شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت ۔ اہم پیش رفت


شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ منقعدہ ا جلاس میں بھارت اور پاکستان کو مکمل رکنیت دی گئی جس کو دونوں ممالک ( بھارت اور پاکستان ) اہم کامیابی کے طور پر دیکھ ر ہے ہیں۔ ان کی شمولیت سے شنگھائی تعاون تنظیم اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا نمائندہ فورم بن گیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم مشترکہ فوجی مشقوں کے علاوہ رکن ممالک کے مابین تجارتی معاہدوں پر کام کرتی ہے۔ مگر بھارت اور پاکستان، جن کے مابین سنجیدہ نوعیت کے اختلافات پائے جاتے ہیں کی شمولیت سے شکوک و شبہات پیدا ہوے کہ ان کے باہمی اختلافات شنگھائی تعاون تنظیم کے کام پر اثر انداز نہ ہوں اور تنظیم میں تقسیم کا باعث نہ بنیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ کیا شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا فورم ثابت ہو سکتا ہے جہاں دونوں ممالک ا پنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کہ تنظیم کے مقاصد کو حاصل کرنے میں اپناکردار ادا کریں گے؟ کیا ا ن کی شمولیت سے خطے میں استحکام اور خوشحالی آے گی، اورکیا چین اور روس بھارت اور پاکستان کے مابین ثالث کا کردار ادا کر سکیں گے؟ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی منظرنامہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔چین اور روس تنظیم و خظے کے اہم ممالک ہیں اور علاقائی امن کے لیے ان کا کردار و مدد انتہائی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیانیہ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم ا پنی آنے والی نسلوں کو پر امن ماحول دیں، نہ کہ تنازعا ت سے بھرپور فضا۔ ا س تناظر میں یہ جاننا ضروری کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم میں کیسا کردار ادا کرے کہ جس سے وہ باہمی اور کثیر جہتی فوائد حاصل کرسکتا ہے۔

پاکستان کو اپنی تمام تر توجہ معاشی ترقی کی طرف مبذول کرنا ہو گی اور خطے میں کسی بھی سازش سے خود کو الگ رکھنا  ہو گا۔ –

 پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک پارٹنر شپ مزید مضبوط کرنی چاہیے۔ –

پاکستان کو رکن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے جس سے نہ صرف پا کستان کی معیشیت مظبوط ہو گی بلکہ غیر ملکی  ریزرو میں بھی اضافہ ہو گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پا کستان میں معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتاہے۔

پاکستان کو رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا تا کہ دہشت گردی کی لعنت سے بچا جا سکے۔ –

شنگھائی تعاون تنظیم کے فورم کو بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور بھارت کو بھی سمجھنا ہو  گا کہ اس گلوبلا ئزیشن کے دور میں معاشی فوائد کے لیے اس کا پاکستان کے اسٹریٹجک محل و قوع کی وجہ سے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ علاقائی امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کو اپنے اختلافات میں مصالحت کی راہ نکالنی ہو گی۔ اور ان مسائل سے ابتدا کرنی ہو گی جوانتہائی نوعیت کے نہ ہوں۔

پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ عالمی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنی کی گئی قربانیوں کو کیش کرائے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے زیرانتظام ریجنل کاونٹر ٹیررزم سٹرکچر سے پاکستان کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر تعاون حاصل ہو گا۔

افغانستان میں پائیدار امن کے لیے مرکزی حثیت افغان حکومت کو حاصل ہونی چاہیے مگر ہمسایہ ممالک کا کردار اور مدد کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا ۔ چین اور روس کی طرف سے پا کستان کو افغانستان امن عمل میں شامل کرنا ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے پا کستان کا کردار کلیدی ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی قربت کی وجہ سے پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پا کستان کو انرجی بحران کا سامنا ہے جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت سے علاقائی روابط میں اضافہ ہو گا اور ان ممالک تک رسائی حاصل ہو گی جو کہ تیل و گیس کے زخائر سے مالا مال ہیں۔ پا کستان ان روابط سے اپنے انرجی بحران پر قابو پا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اقتصادی انضمام کو فروغ ملے گا۔ میگا پراجیکٹس ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور ترکمانستان ،افغانستان، پا کستان و بھارت (“ٹاپی”) منصوبے اگرآپریشنل ہو گئے تو اس سے نہ صرف انرجی بحران ختم ہو گا ، پیداوار میں اضافہ ہو گا اور یہ پاکستان کے لیے اقتصادی ٹرن آراونڈ ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے گزرتی تیل و گیس پائپ لائن کے زریعے ٹرانزٹ فیس کی مد ملین ڈالر کما سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمو لیت رکن ممالک کی طرف پاکستان کی علاقائی اہمیت کا اطراف اور اس کی اہم سفارتی کامیابی ہے۔ مگر اس کے بھرپور فوائد حاصل کرنے کیلیے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مثبت اور فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔

***

Image: News 24 Headlines via Flickr

Posted in , Cooperation, India, India-Pakistan Relations, Pakistan, Trade, Uncategorized

Kishwar Munir

Kishwar Munir

Kishwar Munir is SAV Visiting Fellow July 2017. She is an Assistant Professor at Hajvery University, Lahore. She is also a doctoral candidate in the Department of Political Science, University of Punjab, Pakistan. She has taught a course titled Political System: Turkey, China, and India at the University of Punjab. Her research interests include terrorism, regional and global security issues, and domestic politics and foreign policy of India and Pakistan. She is an Urdu columnist at Jehan-e-Pakistan. Kishwar can be contacted at kishwarmunir786@gmail.com

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *