پاکستان میں داعش کا خطرہ حقیقی ہے

داعش اگرچہ مشرق وسطی میں کمزور ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی لگتا ہے کہ یہ پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے۔   حال ہی میں امریکہ نے  داعش  خراسان( آئی-ایس-کے)گروپ کے ننگرہار میں واقع ہیڈکوارٹر پرپر زور بمباری کی جس کے نتیجے میں  داعش کے سرپرستِ اعلی  عبدالحسیب لغاری مارے گئے۔ اس کے باوجود اس دہشت گرد گروہ نے پاکستان میں دو بڑے حملے کئے ہیں: سینئر افغان طالبان کمانڈر مولوی داؤد کا ۱۹  اپریل کو پشاور میں قتل، اور جمیعت علمائے اسلام(ف) کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور  حیدری پر ۱۲ مئی بلوچستان میں حملہ۔ یہ دو حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داعش کا وجود پاکستان میں حقیقی ہے اور یہ ایک انتہائی زور آور دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔

آئی-ایس-کے  کا پاکستان میں ابھرتا ہوا  اثرورسوخ حالات کو مزید گھمبیر کر سکتا ہے چونکہ یہ نظریاتی طور پر شہری، پڑھی لکھی اور ملک میں موجود ہم خیال طبقے کو متوجہ کرتا ہے۔ یہ عناصر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کےلئے ایک چیلنج  ہیں۔

آئی-ایس-کے  نے ۲۰۱۶ میں پاکستان میں کم وبیش ۹ حملے کیے جن میں ۱۲۹ افراد جاں بحق اور  ۱۱۲ زخمی ہوئے۔ اور ساتھ ہی ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ماننے پر مجبور کیا کہ  اس گروہ کا پاکستان میں وجود ہے۔ آئی-ایس-کے نے پاک-افغان جہادی بیلٹ میں  جگہ بنا لی ہے اور اب اسکو سکیورٹی معاملات میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اطلاعات کے مطابق  ٹرمپ انتظامیہ نے آئی-ایس-کے کو شکست دینا اپنی اگلی ایف-پاک پالیسی کا مقصد بنا لیا ہے۔ اسی طرح گروپ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر پاکستان ، افغانستان اور امریکہ نے اسکے خلاف مشترکہ کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس گروہ  نے امریکی ڈرون اور فضائی حملوں، افغان طالبان کے خلاف نبرد آزما گروپس اور افغان سکیورٹی فورسز کیخلاف مزاحمت دکھائی ہے۔ سعید خان اورکزئی اور عبدالروؤف خادم جیسے ٹاپ لیڈرز کو کھو دینے کے باوجود آئی-ایس-کے کو ختم کرنا انتہائی مشکل کام دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان میں  پہلے سے موجود دہشت گرد گروہوں میں سے بھرتیوں کے ساتھ ساتھ داعش نے یونیورسٹی کے طالب علموں اور پیشہ ور افراد کو بھی چندہ اکٹھا کرنے اور پروپیگنڈہ کرنے کے لیے  بھرتی کیا ہے ۔ مثال کے طور پر  سعد عزیز کا طاہر سایئں گروپ جو کہ سماجی کارکن سبین محمود کے   قتل  اور ۲۰۱۵ کے سفورہ گوٹھ بس حملے میں ملوث تھا،  یونیورسٹی کے پڑھے لکھے ان لوگوں پر مشتمل ہے جو شہری مڈل اور اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے ۔ ماضی میں نوجوانوں کوپر تشدد اور بنیاد پرست تنظیموں میں  بھرتی کرنے کا کام  انتہا پسندمُلا کیا کرتے تھے۔ایسے مُلا جہادی تنظیموں اور جہادکے خواہش مند افراد کے بیچ رابطے کروایا کرتے تھے۔  اس کے برعکس داعش کی آمد کے بعدمُلاؤں کے بجائےسوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسا کہ فیس بک، ٹوئیٹر، اور ٹیلی گرام   انتہا پسند نظریات اور پیغامات پھیلانے میں زیادہ کارگر ثابت ہوئے ہیں۔

 آئی-ایس-کے نے پاکستانی عورتوں کو بھی بھرتی کرنے پر توجہ دی ہے۔ مثال کے طور پر بشریٰ چیمہ جس نے  جامعہ پنجاب  سے  اسلامیات میں ایم-فل کی ڈگری حاصل کی اور وہ مذہبی سکالر بھی تھی،انہوں نے لاہور میں بشریٰ نیٹ ورک چلایا اور وہاں سے جہادی بھرتی کر کے شام بھیجے۔ اسی طرح ۲۰۱۴ میں   کراچی میں داعش کا حمائت یافتہ خواتین کا ایک مکمل گروہ پکڑا گیا۔ یہ گروہ چندہ اکٹھا کرنے اور داعش کا نظریہ پھیلاتا تھا۔ حال ہی میں حیدر آباد سے میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری کو داعش نے لاہور میں ایسٹر تہوار پر خود کش بمبار  کے طور پر بھرتی کیا مگر خوش قسمتی سے اسکو حملوں سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔

یہ رجحانات کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے چونکہ نوجوانوں اور عورتوں کو داعش نے اسی طرح مشرق وسطی اور یورپ میں بھی بھرتی کیا۔ بہر حال اس پروپیگنڈہ  کا پاکستانی پڑھے لکھے نوجوانوں میں پھیلاؤ نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ماضی کے بنیاد پرست رجحانات جو کہ انتہا پسند مدرسوں سے جنم لیتے اور جنہوں نے لوئر مڈل کلاس کو متاثر کیا جبکہ داعش کا پر تشدد نظریہ بڑے شہروں کی پڑھی لکھی نوجوان نسل جو کہ کالجز اور اعلی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔

ISIS attack in Pakistan

آئی-ایس-کے کی پاکستان میں متحرک دیگر ہم خیال عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ بھی شراکت داری ہے،  جیسا کہ جنداللہ، لشکرِ جھنگوی  ال عالمی، اور جماعت الاحرار ۔ ان تمام گروہوں میں اتفاق کی بنیاد ان کا  شیعوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد ہے۔ اس وجہ سے پاکستان میں شیعہ سنی تنازعہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ مزید برآں داعش نے نہ صرف شیعوں کو دین سے خارج کرتے ہیں بلکہ سنیوں کو بھی بزورِ طاقت اپنے رائج کردہ انتہا پسند تکفیری-سلفی اسلام کی طرف کھینچتے ہیں۔ سندھ میں لعل شہباز قلندر اور بلوچستان میں شاہ نورانی کے مزار پر داعش کے حملوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ داعش محض شیعہ مقامات پر حملہ نہیں کرتی۔

پاکستان میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ حملوں کےلئے داعش کی مرکزی قیادت نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے جبکہ داعش کا خراسان گروپ تربیت، اہداف اور حملہ آور  کا انتظام کرتا ہے۔ اندرونی حلیف (جنداللہ اور لشکرِ جھنگوی  ) لاجسٹکس کا انتظام کرتے ہیں اور حملہ مکمل کرتے ہیں۔ یہ شراکت داری علاقہ سے علاقہ اور گروہ در گروہ مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر  جنداللہ نے داعش سے مکمل بیعت کی ہوئی ہے جبکہ  لشکرِ جھنگوی  ال عالمی خود کو داعش میں ضم کیے بغیر تعاون کرتی ہے۔ اس شراکت داری نے آئی-ایس-کے کی آپریشنل صلاحیتوں اور اہداف تک پہنچنے میں اضافہ کیا ہے۔ آئی-ایس-کے کے پاکستان میں داخل ہونے سے  ملک کی دہشت گردی کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو گئی ہے۔ گروپ کا بھرتی کرنے کا نیا طریقہ کار اور لوکل گروہوں سے شراکت داری کے علاوہ نئے انتہا پسند رہنماؤں جیسا کہ سعد عزیز اپنے مبہم ماضی کی وجہ سے نگرانی سے بچے رہے۔ ایک ہی وقت میں داعش کے  شہری نیٹ ورک کو پکڑنا اور ختم کرنا مشکل ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ داعش کے ایک گروہ کو پکڑ لینے سے دوسرے غیر متحرک نہیں ہو جاتے۔

ان مسائل کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف فوجی کوششیں آئی-ایس-کے کے خطرے کو حل نہیں کر سکتیں۔ پناہ گاہوں، جنگجوؤں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کیخلاف آپریشنز ضروری ہیں تاہم  یہ  داعش کو شکست نہ دے سکیں گے جب تک انکے نظریے کی بیخ کنی نہیں کی جاتی ۔ انکے نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے پولیس اور  خفیہ اداروں  کو متحرک ہو نا ہو گا۔ ان اداروں کو سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی تاکہ تیزی سے بدلتے حالات میں متشدد رویوں اور انتہا پسندی کے سرطان کو بر وقت قابو کیا جا سکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: ISIS Fighters (Dean11122, Wikimedia)

Image 2: May 12 attack in Mastung district, Quetta, Pakistan (Banaras Khan, AFP via Getty Images)

Posted in , Afghanistan, ISIS, Pakistan, Peace, Security, Terrorism

Abdul Basit

Abdul Basit

Abdul Basit is an Associate Research Fellow (ARF) at the International Centre for Political Violence and Terrorism Research (ICPVTR) of the S. Rajaratnam School of International Studies (RSIS), Nanyang Technological University, Singapore. He holds an M. Phil in International Relations from Quaid-i-Azam University, Pakistan. He specializes in issues related to political violence, religious extremism, and terrorism in Afghanistan and Pakistan. He has published widely on these issues nationally and internationally. He has also worked as a research analyst with Pak Institute for Peace Studies (PIPS) and Geo TV.

Read more


Continue Reading

ARSA

विभेदक रोहिंग्या नीति : भारत के मूल्यों के विरुद्ध

** इस श्रृंखला का दूसरा भाग यहां पढ़ें। ** म्यांमार के रखाइन प्रांत से आने वाले रोहिंग्या मुसलमान, जनसंख्या लगभग दस लाख, मूल रूप से […]

September 18, 2017 - Views 0



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *