ٹرمپ کی افغانستان حکمتِ عملی کا جائزہ:کیانیشنل سکیورٹی کے مقاصد حل ہو گئے؟

صدرڈونلڈ  ٹرمپ نے اگست ۲۰۱۷ میں افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمتِ عملی ترتیب دی  اور کہا کہ “ہمیں افغانستان اور جنوبی ایشیا میں  مسائل ورثے میں ملیں ہیں  لیکن ہمارے پاس ماضی میں جا کر فیصلے صحیح کرنے کی سہولت نہیں ہے”۔ افغان جنگ جس نے امریکیوں، ہمارے اتحادیوں، علاقائی ممالک اور بذاتِ خود  صدر  کو بھی   کو نقصان پہنچایا ہے، اس جنگ سے باہر نکلنے کی پہلی  کوششوں کے باوجود  بھی اسی پالیسی پر گامزن ہیں جو بش اور اوبامہ  کے وقت تھی۔یعنی دہشت گردی کے حملے جو امریکہ کےلئے باعثِ خطرہ ہیں ان کو روکنا اور جوہری ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی رسائی بھی ناممکن بنانا۔ ان دو مقاصد نے صدر کو مجبور کیا کہ وہ نہ صرف افغانستان میں موجود رہیں بلکہ فوجیوں کی  تعداد میں بھی کچھ اضافہ کرنا پڑا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اقدامات ان دو مقاصد کو حاصل کر پا رہے ہیں یا نہیں۔

ساؤتھ ایشین وائسز کی سیریز  “ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے ایک سال بعد”  چار محقیقین نے  افغانستان اور علاقائی ملکوں پر اس پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ تمام اس بات پر متفق ہیں کہ اس نئی پالیسی نے افغانستان میں حالات بہتر نہیں کئے ہیں  اور نہ ہی امریکہ کے پاکستان اور بھارت سے تعلقات بہتر کئے۔ اسکے برعکس ایک سال بعد حالات مزید پیچیدہ ہیں اور افغانستان  سے نکلنے کا کوئی بھی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ 

جنوبی ایشیائی پالیسی جو زیادہ تر افغانستان سے متعلق ہے، اس نے پینٹا گون کو زیادہ خودمختاری دے دی ہے  اور مقاصد کے حصول کو وقت  کے بجائے شرائط سے مشروط کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے وسیع خدوخال نے  انتظامیہ کے کئی اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق  مداخلت کی اجازت بھی دے ڈالی ہے۔ ہر کوئی معاملے کو سلجھاتے ہوئے وہاں سے امریکہ کی باعزت واپسی چاہتا ہے لیکن  جیسے بسم اللہ علی زادہ لکھتے ہیں، ماضی میں امریکہ نے متضاد پالیسیاں اپنائی ہیں جیسے “مصالحت یا موت“ کی پالیسی یا پھر اپنے حمائت یافتہ افغان فورسز کو کم گنجان آباد علاقوں سے نکال لینا جس کے نتیجے میں حقیقتاً امریکہ نے افغانستان کے دیہی علاقوں کو طالبان کے حوالے کردیا”۔ تمام مصنفین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی فضائی  کاروائیوں میں اضافے کے باوجود طالبان نے زبردست مزاحمت دکھائی ہے۔ اس صورتحال نے افغان حکومت کےلئے آسانیاں پیدا نہیں کی ہیں بلکہ اس خیال کو تقویت دی ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد طالبان دوبارہ کئی علاقوں پر قابض ہو جائیں گے۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس خیال میں وزن نہیں، مگر پھر بھی حالات اس جانب جار ہے ہیں جب دونوں اطراف نہ ہار مانیں اور نہ ہی مکمل جیت حاصل کر سکیں۔ اور پھر یہ پیچیدہ صورتحال افغان شہریوں کےلئے دردناک ہے۔ 

عزیر کیانی اور سکندر شاہ نئی پالیسی کے پاک امریکہ تعلقات پر اثرات کا جائزہ لیتے ہیں  اور لکھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان میں غیر اہم ہونے کے  رسک پر ہے۔ اس طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ  واشنگٹن میں پاکستان کو محض طالبان کی محفوظ پناہ گاہ کے زاویہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نئی پالیسی کے ایک سال بعد پاک امریکہ تعلقات اگرچہ بد ترین نہیں ہیں لیکن  ایسے عوامل ابھر رہے ہیں جو تعلق کو غیر اہم بنا دیں۔ کیانی اور شاہ کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا سکیورٹی اور جغرافیائی طور پر خطرناک ہو گا۔ لیکن جب تک امریکہ افغانستان معاملات کو صرف عسکری نظر سے دیکھے گا، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ 

شیریاس دیش مکھ  افغان پالیسی کے بھارت امریکہ تعلقات پر اثرات پر لکھتے ہوئے درست کہتے ہیں کہ  نئی پالیسی نے بھارت کی افغانستان سے متعلق حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی برپا نہیں کی۔ صدر ٹرمپ کی تقریر میں بھارت کے ذکر کی وجہ سے دنیا کے کئی دارلحکومتوں میں حیرت کی لہر دوڑ گئی، خاصکر اسلام آباد اور بیجنگ کےلئے یہ کسی جھٹکے سے کم نہ تھا۔ لیکن  دیش مکھ کے بقول در حقیقت  تقریر میں بھارت کے ذکر کے پیچھے صدر ٹرمپ کی یہ خواہش تھی کہ واحد امریکہ ہی  یک طرفہ طور پر افغانستان کی  ترقی پر سرمایہ نہ خرچ کرے اور عین یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ذکر سے پالیسی میں کوئی اصلی تبدیلی نہیں آئی۔ بھارت نے سمجھداری کا فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان کی ترقیاتی مدد کا کام جاری رکھا  لیکن عسکری امداد سے اجتناب کیا۔ اس حکمتِ عملی سے پاکستان کی پریشانی میں کمی ہوئی اور بھارت کی اندرونی سیاست کے لحاظ سے بھی یہ فیصلہ زیادہ قابلِ قبول ہے۔ بھارت کی طرف امریکہ کا “تزویراتی جھکاؤ” ابھی محض ایک بیانیہ ہے کیونکہ بھارت افغانستان کے کھیل میں فیصلہ کن کھلاڑی نہیں ہے اوراس کا  امریکی  انڈو- پیسفک پالیسی  میں  مرکزی کردار بھی محدود لگ رہا ہے۔ 

نئی پالیسی نے ایک سال بعد علاقائی کرداروں  کو افغانستان سے  امریکی نیشنل سکیورٹی  کے متوقع نتائج حاصل کرنے کی طرف مائل نہیں کیا ہے۔ مزید اہم یہ ہے کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال دگرگوں ہوتی جا رہی ہے ، طالبان کے پاس محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور افغانستان کی سیاسی صورتحال ۲۰۱۸ کے پارلیمانی اور ۲۰۱۹ کے صدارتی انتخابات سے قبل  ابتری کا شکار ہے۔ امن مذاکرات اور سیاسی  تصفیہ افغان اور علاقائی صورتحال کا آج بھی بہترین حل ہے۔ جہاں امن بات چیت کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں  وہیں  نیہا دیویودی  کا کہنا ہے کہ  اس سال میں کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جو امن کی راہ ہموار بھی کرتےہیں۔ امریکہ ۲۰۰۹ سے امن مذاکرات کا حامی رہا ہے۔  لیکن اس سال ٹرمپ انتظامیہ نے حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے طالبان سے براہِ راست بات چیت کا اعتراف کیا۔ اس پیشکش نے طالبان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا  کہ ان کی عدم رضامندی اس جنگ کی طوالت کا باعث ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی امریکی مشورے کے بعد فروری میں طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی اور جون میں عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی کا بھی اعلان کیا جس کا طالبان نے بھی  مثبت جواب دیا۔ یہ اور دیگر اقدامات، جیسے افغان امن مارچ  اور علماء کی امن کانفرنس  نے سیاسی دباؤ بڑھایا ہے اور امن   عمل کی رفتار کو جاری رہنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ، افغانستان اور دیگر علاقائی ملکوں کو امن عمل کی اس رفتار کو جاری رکھتے ہوئے  تمام سٹیک ہولڈرز کو بات چیت کی میز پر لانا چاہئیے جو افغانیوں، علاقائی کرداروں اور عالمی برادری  کی ضروریات کو پورا  کرسکے۔ 

ایڈیٹر نوٹ: ساؤتھ ایشین وائسز اس کوشاں رہا ہے کہ اس کے مصنفین بھارت، پاکستان اور امریکہ کے پالیسی مباحثات میں پُر اثر ہوں۔ اس بابت ہمارے سلسلے “ایکسپرٹس کی رائے”  میں وقتاً فوقتاً  جنوبی ایشیائی محقیقین  کے تجزیات  پر مختلف ماہرین اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، اس امید سے کہ برصغیر اور اس سے آگے بامعنی بات چیت کے عمل کو فروغ ملے۔ اس طرح “ایکسپرٹس کی رائے” کے اس سلسلے میں  یونائٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کی ‘تمنا سالک الدین ‘ نے ساؤتھ ایشین وائسز کی “صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی: ایک سال بعد” سیریز  پر ردِ عمل دیا ہے۔ مکمل سیریز پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔ 

***

.Click here to read this article in English

Image 1: James N. Mattis via Flickr

Image 2: U.S. Department of Defense Website

Posted in , Afghanistan, Defence, Experts ki Rai, Foreign Policy, Geopolitics, India, Internal Security, Pakistan, Peace, Policy, Politics, Trump South Asia Review, United States, US

Tamanna Salikuddin

Tamanna Salikuddin

Tamanna Salikuddin is a senior expert on peace processes with a focus on inclusivity at the U.S. Institute of Peace. Salikuddin leads a multi-faceted program to build thought leadership and expertise on sustainable peace processes. Her work underpins the Institute’s efforts to advance inclusivity and representation in peace processes and conflict resolution. Tamanna joined USIP after 12 years in the U.S. government focused on conflict resolution. From 2014 to 2017, she was a senior advisor to the special representative for Afghanistan & Pakistan at the U.S. Department of State. During this time, Tamanna led a team of experts pursuing a peace process between the Afghan Taliban and Government of Afghanistan. She represented the United States at the historic Murree talks in 2015 and participated in other high-level negotiations. From 2011 to 2013, she served as Director for Afghanistan and Pakistan at the National Security Council focusing on conflict resolution in South Asia. She has served as a political officer at the U.S. embassy in Islamabad and an analyst on South Asia. Prior to joining the U.S. government, Salikuddin worked as an attorney on international law issues in South Asia. Tamanna’s primary focus has been examining conflicts and conflict resolution across South and Central Asia and the Middle East, particularly those involving non-state actors and militant groups. She has also spent time learning from conflicts and peace processes in South Africa, Northern Ireland, Colombia and the Balkans. Tamanna earned her bachelor’s in economics from Northwestern University and her juris doctorate with a focus in international law from the Ohio State University Moritz College of Law.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *