Doctrine
Return to article
جنوبی ایشیا کے جوہری(موقف میں) تبدیلی: نئی دہلی اور بیجنگ حالتِ امن کے اپنے قدغن کیوںکر توڑ رہے ہیں
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے سال نامہ 2026 نے حال ہی میں خبر دی کہ بھارت نے 2025 میں اپنے ایٹمی اسلحے کا ذخیرہ 180 سے بڑھا کر 190 کر دیا ہے۔ لیکن…
दक्षिण एशिया का परमाणु परिवर्तन: नई दिल्ली और बीजिंग शांति काल के निषेधन को क्यों लांघ रहे हैं
स्टॉकहोम इंटरनेशनल पीस रिसर्च इंस्टीट्यूट (एसआईपीआरआई) की वार्षिक रिपोर्ट-2026 से ज्ञात होता है कि भारत ने 2025 में अपने परमाणु शस्त्रागार का विस्तार 180 से बढ़ाकर 190 कर दिया है। परंतु, सबसे चौंकाने वाली बात यह थी कि भारत पहली…
Southern Asia’s Nuclear Shift: Why New Delhi and Beijing Are Breaking Their Peacetime Taboo
The Stockholm International Peace Research Institute (SIPRI) Yearbook 2026 recently reported that India expanded its nuclear arsenal in 2025, increasing it from 180 to 190. But the starkest revelation was that India for the first time might be actively deploying…
بھارت کے ماضی سے حاصل کردہ اسباق، حالیہ نیا معمول اور مستقبل کی پالیسی برائے پاکستان
میزائل حملے، ڈرونز کی دراندازی، اور شدید فضائی جھڑپوں پر مشتمل چار روزہ جنگ کے بعد بھارت اور پاکستان نے 10 مئی کو ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ دونوں قوموں نے اس کے بعد فتح کا اعلان کیا اور…
भारत के पिछले सबक, वर्तमान में नई सामान्य स्थिति एवं भविष्य की पाकिस्तान नीति
चार दिनों तक प्रक्षेपास्त्र हमलों, ड्रोन घुसपैठ और तीव्र हवाई युद्ध वाले संघर्ष के उपरांत, भारत और पाकिस्तान 10 मई को युद्ध विराम के लिए मान गए। दोनों देशों ने इस संघर्ष में अपनी-अपनी जीत मानी और एक-दूसरे से निपटने के अपने नए…
جوابی کار روائی: کیا پاکستان فوجی حملوں کے رد عمل پر غور کر رہا ہے؟
ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ جیسے کو تیسا حملے پاکستان کی کرائسس ریسپونس (بحران کےردّ عمل) پالیسی کی پختگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ۲۰۱۹ کے پلوامہ-بالاکوٹ بحران میں پاکستان کے اندر بھارت کے حملے کے جواب…