو سرجیکل آپریشنز (انسدادی کارروائیوں) کے ذریعے ختم کیا جا سکے؛ اور مبینہ بیرونی ذرائع سے ہتھیاروں کی سپلائی کے راستوں میں رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔ تاہم چونکہ بلوچ جارحیت پسند سی پیک کو استخراجی اور استحصالی سمجھتے ہیں، اس لیے فوجی کارروائیوں میں مقامی آبادی کو مزید برگشتہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔مقامی لوگوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر توجہ دینی چاہیے: بلوچ افراد کی سیکیورٹی فورسز میں شمولیت، سرکاری شعبے کی ملازمتوں میں بھرتیوں کے کوٹے کا نفاذ، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کے طریقہ کار کو عملی جامہ پہنانا، اور چینی منصوبوں کے اردگرد سخت سیکیورٹی کا گھیرا لگانے سے پرہیز کرناجو مقامی آبادی کو مزید برگشتہ کر دیتا ہے۔
اپنے سلفی نظریات اور بین القومی (ٹرانس نیشنل) امنگوں اور روابط کے باعث آئی ایس کے پی (سے نمٹنا) پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک سے مسلسل، مربوط دباؤ کا متقاضی ہے۔ مؤثر جوابی اقدامات میں درجِ ذیل شامل ہو سکتے ہیں: اہم نوعیت کےا ہداف کےخاتمے کا تسلسل، میڈیا کارکنان، مالی سہولت کاروں، اور بھرتی کاروں پر توجہ مرکوز کرنا؛ گروپ کی بیرونی حمایت، بالخصوص ترکیہ میں مقیم ہینڈلرز اور کرپٹو کرنسی کے فنڈنگ چینلز کامنظم طریقے سے انقطاع، اور العزائم فاؤنڈیشن کو نقصان پہنچانا، جو کثیر اللسانی پروپیگینڈا مواد تیار کرتی ہے۔پاکستان کو آئی ایس کے پی کے اراکین کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ کارروائیوں پر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہیئے اور ساتھ ہی گروپ کے ورچوئل پلاننگ نیٹ ورک کا انقطاع بھی کرنا چاہیئے، جو دور سے حملوں کی ہم آہنگی ممکن بناتا ہے۔آخر الامر، مارچ میں پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام کے باوجود، آئی ایس کے پی جیسے گروپوں کی جانب سے ناقابل سراغ کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر مالیاتی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا استعمال ایک اہم کور نقطہ (بلائنڈ سپاٹ) کی نمائندگی کرتا ہے جسے پاکستان کو بہتر بلاک چین اینالیٹکس صلاحیتوں اور خصوصی تحقیقاتی ٹیموں کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
حکمرانی، شکایات اور مستقبل کا راستہ
پرتشدد انتہا پسندی اکثر ایسے ماحول میں پنپتی ہے جہاں حکومت کی ناکامیاں اور حل نہ کی گئی شکایات موجود ہوں۔مستقبل میں تنازعہ والے علاقوں میں، بالخصوص بلوچستان اور وفاق کے زیرِ انتظام سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں شکایات حل کرنے کے شفاف نظام کو قائم کرنا نہایت اہم ہوگا۔حال ہی میں منظور کردہ قومی پالیسی برائے انسدادِ تشدد و انتہا پسندی اپنے ‘5-آر’ نقطہ نظر [دوبارہ جائزہ (ری وزٹ)، رابطہ قائم کرنا (ریچ آؤٹ)، کمی (ریڈیوس)، تقویت ینا (ری انفورس)، اور دوبارہ شمولیت (ری انٹیگریٹ) ]کے ساتھ امید افزا رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کا نفاذ مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ قریبی شراکت داری میں فوج کے بجائے شہری قیادت میں ہونا چاہیئے تاکہ کمیونیٹیز کے ساتھ اعتماد قائم کیا جا سکے۔ اسی طرح انسدادِ انتہا پسندی کے لیے آزاد میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حمایتی گروپس کو بھی مخالفین کے طور پر لینے کے بجائے شراکت داروں کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ اعتماد قائم کرنے کے ٹھوس اقدامات میں گرفتار شدہ سول سوسائٹی کے کارکنان کی رہائی، غیر سرکاری تنظیموں پر ہراسانی کا خاتمہ اور سیکیورٹی فورسز کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لیے ضابطۂ کار وضع کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان تنِ تنہا انسدادِ دہشت گردی کے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ جیسے جیسے ملک ایک پیچیدہ ہمسائیگی میں راستہ تلاش کر رہا ہے، جسے اپریل کے پہلگام دہشت گرد حملے نے پیچیدہ تر بنایا ہے، علاقائی تعاون پر مبنی متوازن نقطہ نظر زیادہ پائیدار نتائج دے سکتا ہے۔
محفوظ شہری احاطے—چاہے وہ حقیقی ہوں یا ڈیجیٹل—تخلیق کرنا جہاں شہری بلا خوفِ انتقام اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کر سکیں، معاشرتی کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سول سوسائٹی فورمز مختلف شراکت داروں (اسٹیک ہولڈرز )کے ساتھ مثلاً سیکیورٹی پالیسی کے نفاذ پر اپنی رائےفراہم کر سکتے ہیں؛ تاہم شہری عدالتوں کے ذریعے احتساب کے حصول کے حق میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کی سماعت (ملٹری ٹرائل فار سولینز) اور وسیع سائبر کرائم قوانین پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح پاکستان کی معلوماتی جنگی حکمت عملی کو ردعملی کے بجائے فعال اوراعلیٰ معیار کے پیغامات میں تبدیل کرنے سے فائدہ ہوگا جو مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اور کمیونٹی کی (اہم) شخصیات کو شامل کرکے ریاستی جواز کو بڑھائے۔
تاہم پاکستان تنِ تنہا انسدادِ دہشت گردی کے اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ جیسے جیسے ملک ایک پیچیدہ ہمسائیگی میں راستہ تلاش کر رہا ہے، جسے اپریل کے پہلگام دہشت گرد حملے نے پیچیدہ تر بنایا ہے، علاقائی تعاون پر مبنی متوازن نقطہ نظر زیادہ پائیدار نتائج دے سکتا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے حالیہ دنوں میں پاکستان جو دوطرفہ تصادم کا ہتھیار اپنا رہا ہے اس پر عمل کرنے کے بجائے شاید وہ چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے توسط سے کثیرالجہتی دباؤ کا زیادہ فائدہ اٹھا سکے ۔تجارت اور اقتصادی انضمام سیکیورٹی تعاون کے لیے مضبوط سہارا فراہم کرتے ہیں: مثلاً افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (اے پی ٹی ٹی اے) کو دوبارہ فعال کرنا اور وسطی ایشیا کے تجارتی راستوں کو فروغ دینا، سیکیورٹی تعاون کے لیے نئی اقتصادی مراعات پیدا کر کے مخالفانہ تعلقات یا ساختی انحصار کو باہمی فائدہ مندشراکت داری میں بدل سکتا ہے۔خصوصاً تجارت اور اقتصادی فوائد کو سیکیورٹی کے معیارات سے جوڑنا مستقل تعاون کے لیے واضح ترغیبات فراہم کرے گا۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
Views expressed are the author’s own and do not necessarily reflect the positions of South Asian Voices, the Stimson Center, or our supporters.
***
Image 1: VoA via Wikimedia Commons
Image 2: Government of Pakistan via X