3325259703_73410fbe2a_o-1095×616-1

سال ۲۰۲۳ کے اوائل میں  نیپال کے کوشی صوبے میں مون سون کی بارشوں نے شدید تباہی مچائی۔  آبشار نما سیلاب نے پن بجلی  گھرکے بنیادی ڈھانچے  کو نقصان پہنچایا اور  پن بجلی گھر کےمتعدد کارکنان کی جان لے لی۔ غیر معمولی گرمی کی لہریں (ہیٹ ویوز)، خشک سالی، سیلاب، ہبوطِ ارض ( لینڈ سلائیڈنگ)، تُند و تیز ہوا کے طوفان اور  برفانی جھیلوں کے  ناگاہ سیلاب (گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز)سمیت موسمیاتی خطرات کی بڑھتی ہوئی کثرت اور شدت نے نیپال کو خاص طور پر آب و ہوا کےبدلاؤ کا زد پذیربنا دیا ہے۔  ان موسمیاتی خطرات کا پہاڑوں سے میدانوں تک پھیلے ہوئے متنوع جغرافیہ کے ساتھ ملاپ  اور ان  کے تعامل کے نتیجے میں زندگیوں، معاش، اثاثہ جات، اہم انفرا اسٹرکچر( بنیادی ڈھانچے) اور ماحولیاتی نظام  (ایکو سسٹم) پر پیچیدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


وزارت داخلہ (ایم او ایچ اے) کے معلومات کے ذخائر کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری ۲۰۰۰ سے فروری ۲۰۲۲ تک تقریباََ ۲۹،۳۱۰ موسمیاتی آفات کے واقعات ظہور پذیر ہوئے ، جن میں ۱۴،۶۴۵ افراد اور )۲۸،۰۹۲ مویشیوں کی ہلاکت اور پلوں، سڑکوں، اسپتالوں، ہائیڈرو پاور پلانٹس اور اسکولوں سمیت ۸۰۰،۰۰۰ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔  علاوہ ازیں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے اور تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۸۰ کی دہائی تک اوسط عالمی حرارت میں اضافہ  ۱.۲ ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر ۴.۲ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔


نیپال کے بڑھتے ہوئے خطرات اور زد پذیری سے نمٹنے کے لئے ٹیکنالوجی تیزی سے ضروری ہوتی جا رہی ہے۔ خصوصاََ  نیپال کے ارلی وارننگ سسٹم (ای ڈبلیو ایس) [قبل از وقت  انتباہی سسٹم] آبی-حوادثِ سماوی (ہائیڈرو – میٹرولوجیکل)سے متعلقہ خطرات  کے نقصانات کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ علومِ  طبیعی (فزیکل سائنس) اور شہری علوم (سٹیزن سائنس) دونوں نے ان ای ڈبلیو ایس کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  علومِ  طبیعی( فزیکل سائنس) سیلاب کے خدشات کے بارے میں معلومات اخذ کرتے ہیں اور تنبیہی اطلاعات کا اجرا کرتے ہیں،  جبکہ شہری  علوم (سٹیزن سائنس)  ای ڈبلیو ایس پیغامات کے پھیلاؤ اور مواصلاتی رابطے میں حصہ ڈالتے ہیں۔


تاہم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو آب و ہوا کے بدلاؤ کے خطرات کا مشترکہ طور  پرسامنا ہے۔ پاکستان میں ۲۰۲۲ کا تباہ کن اور تاریخی سیلاب، ۲۰۲۲ -۲۰۲۳ میں بھارت میں ہماچل-اتراکھنڈ سیلاب اور ۲۰۲۱ میں نیپال میں میلمچی اور مہاکالی سیلاب کچھ مشترکہ مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں ،جن کے لئے مماثل حل کی ضرورت ہے۔

کیا ٹیکنالوجی آب و ہوا کے خطرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے؟


سی او پی ۲۷ کے دوران  اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری جناب انتونیو گوتریس نے قبل از وقت انتباہی سسٹم سب کے لئے (ای ڈبلیو ایس فار آل)  کا اعلان کیا اور سی او پی ۲۸ میں آب و ہوا کے بدلاؤ سے ہونے والے نقصانات اور خسارے کو کم کرنے میں اس ٹیکنالوجی کی اہمیت پر  دوبارہ زور دیا۔  عالمی موسمیاتی تنظیم نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ مؤثر ای ڈبلیو ایس زندگیوں کو بچا سکتا ہے اور اگر واقعہ کے ظہور پذیر ہونے سے ۲۴ گھنٹے پہلے فعال ہوجائے تو نقصان کو ۳۰ فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں محکمہ موسمیات کے حکام قبل از وقت انتباہ فراہم کرسکیں تو یہ ہر سال خطے میں نقصانات اور خسارےکو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔


نیپال کا سیلاب سے متعلقہ ای ڈبلیو ایس، بھارت کا  ایمپیکٹ بیسڈ فور کاسٹنگ سسٹم (اثرات  کی پیشگی انتباہ کا نظام) اور بنگلہ دیش کا سمندری طوفان کا انتباہی نظام (سائیکلون وارننگ سسٹم) خطے میں ای ڈبلیو ایس کی کامیاب مثالیں ہیں۔ بھارتی محکمہ موسمیات سمندری طوفانوں، سیلاب، گرمی اور سردی کی لہروں کی خبر دینے کے لئے روزانہ اثرات  کی پیشگی انتباہ کا اطلاع نامہ جاری کرتا ہے۔ ۲۰۲۲ میں نیپال کے محکمہ  آبیات و موسمیات (ڈیپارٹمنٹ  آف ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی) نے خطرے میں گھری آبادی  کو ۱۳ ملین ایس ایم ایس الرٹس بھیجے جبکہ ۲۰۱۹ میں یہ تعداد ۳.۵ ملین تھی۔ یہ ایس ایم ایس الرٹ سسٹم نیپال میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کے لئے زندگی بچانے کا آلۂ کار بن رہے ہیں۔ تاہم آب و ہوا کے بدلاؤ کے خطرات قومی سرحدوں کے پابند نہیں اور جنوبی ایشیا میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے سرحدوں کے پار تعاون ضروری ہے۔


مثلاََ  بھارتی ریاستوں بہار اور اتر پردیش  کے نشیبی علاقوں میں موجود سیلاب سے متاثرہ آبادیاں نیپال کے ایس ایم ایس الرٹ سسٹم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتیں حالانکہ ان آبادیوں  اور سرحد پار کی آبادیوں کو آب و ہوا کے خطرے کا ایک جیسا ہی سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایس ایم ایس الرٹس نیپالی ٹیلی فون سروس  پرووائڈر کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔ اسی طرح بھوٹیکوشی کے غیر محفوظ علاقے میں رہنے والی نیپالی آبادیوں کو چین کی طرف سے پیشگی انتباہی معلومات نہیں ملتیں حالانکہ بھوٹیکوشی  فاصلِ آب (واٹر شیڈ) کا ایک بڑا حصہ چین میں تبت کے علاقے سے گزرتا ہے۔ بھارت اور نیپال کی سرحد کے ساتھ بہنے والے بھارتی ماخذ کے مہاکالی دریاکے کنارے رہنے والے نیپالیوں کو بھی بھارتی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی مرمت اور بحالی کے کام کے دوران بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاع نہیں ملتی۔ اس طرح کی پیشگی اطلاعات  کی کمی نیپال کی  ندی، نالوں  تک رسائی (واٹر ایکسس) کے لئے خطرہ ہے۔ یہ مشکلات خطے میں بین السرحدی  معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر بات چیت کو جنم دے رہے ہیں۔


حکومت تاحکومت تعاون سے سرحد پار  معلومات کے تبادلے کے ان مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور بھارت، نیپال اور چین کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ سرحدوں پر عین الوقتی معلوماتی تبادلے ( ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ) سے سیلاب، خشک سالی اور دیگر آبی- حوادثِ سماوی ( ہائیڈرو – میٹرولوجیکل) خطرات سے بچنے کے لئے پیشگی کارروائی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک بھی اپنے قومی مطابقت پذیری کے منصوبوں (نیشنل ایڈیپٹیشن پلانز)  میں ہم آہنگی پیدا کرسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے کئی حل تجویز کرتے ہیں ، لیکن جنوبی ایشیائی ممالک مؤثر نفاذ کے لئے مناسب ٹیکنالوجی اور مالی اعانت تلاش کرنے کے لئے کشمش میں مبتلارہتے ہیں۔


خشک سالی کی مزاحم فصلیں، آبی  انتظام کے طریقے، فطرت پر مبنی حل اور آب و ہوا کے بدلاؤ سے مطابقت پذیر  انفرا اسٹرکچر  پر بہترین تدابیر کا اشتراک ان ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔


آب و ہوا کے بدلاؤ سے مطابقت پذیری اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات بڑھ تر بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرسکتے ہیں اور ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے علاقائی   جدت طراز مراکز  کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس طرح کے تعاون سے علم کے تبادلے  اور جنوبی ایشیائی مسائل کے جنوبی ایشیائی حل کو فروغ ملے گا۔ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) سفارت کاری کے ذریعے علومِ طبیعی (فزیکل سائنس) اور شہری علوم (سٹیزن سائنس) دونوں کو ایک ساتھ لانے کا ایک ذریعہ  بن سکتی ہے۔

 
علاقائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سرحدپار سے  غیر سرکاری شہری تنظیموں کے مربوط نظامات کو گفت و شنید کے لیے اکٹھا کر کے،  گلوبل نیٹ ورک آف سول سوسائٹی آرگنائزیشن فار ڈیزاسٹر ریڈکشن اور دُریوگ نیواران جیسی تنظیمیں سرحدوں اور آبادیوں میں بنیادی سطح پر معلومات پھیلانے کے لئے کام کر سکتی ہیں۔

جنوبی ایشیا میں اجتماعی اقدامات کی راہ  میں درپیش مشکلات


جنوبی ایشیا  کے متحد ہو کر  آب و ہوا کے بدلاؤ سے نمٹنے کے لیے  کام کرنے کی راہ میں، بالخصوص ٹیکنالوجی کے ذریعے، دو اہم رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ پہلی وجہ سیاسی ہے۔ بھارت، پاکستان، چین اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازعات، سلامتی اور وراثتی مسائل، خطے کی چھوٹی ریاستوں میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور داخلی سیاسی و معاشی عدم استحکام مربوط کارروائی کی راہ میں حائل ہیں۔ دوسری وجہ ممالک میں معلومات کے تبادلے کے معیاری طریقہ کار کی کمی سرحد پار معلومات کے تبادلے، ردعمل کے طریقہ کار اور جدت طرازی کو مشکل بنادیتی ہے۔

 
دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی طرح نیپال کی تقریباََ ۳۰ فیصد آبادی دیہی، دور دراز علاقوں میں رہتی ہے جہاں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ تک رسائی کے ساتھ ساتھ قابل اعتماد بجلی جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان  بھی ہے۔ اس سے معلومات تک رسائی حاصل کرنا، آب و ہوا کی خدمات (کلائمٹ سروسز) پر عملدرآمد کرنا، آب و ہوا کی نگرانی کے آلات کا استعمال کرنا، اور جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجیوں تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے جن سے شہری آبادی لطف اندوز ہوتی ہے۔ مزید برآں بلند پہاڑی علاقوں میں موسمی اسٹیشنوں، سینسر نیٹ ورکس اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لئے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ نیپال کا پہاڑی علاقہ اور جُدا جُدا  بستیاں اسے مہنگا اور مشکل بنا سکتی ہیں۔ مزید برآں  نیپال بھر میں سینکڑوں مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ موجودہ ایس ایم ایس الرٹس صرف نیپالی زبان میں (بھیجے جاتے) ہیں، جسے سمجھنا کئی آبادیوں کے لیے مشکل ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان جیسے دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کو نیپال جیسی مشکلات  کا سامنا ہے، جس کی وجہ ایک جیسی معیشتیں، جغرافیہ ،ثقافتی اور لسانی تنوع ہیں۔


مستقبل کی راہ


ان مشکلات کے باوجود  نیپال آہستہ آہستہ اپنے ای ڈبلیو ایس کو بہتر بنانے میں پیش رفت کر رہا ہے۔ اس نے ایک قومی مطابقت پذیری کا منصوبہ تیار کیا ہے اور آفات کے نقصانات میں کمی اور انتظام سے متعلق  متعدد پالیسیاں اور حکمت عملیاں تیار کی ہیں۔ کمیونٹی ریڈیو پروگرامز اور قابل رسائی موبائل فون ایپس جیسے اقدامات نیپال کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر جنوبی ایشیا میں  بھی معلومات کے خلا کو پُر کر رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی بڑھانے اور تکنیکی خواندگی کو فروغ دینے کے لئے بھی حکومتی کوششیں جاری ہیں۔


علاقائی تعاون اور اعتماد سازی کو مضبوط بنانے سے آب و ہوا سے متعلقہ پریشانی، غربت اور سماجی عدم مساوات کا خاتمہ ہوگا اور خطے میں تکنیکی جدت طرازی کو تقویت ملے گی۔ جنوبی ایشیائی ممالک خطے میں بین السرحدی معلومات  کے خلا کو پُر کرنے کے لئے تمام سارک ممالک کے مابین معلومات کے تبادلے  کا معیاری طریقہ کار اور نظام العمل  تیار کرسکتے ہیں۔ بھارت میں کئی موسمی ریڈار موجود ہیں جنہیں نیپال کے اندر متاثرہ علاقوں کا احاطہ کرنے کے لئے بڑھایا جاسکتا ہے۔  اگر متعلقہ حکومتیں سرحد پار معلومات کے تبادلے کا نظام  قائم کریں تو  اتراکھنڈ، اتر پردیش اور بہار میں ۱۵۵ میل کے دائرے میں موجود موسمی ریڈار پورے نیپال کے موسمی نظام کا احاطہ بھی کر سکتا ہے۔ ان مشکلات سے نمٹنے کے ذریعے جنوبی ایشیا بین السرحدی ٹیکنالوجی اور معلومات کے تبادلے کی وسیع استعداد سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، علاقائی مطابقت پذیری کو بڑھا سکتا ہے اور آب و ہوا کے بدلاؤ  کے مقابلے میں زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کر سکتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

This article is part of a joint series between South Asian Voices and The Third Pole on Climate Diplomacy in South Asia.

Image 1: Gaighat Flood via Flickr

Image 2: India-Nepal Border via Flickr

 

Share this:  

Related articles

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام

جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی اولین تہذیبوں سے لے…

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات Hindi & Urdu

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات

بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز کی تکڑی…

بلوچستان کے کثیر الجہتی بحران کا حل: مصالحت اور اصلاحات Hindi & Urdu

بلوچستان کے کثیر الجہتی بحران کا حل: مصالحت اور اصلاحات

پاکستان ایک کمزور جمہوریت ہے اور پاکستانی فوج اور سویلین…