سی-پیک: احتیاط یا امید؟

مئی ۲۰۱۶ کے اپنے ایک مضمون میں میراکہنا تھا کہ پاکستان کو  ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس میں معاشی  محرکات ہوں اور پھر جس سے سیاسی استحکام پیدا ہو سکے۔ اس تناظر میں سی-پیک کو “گیم چینجر” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم ۲۰۱۸ کے ساتھ ہی منصوبے سے متعلق کچھ خدشات سامنے آرہے ہیں۔ اس مضمون میں انہی خدشات میں سے کچھ کا احاطہ کیا گیا ہے۔

کیا سی-پیک  کارگر ہو گا؟

سی-پیک کا حقیقی نفاذ ابھی تک مبہم ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ منصوبے کو  احتیاط مگر امید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ  اس بات پر بھی سوال کر رہے ہیں کہ آیا منصوبہ دونوں ملکوں کےلئے فائدہ مند ہے یا نہیں۔ کیا پاکستان بھاری بھر کم قرضوں کا بوجھ اٹھا پائے گا؟ کیا مختلف روٹ اور ذیلی روٹ  پر محیط منصوبہ  کم ترقی یافتہ شہروں کو ترقی دے سکے گا جبکہ چین تو محض اس روٹ پر زور دے رہا ہے جو کاشغر سے گوادر کو ملائے گا؟ یہ سوالات پاکستان کےلئے  خدشات سے بھرپور ہیں۔ لیکن اس ساری صورتحال میں پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں چونکہ امریکہ  کے ساتھ پاکستان کے مراسم امداد کی کٹوتی  اور ۷۰۰ ملین ڈالر میں سےمحض ۱۵۰ ملین ڈالر کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن  امداد  ملنے کی وجہ سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ 

جو سی-پیک سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں انکو پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ معاشی اصلاحات چین کےلئے کس طرح کارگر ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں وزٹنگ محقق  بو قو کے مطابق ” چین کی معاشی اصلاحات طے شدہ ڈیزائن کے مطابق نہیں چل رہیں”۔ مثال  کے طور پر ۲۰۱۰ میں چین  ڈنگ ژیاؤپنگ کی ‘سیکھنے اور کرنے‘ کی پالیسی کی بدولت  جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا۔ اس لئے پاکستان کو  چین کے سی-پیک سے متعلق پروگرام کی  تفصیلات سے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ چین کا اپنا ہی طریقہ کار ہے۔ تاہم پاکستان کو چین سے یہ طے کرنا چاہئیے  کہ اتحادیوں سے معاملات کیسے چلائے جائیں جیسا کہ  دو طرفہ بات چیت اور باہمی سفارشات جو دونوں کےلئے قابلِ قبول ہوں۔ 

جغرافیائی اثرات؛

بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی-آر-آئی )کے ماتحت منصوبے سی-پیک نے  عالمی نظام کو جھنجوڑا ہے اور علاقائی  طاقتوں جیسے بھارت اور امریکہ کےلئے ایک متوازی  چیلنج سامنے آیا ہے۔ اسی وجہ سے بی-آر-آئی پر چینی اور امریکی دشمنی خاصی حد تک سامنے آ چکی ہے  اور امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس نے سی-پیک اور بی-آر-آئی کےلئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ مائیک پومپئیو  نے آئی-ایم –ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کی پاکستانی کوشش کو اسکے چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے  مخالفت کی ہے ۔ پومپئیو  کا کہنا تھا کہ “اس بات میں کوئی دانش مندی نہیں کہ  چینی  قرضوں کی ادائیگی کے لئے بیل آؤٹ  دیا جائے”۔ اسی طرح چین اور بھارت کے بیچ کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے  جبکہ نئی دہلی کی سی-پیک کی زبردست مخالفت بھارت اور پاکستان کے بیچ تنازعے کی ایک اور  وجہ بھی ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے بی-آر-آئی فورم میں شرکت کےلئے کوئی وفد نہ بھیجا جبکہ ایک اور موقع پر  اسے دیگر ملکوں کےلئے “ قرضوں کا ناقابلِ برداشت  بوجھ” قرار دیا۔

 

ان تمام جغرافیائی پیچیدگیوں کے باوجود سی-پیک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ مستقبل میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری لا سکے۔ چونکہ پاکستان میں نئی حکومت برسرِاقتدار آ چکی ہے تو اسکی کوشش ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے۔ اس تناظر میں سی-پیک حکومت کےلئے ایک زبردست موقع ہے کہ جس سے ہمسایوں بالخصوص بھارت کے ساتھ  مراسم بہتر کئے جا سکیں۔ ایسا دو وجوہات کی وجہ سے ہے۔ نمبر ایک؛ جب سی-پیک پاکستان کےلئے سودمند ثابت ہونا شروع ہو جائے گا تو بھارت علاقائی تنہائی میں رہنے کو ترجیح  نہیں  دے گا اور پھر شائد بھارت مجبور ہو کر پاکستان سے تجارتی اور معاشی روابط استوار کر لے۔ نمبر دو؛ معاشی راہداری جو پاکستانی زیر انتظام  کشمیر سے گزر رہی ہے، کشمیر کو عالمی معاملہ بنا دے گا  اور ممکن ہے اس مسئلے کے حل کی بھی بنیاد ڈال دے۔ چین بھی شائد کشمیر معاملہ حل کرانے میں شامل ہو جائے چونکہ اب چین  عالمی معاملات میں شامل ہونا شروع ہو گیا ہے (جیسا کہ روہنگیا معاملے پر بنگلہ دیش اور میانمار کے بیچ)۔

بات چیت کی اشد ضرورت؛

پاکستان کےلئے اگرچہ سی-پیک ایک “سنہری موقع” ہے لیکن ملکی مفادات  پر سمجھوتہ کرنے سے اس منصوبے پر خدشات جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس منصوبے کے سماجی، معاشی اور  ماحولیاتی عناصر سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کےلئے  ان عوامل کو غور سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے مشورہ دیا ہے کہ آگے چلنے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو بات چیت کرنی چاہئیے اور “سنجیدہ گفتگو” سے راہداری کے معاشی اثرات کو دیکھنا چاہئیے۔ حال ہی میں شائع شدہ ایک مضمون میں  یہ لکھا گیا ہے کہ چین  پاکستان کے معاشی و سماجی شعبے میں اپنی انٹراپرائز اور ثقافت کے ذریعے داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر زرعی شعبہ میں چینی کمپنیاں بیج، کھاد اور زرعی ادویات فراہم کریں گی جبکہ چینی لیبر اناج، سبزیوں اور پھلوں  کےفارمز میں کام کرے گی۔ اسی طرح سیاحت کے شعبے میں جہاں چینی افراد کو ویزہ فری رسائی حاصل ہے وہیں پاکستانیوں کےلئے اس سہولت  کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے منصوبے کے مثبت کے ساتھ ساتھ منفی پہلوؤں پر بھی باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔ 

مرکزومحور چین؛

اس وقت منصوبے کے ساتھ ساتھ بڑھنے کے علاوہ پاکستان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان اپنے دیرینہ دوست کی صلاحیتوں اور سرمایہ کاری کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ حقیقت  ہے اور پھر ایک ایسے وقت میں جب امریکہ نے پاکستان کی عسکری امداد کو منجمد کر دیا ہے اور ”ڈو مور” پر عمل درآمد کےلئے دیگر آپشنز پر بھی غور کر تا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ امریکہ عالمی مالیاتی اداروں پر اثرانداز ہو کر پاکستان پر دباؤ بڑھاتا ہے جیسا کہ ۱۹۹۸ میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد آئی-ایم-ایف نے پاکستان پر ۲۰ ملین ڈالر کا فائن کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کا چین کی طرف جھکاؤ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ 

پاکستان کو احتیاط کی ضرورت ہے  اور چین کے ساتھ تعاون کی اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا  تاکہ منصوبے کی مثبت و منفی اثرات کا احاطہ ہو سکے۔ منصوبوں کی تفصیلات تمام صوبوں کو میسر ہونی چاہئیں اور پھر جب یہ حتمی مراحل میں داخل ہوں تو پالیسی میکرز، محقیقین اور عوام اپنے تئیں انکی جانچ  پڑتال کر سکے۔ 

ایڈیٹر نوٹ: یہ مضمون ماضی کی سیریز میں سے ایک ہے جو ایس-اے-وی کی  ستمبر میں پانچویں سالگرہ منانے پر جاری کی گئی ہے۔ اس سیرز میں مضمون نگار ماضی کے تزویراتی ایشوز پر تجزیہ کریں گے جو آج بھی بدستور اہمیت کے حامل ہیں اور جائزہ لیں گے کہ آیا علاقائی تبدیلیوں کے ہوتے ہوئے ماضی کےکئے گئے تجزیوں کی کتنی اہمیت آج بھی قائم ہے۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Marc van der Chijs via Flickr

Image 2: Mike Hutchings via Getty

Posted in , China, CPEC Today, Development, Economy, Energy, Foreign Policy, Geopolitics, Kashmir, Negotiations, Pakistan, Policy, Regional Connectivity, Territorial Dispute, Trade, Treaty, United States, US

Arooj Naveed

Arooj Naveed

Arooj Naveed is a M.Phil scholar in International Relations from the University of Punjab. Her areas of interest include foreign policy, diplomacy, conflict management and conflict resolution. Some of her articles are: "Pakistan's External Security Challenges" in the book Revisiting Pakistan's National Security Dilemma, "Conflict in Waziristan" (Co-authored), "Loopholes in Public policy making: A case study of Pakistan" (Co-Authored), "Water Security: The practice of Hydro-hegemony between India and Pakistan" and within Pakistan in the book Security Concerns in South Asia (Co-Authored).

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *