دی ویلنگٹن ایکسپیریئنس: ایک جائزہ

کرنل ڈیوڈ او اسمتھ نے اپنی تازہ ترین کتاب ”دی ویلنگٹن ایکسپیریئنس: اے اسٹڈی آف دی ایٹی چیوڈ اینڈ ویلیوز ود ان دی انڈین آرمی“  میں ایک منفرد طرز اپنائی ہے، جس طرح انہوں نے اس سے قبل کی اپنی تصنیف ”دی کوئٹہ ایکسپیریئنس: ایٹی چیوڈ اینڈ ویلیوز ود ان پاکستانز آرمی“ میں اپنائی تھی۔ کرنل اسمتھ نے ۱۹۷۹ سے ۲۰۱۷ کے بیچ ویلنگٹن میں واقع انڈین ڈیفنس سروس اسٹاف کالج (ڈی ایس ایس سی) جانے والے امریکی ملٹری افسران کی دورے کے اختتام پر تحریر کردہ رپورٹس اور انٹرویوز کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی مسلح افواج میں سوچ کے ارتقاء کی جانچ کی ہے۔  اس میں امریکی آرمی سے ۲۱ افسران، امریکی فضائیہ سے چار اور امریکی بحریہ سے چار افسران کی رپورٹس اور انٹرویوز شامل ہیں۔ تقریباً چار دہائیوں پر محیط اور جواب کنندگان کی قابل ذکرتعداد کے ساتھ اس تحقیق میں بھارتی فوج میں ارتقاء کے اظہارکیلئے معلومات کی بھاری مقدار استعمال کی گئی ہے۔ 

تاہم اس تحقیق کی حدود کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ ان میں سرفہرست تو یہ کہ یہ تحقیق ڈی ایس ایس سی کے بارے میں محض ایک ”زاویۂ نگاہ“ فراہم کرتی ہے جو کہ  اس ادارے میں جانے والے امریکی افسران کی عینک سے دکھائی دیتا ہے۔ دوئم یہ کہ کسی تربیتی ادارے میں کی گئی تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر جب بھارتی ملٹری جیسے بڑے ادارے کی ثقافت، روایات، پیشہ وارانہ اخلاقیات اور اس کے تشخص کے بارے  میں تخمینے لگائے جائیں گے تو قطع نظر اس سے کہ ادارے کی حیثیت کیا ہے، یہ نہ تو منصفانہ ہوں گے اور نہ ہی درست۔ سوئم یہ کہ ڈی ایس ایس سی میں داخلے کی بنیاد ایک مقابلے کا امتحان ہوتی ہے اور فقط ۲۰ سے ۲۵ فیصد افسران اس کالج میں داخلہ لے پاتے ہیں۔ پوری بھارتی ملٹری کے وسیع تر پس منظر میں یہ شرح اور بھی معمولی ہوجاتی ہے۔ وہ افسران جو ویلنگٹن میں تربیت پاتے ہیں وہ ایک منتخب شدہ گروہ ہوتا ہے جو عمومی طور پر پیشہ وارانہ اعتبار سے داخلے میں ناکام رہنے والوں افسروں کے ہجوم کے مقابلے میں بہتر ہوتے ہیں۔ لہذا ان کے مستقبل کے امکانات روشن اور زیادہ مفاد داؤ پر لگے ہوتے ہیں جو کہ ان کے طرزِ عمل اور رویے کو طابع بناتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کی اصل فطرت کا درست عکاس ہو۔ اسی طرح ایسے اداروں میں ڈائریکٹنگ اسٹاف اور اعلیٰ سطحی انتظامیہ اعلیٰ پائے کے پیشہ ورافراد ہوتے ہیں جن کے ملٹری میں اونچے درجے حاصل کرنے کے امکانات ہوتے ہیں اور لہذا وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے حساس اور اپنے رویے میں محتاط ہوتے ہیں۔

اپنے سے برتر افراد سے سوال نہ کرنا یا انہیں نہ آزمانے کا رجحان محض جنوبی ایشیا میں ہی نہیں بلکہ مشرقی ثقافت کی جڑوں میں بالعموم موجود ہے۔ بھارت کے معاملے میں جارج ٹینہم نے اپنی اہم تحقیق ”انڈین اسٹریٹجک تھاٹ“ میں نشان دہی کی کہ ”ذات پات کے نظام نے بھارتیوں کو نا صرف بھارت بلکہ دنیا کے حوالے سے درجہ بندی پر مبنی ایک نقطہ نگاہ دیا ہے؛ وہ ریاستوں کی  حجم، ثقافت اور طاقت کی بنیاد پر درجہ بندی کرتے ہیں۔۔۔ ( ذات پات کا نظام) ایک قدامت پرست اور دقیانوسی ذہن کی ترویج کا رجحان پیدا کرتا ہے۔“ اسمتھ نے پوون ورما کی تحقیق کا حوالہ دیا ہے جو ”اخلاقی نسبتیت“ کو ایک بھارتی صفت کے طور پر بیان کرتے ہیں، اگرچہ اسمتھ نے  ثقافتی روایات اور رواج کے بیان میں بھارت کے بجائے ”جنوبی ایشیاء“ کے استعمال کی ان کی شعوری کوشش کو نوٹ کیا ہے۔ ٹینہم بھی اس نسبت پسندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”بھارتی مشرقی پاکستان اور سری لنکا میں اپنی مداخلت کو پڑوسی ممالک کی جانب سے اپنے خلاف ملتی جلتی کارروائیوں کے مقابلے میں کم قابل مذمت سمجھتے ہیں۔“

مندرجہ بالا تنبیہات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کتاب پڑھی جائے تو یہ کتاب بھارتی عسکری ثقافت کو مختلف زاویئے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ کرنل اسمتھ کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی تحقیق میں معروضیت کو برقرار رکھا ہے جس کی بنیادی معلومات بھارتی طلباء اور معلمات کے ساتھ ایک برس گزارنے والے امریکی طالب علموں کے ذاتی تجربوں پر مبنی تھیں۔ اس قدر طویل عرصے تک روابط کے باعث ان کے بیانیئے میں ذاتی تاثرات کا شامل ہونا لازم ہے جو اس امر پر منحصر ہے کہ ان کے ذاتی تجربات خوشگوار تھے یا ناخوشگوار۔ تحقیق کے نتائج زیادہ تر منطقی، تیربہدف اور بصیرت آموز ہیں۔ تاہم کچھ مشاہدات ایسے ہیں جو حاصل کلام کے بعض حصوں کو زیادہ ٹھوس بنا سکتے تھے اور دیگر کو قدرے تبدیل کرسکتے تھے، جنہیں ذیلی سطور میں بیان کیا گیا ہے۔

کتاب کے چار بنیادی موضوعات نیز پاکستان اور جنوبی ایشیائی سلامتی اور استحکام کیلئے ان کے ممکنہ مضمرات پر ذیل میں بحث کی جائے گی۔

بیرونی خطرات اور دوستیوں کا ادراک 

بھارت کو متعدد بیرونی حملوں اور بشمول برطانیہ کی نوآبادیات بنائے جانے کے اپنی سرزمین پر قبضے کا تجربہ رہا ہے، جس نے بیرونی دنیا کو شک کی نگاہ سے دیکھنا بھارت کی تزویراتی سوچ کا حصہ بنا دیا ہے اور اس سے امریکی ارادوں پرعدم اعتماد کی بھی وضاحت ہونی چاہیئے۔ اسمتھ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ پر بھارت کے اعتماد کی کمی کی وجہ  پاکستان اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کی پرانی تاریخ ہے، صرف کسی حد تک درست ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے پاکستان اور بھارت سے تعلقات کی تاریخ پر ایک نگاہ یہ واضح کردے گی کہ حتیٰ کہ جس دور میں امریکہ پاکستان کے بیچ بے تکلفی اپنے عروج پر تھی، تب بھی پی ایل ۴۸۰ منصوبہ جو ایگریکلچر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اینڈ اسسٹنس ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کے تحت بھارت کے لیے معاشی تعاون کا حجم پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔ ۱۹۶۲ میں چین بھارت سرحدی تنازعے کے دوران امریکہ بھارت کی مدد کو دوڑا آیا اور اسے  اسلحے اور آلات کی بھاری مقدار مہیا کی ۔ اکتوبر ۱۹۶۴ میں چین کی جانب سے جوہری تجربے کے بعد امریکہ نے ایشیائی ریاستوں کو ”کمیونسٹ چین کی جارحیت سے نمٹنے“ کیلئے مدد کی یقین دہانیوں میں پھرتی دکھائی۔ جاہنسن انتظامیہ نے چینی خطرے سے نمٹنے کیلئے بعض جوہری ہتھیار بھارت کیلئے مخصوص کرنے کی بات چیت بھی کی- اگرچہ بعد میں بھارت کی غیراتحادی حیثیت  اور چین کے نشانے پر آنے والے دیگر ممالک کی جانب سے اس جیسی یقین دہانیوں کے مطالبے کے پیش نظر یہ بات چیت ترک کردی گئی۔ تاہم بھارتی مذاکرات کاروں کو امریکی ہم منصبوں کے ہمراہ نجی ملاقاتوں میں یقین دہانیاں کروائی گئیں۔

۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان کی مدد کیلئے خلیج بنگال آنے والے یوایس ایس انٹرپرائز کے بیڑے کے بارے میں بہت بڑھا چڑھا کے بیان کیا جاتا ہے اور اسمتھ اور ٹینہیم دونوں نے اس کا حوالہ بھی دیا ہے، تاہم  بھارت ۱۹۶۲ میں امریکہ کی جانب سے خلیج بنگال کیلئے روانہ کیے گئے ایسے کسی بیڑے  کا حوالہ نہیں دیتا ہے۔ قاری ڈیوڈ اسمتھ سے یہ توقع کرے گا کہ وہ اس کا تذکرہ بھی کریں۔ جہاں تک پاکستان کی جانب بڑھتی جارحیت کا تعلق ہے تو مندرجہ ذیل وجوہات فراہم کی جاسکتی ہیں:

1: پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کرچکا ہے اور وہ بھارت کے چھوٹے پڑوسیوں میں واحد ہے جو بھارت کو عسکری میدان میں بھی للکارتا ہے۔

2: بھارت کا خیال تھا کہ وہ ۱۹۷۱ میں پاکستان کو اس کی اوقات یاد کروا چکا ہے تاہم اس کے لیے یہ ناقابل یقین تھا کہ پاکستان نا صرف دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا بلکہ اس نے بھارت کی روایتی عسکری برتری کا توڑ کرنے کیلئے جوہری صلاحیت بھی حاصل کر لی۔

3: پاکستان امریکہ اور حال ہی میں چین سے قریبی تزویراتی تعلقات کے قیام کے ذریعے بیرونی طاقتوں کو جنوبی ایشیاء میں لا چکا ہے تاکہ بھارت کو جنوبی ایشیا کے باہر اپنی طاقت کے مظاہرے سے روکا جا سکے۔

4: مسئلہ کشمیر کو مسلسل زندہ رکھنے کیلئے بھارت پاکستان کو موردالزام ٹھہراتا ہے۔

بھارت چین سرحد کی دشوار گزار جغرافیائی کیفیت جو کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے کی جنگ  سے باز رکھتی ہے، نیز دونوں ممالک کے درمیان طاقت کے فرق کی کمی کے پیش نظر بھارت چین کو موجودہ خطرے کی حیثیت سے نہیں دیکھتا ہے۔ کرنل اسمتھ نے چین بھارت تنازعے میں جذباتیت کے عنصر کی کمی کی درست نشاندہی کی ہے۔ بھارت میں چین کے ہمراہ اختلافات کے حل کیلئے مذاکرات پر بھی بڑی حد تک آمادگی پائی جاتی ہے اور حتیٰ کہ تناؤ کے دور میں بھی کثیرالفریقی پلیٹ فارمز جیسا کہ برکس، ایس سی او اور روس-چین- بھارت جیسے فورمز پر سفارتی بات چیت جاری رہتی ہے۔ مزید براں، اسمتھ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں بالکل درست ہیں کہ بھارت امریکہ تزویراتی تعاون میں حالیہ بہتری کے باوجود بھی بھارت کے امریکہ کا قریبی تزویراتی اتحادی بننے کا امکان موجود نہیں ہے۔ اگر امریکہ بھارت سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ اپنے بنیادی تزویراتی مفادات کی قیمت پر چین کے حوالے سے اس کے حکم پر چلے گا تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔ 

داخلی سلامتی خطرات کا ادراک

کرنل اسمتھ نے شورش کے خاتمے کے لیے بھارت کے شرمناک ریکارڈ اور ذہن و دل جیتنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو فوقیت دینے کے رجحان پر روشنی ڈالی ہے۔ اس سوچ کی ایک وجہ شورش کو اندرونی مسئلے کے بجائے اسے بیرونی قرار دیتے ہوئے غیر ملکی مداخلت کو موردالزام ٹھہرانے کا رجحان ہے۔ اسمتھ نے کشمیر میں ماوروائے عدالت قتل سمیت شورش سے نمٹنے میں بھارتی فوج کے رویے میں مسائل کی درست نشاندہی کی ہے۔ ایک سابق بھارتی فوجی افسر علی احمد ان کی معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”فوج کشمیر میں طویل عرصے سے تعینات ہے۔ اس سے جہاں اس کے جوانوں کو عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا ہے وہیں یہ خطرہ بھی ہے کہ اس صورتحال کے فوائد فوج کو ابتر حالات سے فائدہ اٹھانے والا بنا سکتے ہیں۔ یہ صورتحال فوج کو کشمیر کے مسئلے کا ایک حصہ بنا دیتی ہے۔ فوج کی اندرونی صحت کے اعتبار سے یہ تعیناتی بلا قیمت نہیں ہے۔“ احمد ،بھارتی فوج کی  اخلاقی اعتبار سے قابل اعتراض روش جس کا نتیجہ حال ہی میں سامنے آنے والی ۲ ہزار بے نام قبریں اور تقریباً دس ہزار افراد کی گمشدگی ہے، اس کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں اور انہیں کشمیر کی موجودہ پریشان کن کیفیت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ وہ جنرل بپن راوت کی شورش کے خاتمے کیلئے آپریشنز کے تجربے کے سبب ان کی بطور آرمی چیف ترقی کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ”اس پیمانے کو بڑھاوا دینے سے ترقی کے خواہشمند افسران کی جانب سے ابتری کا شکار بھارتی علاقوں میں تجربہ حاصل کرنے کو ترغیب ملے گی۔۔۔ جس سے فوج کو ابتر حالات میں ذاتی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔“ فوج کو جنگی ماحول میں عسکری آپریشنز کے تجربے کی کمی کے حوالے سے بھی وہ اسمتھ کے بیان سے اتفاق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”زیادہ تر فوجی کم و بیش حفاظتی ذمہ داریوں پر ہوتے ہیں اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے تحت ایل اوسی کے تحفظ کے لیے بطور محافظ کام کرتے ہیں یا پھر آمدورفت کو روکنے کی معمول کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں۔“

ریاست اور اس کے اداروں کے بارے میں رائے

کتاب میں بھارتی فوج کے غیر سیاسی کردار اور ہندوستانی ریاست میں  ہندوتوا سے متاثرہ قوم پرستی کی اٹھنے والی لہر سے فوج کے متاثر نہ ہونے پر مبنی  حاصل کلام سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ جیسا کہ پہلے دلیل دی گئی، ڈی ایس ایس سی اور اس جیسے ملتے جلتے دیگر عسکری تربیتی اداروں میں موجود افسران کے بڑے پیشہ وارانہ مفادات داؤ پر ہوتے ہیں اور وہ ایسے میں مذہب، سیاست اور نسل جیسے حساس موضوعات پر سرعام رائے کا اظہار کرتے ہوئے محتاط رہیں گے۔ نوکری کے حوالے سے ایک اور رواج جو برطانیہ سے ہندوستان اور پاکستان دونوں کی افواج نے ورثے میں پایا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب اور سیاست پر آفسیرز میس میں بات نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم ڈی ایس ایس سی سے باہر فوج میں بڑھتی ہوئی سیاست کی بابت اشارہ کرتے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ جنرل راوت کے اعلانیہ بیانات جس میں وہ حکمران جماعت کے اختیارات کی حمایت کرتے ہیں نیز گزشتہ عام انتخابات سے قبل فوج سے ریٹائر ہونے والے اعلیٰ عہدیداران کی کثیر تعداد کی بی جے پی  میں شمولیت، سیاسی مقاصد کیلئے سرجیکل اسٹرائیکس کا استعمال، بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی ایف ۱۶ طیارے کو گرانے کے غیر مصدقہ دعوے کی تائید اور اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو مارگرائے جانے کی انکوائری رپورٹ کو انتخابات تک ملتوی کرنے کے ذریعے سیاسی بیانیے کے آگے سر تسلیم خم کرنے جیسی مثالیں برمحل ہیں۔ نچلے عہدوں اور خاص کر آفیسرز کور سے مسلمانوں کا غیر اعلانیہ صفایہ بھارتی عسکری ادارے  کی سیکولر ساکھ کو پہنچنے والا ایک اور دھچکہ ہے۔ بقول علی احمد: ”سول ملٹری تعلقات میں ایک تبدیلی آئی ہے اور یہ معروضی سول کنٹرول جو پیشہ وارانہ  مہارت کو بڑھاتا اور فوج کو غیر سیاسی رکھتا ہے، اس سے نکل کر جذبات پر مبنی سول کنٹرول میں چلے گئے ہیں جہاں فوج بھی حکمران جماعت کے نظریات پر مبنی سلامتی کے نقطے نگاہ کو اپناتے ہوئے اس میں شامل ہوجاتی ہے۔ یہ تبدیلی فوج کیلئے غیرسیاسی ہونے کی اپنی روایت کو کھونے کا خطرہ رکھتی ہے۔ فوج کی غیرسیاسی روایت میں شکست و ریخت اس کی سیکولر روایت میں بھی تبدیلی کیلئے راستہ بنا دے گی۔“

جوہری امور کے بارے میں رائے

یہ حقیقت زبان زد عام ہے کہ بھارت میں فوج کو جوہری پالیسی کی تیاری سے دور رکھا گیا تھا اور حتیٰ کہ اب بھی اس کی شمولیت معمولی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ امریکی فوج کے برعکس جس نے یورپ میں امریکی فوجی یونٹس کے ہمراہ چھوٹے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار بھی نصب کیے اور ذیلی یونٹس نے میدان جنگ میں جوہری ہتھیار بھی استعمال کیے، جنوبی ایشیا میں یہ ہتھیار مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی نگرانی میں رہتے ہیں اور کسی دستے اور یونٹ کو انہیں سونپنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا، ایسے میں نچلے عہدیداران کو اس کے بارے میں تعلیم کرنے کی ضرورت بہت کم محسوس کی جاسکتی ہے۔ تاہم کرنل اسمتھ حفاظتی سامان کی کمی اور ایک جوہری، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں سے لیس میدان جنگ میں لڑائی کیلئے تیاری کی کمی کی جانب درست نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں گفتگو غیرمتعلقہ ہے کیونکہ وہ  کیمیکل ویپنز کنوینشن کا حصہ ہے اور اس نے کبھی کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں رکھے۔

ایک اور مسئلہ جو بالخصوص بھارتی فوج میں ہے وہ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں اور بعض صورتوں میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے اس کےعزم کو گھٹا کے بیان کرنے کا رجحان ہے۔ غیر رسمی سفارت کاری کی تقریبات خصوصاً مباحثوں میں بھارتی فوج سے ریٹائرڈ افسران میں اس رجحان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جو اشتعال انگیزی اور اس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو سرے سے اہمیت نہیں دیتے۔ جنرل بپن راوت اعلانیہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت ”پاکستان کی جوہری بڑھکوں کو بے نقاب“ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایسے رجحانات جوہری خطرات کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ رویے کا پتہ دیتے ہیں اور مستقبل کے بحران میں غیردانستہ طور پر اس کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ بھارتی رویہ عالمی برادری کی جانب سے مذمت یا خبردار کی صورت میں بھی اپنی جانب توجہ نہیں کھینچ پاتا ہے جو مزید بھڑکانے والے رویے کا موجب بنتا ہے۔ ۲۰۱۶ میں ایل اوسی کے پار مبینہ سرجیکل اسٹرائکس کے بعد جو حوصلہ افزائی بھارت کو ملی، اس کا نتیجہ فروری ۲۰۱۹ میں بالاکوٹ میں مزید اشتعال انگیزی پر مبنی فضائی حملے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس وقت ایک بار پھر قابو میں رہنے اور ذمہ داری کا مشورہ دینے کے بجائے جان بولٹن اور مائیک پومپیو کی ٹیلیفونک گفتگو نے اس کے برخلاف اثر کیا۔ بھارت کو نا صرف اپنی سلامتی بلکہ مجموعی طور پر جنوبی ایشیائی خطے کے مستقبل کی خاطر جوہری آگ بھڑکنے کی صورت میں تباہ کن خطرات کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: via Wikimedia Commons

Image 2: Faisal Khan/Anadolu Agency via Getty Images

Posted in , China, Deterrence, Geopolitics, India, Nuclear Weapons, Politics, Reviewing the Wellington and Quetta Experience, SAV Review Series, SAV Urdu, South Asia, United States, US

Naeem Salik

Naeem Salik has a PhD in Political Science & International Relations from University of Western Australia, an M.Sc. in Strategic Studies from Aberystwyth University, UK and a B.Sc (Hons) War Studies from Balochistan University. He is currently working as a Senior Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad. He is a former Director Arms Control & Disarmament Affairs at the Strategic Plans Division. Salik has taught at the Quaid-i-Azam University and National Defense University at Islamabad. He has been a visiting fellow at the Stimson Center, Stanford University, Brookings Institution and SAIS, Johns Hopkins University. His publications include Genesis of South Asian Nuclear Deterrence, Oxford University Press, 2009, Learning to Live the Bomb, Oxford University Press, 2017, Nuclear Pakistan – Seeking Security and Stability (edited), University of Lahore Press, 2018 and India’s Habituation With the Bomb (Edited), Oxford University Press, 2019. He has also written several Monographs, book chapters and 36 research articles.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *