H2020012684752-1600×900

کرنل ریٹائرڈ ڈیوڈ او اسمتھ کی کتاب ”دی ویلنگٹن ایکسپیریئنس: اے اسٹڈی آف ایٹی چیوڈ اینڈ ویلیوز ود ان دی انڈین آرمی“ بھارتی فوج کے بارے میں بذریعہ ڈیفنس سروس اسٹاف کالج (ڈی ایس ایس سی) مشتہر ہونے والی اخلاقیات اور تنظیمی ثقافت کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ اسمتھ کے طریقہ کار میں ۲۶ امریکی عہدیداران کے انٹرویوز شامل ہیں جنہوں نے ۱۹۷۹-۲۰۱۷ کے درمیان ڈی ایس ایس سی میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اسمتھ  خارجی و داخلی خطرات، سول ملٹری تعلقات اور جوہری مسائل کے بارے میں بھارتی فوج کا ادراک جو ان مشاہدات کی بنیاد پر ان پر آشکار ہوا، اس پہ بحث کرتے ہیں۔ ان جملہ امور پر ادراک کے تجزیے سے اسمتھ پالیسی سازوں کے لیے متعدد نتائج مرتب کرتے ہیں جن میں مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ”جنوبی ایشیائی علاقائی استحکام کے ضمن میں ان نتائج کے زیادہ ترمضمرات منفی ہیں۔“

اس مطالعے کا طریقہ کار اگرچہ طلباء کے ایک مختصر گروہ کے مشاہدات پر انحصار کرتا ہے، تاہم اسمتھ کی کاوش بھارت میں پیشہ ورانہ عسکری تعلیم (پی ایم ای) کے بارے میں بیرونی نگاہ سے دیکھنے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ پہلو اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ پیشہ ورانہ عسکری تعلیمی مراحل کو مزید بہتر بنانے اور بھارتی تزویراتی ترجیحات جنہیں مستقبل میں مزید  کھنگالنے کی ضرورت ہے، ان پر بحث کا موقع فراہم کرتا ہے۔

بھارت امریکہ تعلقات: تزویراتی شراکت داری کی جانب گامزن؟

بھارت امریکہ تعلقات پرمباحثے نے اسمتھ کی تحقیق میں مرکزی کردار بھی سنبھالے رکھا ہے اور پالیسی سازوں کے لیے حتمی حاصل کلام بھی رہا ہے۔ ان تعلقات کے بارے میں طلباء کے تاثرات پر مبنی اسمتھ کا مشاہدہ انہیں اس نتیجے کی جانب لے گیا ہے جسے وہ اس مطالعے کا سب سے حیران کن نتیجہ قرار دیتے ہیں- اور وہ  ہے بھارتی افسران کی امریکہ پر مسلسل بداعتمادی۔ ان شکوک و شبہات کی بڑی وجہ پاک امریکہ تعلقات اور ۱۹۷۱ میں یو ایس ایس انٹرپرائز واقعہ ہے، جسے اب بھی جوہری حملے کی دھمکی تصور کیا جاتا ہے اور ہنوز ناقابل معافی ہے۔ یہ بداعتمادی اور تعلقات میں کھنچاؤ کی دیگر ممکنہ وجوہات جیسا کہ غیر متوازن دوطرفہ تجارت، ایچ 1 بی ویزہ منصوبہ، اور روسی ساختہ ایس ۴۰۰ فضائی دفاعی سسٹمز کی خریداری کا بھارتی منصوبہ وہ نکات ہیں جنہوں نے امریکی پالیسی سازوں کے لیے اسمتھ کے اہم ترین تجزیہ کو جنم دیا ہے۔ وہ تجزیہ یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے ”پرخلوص تزویراتی شراکت دار بننے کا امکان نہیں ہے۔“

تاہم یہ بے حد اہم ہوگا کہ بھارت امریکہ تزویراتی شراکت داری میں اس وسعت کو نظرانداز نہ کیا جائے جو محض گزشتہ پندرہ برس میں رونما ہوئی ہے۔ ۲۰۰۵ میں عالمی شراکت داری اور سول جوہری تعاون  پر امریکہ بھارت مشترکہ بیان کے بعد سے  بھارت امریکہ تعلقات میں غیر معمولی تسلسل دیکھنے کو ملا ہے۔ جیسا کہ ۲۰۲۰ میں منظرعام پر آنے والے ”امریکی تزویراتی لائحہ عمل برائے انڈوپیسیفک“ سے اشارہ ملتا ہے، اس وقت سے ایشیا پیسیفک خطے میں مشترکہ مفادات اور تعاون میں فقط توسیع ہی دیکھنے کو ملی ہے۔ تاہم دفاعی تعاون کے باوجود بھی اسمتھ مستقبل میں پاکستان یا چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھارتی کامیابی کے حوالے سے مشکوک دکھائی دیتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ مستقبل کے تنازعوں میں چینی مداخلت کے ساتھ ہی امریکہ کو بھی گھسیٹا جاسکتا ہے۔ اسمتھ کا اضطراب اگرچہ جائز ہے تاہم پالیسی سازوں کو یہ فرض کرتے ہوئے احتیاط برتنا ہوگی کہ بھارت جنوبی ایشیا میں واضح دکھائی دیتی تزویراتی پیچیدگیوں کے باوجود بھی امریکہ سے مداخلت کی توقع کرے گا۔ بھارت عالمی سیاسی نظام میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین تزویراتی ملاپ سے قطع نظر، بھارت دیگر ممالک سے اپنے عسکری تعلقات آزادانہ حیثیت میں تشکیل دے گا۔

البتہ تزویراتی تعلقات میں فاصلوں کے بارے میں اسمتھ کا نتیجہ کلام درست طور پر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ریاستوں کو دوطرفہ تعلقات دوبارہ متعین کرنے اور ان میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تیزی سے بڑھتی دفاعی تجارت نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیا ہے تاہم یہ وسیع ترتعاون کی ضمانت نہیں دیتی ہے۔ بھارت امریکہ تعلقات میں جوش و خروش کے باوجود انہیں اختلافات ورثے میں ملے ہیں جیسا کہ امریکہ میں بھارت کی مالی پالیسی اور بھارت روس تعلقات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات۔ تاہم پالیسی سازوں کو اس تزویراتی شراکت داری کے تسلسل کی صلاحیت کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ انڈوپیسیفک میں امریکہ ایک ترجیحی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے اور باہمی اطمینان بخش معاشی ایجنڈے اور دوطرفہ تجارت نیز سفارتی ذرائع سے ان خدشات سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ واشنگٹن غیرروایتی سلامتی امور جیسا کہ عالمی صحت کے لیے ویکسین کی تیاری، توانائی و ماحولیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون جیسے امور کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے۔

خطرات کا تخمینہ: پاکستان اور چین

بھارت امریکہ تزویراتی تعاون کے پس پشت بنیادی محرک چین کے عروج کے حوالے سے پائے جانے والے مشترکہ خدشات کو خیال کیا جاتا ہے۔ تاہم اسمتھ نے بجا طور پر تصدیق کی ہے کہ بھارت چین کو ”سلامتی کیلئے بڑا خطرہ“ سمجھتا ہے لیکن یہ ”(چین کو) دشمن قرار دینے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔“ جنوبی ایشیا میں بنیادی تزویراتی کھیل عسکری سے زیادہ معیشت کا ہے اور چین بھارت تعلقات میں باوجود ”الجھنوں“ کے چین سے معاشی تعلقات کی صورت میں بھارت زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگرچہ اس کے امکانات تو نہیں تاہم سرحدی تنازعے کے حل کی صورت میں یہ بہت کچھ پا سکتا ہے۔ اس سے بھارت چین سرحدی تجارت میں مدد مل سکتی ہے اور جنوب و جنوب مشرقی ایشیا میں بڑے تجارتی کیمپ کے لیے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ اقدامات خواہ کس قدر بھی امیدوں سے مامور کیوں نہ ہوں، چین کو ”دشمن“ سمجھنے کی بنیاد پر یہ ممکن نہیں ہوسکتے۔ چین بھارت سرحدی مذاکرات میں جاری استقامت پرامن حل کی امید کا اشارہ  دیتی ہے۔ بھارت کیلئے چین کے ہمراہ تعلقات کو برقرار رکھنا، نا کہ اس کے ہمراہ کھلے عام متنازعہ تعلقات قائم کرلینا ہی معقول پالیسی ہے۔ بہرصورت، مضبوط سیاسی قیادت، حال ہی میں بھڑکنے والی عسکری آگ اور دونوں جانب بھڑکتے ہوئے جذبات کے ہمراہ مستقبل میں بھارت چین تعلقات ”معاندانہ تعاون“ سے مامور قرار پانے کا امکان ہے۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اسمتھ ”تحقیق میں شامل ہر نسل“ میں پاکستان کیخلاف پائی گئی بڑھتی جارحیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے لیے دو بنیادی وجوہات ہیں: سرفہرست پاکستان کا تیزی سے بڑھتا جوہری منصوبہ ہے جس میں مستقبل کی جنگ میں بھارت کے رخ پر نصب ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں۔ دوئم پاکستان سے تعاون پانے والے پراکسی گروہ جنہوں نے بھارت کو نشانہ بنایا، ان کے خلاف ”جمع شدہ غم و غصہ“ ہے۔ اسمتھ درست طور پر رائے دیتے ہیں کہ پاکستان ایک تزویراتی کے بجائے ٹیکٹیکل خطرہ ہے۔ پاکستان میں داخلی سطح پر ابتری اسے غیر متوازن ریاست بناتی ہے جو بھارت اپنی سرحدوں پر ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم حال ہی میں لداخ میں فوجوں کے آمنے سامنے ہونے سے بھارت کے خدشات نمایاں ہوئے ہیں جو اسے  پاکستان اور چینی طاقتوں کے مشترکہ گٹھ جوڑ  کے ذریعے ”دوہرے محاذ“ کے حوالے سے لاحق ہیں۔ ایک موثر عسکری قوت وہی ہوتی ہے جو کہ بیرونی سلامتی کے ماحول میں پیدا ہونے والی کسی بھی عسکری چیلنج  کو روکنے کے لیے عملیت پسندی اور بقا کے لیے مناسب وسائل سے لیس ہو۔ ان اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت  کو اپنی لڑنے کی صلاحیت، سرحدی انتظامات اور موثر حکمت عملی کی تیاری کیلئے سول ملٹری تعلقات پر  ازسرنو غور کے ذریعے تیار رہنا چاہیے۔

اندرونی خطرات

اندرونی خطرات پر بحث کرتے ہوئے اسمتھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بھارتی فوج کو کوئی بھی شورش ”مکمل طور پر کچلنا ابھی باقی ہے۔“ بھارت اندرونی سلامتی کے ماحول میں ابھرنے والے متعدد خطرات بشمول مسئلہ خالصتان، میزورام شورش اور ناگا کے تنازعے پر قابو پاچکا ہے۔ ان اندرونی سلامتی سے جڑے مسائل کے بارے میں عسکری رائے کو جاننا اہم ہے، وہیں (یہ بھی یاد رہے کہ) ان میں سے بہت سے خطرات مثلاً نکسل تحریک سے بڑی حد تک ریاستی اداروں نے نمٹا جس میں ”انٹیلی جنس“ کے محاذ پر خال خال فوج کا تعاون حاصل رہا۔ بھارت سمیت کسی بھی جمہوریت میں فوج آخری حربہ ہوتی ہے۔ 

اسمتھ کشمیر کے تنازعے کو بھارت میں ہونے والی شورشوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ”تیس برس بعد زور پکڑ رہی ہے اور گزشتہ تین برسوں کے دوران اسے بے حد طاقت ملی ہے۔“ تاہم، کشمیر کے تنازعے کو شورش کا نام نہیں دیا جاسکتا- یہاں مقامی سطح پر عسکریت کا عنصر ہوسکتا ہے تاہم بڑی حد تک یہ پاکستان ہے جس نے اپنے خارجہ پالیسی اہداف کو پورا کرنے کے لیے کشمیر میں گوریلا لڑائی کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اپنے قومی سلامتی اہداف پورے کرنے کیلئے متشدد غیرریاستی عناصر کا تزویراتی استعمال ”ایک حساس غیرمتناسب جنگی مہم کا مرکزی نقطہ“ ہے جو علاقائی امن اور سلامتی کو غیرمتوازن بنا رہا ہے۔ دشوارگزار علاقہ، ہم خیال آبادی، اور ہتھیاروں و دیگر سازوسامان کی دستیابی وہ شرائط ہیں جن کی تکمیل نے  پاکستان کیلئے کشمیر میں پراکسی لڑائی کروانا ممکن بنایا ہے۔ بدقسمتی سے یہ خطے میں صورتحال کے معمول پر آنے کی امیدیں زائل کر رہا ہے۔ بھارتی فوج کی ترجیح تشدد کا خاتمہ ہے بالخصوص سخت گیر عسکریت پسندوں کے خلاف شدید نوعیت کے جوابی اقدامات کے ذریعے سے، تاکہ سیاسی عمل جو کہ شورش کے خاتمے کے ڈاکٹرائن کا بنیادی ہدف ہے اس کا آغاز کیا جا سکے۔ 

اسمتھ کا یہ دعویٰ بڑی حد تک غلط ہے کہ  بھارتی فوج ۲۰۱۶ سے کشمیر اور دیگر مقامات پر ذہن و دل جیتنے کی حکمت عملی کو ”بطور خاص نظرانداز“ کر رہی ہے۔ آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد فوج نے کشمیر میں مقامی آبادی تک بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے آپریشن سدبھاونا اور مشن ریچ آؤٹ کے ذریعے سے عوام تک رسائی کی کوششیں شدید تر کی ہیں نیز سوک ایکشن پروگرام بھی جاری ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت کے شورش کچلنے کے آپریشنز کی قیمت شہریوں کو چکانا پڑی ہے لیکن یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ اس کا مشاہدہ  ہر اس خطے میں ہوتا ہے جہاں بے قابو لڑائی جاری ہو۔ فوج کیلئے شورش کیخلاف آپریشنز کو دوطرفہ نقصان کے بغیر جاری رکھنا مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ مسئلے کا سیاسی حل کشمیر کی رنگارنگ آبادی کی امنگوں کو پورا کرنے کیلئے بنیاد رکھے گا۔ بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز مشکلات کے باوجود اس ہدف کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ تاہم یہ غیرمعمولی طویل مرحلہ ہے کیونکہ اس میں مقامی آبادی کی رائےمیں  تبدیلی کی جنگ جیتنا نیز اعتماد کے عنصر کی  مضبوطی کیلئے اسے باقاعدہ معنی عطا کرنا بھی شامل ہے ۔ اس کے لیے دہشتگردی پر مبنی کارروائیوں کا بھی قلعہ قمع کرنا ہوگا تاکہ کشمیر میں امن قائم ہوسکے۔

ریاست اور اس کے ادارے

ڈی ایس ایس سی کے بارے میں اسمتھ کے بنیادی حاصل کلام میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے طلباء ”مستقل غیرسیاسی“ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی اسمتھ محسوس کرتے ہیں کہ یہ کھلا تضاد ہے کہ بھارتی فوج ”قومی دفاع اور خارجہ پالیسی کی فیصلہ سازی میں معمولی کردار“ ادا کرنے کے باوجود بعض پالیسی امور جیسا کہ جموں اور کشمیر میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتی ہے۔ اس کی ایک اور مثال سیاچن گلیشیئر کو غیرعسکری بنانے میں بھارتی فوج کا فیصلہ کن کردار ہے۔

کشمیر کے مسئلے میں بھی فوج شہری، انتظامی اور سلامتی اہداف کی تکمیل کیلئے غالب کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کے برعکس بھارت کا جمہوری ڈھانچہ، جہاں فوج پر سخت سویلین شکنجہ ہے، اسے کبھی فوجی بغاوت کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ بھارتی مسلح افواج معروضی کنٹرول کے ماڈل کی سختی سے پیروی کرتی ہیں جس کی اپنی حدودو قیود ہیں تاہم اس کے تحت سیاست دان تزویراتی اہداف طے کرتے ہیں اور مسلح افواج انہیں کم سے کم مداخلت کے ساتھ حاصل کرتی ہے۔ البتہ مودی کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل بپن راوت جو اپنے سیاسی خیالات کا کھلے عام اظہار کرتے ہیں، ان کے انتخاب سے ۲۰۱۴ کے بعد کی بھارتی سرزمین پر سول ملٹری تعلقات میں تبدیلی ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ کسی بھی جمہوریت میں فوج کے کردار کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا انتہائی ناگزیر ہے کیونکہ قومی سلامتی کی بحث پر کسی ایک ادارے کا اثرانداز ہونا سیاست میں بٹوارے کا باعث ہوتا ہے۔ فی الوقت بہرحال اس امر کے بہت محدود شواہد ہیں کہ بھارتی فوج ایک سیاسی نظریہ رکھتی ہے یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرتی ہے نیز مسلح افواج بھارتی سیاست میں مداخلت سے باز رہتی ہیں۔

جوہری مسائل

اسمتھ بھارتی ڈاکٹرائن کے مفروضے کو دوہراتے ہیں کہ ”مستقبل کی جنگ میں پاکستان جوہری (اور کیمیائی) ہتھیار استعمال کرے گا،“ تاہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے ”بے پرواہ“ دکھائی دیتی ہے جس کے لیے وہ جنگی مشقوں کے دوران خال ہی خال جوہری استعمال کا حوالہ دیتی ہے۔ تاہم اس نکتے کا تجزیہ درست نہیں ہے۔ بھارت کی جوہری حکمت عملی کو  ڈیٹرنس صلاحیتوں کے بارے میں اپنی دامشمندانہ سمجھ بوجھ  سے طاقت ملتی  ہے جو کسی سردجنگ کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ جنوبی ایشیا ۱۹۹۹، ۲۰۰۱ – ۲۰۰۲، ۲۰۰۸ کے بعد، ۲۰۱۶ اور ۲۰۱۹ میں  پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری بحران کو جھیل چکا ہے۔ ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر بھارت سرد جنگ کے دور جیسی کسی بھی غیرضروری ہتھیاروں کی دوڑ میں پڑنے سے خود کو بچاتے ہوئے اپنی جوہری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے۔

مزید براں بھارت کا ڈاکٹرائن بالکل واضح ہے: بھارت استعمال میں پہل نہ کرنے کے موقف (این ایف یو) پر سختی سے کاربند رہے گا لیکن کسی بھی جوہری مہم جوئی کا جواب ”جارح کو ناقابل برداشت نقصان پہنچانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے شدید جوابی کاروائی“ کے ذریعے دیا جائے گا۔ مشاہدہ کاروں نے این ایف یو پر کاربند رہنے کے بھارتی عزم پر سوال اٹھائے ہیں جبکہ ناقدین نے یہ محسوس کیا ہے کہ بھارت کا جوہری ڈاکٹرائن احتیاطاً پیشگی حملے کی اجازت دے سکتا ہے۔ تاہم مستقبل میں بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستان کی جانب سے کسی بھی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کا ”فوری استعمال“ فطری طور پر بھارت کی اعلان کردہ جوہری سرخ لکیر کو پار کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا جو کہ یقیناً بھارت کو ”جامع پہلا حملہ“ کرنے کا موقع دے گا۔ اس کو جوابی طاقت پر مبنی حکمت عملی کی جانب منتقلی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ یقیناً بھارتی جوہری ڈاکٹرائن کا رہنما اصول بھی نہیں ہے۔ بھارت کے جوہری ہتھیاروں کا بنیادی مقصد کسی سے بلیک میل ہونے، خطرات اور دشمن کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ بھارت کے خلاف کسی قسم کی جوہری جارحیت حملے میں پہل سمجھی جائے گی جو کہ بھارت کو جوابی جوہری مزاحمت کا موقع دے گی- یہی بھارت کی این ایف یو پالیسی کا نچوڑ ہے جس نے خطے کے جوہری توازن کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ بھارت میں این ایف یو پالیسی پر غور کے حالیہ اشاروں نے بھارت اور ملک سے باہر متعدد سطح پر باخبر ماہرین کی جانب سے سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ مباحثے  این ایف یو پالیسی پر بھارتی ڈاکٹرائن کے موقف پر ڈٹے رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ این ایف یو پالیسی سے کسی قسم کا انحراف پاک بھارت جوڑی میں تزویراتی عدم توازن لائے گا۔

اسمتھ یہ مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ بھارتی فوج جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی (جنگ کے) ماحول میں جوابی کارروائی کے لیے ”بالکل بھی تیار نہیں“ ہے۔ انہوں نے یہ نتیجہ سازوسامان جیسا کہ سروائیول آرٹیلری اور حفاظتی لباس کی کمی سے اخذ کیا ہے۔ تاہم بھارت اس ضمن میں پیشرفت کر رہا ہے۔ بھارت میں کیمیائی، حیاتیاتی، ریڈیائی اور جوہری (سی بی آر این) تربیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور یہ عسکری نقطہ نگاہ سے بڑھ کے کسی تباہی کی صورت میں ابتدائی ردعمل دینے والوں کی تربیت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ڈی آر ڈی او نے متعدد مصنوعات اور ٹیکنالوجیز جیسا کہ سی بی آر این ایجنٹس سے دفاع کے لیے پرمی ایبل سوٹ ایم کے وی تیار کیے ہیں۔ باوجود یکہ ”تربیت کی صورتحال کو بہتر بنانے“ کے لیے زیادہ مربوط اور جامع سوچ اپنانے کی ضرورت ہے، بھارت میں سی بی آر این تربیت کا مستقبل روشن ہے۔

حاصل کلام

دنیا میں کسی بھی فوج کی رائے اور اس کی اقدار بے حد اہمیت کا حامل معاملہ ہوتا ہے کیونکہ ان میں خارجہ پالیسی اور داخلی امور کے ضمن میں ملکی سمت کی جانب اشارہ دینے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ مختلف شعبہ جات پر رائے کو اجاگر کرنے کے  ذریعے اسمتھ کا یہ مجموعہ کلیدی تزویراتی مسائل پر بھارتی فوج کی رائے میں تبدیلی کا پتہ دیتا ہے۔ بھارت نے ۲۰۱۴ سے سول ملٹری تعلقات،  قومی مفادات اور خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ، داخلہ، ادارہ جاتی اور تزویراتی حلقوں میں پالیسی کی تبدیلی کے متعدد تجربے کیے ہیں۔ کتاب کی اپنی حدود ہیں  تاہم یہ مصنف کی جانب سے اٹھائے گئے بنیادی مسائل میں سے بعض پر بامعنی مباحثے کو جنم دینے کی نمایاں صلاحیت رکھتی ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Ministry of Defence, India via Press Information Bureau 

Image 2: Daniel Berehulak via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…