,

 کیا چین ایران معاہدہ، پاک ایران تعلقات کیلئے درکارمحرک ہے؟

حال ہی میں نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ ایران اور چین کے مابین ۴۰۰ بلین ڈالر مالیت کے معاشی و سلامتی معاہدہ کا خاکہ طے پایا ہے۔ مجوزہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی مضبوطی کیلئے کردار ادا کرے گا بلکہ امکان ہے کہ یہ خطے میں چین کے قدم جمانے میں بھی مدد دے گا۔ تاہم اس مرحلے پر ابھی یہ غیر واضح ہے کہ چین نے معاہدے کی شقوں کی توثیق کی ہے یا نہیں۔ مزید براں، ایران نے بھی معاہدے کی باقاعدہ منظوری نہیں دی ہے۔ اگریہ معاہدہ ٹھوس شکل اختیار کرتا ہے تو ایران کا پڑوسی ہونے اور چین کا علاقائی شراکت دار ہونے کے ناتے پاکستان بلاشبہ اس سے متاثر ہوگا۔

معاہدے کی غیرمصدقہ حیثیت کے پیش نظر پاکستان نے اس خبر پر باقاعدہ ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے، یوں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اسلام آباد اس نئی پیش رفت پر کیا حکمت عملی اختیار کرے گا۔ بہرحال، یہ مجوزہ معاہدہ پاکستان ایران تعلقات کیلئے دو کلیدی وجوہات کی بنا پر نعمت ثابت ہوسکتا ہے۔ اولاً چین کے پاکستان اور ایران میں بڑھتے ہوئے مفادات اسے مجبور کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین بہتر دوطرفہ تعلقات اور بارڈر سیکیورٹی جیسے امور پر تعاون یقینی بنانے کیلئے زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔ دوئم، ایران میں چین کا اثرورسوخ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب سے تعلقات متوازن بنانے میں مدد دے سکتا ہے، نیز سعودی عرب کی جانب سے پاکستان پر ایران سے فاصلے پر رہنے کیلئے دباؤ بھی کم ہوسکتا ہے۔

پاکستان ایران تعلقات میں سرحدی عدم استحکام

امکان ہے کہ چین ایران معاہدہ بالآخر پاکستان ایران سرحد کے ساتھ ساتھ چینی معاشی مفادات میں اضافہ کردے گا کیونکہ مجوزہ معاہدے میں مبینہ طور پر بندرگاہوں، ریلوے اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شامل ہے جس سے خطے میں  انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے تحفظ کیلئے امن برقرار رکھنے اور استحکام کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاک ایران سرحد دونوں ممالک کے درمیان وجہ تازعہ بنی رہی ہے۔ سرحد پار کبھی کبھار فائرنگ کے واقعات مع الزامات اور جوابی الزامات نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کو طویل عرصے سے خراب رکھا ہوا ہے۔

سرحدی علاقوں میں استحکام کے حصول کی خاطر تعلقات میں بہتری کیلئے بیجنگ، اسلام آباد اور تہران کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ دو ایسے عناصر ہیں جو ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں نئی روح پھونکنے میں مدد کیلئے چین کو آگے بڑھنے کا قائل کر سکتے ہیں۔ اولاً چین اور پاکستان دونوں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو دوبارہ بازیاب کرچکے ہیں۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں معاہدوں کے سلسلے نے منصوبے کو نئی جلا بخشی ہے جبکہ چین اور پاکستان اس میگا منصوبے کی تکمیل میں مزید تیزی لانے پر غور کررہے ہیں۔ لہذا دونوں ممالک پاک ایران سرحد پر ایسی تخریبی کارروائی نہیں دیکھنا چاہیں گے جو کہ سی پیک سے متعلقہ پیش رفت کو نقصان پہنچا سکے۔

حتی کہ ایران چین مجوزہ معاہدے کی خبر جاری ہونے سے قبل یہ اطلاع دی گئی تھی کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایرانی سرحد کے ساتھ ساتھ دہشتگرد عناصر کے صفائے کیلئے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ آپریشن میں نشانہ بنائے گئے گروہوں میں سے ایک بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) تھی جس نے پاکستان میں چینی حکام اور سی پیک منصوبوں کیخلاف حملے شروع کیئے تھے۔ مسلسل جاری عسکریت اور دہشتگردی پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور دونوں ممالک کو باہمی الزام تراشی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ خطے میں چین کے مفادات میں اضافے کے امکان کے سبب چین دونوں ممالک پر زیادہ بامعنی اقدامات اٹھانے کیلئے دباؤ ڈال سکتا ہے، جن پر عمل درآمد کا عزم دونوں ممالک پہلے بھی کرچکے ہیں تاکہ سرحد پر عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کا مقابلہ کیا جاسکے۔

ایران کی چابہار بندرگاہ چین کے پاس ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بحالی میں مدد کیلئے ایک اور موقع کی صورت میں موجود ہے۔ پاکستان کے ہمراہ ایرانی سرحد کے قریب واقع اس تزویراتی بندرگاہ کی تعمیر و دیکھ بھال، تہران اور نئی دہلی کے مابین دستخط پانے والے معاہدے کی رو سے بھارت کے ذمے تھی۔ ایران اگرچہ مسلسل زور دیتا رہا  ہے کہ چابہار بندرگاہ پاکستان میں چین کی تعمیر کردہ گوادر بندرگاہ کی حریف نہیں ہے تاہم بھارت کی جانب سے سی پیک کو چیلنج کرنے کے خطرات اس وقت مزید گہرے ہوگئے جب اس نے چابہار میں شہید بہشتی بندرگاہ کا کام سنبھال لیا۔ مزید براں، پاکستان کے ہاتھوں ۲۰۱۶ میں ایران کے راستے بلوچستان آنے والے بھارتی جاسوس کی گرفتاری نے (اگرچہ بھارت اس کی تردید کرچکا ہے) بھارت کی جانب سے چابہار کو استعمال میں لاتے ہوئے پاکستان میں شورش کو ہوا دینے کے اندیشوں اور خدشات میں اضافہ کیا تھا۔

تاہم چونکہ ایران مبینہ طور پر چابہار کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک سے بھارت کو علیحدہ کرچکا ہے ایسے میں امید ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک دور ہوجائے گی۔ تہران اور نئی دہلی نے اگرچہ بندرگاہ کے منصوبے سے بھارت کو علیحدہ کرنے کی تردید کی ہے تاہم منصوبے پرجاری التواء کا غلط استعمال ممکن ہے۔ چین، گوادر اور چابہار پر بندرگاہوں کے مابین تعلق کو نمایاں کرتے ہوئے اس موقع کو چابہار میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال کرسکتا ہے۔ خطے میں بھارت چین رقابت کو دیکھتے ہوئے، ایران میں چین کے انفراسٹرکچر کے منصوبے بمع گوادر اور چابہار میں رابطے کا قیام علاقے میں بھارتی مداخلت کو روکنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ ایران اور پاکستان دونوں بندرگاہوں کے درمیان رابطے پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ یہ خطے کیلئے انتہائی ناگزیر استحکام پیدا کرنے کا سبب ہوسکتا ہے اور ایران، چین اور پاکستان میں موجود سب ہی فریقوں کیلئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

ایران سعودی عرب تعلقات میں توازن لانا

 ایران سے تعلقات میں اضافے کی کوشش کے ضمن میں ایران سعودی عرب رقابت سے نمٹنے میں بھی پاکستان سے معاونت میں چین مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے سعودی عرب اور ایران سے تعلقات میں عمدہ توازن قائم رکھا تھا۔ تاہم یہ حکمت عملی بارہا امتحان سے گزر چکی ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں مسلم امہ کو درپیش مسائل پر غوروخوض کیلئے ہونے والے کوالالمپور اجلاس سے پاکستان کی غیر حاضری بظاہر سعودی عرب کے دباؤ کا نتیجہ تھی۔ یہ اس امر کا صاف مظہر تھا کہ پاکستان کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تنی رسی کے اوپر چلنا کس قدر مشکل ہے۔ ملائیشیا، ترکی، قطر اور ایران کے سربراہان اس اجلاس کا حصہ تھے جبکہ سعودی عرب کو اجلاس کی دعوت نہ دیا جانا مسلم دنیا پر سعودی اثرورسوخ کیلئے خطرے کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اجلاس میں شرکت سے پیچھے ہٹنے کیلئے پاکستان پر دباؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے موقع کس قدر محدود رہے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں چین پاکستان کو سہارا دے سکتا ہے۔ امکان ہے کہ پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے کے ہمراہ مثبت طور پر مصروف رکھنے کی چینی کوشش ان بندشوں اور دباؤ پر غالب آجائے گی جو سعودی عرب سے شراکت داری کے ہمراہ آتے ہیں۔  گزشتہ برس کے واقعات سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات مثالی نوعیت کے نہیں رہے۔ پاکستان جہاں سعودی عرب کی جانب سے کشمیر پر حمایت میں کمی پر مایوسی کا شکار رہا وہیں اس کے برعکس چین نے پاکستان کی نمایاں حمایت کی۔ حال ہی میں، چین نے سٹیٹ بنک پاکستان میں عین اسی روز ۱ بلین ڈالر جمع کروائے جس دن پاکستان نے سعودی عرب کو قرضے کی واپس ادائیگی کے سلسلے میں یہی رقم ادا کی۔ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم سے اصرار کیا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر بھارت پر دباؤ ڈالے جس کے بعد سعودی عرب کی جانب سے قرضے کی واپسی کا کہا گیا تھا۔

چین کی پاکستان کیلئے لازوال حمایت حتیٰ کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے معاملے میں بھی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستان، سعودی عرب کی جانب سے مالی تعاون سے ہاتھ پیچھے کھینچ لینے کی دھمکیوں پر چینی حمایت پر بھروسہ کرسکتا ہے، لہذا بیجنگ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسلام آباد تہران تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں ریاض کے پیچھے ہٹنے سے وابستہ خطرات سے اسلام آباد کو بچائے گا۔ بالفاظ دیگر، اگر اسلام آباد تہران سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کیلئے پیش رفت کرتا ہے تو ایسے میں ایران اور پاکستان دونوں سے چین کے مضبوط تعلقات  ریاض کی جانب سے دباؤ سے جڑی آزمائشوں کا سامنا کرنے کی اسلام آباد کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے۔

اگر چین ایران معاہدے میں پیش رفت ہوتی ہے تو امکان ہے کہ چین خطے میں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے ایران-پاکستان مضبوط تعلقات کی حمایت کرے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہے، جسے دیکھتے ہوئے یہ امر تقریباً یقینی ہے کہ اگر چین نے پاکستان ایران تعلقات کو سہارا دینے کیلئے پیشرفت کی تو پاکستان چینی مفادات کا احترام کرے گا۔ تاہم یہ اسلام آباد کے واشنگٹن اور ریاض دونوں سے تعلقات پر منفی طور پر اثرانداز ہوگا۔ امریکہ پاکستان پر چینی اثرات اور اس کی جانب سے ایران کو سہارا دیئے جانے پر تشویش ظاہر کرسکتا ہے جبکہ سعودی عرب پاکستان کی ایران سے قربت کے امکانات پر پریشان ہوسکتا ہے۔ ریاض معاشی معاونت سے پیچھے ہٹنے اور عالمی بیٹھکوں میں حمایت میں کمی یا پاکستان میں سرمایہ کاری کا منصوبہ ختم کرنے کی صورت میں ردعمل ظاہر کرسکتا ہے۔

 پاکستان، تاہم ایران اور سعودی عرب دونوں سے بنا کسی گھاٹے کے سودے کے بیک وقت تعلقات کو بہتر بنانے کا عزم کرچکا ہے۔ چونکہ سرحدی استحکام میں پنہاں مفادات ہمیشہ سے کہیں زیادہ ہیں، ایسے میں پاکستان چینی مدد کے ذریعے ایران سے روابط کو پرکشش پائے گا۔ جہاں تک واشنگٹن کا تعلق ہے تو وہ تہران کے ساتھ تعلقات پر اسلام آباد کا بازو نہیں مروڑ سکتا کیونکہ اس قسم کی کوششوں کی راہ میں بیجنگ کے ذاتی اوراسلام آباد اور تہران کو ایک دوسرے کے قریب لانے سے جڑے مفادات رکاوٹ بنیں گے۔ البتہ، پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کے ساتھ نئے باب کو سعودی عرب مخالفت کا نام نہ ملے۔

اگر چین ایران معاہدے کے خاکے میں مبینہ طور پر شامل منصوبوں پر عمل درآمد ہوتا ہے  تو آنے والے برسوں میں چین کا خطے اور پاکستان کی مغربی سرحد پر کردار میں اضافہ ہوگا۔ اگربیجنگ ایران اور پاکستان دونوں جگہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو یہ اسے پاک ایران تعلقات کی حمایت میں زیادہ نمایاں کردار ادا کرنے کی ترغیب دلا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ، پاکستان خطے میں چین کا مرکزی شراکت دار ہونے کے ناتے خطے میں معاشی روابط میں معاونت کیلئے ایک اہم مقام پر موجود ہے۔ لہذا پاکستان کو چین ایران تعلقات میں اضافے کے ساتھ ساتھ احتیاط سے قدم آگے بڑھانے چاہئیں تاکہ خطے میں وہ ایک متوازن اور مثبت کردار کوجاری رکھ سکے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Ali Khamenei via Wikimedia Commons

Image 2: Diethelm Scheidereit via Flickr

Posted in , , China, Foreign Policy, Geopolitics, India, Indian Foreign Policy, Indo-Pacific, Iran, Pakistan

Syed Ali Zia Jaffery

Syed Ali Zia Jaffery

Syed Ali Zia Jaffery is a South Asian Voices Visiting Fellow 2019-2020. He is a Research Associate at the Center for Security, Strategy and Policy Research at the University of Lahore. He is also the Associate Editor of Pakistan Politico, the country's first strategic and foreign affairs magazine. He is also teaching undergraduate courses on Foreign Policy and National Security. He has been working in the think tank circuit since the past 4 years. His research interest lie in nuclear deterrence, military strategy and the geopolitics of South Asia. He regularly contributes to premier dailies.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *