,

سارک بحالی کے امکانات سے انکار قبل از وقت کیوں؟

۲۰۱۸ میں مردہ قرار دی گئی جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک)، چند ہفتے قبل تیزی سے پھیلتے کرونا وائرس کے باعث عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کے عی درمیان میں دوبارہ زندہ ہوگئی۔ جنوبی ایشیائی ممالک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تجویز پر ایک ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا  تاکہ خطے میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ایک مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی جاسکے۔ اس مثبت پیش رفت کے باوجود، متعدد تجزیہ کاروں نے اس علاقائی تنظیم کی فعالیت کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص پاکستانی وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے دوران کانفرنس جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن پر روشنی ڈالنے کو ان غیر حل شدہ وسیع تر سیاسی مسائل کی یاد دہانی قرار دیا جو تنظیم کی سطح پر کسی بھی قسم کے علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔

جنوبی ایشیا میں توازن اور امن کو درپیش چیلنجز سے انکار نہیں کی جا سکتا، تاہم سارک کی ممکنہ فعالیت کے امکان کو رد کرنا کوتاہ بینی ہے۔ اگرچہ پاک بھارت اختلافات رکاوٹ کے طور پر باقی رہیں گے، نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں کے پاس سارک کو زندہ رکھنے کیلئے وجوہات موجود ہیں کیونکہ یہ گروہ انہیں بعض وہ مواقع فراہم کرتا ہے جو کہ دوسرے ذرائع فراہم نہیں کرتے۔ بھارت کیلئے سارک علاقائی سطح پر اس کے قائدانہ کردار کی مثال فراہم کرتا ہے تو پاکستان کیلئے سارک سفارتی تنہائی سے باہر آنے کا موقع ہے۔

سارک اور بھارت کی علاقائی قیادت کی خواہش

 بھارتی قیادت کی جانب سے گزشتہ چار برس سے پاکستان میں ہونے والے سارک اجلاس میں شرکت سے مستقل انکار کے بعد وزیراعظم مودی کی جانب سے کووڈ-۱۹ پر سارک سربراہوں کی ایک ویڈیو کانفرنس کی دعوت ایک غیر متوقع پیش رفت تھی۔ مجموعی طور پر گزشتہ کچھ برسوں میں ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ بھارت سارک سے ہاتھ اٹھا چکا ہےاور ایسے بین العلاقائی پلیٹ فارمز پر توجہ دے رہا ہے جن میں پاکستان موجود نہیں جیسا کہ بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا، نیپال ( بی بی آئی این) انیشی ایٹو اور خلیج بنگال انیشی ایٹو برائے ملٹی سیکٹرل ٹیکنیکل اور معاشی تعاون ( بمسٹیک) اور اس میں کچھ کامیابی حاصل بھی کرچکا۔ پھر مودی نے کووڈ۔۱۹ کیلئے کوششوں کو منظم کرنے کیلئے بی بی آئی این اور بمسٹیک کے مقابلے میں سارک کو کیوں چنا؟

اس کی ایک توضیح یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ مودی بھارت کو سرکردہ قوت میں بدلنا چاہتے ہیں، اور اس عالمی سانحے نے انہیں بھارت کی خطے میں قائدانہ صلاحیتیں ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ذیلی علاقائی سطح پر ایسی کوششوں کی صورت میں مودی کو مطلوبہ شہرت نہیں مل سکتی۔ سارک جنوبی ایشیا سے باہر بھی پہچان رکھنے کی وجہ سے بہتر انتخاب تھا، خاص کر ایسے میں کہ جب بھارت کا عالمی تشخص شہریت ترمیمی بل کے خلاف عوامی احتجاج کے باعث داغدار ہوچکا تھا۔ مودی کی حکمت عملی رنگ لائی اور ان کے علاقائی کانفرنس کال کیلئے اقدام کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ ویڈیو کانفرنس کی وجہ سے پاکستان بھی دفاعی پوزیشن اپنانے پر مجبور ہو گیا، اور سارک کے ساتھ عدم تعاون کے سبب بھارت پر موجود دباؤ پاکستان پر منتقل ہوگیا۔

کووڈ۔۱۹ ویڈیو کانفرنس یہ ظاہر کرتی ہے کہ سارک اب بھی بھارت کیلئے کچھ نہ کچھ حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم مودی جنوبی ایشیائی ہم آہنگی اور علاقائیت کے پرجوش حامی ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اپنے انتخاب کے وقت  سے وہ ہمسایوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم عنصر کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ اور جہاں یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے بی بی آئی این کے ذریعے اہم معاشی اقدامات اٹھائے اور وہ بمسٹیک کے ذریعے مضبوط روابط کو قائم کرنے کا عزم رکھتا ہے، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بین الاعلاقائی تنظیمیں سارک کی جگہ نہیں لے سکتیں کیونکہ یہ واحد ایسا گروہ ہے جو کہ پورے برصغیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید براں تینوں تنظیموں میں قدیم ترین ہونے کے ناطے سارک مذاکرات اور ٹھوس کامیابیوں کیلئے طے شدہ لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سارک، تزویراتی لحاظ سے تین اہم خطوں؛ وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا سے رابطے کا موقع دیتی ہے جو کہ بی بی آئی این اور بمسٹک نہیں دیتے۔ مزید براں، بھارت خواہ بمسٹیک اور بی بی آئی این میں زیادہ دلچسپی لے تو بھی اس کے علاقائی شراکت دار جیسا کہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش سارک کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور اس کی بحالی کیلئے حمایت کا اشارہ بھی دیا ہے۔

یوں، علاقائی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت اور  اس کے شراکت داروں کیلئے سارک کی اہمیت وہ عناصر ہوسکتے ہیں جو بھارت کو سارک بحال رکھنے اور اسے دیگر علاقائی تنظیموں کے متوازی قائم رکھنے کی جانب راغب کریں۔

سارک، پاکستان کی سفارتی تنہائی کا تریاق

 پاکستان گزشتہ کچھ برس سے سارک کو بحال کرنے کیلئے کوشش کررہا ہے اور اس میں اس کو خاطرخواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ درحقیقت، سارک کا آخری اجلاس ۲۰۱۶ میں پاکستان میں منعقد ہونا تھا تاہم اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ اڑی حملے کے بعد بھارتی قیادت میں بعض رکن ممالک نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ تاہم، بھارت کے ساتھ حالیہ تناؤ کے باوجود، پاکستان نے وزیراعظم مودی کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف خطے کے ردعمل پر گفتگو کیلئے ویڈیو کانفرنس میں شرکت سے انکار نہیں کیا۔ بعض افراد نے سارک سے جڑے پاکستانی عزائم پر سوال اٹھایا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی جگہ اپنے وزیر صحت کو بھیجا۔ تاہم، اس فیصلے کے محرکات سیاسی تھے اور یہ سارک میں پاکستان کی عدم دلچسپی کا مظہر نہیں۔ پلوامہ/ بالاکوٹ بحران کے بعد، بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر سے آئین کی شق ۳۷۰ کے خاتمے اور دہلی میں حالیہ نسلی فسادات کے معاملے پر پاکستان بھارت کا شدید نقاد رہا ہے اور سفارتی ذرائع سے شدید تنقید کی گئی۔ اسی لیئے، مبادا کووڈ۔۱۹ ویڈیو کانفرنس میں شرکت پر داخلی سطح پر حزب اختلاف کی جانب سے بھارت کیلئے نرم گوشہ رکھنے پر تنقید کا سامنا ہو، خان نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال، وزارتی سطح پر کووڈ۔۱۹ کے حوالے سے کانفرنس کی میزبانی کیلئے کوشش اور ہنگامی فنڈ کیلئے رقوم کی فراہمی کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سارک کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو جنوبی ایشیائی ممالک سے اپنے تعلقات دوبارہ بحال کرنے اور دیگر رکن ممالک کی مداخلت اور حمایت کے ذریعے بھارت سے دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کیلئے سارک بطور خارجہ پالیسی ہتھیار درکار ہے۔ اس کی ضرورت جنوبی ایشیا کی سیاست میں حالیہ رونما ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے پیش آئی ہے، جس کے تحت جنوبی ایشیائی ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش، مالدیپ اور سری لنکا نے بھارت سے قربت اختیار کرتے ہوئے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس ”سفارتی شکست“ کی کلیدی مثال ۱۹ویں سارک اجلاس کی اس وقت منسوخی تھی جب متعدد جنوبی ایشیائی ریاستوں نے بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان میں اجلاس میں شرکت سے انکار کیا۔ پاکستان کو حال ہی میں کشمیر کا تنازعہ عالمی سطح پر اٹھانے کے معاملے میں بھی سارک ممالک کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نہیں ملی۔ لہذا، خطے میں طاقت کو متوازن کرنے کی خواہش پاکستان کو سارک کے ساتھ روابط برقرار رکھنے پر اکسا سکتی ہے۔

پاک چین تعلقات بھی ان روابط کیلئے ایک اہم عنصر ہوسکتے ہیں۔ چین سارک میں ایک مبصر ہے اور تنظیم میں اپنے مفادات کی ترویج کیلئے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے سارک میں مبصر ممالک کے کردار کو بڑھانے، اس علاقائی فورم کے اراکین کی تعداد میں اضافے اور چین کو سارک کے کووڈ۔۱۹ اقدامات میں شامل کرنے کی تجاویز کو اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

یوں، سارک کی بحالی نہ صرف پاکستان کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ خطے میں اپنے قد کو اونچا کرسکے بلکہ چین سے مضبوط تعلقات اور نتیجتاً ہونے والے فوائد کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

سارک کا مستقبل

بھارت کی خود کو علاقے کا لیڈر ثابت کرنے کیلئے کوششیں، پاکستان کی اپنے سفارتی مقام کو بحال کرنے کی مجبوری اور دیگر سارک ممالک کی جانب سے گروہ سے وابستہ عزائم کو جاری رکھنے کی خواہش سارک کی از سر نوبحالی کے امکان کو زندہ رکھتے ہیں۔  بھارت پاکستان دشمنی یقینی طور پر کانٹے کی طرح موجود رہے گی۔ تاہم یہ دشمنی تنظیم کے قیام کے وقت سے موجود ہے اور تاخیر و تعطل کے باوجود بھی دونوں ممالک مخصوص قومی مفادات کی خاطر دوبارہ پلٹ کے سارک میں آتے رہے ہیں۔ درحقیقت ماضی میں سارک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں ایک کلیدی پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا ہے، خواہ یہ ۲۸ برس بعد بھارتی رہنما کی پاکستان آمد کی صورت میں ہو یا پھر ۱۸ویں اجلاس کی شکل میں، جس کا آغاز پاکستان بھارت تناؤ کے ساتھ ہوا تاہم اس کا اختتام، دونوں رہنمائوں کی جانب سے اختتامی تقریب میں سرعام مصافحے پر ہوا۔ یہ دیکھنا اگرچہ ابھی باقی ہے کہ آیا آئندہ ۱۹واں اجلاس پاکستان بھارت مذاکرات کیلئے ایک موقع بنتا ہے کہ نہیں تاہم یہ امر واضح ہے کہ اس گروہ کو مردہ قرار دینا قبل از وقت ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Prime Minister Narendra Modi via Twitter

Image 2: Prime Minister Mahinda Rajapaksa via Flickr

Posted in , , Bangladesh, COVID-19, Foreign Policy, Governance, India, India-Pakistan Relations, Nepal, SAARC, South Asia, Sri Lanka

Fizza Batool

Fizza Batool is a doctoral candidate in the Department of International Relations at the University of Karachi in Pakistan. Her doctoral research involves the identification of factors contributing to political participation in illiberal democracies. She is also an Adjunct Faculty at Iqra University and has recently served as a Senior Research Fellow at the Centre for Peace, Security and Developmental Studies (CPSD) - a non-profit policy think-tank in Karachi. Her main research interests include political participation, voting behavior, and comparative politics.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *