افغانستان میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟

صدر ٹرمپ  اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے اوپر خاص توجہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیـں- اس حوالہ سے انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجی طاقت میں اضافہ کا ذکربھی کیا ہے۔  سوال یہ ہے کہ کیا اس اضافہ سے افغانستان میں امن قائم ہو پائے گا؟ اور کیا افغانستان کے مسئلے کی جڑ فوجی حکمت عملی سے منسلک ہے یا پھر سیاسی امور سے؟

حالیہ امریکا نے دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار افغانستان میں استعمال کیا جس کا مقصد طالبان نہیں بلکہ داعش کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ اس پیچیدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ امریکا، پاکستان اور افغان حکومت کی حکمت عملی ایک جامع رخ اختیار کرے۔ اس حوالہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کے یہ تین حکومتیں طالبان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ طالبان کا افغانستان کے مستقبل میں ایک اہم کردار ہے۔ طالبان صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک سیاسی تنظیم بھی ہے جس کا اثر ورسوخ جنوبی افغانستان میں ایک حقیقت ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے ۹۰ کی دہائی میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پچھلے مہینے پاکستان نے تاکید کی تھی کہ طالبان اپنی فوجی حکمت عملی کو ترک کر کہ سیاسی رستہ اختیار کریں- پاکستان کے لئے افغانستان میں امن اس لئے بھی ضروری ہے کیوںکہ جنگی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔

افغانستان بھی طالبان سے سیاسی مذاکرات کا حامی ہے اور پاکستان کی طرح اس کا ماننا ہے کہ طالبان سے بات چیت کی جائے لیکن افغان حکومت چاہتی ہے کہ طالبان اس کو ایک جائز حکومت تسلیم کرے۔ یہ انتہائی ضروری ہہ کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو تسلیم کریں کیونکہ اس کہ بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ۲۰۱۶ کے آخر میں افغان حکومت اور طالبان کی قطر میں ملاقات کی خبریں رونما ہوئی تھیں لیکن دسمبر ۲۰۱۶ میں طالبان نے بیان جاری کیا کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں تعینات ہے وہ کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

امریکا بھی طالبان سے سیاسی مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے لیکن تین شرائط رکھتا ہے۔ اول یہ کہ طالبان اپنی جارہانہ پالیسی کو ترک کرے۔ ثانیاً، طالبان افغانستان کے آئین کو تسلیم کرے- اور تیسری شرط یہ کہ طالبان القائدہ اور دوسری بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کر دے۔ امریکا کا طالبان کا قطر میں دفتر کھولنے میں اہم کردار تھا۔ امریکا ثالث کا کردار ادا کر کے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دیرپا امن کا خواہشمند ہے۔ طالبان نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ امریکا سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ مذاکرات میں افغان حکومت کا شامل ہونا ضروری ہے

   کیا طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں؟ اس کا مثبت جواب دیا جا سکتا ہے کیونکہ طالبان نے بات چیت کی پیشکش تو امریکا کو بھی کی ہے- سوال یہ ہے کہ اگر سارے فریق مذاکرات کے لئے تیار ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں لاحق ہے؟ غور و فکر کی بات یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان، جوکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں، ایک دوسرے پہ الزام زیادہ اور تعاون کم کرتے ہیں۔ حالیہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دیں اور الزام لگایا کہ تحریک طالبان کو افغانستان پناہ دیتا ہے جہاں سے وہ پاکستان کو اپنا نشانہ بناتے ہیں- اسی طرح افغانستان پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ افغان طالبان کو پناہ دیتا ہے۔

افغانستان کے موجودہ حالات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جس میں طالبان کی فوجی حکمت عملی میں تیزی نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف روس کی مداخلت بھی بڑھ رہی ہے۔

افغانستان میں امن کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امریکا امن قائم کرنے کے لئے ایک متفقہ رائے پیدا کریں جس کی بنیاد آئین، جمہوریت اورافغانستان میں بسنے والے مختلف لسانی گروہوں کے درمیان سلامتی اور استحکام ہو۔ تینوں ممالک امن کے خواہشمند ہیں اور طالبان سے مذاکرات اور سیاسی حل چاہتے ہیں- طالبان کو افغانستان کے سیاسی ڈھانچے میں شامل کرنا ایک آسان عمل نہیں لیکن اگر پاکستان، افغانستان اور امریکا ایک عملی سوچ اپنائیں تو ایسا کرنا ناممکن بھی نہیں

***

Image 1: ResoluteSupportMedia, Flickr

Image 2: U.S. Central Command, Flickr

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Foreign Policy, Pakistan, Peace, United States

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi

Farhan Hanif Siddiqi is a January 2017 SAV Visiting Fellow. He is an Associate Professor in the School of Politics and International Relations at the Quaid-e-Azam University, Islamabad. His research interests border on nationalism and ethnicity, theories of International Relations and democracy/democratization. He is the author of "The Politics of Ethnicity in Pakistan: The Baloch, Sindhi and Mohajir Ethnic Movements," published by Routledge in 2012.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *