بھارتی جوہری پالیسی پر بحث ایک بار پھر گرم

جوہری پالیسی پر مچی ہلچل

تانوی کلکرنی

 جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی بھارتی پالیسی ”نوفرسٹ یوز“ (این ایف یو) عوام میں ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ اس مرتبہ، ”این ایف یو“ سے جڑے عہد کی حیثیت پر تبصروں کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ۱۶ اگست کو جنوب مغربی بھارت میں پوکھران میں دیئے گئے بیان نے جنم دیا ۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی برسی کے موقع پران کی یاد میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے تبصرہ کیا کہ :” پوکھران، اٹل جی کے بھارت کو جوہری طاقت بنانے کے عزم کا گواہ ہے، اور (بھارت)  ابھی تک ‘پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی’ پرعمل پیرا ہے۔  بھارت اس ڈاکٹرائن سے سختی سے جڑا ہوا ہے۔ البتہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے،اس کا انحصار حالات پر ہوگا” ۔سنگھ نے بعد ازاں یہ بیان اپنے  سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے بھی جاری کیا جس سے انہیں سمجھنے میں غلطی کا امکان رد ہوگیا۔

قدرتی طور پر یہاں تین سوالات قابل بحث ہیں: سنگھ کے بیان کا وقت کیا واضح کرتا ہے؟ کیا بھارت ”این ایف یو“ عہد سے دستبردار ہوچکا ہے؟ کیا این ایف یو اب بھی بھارتی قومی سلامتی اور تزویراتی مفادات کیلئے فائدہ مند ہے؟

وزیر دفاع کا بیان ایک ایسے حساس موڑ پر سامنے آیا ہے جہاں بھارت کے پاکستان سے تعلقات پلوامہ دہشت گرد حملے اور بالاکوٹ پر فضائی حملے کے بعد سے نچلی ترین سطح پر ہیں، اور جب بھارتی ریاست، جموں، کشمیر اور لداخ کے علاقوں کے ساتھ اپنے تعلق کو نئی شکل دے رہی ہے۔ جوہری  ہتھیار کی طاقت سے لیس ریاست کے طور پر بھارتی شناخت کے ضمن میں بھی سنگھ کے بیان کا وقت اور مقام اہم ہیں۔  پوکھران وہ مقام ہے جہاں واجپائی کی اجازت سے بھارت نے ۱۹۹۸ میں ایٹمی تجربے کئے تھے۔ کسی بھی وزیر کی جانب سے کابینہ کا حصہ ہونے کے باوجود این ایف یو سے جڑے عہد کے بارے میں ایسا بیان آخری باربھارتی فوج کی جانب سے اڑی کی سرجیکل سٹرائیکس کے دو ماہ بعد نومبر ۲۰۱۶ میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کی طرف سے آیا تھا۔ پاریکر نے جہاں اپنے بیان کو اپنا ذاتی خیال قرار دیا تھا اور وزارت دفاع کی جانب سے بھی یہ وضاحت آئی تھی کہ یہ وزیر کا ”ذاتی خیال“ ہے، وہیں سنگھ کی جانب سے ایسی کوئی وضاحت نہیں ہوئی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں بیانات بھارت میں فیصلہ سازی کے اعلیٰ ترین گروہ،  کابینہ کمیٹی برائے دفاع کیلئے خدمات سرانجام دینے والے حکام کی جانب سے تھے اور پاکستان سے کشیدگی کے ادوار میں سامنے آئے، ان بیانات کی سنجیدگی اور اس میں مقامی اورعالمی برادری دونوں کو دیئے گئے اشارے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

باوجود اس کے کہ وزیردفاع کے بیان میں یہ کہیں تجویز نہیں کیا گیا کہ بھارت نے این ایف یو عہد کو چھوڑ دیا ہے لیکن درحقیقت یہ بیان بھارتی جوہری پالیسی اور ڈاکٹرائن کے مرکزی خیال کے عین مطابق ہے، جہاں ہے ”این ایف یو“ کے بارے میں جانتے بوجھتے اخفاء رکھی گئی۔ بھارتی جوہری ڈاکٹرائن، ”این ایف یو“ کو محض جوابی کارروائی کے ضمن میں بطور حکمت عملی بیان کرتا ہے۔ بھارت میں سویلین قیادت نے جوہری جوابی کارروائی کی نوعیت واضح کرنے کے بجائے ہمیشہ سے ”این ایف یو“ کو سیاسی عہد قراردیا ہے۔ این ایف یو پالیسی  ۲۰۰۳ میں پہلی بار حکومتی سطح پر “تبدیل”  کی گئی تھی جب بھارت یا اس کی سپاہ پر بھارت کے اندر یا باہر مصروف عمل ہونے کے دوران کیمیائی یا بائیولوجیکل حملے کی صورت میں جوہری نوعیت کی جوابی کارروائی کا انتباہ شامل کیا گیا۔ پس، بھارتی جوہری ڈاکٹرائن نظرثانی کے قابل دستاویز ہے اور یہ ناقابل تبدیلی نہیں، حالانکہ ۲۰۰۳ کے بعد آنے والی حکومتوں نے نہ تو کبھی اعلانیہ طور پر ڈاکٹرائن پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی  اور نہ ہی این ایف یو عہد کو کلی طور پر ختم کیا ہے۔

این ایف ایو ایک سیاسی اعلامیہ ہے جس کی حیثیت کو کلی طور پر ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بھارت کی این ایف یو پالیسی ۱۹۹۹ سے بڑے پیمانے پر عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ این ایف یو کی تعریف میں موجود ابہام ، بھارتی تزویراتی میدان میں متعدد طریقوں، خصوصاً تکنیکی اورعملیاتی اعتبار سے اس کی حدود متعین کرنے کو ممکن بناتا ہے۔ این ایف یو، بھارت کے قابل اعتماد جوہری ڈیٹرنس کے منطقی نتیجے کے طور پر اپنایا گیا تھا جو جوہری طاقت کے استعمال کے حوالے سے اس کی نرم حکمت عملی ظاہر کرتا ہے۔ این ایف یو کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ بھارت کو اپنے دفاع سے وابستہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مخالفین کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کی دھمکی کے ذریعے ڈرانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ کہ موجودہ قیادت اب این ایف یو عہد کی موثریت کا دوبارہ جائزہ لینا چاہے گی جو کہ نہ صرف حکومت کی جانب سے طاقت کے بل پر قومی سلامتی کی پالیسی کو ترجیح دینے کا مظہر ہے بلکہ ایشیاء میں تزویراتی میدان میں تبدیلیوں کا بھی مظہر ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ، روس اور چین کے مابین ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے بھارتی جوہری اور روایتی فوجی ڈھانچے کے بارے میں تزویراتی منصوبوں پر اثرات ہوں گے۔ تزویراتی اور دفاعی ماحول میں تبدیلیوں کے سبب حکمت عملی کا مخصوص وقفوں کے بعد جائزہ اور حتیٰ کہ اس پر نظرثانی قرین قیاس بھی ہے اور موثر بھی۔

چونکہ جوہری حکمت عملی کے ضمن میں بھارتی این ایف یو اس وقت بحث کا مرکزی نکتہ ہے، اس لئے بھارتی فیصلہ سازوں کو اس پر قائل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کہ ابھرتے ہوئے دفاعی خطرات کے خلاف جامع جوہری حکمت عملی کیلئے این ایف یو پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کردینے کے بجائے جوہری ڈاکٹرائن میں موجود سقم کو دور کیے جانے کی ضرورت ہے۔

***

جوہری ہتھیارپہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی ، خداحافظ!

ستارہ نور

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا تازہ ترین بیان جس میں انہوں نے بھارت کی جوہری ہتھیار کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی ”نو فرسٹ یوز“ (این ایف یو) میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیا، بھارتی ”این ایف یو“ عہد کے تقدس پر بحث کو ازسرنو جنم دے چکا ہے۔ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی پہلی برسی کے موقع پر سنگھ نے ٹویٹ کیا : “پوکھران وہ مقام ہے جو اٹل جی کے بھارت کو جوہری طاقت بنانے کے عزم کا گواہ ہے، (بھارت)  ابھی تک ‘پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی’ پرعمل پیرا ہے۔  بھارت اس ڈاکٹرائن پر سختی سے ڈٹا ہوا ہے۔۔ تاہم مستقبل میں کیا ہوتا ہے،اس کا انحصار حالات پر ہوگا”۔

 یہ بیان، بی جے پی کی جانب سے ۲۰۱۴ کے انتخابی منشور میں بھارتی جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی تجویز کئے جانے کے بعد سے سابقہ اور عہدوں پر موجود بھارتی حکام کے جاری کردہ بیانات کے سلسلے کی ایک اور مثال ہے جس میں ملک کے این ایف یو عہد کے تقدس پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر نے نومبر ۲۰۱۶ میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں یہ تجویز کیا تھا کہ بھارت کو اپنے این ایف یو وعدے پردوبارہ غور کرنا چاہئے ، جس پر بھارتی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے اسے وزیر کا “ذاتی خیال” قرار دیا تھا۔  تاہم، سنگھ کی جانب سے تازہ ترین تبصرہ احتیاط کے ساتھ ترتیب دیا گیا اور خیال ہے کہ حکومتی اجازت سے جاری کیا گیا۔ نہ تو حکام کی جانب سے اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کی گئی اور نہ ہی حکومت نے وضاحتی بیان جاری کیا جو کہ اس بیان کوسابق وزیر دفاع، قومی سلامتی کے سابق مشیران اور دیگر مفکرین کے بیانات سے مختلف بناتا ہے۔ یوں، سنگھ کا بیان آنے والے دنوں  میں بھارتی ”این ایف یو“ پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا پہلا باقاعدہ اشارہ ہے۔

بعض بھارتی مفکرین نے بیان کے پہلے حصے جس میں سنگھ نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر تاحال سختی سے عملدرآمد پر زور دیا، پر توجہ دیتے ہوئے بیان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرصورت ایسا کوئی بھی عہد امن اور جنگ کے زمانے میں مستقبل کی پالیسی پر اثر انداز ہو گا نیز، ماضی میں وعدے کا پاس کیے جانا مستقبل میں اس کے تقدس کی سلامتی کا ضامن نہیں۔ دیگر تجزیہ کاروں نے یہ رائے دی ہے کہ  یہ بیان پہل نہ کرنے کی پالیسی سے ابہام کی پالیسی کی جانب منتقلی کا اشارہ دیتا ہے۔ تاہم ، یہ امراہمیت کا حامل ہے کہ ایک کامل ”این ایف یو“ عہد بھی حریف ممالک کی جانب سے کسی حد تک شک کی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا کیونکہ اس کی تصدیق ممکن نہیں۔ جانتے بوجھتے اس میں ابہام شامل کرنا ”این ایف یو“ عہد کے قابل بھروسہ نہ ہونے پر مبنی حریفوں کے شکوک کی تصدیق کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بھارتی این ایف یو عہد پر کبھی یقین نہیں کیا اوراسے ایک کھوکھلا بیان سمجھا جس کا مقصد سیاسی فوائد بٹورنا ہے، خاص کر ۱۹۹۹ کے تحریر شدہ بھارتی جوہری ڈاکٹرائن میں شامل ہتھیاروں کے استعمال میں کسی صورت پہل نہ کرنے کے عہد میں ۲۰۰۳ میں سرکاری سطح پر شامل کئے گئے انتباہ کے بعد۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے  زور دیا کہ بھارتی ”این ایف یو“ عہد “قابل تصدیق نہیں اور اسے محض ظاہری حیثیت کی بنا پر قبول نہیں کیا جاسکتا، خاص کر ایسے وقت میں کہ جب جارحانہ صلاحیتوں اور فوجی طاقت میں مسلسل اضافہ ایسے دعووں کی نفی کررہا ہو”۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ پاکستان ردعمل میں کم سے کم ڈیٹرنس کی قابل بھروسہ پالیسی جاری رکھے گا۔

اگرچہ سنگھ کے تازہ ترین بیان نے بھارتی ”این ایف یو“ وعدے کو عملی طور پر ختم کردیا ہے تاہم مستقبل قریب میں بھارت کی جانب سے سرکاری سطح پر جوہری ڈاکٹرائن میں تبدیلی کے دو وجوہات کی بنا پر امکانات نہیں۔ اول یہ کہ این ایف یو عہد سے بھارت کو سیاسی فوائد حاصل ہیں اور اس کی مدد سے اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کئے بنا ہی “ذمہ دار” جوہری ریاست کی حیثیت ملی ہوئی ہے۔ اس کی مدد سے بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے ملنے والی خصوصی چھوٹ کے بعد متعدد ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دوئم یہ کہ،بھارتی فوجی طاقت میں بڑی تبدیلیاں لائے بغیر استعمال میں پہل کے سرکاری اعلان کی صورت میں اس کی ساکھ کو بڑے چیلنجز لاحق ہوسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر بھارت، بھاری پیمانے پر جوابی کاروائی کی اپنی اعلانیہ حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے حفاظتی نقطہ نگاہ سے پیشگی حملے کی حکمت عملی اپناتا ہے، جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے تجویز کیا جارہا ہے، تو بھی بھارت کی موجودہ فوجی صلاحیتیں کلی طور پر اس قابل نہیں کہ پاکستان پر پیشگی حفاظتی تدبیر کے طور پر کامیاب حملہ کرسکیں۔ بھارت کی جانب سے ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، جیسا کہ ماہر نشانہ لگانے والے ہتھیار، نئے کروز اور بیلسٹک میزائل، بیلسٹک میزائل ڈیفنس اور انٹیلی جنس، سرویلینس اور ری کونیسنز (آئی ایس آر) جسے دشمن کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کرنا ممکن ہے، وغیرہ کے باوجود بھارت یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسکے پاس پاکستان کو جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کا  کامل اورشرطیہ کامیابی کا حامل نظام موجود ہے۔

 بہرکیف حالیہ پلوامہ/ بالاکوٹ بحران میں بھارتی رویہ کو دیکھتے ہوئے یہ بیان معمول کا بیان نہیں ہے، اس وقت بھی بھارت نے جوہری ہتھیاروں سے لیس اری ہانت آبدوزتعینات کردی تھی اور خیال کیا جارہا تھا کہ وہ پاکستان پر میزائل سے حملہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ موجودہ تناؤ کے پس منظر میں پاکستان نے سنگھ کے بیان کو ”سخت حیران کن اور غیر ذمہ دارانہ“ قرار دیا ہے کیونکہ یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ چین کیلئے بھی اگرچہ کسی حد تک ہی، تاہم جوہری حملے کے خطرے کا حامل ہے۔ بالاکوٹ کے واقعے سے حاصل کئے گئے بہت سے اسباق میں سے سب سے اہم یہ ہوسکتا ہے کہ حساب کتاب میں معمولی غلطی غیر متوقع طور پر کشدیدگی میں تیزی سے اضافے کا سبب ہوسکتی ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں سیکیورٹی صورتحال میں عدم استحکام تیزی سے بڑھ رہا ہو، سنگھ کے بیان جیسے بیانات اندازوں میں غلطی کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں اور نتیجے میں علاقے میں زیادہ عدم استحکام لانے کا سبب بنتے ہیں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Rajnath Singh via Twitter

Image 2: Raveendran/AFP via Getty Images

Posted in , Doctrine, India, Nuclear, Nuclear Weapons, Policy, Security

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni recently submitted her doctoral thesis to the Jawaharlal Nehru University, New Delhi, India and is on her way to earning her degree in Diplomacy and Disarmament Studies. Her thesis examines why states in a nuclear dyad negotiate nuclear confidence-building measures. She completed her M.Phil in Diplomacy and Disarmament in August 2014, and for her dissertation, she worked on tracing the evolution of the ideas of Credible Minimum Deterrence and No First Use in India's nuclear doctrine and policy. She researches and writes on nuclear politics, national security, and strategic issues. She was an SAV Visiting Fellow in March 2015, and has previously worked with the the Institute of Peace and Conflict Studies in New Delhi and the Chaophraya Track II Dialogue.

Read more

Sitara Noor

Sitara Noor

Sitara Noor is a South Asian Voices Visiting Fellow 2019-2020. She is a director at a Lahore-based policy consultancy. Previously Sitara was a Research Fellow at the Vienna Center for Disarmament and Non Proliferation (VCDNP) in Vienna, Austria. Prior to joining the VCDNP, she worked at the Pakistan Nuclear Regulatory Authority under the Directorate of Nuclear Security and Physical Protection as an International Relations Analyst. She has been a faculty member at the National University of Modern Languages, Islamabad’s Department of International Relations for two years. She was also a visiting faculty at the National University of Science and Technology (NUST), Lahore, the Foreign Services Academy of Pakistan, and the Information Services Academy of Pakistan.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *