پاکستان کی اقتصادی پریشانیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل


پاکستانی اقتصادی پریشانیاں- تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں کمی، افراط زر کی شرح میں اضافہ، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ اورکرنٹ اکائونٹ خسارہ- ان میں سے کچھ نیا نہیں ہے، اور ملک ایک بار پھر خود کو اس قرضے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے دروازے پر دستک دیتا ہوا پارہا ہے، جو اس کا ۲۲واں قرضہ ہوگا۔  اس منصوبے کے تحت حتمی رقم کا تعین اگرچہ ابھی نہیں ہوسکا ہے تاہم پاکستان پہلے ہی سابق منصوبوں کے تحت آئی ایم ایف کے اربوں روپے کا مقروض ہے۔ درحقیقت حکومت پاکستان کے اخراجات کا ۳۰ اعشاریہ ۷ فیصد قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے مخصوص ہے جسے گرتی ہوئی وصولیوں کے ساتھ سہارا دینا ممکن نہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں موجودگی اور قومی ایجنڈے کے معاملے پر اداروں کی حمایت یافتہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں، پاکستان کو قبل اس کے کہ وہ خود کو دیوالیہ قرار دیئے جانے کے دہانے پر پائے، اپنی توجہ مالیاتی مسائل کو سلجھانے پرکرنا ہوگی۔

معیشت کی موجودہ حالت

 سال ۲۰۱۹ میں پاکستان خود کوایک شدید کلیاتی معاشی ( میکرو اکنامک) بحران میں گھرا پاتا ہے۔  یہ برآمدات کے مد میں وصولیوں کے مقابلے میں درآمدات پر زیادہ خرچ کررہا ہے جبکہ اس کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ سال ۲۰۱۵ کے ۲ اعشاریہ ۷ ارب ڈالر سے بڑھ کے سال ۲۰۱۸ میں ۱۸ اعشاریہ ۲  ارب ڈالر ہوچکا ہے۔ اس کرنٹ اکائونٹ خسارے کی بڑی وجہ  بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے جس کا بیشترحصہ سی پیک منصوبوں کے سبب بڑھتی ہوئے چینی درآمدات اور برآمدات میں عمومی کمی ہے۔ گزشتہ حکومت نے سی پیک کے تحت بڑے پیمانے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے نمو بذریعہ درآمدت کی حکمت عملی پر زیادہ توجہ دی تھی۔  جون ۲۰۱۸ کے اختتام تک  پاکستان کا کل قومی قرضہ ۱۷۹ اعشاریہ ۸ ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، جو محض ایک سال میں قرضے میں پچیس اعشاریہ ۲ ارب ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ کل قرضے میں نصف سے زیادہ اضافہ غیر ملکی قرضوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا جو کہ ۳۰اعشاریہ۱ فیصد کی شرح سے بڑھا۔ محض ڈالر کے مقابلے میں روپیے کی قدر میں گراوٹ ہی ۲۰۱۸ کے دوران غیر ملکی قرضوں میں۷ اعشاریہ۹ ارب ڈالر اضافے کا سبب بنی۔ روپیئے کی قدر میں شدید گراوٹ کے باوجود بھی پاکستانی برآمدات تقریباً وہی رہیں۔ اسی دوران حکومتی بیرونی قرضے جون ۲۰۱۸ میں ۶۴ اعشاریہ ۱ ارب ڈالر سے بڑھ کے جنوری ۲۰۱۹میں ۶۵ اعشاریہ ۸ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ۔ افراط زر، روپیئے کی قدر میں گراوٹ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب تقریباً ۹ اعشاریہ ۴ فیصد کی سطح کو چھو رہا ہے جو گزشتہ پانچ برسوں کی ریکارڈ بلند ترین سطح ہے۔ مزید براں بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور انتہا پسندی کیخلاف جاری جنگ معیشت پر محض بوجھ میں اضافہ کررہے ہیں۔ روپئے کی قدر میں کمی جس نے درآمدات کو مہنگا کیا ہے، کے ساتھ ساتھ  پاکستان میں سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے بھی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بری طرح زک پہنچائی ہے۔

بڑھتےہوئے خسارے کے باوجود، سال ۲۰۱۸ میں پاکستان میں ٹیکس کے مد میں ہونے والی وصولیاں کل جی ڈی پی کا محض ۱۳ فیصد تھیں۔ موجودہ مالی سال کے دوران ، ملک نے وصولیوں میں گرائودیکھا ہے جبکہ اس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں جی ڈی پی کا ۲ اعشاریہ ۷ فیصد ششماہی مالی خسارہ ہوا ہے جو سال ۱۱-۲۰۱۰ کے بعد بلند ترین ہے۔ سٹیٹ بنک پاکستان کے مطابق وصولیوں میں نمایاں کمی کو ترقیاتی اخراجات میں کمی، آمدن، کارپوریٹ اور پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں تخفیف سے جوڑا جاسکتا ہے، جس کا اعلان پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت نے کیا تھا۔

اسی طرح ، گزشتہ حکومت برآمدات کے فروغ میں نمایاں بہتری لانے میں ناکام رہی: درحقیقت پاکستان کی کل برآمدات پی ایم ایل این کے دور میں نمایاں کم ہوئیں۔ ورلڈ بنک نے اپنی حالیہ رپورٹ ” پاکستان کے سو سال اور مستقبل کے خاکے” میں  مالیاتی خسارے کیلئے کمزورطرز حکمرانی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ناکام جانچ پڑتال کا حامل پاکستان کا مالیاتی نظام ٹیکس چوری میں مدد دیتا ہے جوکہ مالیاتی خسارے میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ عمران کی سربراہی میں قائم پی ٹی آئی کی حکومت جسے یہ معاشی بحران گزشتہ حکومت سے ورثے میں ملا، کو ایک بڑی ذمہ داری درپیش ہے: معاشی ترقی  کے فروغ کے ذریعے سے کلیاتی معاشی ( میکرو اکنامک) بحران میں گھری ہاتھ پائوں مارتی  پاکستانی معیشت کو باہر نکالنا۔

تباہ شدہ مقامی صنعت کے ساتھ پاکستان، غیر ملکی سرمایہ کاری کے تسلسل کو عارضی سہارے سے ہٹ کے کسی اور طور پر استعمال کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ اس نے حال ہی میں رعایتی نرخ پر ترقیاتی قرضے دینے والے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ابو ظبی فنڈ برائے ترقی، کے ذریعے سے ۲ارب امریکی ڈالر وصول کئے ہیں۔ اس آمد سے مارچ ۲۰۱۹  کے اوائل میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر۹۵۶.۱۴ ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کے ۳۹۸.۱۷ارب امریکی ڈالر ہوچکے ہیں۔ فروری میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کے ہمراہ ۷ یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، جن میں آئندہ چھ برس کے دوران ۲۱ ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد کیا گیا ہے۔ تاہم محض غیر ملکی امدار اوردوست ممالک سے ملنے والے قرضوں پر انحصار کافی نہیں۔ اگرپاکستان کو طویل عرصے کیلئے کرنٹ اکائونٹ خسارے سے نمٹنا ہے تو حکومت کو ملکی کلیاتی معاشی ( میکرو اکنامک) صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے نمایاں اقدامات کرنا ہوں گے اور عالمی منڈی میں بہترمقابلے کیلئے صنعتی حلقوں کو جدیدترین بنانا ہوگا۔

مستقبل کیلئے لائحہ عمل: حکومت پاکستان کو کیا اقدامات کرنے چاہیئں؟

کرنٹ اکائونٹ خسارے پر نمایاں اثرات کیلئے پاکستان کو اس قدر بڑے پیمانے پر غیر ملکی امداد پر بھروسہ کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کیلئے موافق ماحول یقینی بنانا ہوگا جو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائے۔ عالمی بنک کی جائزہ رپورٹ، ”کاروبار کرنے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے ممالک“ کے مطابق ۱۹۰ معیشتوں کی فہرست میں پاکستان ۱۳۶ویں نمبر پر ہے۔ اس درجہ بندی کو بہتر بنانے اور مزید سرمایہ کاری کے حصول کیلئے پاکستان کو کسٹم قوانین کو آسان ،ملکی سیکیورٹی میں بہتری کے ساتھ ساتھ سیاحت اور اس جیسی دیگر صنعتوں کیلئے پسندیدہ منزل کے طور پر اپنے بین الاقوامی تشخص کو ازسرنو شکل اورفروغ دینا چاہئے۔ یہ وہ ہدف ہے جسے موجودہ حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے اور جس کیلئے ای ویزے کے تعارف سمیت ویزہ پالیسی میں نرمیاں پیداکررہی ہے۔ اسے ٹیکس پالیسیوں، خاص کر چھوٹے اور درمیانی کاروباروں کو نشانہ بنانے والی پالیسیوں میں مزید لچک  کے ذریعے سے مقامی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔ یہ اقدامات پاکستان کو بین الاقوامی منظر نامے پرغیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ایک مستحکم اور مقابلے کے لئے موثر میدان کے طور پر نیا مقام  دیں گے۔

پاکستان کو اپنی مقامی صنعت  پر بھی توجہ مرکوزکرنے کی ضرورت ہے تاکہ بطور برآمد کنندہ اس کا تعارف وسیع اورعالمی منڈیوں میں اس کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔۲۰۱۸ میں پاکستان عالمی مسابقتی انڈیکس ( جی سی آئی) میں ۱۴۰ ممالک کی فہرست میں ۱۰۷ویں نمبر پر تھا، یہ انڈیکس انفراسٹرکچر، آئی سی ٹی کو اپنانے، کلیاتی معاشی استحکام، لیبر مارکیٹ، مہارت، معاشی استحکام اور جدت پیدا کرنے کی صلاحیت جیسے اشاریوں کی مدد سے ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔ درجہ بندی میں کمی یہ واضح کرتی ہے کہ حکومت پاکستان کو معاشی پیداوار کو بڑھاوا دینے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ملک کا جاری توانائی کا بحران ، جس کے نتیجے میں صنعتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے،  اس کے سبب کارخانے داروں کو بنگلہ دیش جیسے ممالک میں اپنا کاروبار منتقل کرنا پڑا ہے۔ مزید براں چونکہ اس کی برآمدات کو  کم قیمت پر معیاری مصنوعات فراہم کرنے والے ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش اور چین  کے سبب ناکامی کا سامنا ہے، پاکستان کو نئے پلانٹ اور آلہ جات کی تنصیب کے ذریعے سے اپنے صنعتی حلقوں کو جدید تر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا سے انضمام میں مزید اضافہ کیا جاسکے۔ اس کیلئے پاکستان تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے تاکہ مصنوعات کی ایجاد اور مزدوری پیداوارکو بڑھاوا دیا جاسکے۔

ان مسائل میں سب سے پہلے اور بڑا سوال برآمداتی سامان کی فہرست جس میں کم قیمت  ٹیکسٹائل ، چاول، آلات جراحی، قالین، کھیلوں کا سامان اور چمڑے  سے تیار اشیاء  شامل ہیں، میں وسعت دینے میں ناکامی سے جڑا ہے، جو ادائیگیوں میں خسارے کے بعد سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستانی برآمدات کے حجم کو وسعت دینے اور ان کیلئے نئی منازل جیسا کہ مشرقی یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک کی تلاش غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن کو نئی زندگی دے سکتی ہیں۔ ملک کی اولین ترحیح سیکیورٹی ہونے کے سبب معیشت کبھی بھی پاکستانی ترجیح نہیں رہا، لیکن اب اسے جغرافیائی تزویرات کے بجائے جغرافیائی معیشت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

فی الوقت، پاکستان زرعی شعبے سے ٹیکس وصول نہیں کررہا اور بڑے کاروباروں کو اکثر ٹیکس میں بڑی چھوٹ مل جاتی ہے۔ لہذا، پاکستان کو وسیع رقبے کے حامل زمینداروں کی زرعی مصنوعات پر ٹیکس نافذ کرنے اور  بڑے کاروباروں کو ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کے ذریعے اپنی ٹیکسوں کی اساس کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے ،وصولی کے اہداف کے حصول کیلئے ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ لادنے کے بجائے مالی شفافیت کو بہتر بنانے اور قومی و صوبائی سطح پر ٹیکسوں کی وصولی میں ربط کو مضبوط بنانا ہوگا ۔  یہ اقدامات ملک میں کمزورحکومتوں کے سبب پیدا ہونے والے ان گنت مالی وخسارے کے مسائل پر لمبے عرصے کیلئے قابو پانے میں مدد دیں گے۔

نتیجہ

آنے والے مہینے موجودہ حکومت کیلئے سخت ہوں گے کیونکہ روپیے کی قیمت میں مزید گراوٹ کا امکان ہے جس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کا معاشی بحران ایک رات میں حل نہیں ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف  اور دوست ممالک جیسا کہ سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کا سہارا بکھرتی ہوئی معیشت کو محض چند سانسیں ہی فراہم کرسکے گا۔  سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول، ٹیکس اساس میں وسعت، جدت کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کرنے والی صنعتوں کو جدید بنانا، یہ ان ہنگامی اقدامات میں سے چند ایک ہیں حکومت جنہیں بڑھتے ہوئے مالی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کے معاملے سے نمٹنے کیلئے  اٹھا سکتی ہے۔ پاکستان کو، قبل اس کے کہ وہ ایک بار پھر سے خود کو قوم کیلئے معاشی قبر کھودتے ہوئے پائے، اس بمشکل ملنے والی عارضی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحیح معنوں میں مستحکم اور پائیدار معیشت کی تعمیرکرنا ہوگی۔ 

Click here to read this article in English.

Image 1: PxHere

Image 2: Arif Ali via Getty

Posted in , Economics, Economy, Pakistan, Policy, Politics

Shahroo Malik

Shahroo Malik

Shahroo Malik is currently working as a Research Associate at Institute of Strategic Studies Islamabad (ISSI). She’s a GDI Development Leadership Scholar and holds degrees in MSc International Development from University of Manchester, UK (2016) and BS (Hons) Economics from NUST, Islamabad (2014). Her research interests include Indo-Pak relations and South Asia’s economic and development issues.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *