,

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تسلسل کی تلاش

پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تین اطوار سے سمجھا جاساکتا ہے: معیاری، رياست پسندی، اور ساختی۔ اولاً، معیاری تحریک پاکستانی قومی ریاست کے منصوبے کا اہم حصہ ہے جس میں ثقافتی، اقدار، مذہب، اور تاریخ جیسے اسلامی تشخص پر مبنی نظریاتی اور خود شناختی  علامات شامل ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اسلامی شناخت کس حد تک  اثر انداز ہوتی ہے، جب کہ بین الاقوامی تعلقات کے ادب کے مطابق قومی مفاد شناخت یا نظریے سے زیادہ خارجہ پالیسی کا قابل اعتماد پیش گو ہے۔ دوئم، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رياست پسندانہ حصہ بیرونی خطرات کے خلاف دفاع کے روایتی طرز پر مبنی۔ یہ علاقائی خطرات پاکستان کے دو قریب پڑوسی ممالک سے ابھرتے ہیں: افغانستان سے، ڈیورنڈ لائن تنازعہ کے ذریعے؛ اور بھارت سے، تنازعہ کشمیر کی وجہ سے، جو خطے میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سوئم، ساخت کی ضروریات میں دوسرے ممالک، خاص طور پر طاقتور ممالک کی پالیسیاں شامل ہیں جن پر پاکستان کا بہت کم کنٹرول ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ اور چین کے مابین بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک دشمنی کا براہ راست اثر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پڑتا ہے کیونکہ پاکستان چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہ تین امور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے دو اہم مقاصد پر روشنی ڈالتے ہیں: معاشی مسائل سے چھٹکارہ، اور روائتی سیکورٹی کو منظم کرنا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معیاری پہلو 

کیا اسلام، ایک معیاری  تصور کے طور پر، آزادی کے بعد سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وضاحت فراہم کرتا ہے، یا پھر قومی مفاد کے مقاصد اس کی خارجہ پالیسی کی بہتر عکاسی کرتے ہیں؟ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ۱۹۴۹ میں سوویت یونین کی طرف سے باضابطہ دعوت کو رد کر کے ۱۹۵۰ میں امریکہ کا دورہ کیا اس فیصلے کی وضاحت اکثر پاکستان کے اسلامی تشخص کے زریعے دی جاتی ہے، کیونکہ سوویت یونین کا “بے دین” کمیونسٹ نظریہ پاکستان کی مذہبی حساسیت کے مخالف تھا . مگر چین کے معاملہ میں یہ نظریہ نظر انداز کر دیا گیا، حالانکہ چین بھی ایک کمیونسٹ طاقت ہے۔ پاکستان نے ۱۹۵۰ میں کمیونسٹ چین کو تسلیم کیا اور امریکہ کے ساتھ فوجی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے باوجود چینی ریاست کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا آغاز کیا۔

اسلامی تشخص اور قومی مفادات کا آپس میں باہمی تعلق پاکستان کے مسلم دنیا سے روابط میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ابتدائی برسوں میں ان روابط میں اتار چڑھاؤ رہا کیونکہ پاکستان نے اپنے قومی مفاد کے مدنظر مغرب نواز خارجہ پالیسی کی حمایت کی اور عرب قوم پرستی پر کم پر جوش جواب دیا تھا۔ ۱۹۵۶ میں، پاکستان کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے مسلم دنیا کی حالت پر رنج کا اظھار کرتے ہوئے کہا: “صفر جمع صفر جمع صفر جمع صفر، بلآخر صفر ہی ہوتا  ہے۔”

خارجہ پالیسی قومی مفاد کے تحت متعین ہوتی ہے؛ یہ بات پاکستان کےلئے بھی سچ ہے، اور ان مسلم ریاستوں کے لئے بھی جنہیں پاکستان نے بھارت کی جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت دینے والے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد بطور اتحادی پکارا۔ حال ہی میں جب سعودی عرب نے کشمیر کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کا خصوصی اجلاس بلانے سے انکار کردیا تو پاکستانی وزیر خارجہ نے کشمیر کے بحران میں سعودی عرب کی طرف سے حمایت نہ ہونے کا الزام عائد کیا؛ وزیر خارجہ کا یہ بیان تب آیا جب سعودی عرب نے پاکستان کے لئے امداد کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ اصول پسندی – تنازعہ کشمیر میں مسلمان ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ  یکجہتی –  خارجہ پالیسی سازی میں کتنی کم اہمیت رکھتی ہے۔ یہ، اور مسلم ممالک کی اسرائیل کے ساتھ قیام امن کی خواہش، ان اسٹریٹجک حقائق کی نشاندہی کرتا ہے جن سے مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مقابلہ کرنا ہوگا۔

سیکیورٹی متحرک

پاکستان کی سیکیورٹی کی تلاش کلاسیکی حقیقت پسندانہ معنوں میں سمجھی جانے والی سیکیورٹی–  میں قومی بقا، علاقائی سالمیت، فوجی بااختیارداری، اور خطرات پر بے حد توجہ کی سیاست شامل ہے۔ آزادی کے فوراً بعد، علیحدگی کے خوف نے خیبر پختونخوا (سابقہ صوبہ​​ سرحد) اور بلوچستان، جہاں سلطنت قلات نے اگست ۱۹۴۷ میں اپنی آزادی کا اعلان کیا، سیکیورٹی کے خطرے کی حرکیات میں شدت پیدا کردی۔ یہ خطرات داخلی عسکری تحفظ کے مؤقف کا جواز پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے علاقائی سلامتی کے نقطہ نظر کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال ابھی بھی ایسی ہی ہے اور اس کی مثال ۲۰۱۶ میں بلوچستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادھو کی گرفتاری میں، اور پاکستان مخالف بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے لئے افغان حمایت میں ملتی ہے۔ ان خطرات کے برقرار ہوتے ہوئے، اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک، خصوصاً ہندوستان اور افغانستان، کے ساتھ زیادہ سازگار تعلقات پیدا کرنے کے لئے آگے بڑھ سکتا ہے یا نہیں۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران، پاک بھارت تعلقات کھوئے ہوئے مواقوں کی ایک داستان ہیں۔ پاک بھارت تعلقات میں خیر سگالی کا حالیہ مرحلہ ۲۰۱۴ اور ۲۰۱۵ میں آیا جب سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تجارت اور کاروبار کے روابط سے جڑے جنوبی ایشیاء کے لئے عہد، صلاحیت، اور وژن کا اظہار کیا۔ مگر یہ دوستی  چکنا چور گئی جب مودی کے دورہ لاہور کے صرف دو ہفتوں بعد پٹھان کوٹ ایئر فورس اڈے پر حملہ ہوا۔ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اُس وقت سے بحال نہیں ہوسکے، بلکہ اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ معاملات کی بحالی تقریباً ناممکن ہے، خاص طور پر کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے تناظر میں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں روایتی حفاظتی حرکیات کا برقرار رہنے کا امکان ہے، اور جب تک کے ہندوستان آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ نہیں کرتا آنے والی حکومتوں کو بھارت کے ساتھ تجارت اور تعاون پر قائم کرنے کا جواز پیش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 پاک افغانستان تعلقات کے معاملہ میں افغانستان کے اندرونی امن معاہدے اور پاک افغانستان بارڈر کو تجارت کے لئے کھولنے کی طرف حالیہ پیشرفت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات میں ممکنہ بہتری آرہی ہے۔ مثال کے طور پر، افغانستان تک کھاد منتقل کرنے والے جہاز اب گوادر پورٹ پر  رک سکتے ہیں۔ تاہم، امن معاہدے کے بعد بھی، افغانستان کے بارے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، مثلاً، اگر افغانستان ۱۹۹۰ کی دہائی کی نوعیت کی وحشیانہ خانہ جنگی میں گر جاتا ہے  پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مفادات کے لئے ایک پرامن افغانستان کو فروغ دینے اور اسلامی عسکریت پسندی سے نمٹنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو مزید نقصان نہ ہو۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ساخت کی ضروریات  

ایک بین الاقوامی نظام سے شروع ہونے والی ساخت کی ضروریات جن پر پاکستان کا بہت کم کنٹرول ہے، نے بالترتیب ۱۹۷۹ اور ۲۰۰۱ کے افغانستان پر حملے کے بعد، پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ہی مقامات پر پاکستان کے لئے عملی طور پر ناممکن تھا کہ وہ اپنی مغربی سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال سے لاتعلق رہے۔ دونوں ہی اقسام کے دوران، پاکستان نے امریکہ کا مظبوط اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ۔ چین کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھے۔ حال ہی میں پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان مشکل انتخاب کرنے پر مجبور ہے کیونکہ بین الاقوامی نظام میں صلاحیتوں کی تقسیم نے چین کو امریکہ کے عالمی اسٹریٹجک حریف کے طور پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس کا ثبوت امریکہ کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کڑی تنقید میں نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک ملک کی طرف جھکاؤ دوسرے ملک کی ناراضگی کے بغیر  کرنا دشوار ہوگیا ہے۔

اپنے ابتدائی دو سالوں میں، موجودہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت، امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوشش کر رہی تھی، بلکہ حکومت کے ایک بڑے مشیر نے سی پیک کی تعمیر میں وقفے اور پچھلی حکومت کے سی پیک سودوں پر از سرِ نو بات چیت کا اعادہ بھی کیا تھا. اس ہی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان پر سخت تنقید کی اور امریکہ نے پاکستان پرالزام عائد کیا کہ وہ اپنے چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف کے قرضوں کا استعمال کررہا ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا بہترین موقع ملا جب ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں امن مزاکرات کا آغاز کیا، جس نے پاکستان کو ایک اہم کھلاڑی کی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ پاکستان اور امریکہ کے مابین اسٹریٹجک تعلقات بہتر ہونے کے باوجود، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری پر امریکی تنقید میں کمی نہیں آئی۔ سابق امریکی سفیر ایلس ویلز نے متعدد مواقع پر پاکستان پر قرضوں کے بوجھ اور چین پر انحصار بڑھانے پر سی پیک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا پاکستان کو افغان امن عمل کی حمایت کے عوض کوئی ٹھوس معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال پاکستان کی موجودہ حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے امریکی حمایت حاصل کرنے کے لئے پرامید ہے اور سی پیک سے وابسطہ ابتدائی شکوک و شبہات کو چھوڑ کر سی پیک پروجیکٹس کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے-

نتیجہ

آئندہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا چیلنج تین جہتی رہے گا: اول، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں آئیڈیلزم کے بجائے اپنے قومی مفاد پر توجہ مرکوز رکھنا اور اپنی معاشی بدحالی کو پلٹنے کے لئے سی پیک پروجیکٹس کو مستحکم کرنا؛ دوئم، پڑوسی ممالک کے ساتھ علاقائی امن کو فروغ دینا اور معاشی فوائد پر منفی اثرات ڈالنے والے عسکری خطرات میں کمی لانا؛ اور بالآخر، بین الاقوامی برادری کے ساتھ عالمی کثیرالجہتی مصروفیات کو جاری رکھنا تاکہ پاکستان کو امریکہ اور چین کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبورنا کیا جاۓ۔ تاہم ، چونکہ امریکہ-چین مقابلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، دونوں طاقتوں کے بیچ پاکستان کی متوازن سمت شناسی کا امتحان لیا جائے گا، اور دونوں طاقتوں کواس بات کی مظبوط یقین دہانیوں کی ضرورت ہو گی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فیصلے ہار جیت کا کھیل نہیں ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: U.S. Institute of Peace via Flickr

Image 2: U.S. Institute of Peace via Flickr

Posted in , , Afghanistan, China in South Asia, CPEC, Economy, Foreign Policy, Pakistan, Politics, Strategic Culture, United States

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi is an Associate Professor in the School of Politics and International Relations at the Quaid-e-Azam University, Islamabad. His research interests border on nationalism and ethnicity, theories of International Relations and democracy/democratization. He is the author of "The Politics of Ethnicity in Pakistan: The Baloch, Sindhi and Mohajir Ethnic Movements," published by Routledge in 2012. He was an SAV Visiting Fellow in January 2017.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *