8881182516_984f2603be_o

پاکستان کا وفاقیت کا مناظرہ 30 جولائی 2026 کواچانک دوبارہ ظاہرہوا جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ میں بتایا کہ حکومت کا ‘نظام’ بکھر چُکاہے۔ ان کا تعرُّض انتظامی اصلاحات کے حامیوں کے (اس) وسیع تر نقطہ نظر کا عکاس ہے کہ محیطی علاقوں میں مسلسل حکومت، ترقی، اور امن و سلامتی کی متعلقہ مشکلات موجودہ صوبائی انتظامات کی محدودیت کا اظہار ہیں۔ اضافی انتظامی اکائیوں کو بحران کے حل کے طور پر پیش کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبے یا اکائیاں بنانے پرغور کریں۔ ایک دن بعد، فوج کے ترجمان نے ’’ایڈمنسٹریٹیو ری سیٹ‘‘(انتظامی ترتیبِ نو)  کے مناظرے کی توثیق کی اوراچھی حکمرانی (گُڈ گورننس) کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا چار صوبے پاکستان کی بڑی آبادی کو مؤثر طریقے سے چلا سکتے ہیں، جبکہ یہ زور دیا کہ کوئی بھی تبدیلی صرف سیاسی اور آئینی راستوں کے ذریعے ہی آنی چاہیئے۔ 

تاہم سیاسی ردِ عمل ملے جُلے تھے۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے اس تجویز کو رد کیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں نے نقوی کے نظام ختم ہونے کے دعوے پر تنقید کی تاہم  اضافی یونٹس بنانے پر مشروط حمایت ظاہر کی۔ ابتدا میں اس مسئلے پر کم بات کرنےکے باوجود، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بعد میں جنوبی پنجاب صوبے سمیت نئے صوبے بنانے  کی طویل المدتی حمایت دوبارہ ظاہر کی اور یہ بھی کہا کہ ایسی اصلاحات عوامی مینڈیٹ والی حکومت کے ذریعے ہی کی جانی چاہئیں۔ 

اس مبادلےکو زیادہ تر بہتر حکمرانی سے متعلق مناظرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، خصوصاً چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے جو خدمات کی فراہمی میں ریاست کی صلاحیت کو بڑھائیں گے اور حکومت کو مقامی ضروریات کا زیادہ جوابدہ بنائیں گے، جس کے شناسا ضمنی مفہوم میں سول -فوجی سیاست بھی شامل ہے۔ تاہم اصل تنازعہ ملک کے مالی وسائل کے انضباط اور تقسیم سے متعلق ہے۔ صوبائی حدود کے دوبارہ تعین  سےسیاسی یونٹس کے بارے میں سوالات دوبارہ اٹھیں گے جن کے ذریعے مالیات،ادائیگی کی ذمہ داریوں، نمائندگی اور سرپرستی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اگر ترتیبِ نو کا آغاز ایک حکومتی اقدام   کے طور پر بھی ہو، اسے پاکستان کے 2010 کے بعد کے وفاقی معاہدے  (فیڈرل سیٹیلمنٹ) کو تقویت دیتے انقسامی سمجھوتوں کو دوبارہ کھولے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومتیں جو اسلام آباد سے زیادہ خودمختاری اور وسائل طلب کرتی ہیں، عموماً منتخب مقامی حکومتوں کو حقیقی مالیاتی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ پاکستان کی صوبائی نمائندگی کےدوبارہ تعین سے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی غیرحل شُدہ سیاست اورمقامی تفویض کی جاری مشکلات سامنے آئیں گی۔

انتظامی اصلاحات کی مالیاتی سیاست 

پاکستان کا موجودہ مالیاتی سمجھوتہ 10-2009  میں بڑی سیاسی جماعتوں، وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے(پیکج) سے اُبھرا۔ یہ معاہدہ 2008 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوری تبدیلی کے بعد ہوا اور اس نے بڑی جماعتوں کے درمیان ایک وسیع اتفاق رائے کی عکاسی کی کہ  صوبائی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم سے متعلق دیرینہ شکایات کو حل کرنا وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کے وفاقی قابل تقسیم فنڈ کے مجموعی حصے کو 11-2010  میں 47.5 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد اور اس کے بعد 57.5 فیصد کیا، جبکہ چھوٹے صوبوں، خصوصاً  خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے  متعلقہ حصص بھی بڑھائے گئے۔ اس نے افقی تقسیم کے لیے صرف آبادی والے فارمولا کو ہٹا کر کثیر المظہر ترتیب کو اپنایا۔این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے بھی بڑی حکومتی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کیں اور یہ یقینی بنایا کہ وفاقی آمدنی میں سے ان کا مجموعی حصہ مستقبل میں کسی بھی ایوارڈ کے ذریعےکم نہ کیا جا سکے۔ ان اقدامات نے مل کر صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو ایک ‘جامع’ اور حقیقی وفاقیت کی طرف لے جانے میں مدد دی۔ 

تاہم اس سیاسی سمجھوتے کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ اور مالیاتی رُکاوٹوں کے سبب برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کی ملکی و بیرونی قرضوں کی ادایئگیاں سات گنا بڑھ گئی ہیں کیونکہ 2025 میں بیرونی قرضہ 87 بلین ڈالر تک پہنچ گیاہے۔ نتیجتاً صوبائی منتقلیوں، قرض کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد وفاقی حکومت کو پنشن، ترقی، اور سماجی تحفظ کے اخراجات کے لیے مزید قرض لینے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ 
ساتھ ہی وفاقی اخراجات 2011 میں  صوبوں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں کے  تناسب سے کم نہیں ہوئے ۔یہ اس لیے ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کے سپرد بعض پالیسی علاقوں میں کام کرتی رہتی ہے، جیسے کہ تعلیم، صحت، خوراک کی فراہمی کا یقینی بنانا، ثقافت، اورقومی ہم آہنگی اور معیارات مقرر کرنے کی بنیاد پر  موسمیاتی تبدیلی، جس سے اختیارات کی منتقلی کےمتوقع مالیاتی فوائد متاثر ہوتے ہیں۔ 

اس صورتحال میں خود صوبوں پربھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ زیادہ بڑی اور زیادہ متوقع منتقلیوں اور اضافی ذمہ داریاں سنبھالنے کے باوجود، وہ زرعی آمدنی، شہری جائیداد اوراملاک (رئیل اسٹیٹ) سے نئی آمدنی جمع کرنے میں بیشتر طور پر ناکام رہے ہیں۔ صوبائی اخراجات بھی تنخواہوں، پنشنز اورانتظامی اخراجات پر مرکوز ہو گئے ہیں۔ اسی دوران، تیسرے درجے یعنی مقامی حکومتوں تک اختیارات کی منتقلی ابھی تک نامکمل ہےکیونکہ پنجاب میں انتخابات تاخیر کا شکار ہیں جس کی وجہ مقامی حکومتی قوانین میں متواتر  تبدیلیاں ہیں جوصوبائی حکومتوں کامقامی انتظامیہ اور ترقیاتی فنڈز پر اختیار برقرار رکھتی ہیں ۔یہ نتیجہ سیاسی ترغیبات کے ساتھ ساتھ انتظامی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے صوبوں کو اختیارات دینے کی حمایت کی کیونکہ اس سے وفاق مستحکم ہوا اور ان کے صوبائی گڑھ مضبوط ہوئے۔ تاہم انہوں نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے گریز کیا کیونکہ خود مختار وسائل رکھنے والے مقامی نمائندے ممکنہ طور پر حریفانہ سیاسی نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں اور ترقیاتی اخراجات اور سیاسی حمایت پر صوبائی  اختیار کو کمزور کر سکتے ہیں۔ 

 سال 27-2006  کے وفاقی بجٹ پرمذاکرات میں دباؤ واضح نظرآ رہا تھا۔ وفاقی حکومت نے تزویراتی ضروریات کے لیے  صوبوں سے 1.2 ٹریلین روپے سے زائد کی مانگ کی،جو آئی ایم ایف کے زیرِ دست نیشنل فِسکل پیکٹ  کے تحت 1.95 ٹریلین روپے کے کیش سرپلس (نقد اضافی) کے علاوہ تھی۔ حتمی بجٹ نے اگلے تین سالوں کے لیے قابل تقسیم منافع (ڈیویزیبل پول) کو 13.35 ٹریلین روپے تک محدود کیا  جس سے وفاقی حکومت کو اضافی آمدنی کے طور پر تقریباً 1.9 ٹریلین روپے ملیں گے۔ (بجٹ) نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے دو ٹریلین روپے سے زائد (وصولی) کا تخمینہ بھی لگایا، جس آمدنی  کوصوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کیا جاتا۔ ان اقدامات نے  این ایف سی ایوارڈ پر باضابطہ نظرثانی کیےبغیر وسائل کی عمودی تقسیم کو بدل دیا ہے ۔این ایف سی کی یہ ‘بیک ڈور’ (غیر سرکاری)  نظرثانی نئے صوبے بنانے کی تجاویز سے براہ راست تعلق  رکھتی ہے، جن کے باعث اخراجات سے متعلق نئے مطالبات  پیدا ہوں گے اور تقسیم کے فارمولا پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت  پیدا ہوگی۔ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد سے خیبر پختونخواہ  کا زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ پہلے ہی واضح  کر رہا ہے کہ کیسے علاقائی تبدیلیاں پرانے فارمولے کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ لہٰذا نقوی کے حکومتی ترتیبِ نو  (گورننس ری سیٹ) کی تجویز کے لیے پاکستان کے 2010 کے بعد کے آئینی اور مالیاتی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ 

مفقود تیسرا درجہ

حالیہ مناظرے میں اکثر نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کو قابلِ مبادلہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہر ایک میں وسائل اور سیاسی طاقت کی منتقلی کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ ایک نیا صوبہ اپنی اسمبلی (ایوان) ، ایگزیکٹو (مختارِ کار)، اور وفاقی اداروں میں اپنی نمائندگی کے ساتھ ایک وفاقی اکائی بن جائے گا۔ ایک انتظامی یونٹ، جیسے کہ ایک ڈویژن، صوبائی اختیار کے تحت رہے گا۔ اس کے برعکس، اختیارات کی  مقامی  تفویض صوبائی دارالحکومتوں سے منتخب مقامی کونسلوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں منتقل کرتی ہے۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ مزید صوبے بنانے سے  قانون ساز اداروں، وزرا اور بیوروکریسی (دفتری نظام)  میں تو اضافہ ہو  گا تاہم شہریوں کی حکومت تک رسائی بہتر  ہونا امرِلازم نہیں۔اگر مقصد خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے تو اصلاحات کا آغاز مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے اور انہیں باقاعدہ مالی منتقلی یقینی بنانے سے ہونا چاہیے۔ 

صوبائی رہنما اسلام آباد سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ تو کرتے ہیں تاہم  خود وہ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے لیے اتنے خواہاں نہیں۔ اگرچہ 18ویں ترمیم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح  کی تاہم  آرٹیکل 140-اے نے صوبوں کو مقامی حکومتوں کی عمل کاری اور مالی معاملات چلانے کا اختیار دیا۔اس کے باعث صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتی قوانین میں مسلسل تبدیلی کرنے،انتخابات کے التوا  اور سرمایہ کاری (فنڈنگ) پر قابو برقرار رکھنے کا  موقع ملا۔اس مسئلے کو 2025 میں نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا، جب پنجاب اسمبلی نے سالوں کی تاخیراور بدانتظامی کے بعد مقامی اداروں کے لیے مضبوط آئینی تحفظ کا مطالبہ کیا۔ صوبائی جماعتوں کے لیے اس اختیار کو  چھوڑنے کی کوئی زیادہ ترغیب نہیں ہے، بالخصوص  جبکہ  منتخب اور مناسب مالی اعانت والے مقامی نمائندے ترقیاتی وسائل کے لیے مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی سیاسی حمایت خود بنا سکتے ہیں۔ 

سال 2001 کے اختیارات کی منتقلی کامنصوبہ، جس میں صدر پرویز مشرف کی حکومت نے اہم ذمہ داریاں (فنکشنز) ضلعی حکومتوں کو منتقل کیں،منتخب ناظمین کو بااختیار بنایا اورانتظامیہ کو اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کے ذریعے دوبارہ منظم کیا، ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد متعارف کرائی گئی اصلاحات کا مقصد مقامی انتظامیہ کو بہتر بنانا اور سیاسی اختیارات صوبائی اشرافیہ سے لے کر فوجی حکومت سے وابستہ منتخب مقامی  رہنماؤں تک منتقل کرنا تھا۔ ان اقدامات نے مقامی نمائندوں کو منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی میں ایک اہم کردار دیا۔تاہم 2008 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد، صوبائی حکومتیں واپس آئیں اور چونکہ انہیں اپنےاختیارات محدود کرنے کےنظام  کو برقرار رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہ تھی، سو صوبائی رہنماؤں نے آہستہ آہستہ اضلاع سے اختیارات (فنکشنز)،بجٹس اور تقرریاں واپس لینا شروع کر دیں۔ 

سال 2001 سے یہ سبق ملتا ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانا بذاتِ خود مقامی سطح پر حکومت کو استحکام نہیں دے گا۔ کسی بھی قابل عمل مقامی نظام کے لیے صوبوں کو اس کی تشکیل میں حصہ لینا اور اختیارات و وسائل کی حقیقی منتقلی کو قبول کرنا ضروری ہوگا۔

مذاکرات کے ذریعے وفاقی اصلاح

دوبارہ شروع ہونے والی بحث کو محض چار صوبے رکھنے یا چھوٹے یونٹس بنانے کے انتخاب تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کا حکومتی (گورننس) بحران مرکز، صوبوں اورمقامی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں (فنکشنز) اور وسائل کی غیر حل شدہ تقسیم کی عکاسی بھی  کرتا ہے۔  گو کہ نئے صوبے کچھ علاقوں میں انتظامی رسائی کو بہتر بنا سکتے ہیں، تاہم یہ اضافی حکومتیں، اخراجاتی ذمہ داریاں اور این ایف سی پر مطالبات بھی پیدا کریں گے۔ انتظامی یونٹس صوبائی دارالحکومتوں پر انحصار کرتےرہیں گے، جبکہ مقامی حکومتیں باقاعدہ انتخابات، بلدیاتی خدمات، منصوبہ بندی اور ترقی سے متعلق واضح طور پر متعین کردہ ذمہ داریاں (فنکشنز) اور متوقع آمدنی کے بغیر بہتر خدمات فراہم نہیں کر سکتیں۔ 

مرکزی حکومت اکیلے ہی وفاقی نظام کی ترتیبِ نو نہیں کرسکتی اور صوبے مقامی حکومتوں کو کمزور رکھنا جاری نہیں رکھ سکتے۔ نقوی اور فوج کی استدعا  نے بحث کا دوبارہ آغاز تو کیا ہے، تاہم  پاکستان کا محض نقشہ بدلنے سے ملک کا وفاقی نظام بہتر نہیں ہو سکتا: مالیاتی ذمہ داریوں پر اختلافات برقرار رہیں گے اور ساتھ ہی مقامی حکومت کی کمزوری بھی باقی رہے گی۔جب تک سیاسی جماعتیں آمدنی، اخراجات اور اختیار کو تین سطحوں میں  تقسیم کرنے (کے طریقۂ کار) پر متفق نہیں ہوتیں، صوبائی حدود کی تبدیلی حکومت کی کارکردگی پر اثرانداز ہوئے بغیر (محض) اس  کے ڈھانچے کو بدلے گی۔

***

This article is a translation. Click here to read the article in English.

Image 1: Inam Photography via Flickr

Image 2: Furqanlw via Wikimedia

Posted in:  
Share this:  

Related articles