Pakistan-1-1

پاکستان کے لیۓ ۲۰۲۲ کا آغاز بہترین طور پر اس کی پہلی  شہریوں کے مفادات اور راۓ پر مرکوز قومی سلامتی پالیسی (این۔ایس۔پی) کے اجرا کے ساتھ ہوا  جس میں انسانی سلامتی کو ملک کے حفاظتی نظام میں مرکزی مقام دینے کی ضرورت کا اعادہ کیا گیا۔ اس نئی پالیسی کے تحت،معاشی سفارتکاری پر خصوصی توجہ کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے شراکت داروں کو متنوع بناۓ گا۔ تاہم اس سال کے واقعات نے اسلام آباد کے اسٹریٹجک وژن کے حصول میں مشکلات حائل کیں اور سیاسی عدم استحکام اور مالياتی نادہندگی کے خدشات بڑھنے کے باعث امیدیں دم توڑ گئیں۔ 

اپنی ۷۵ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے حالات ایسے ہی دکھائی دے رہے ہیں جیسا کہ اس کی پہلی سالگرہ کے موقع پر تھے۔ ملک کو حکومت میں تیز تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سیاسی افراتفری کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے یوکرین پر حملہ کے موقع پر دورۂ روس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی متضاد جغرافیائی و سیاسی دھڑوں کے درمیان الجھ کر رہ گئی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے مالیاتی بحران کو جنم دیا اور غیر معمولی سیلاب کی تباہ کاریوں نے اس پر مزید بوجھ ڈالا۔ اگرچہ سال کا آغاز امید افزا تھا مگر یہ برس بہت ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ 

خان کی بے دخلی، نئی مخلوط حکومت اور اقتدار کے کھیل

اپریل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی عدم اعتماد کے ووٹ (وی۔این۔سی) کے ذریعےاقتدار سے بےدخلی کی بدولت پاکستان کی داخلی سیاست میں اتار چڑھاؤ کی کہانی کا آغاز ہوا۔ 

مارچ ۸ کو پاکستان تحریک انصاف (پی۔ٹی۔آئی) کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی (پی۔پی۔پی) اور پاکستان مسلم لیگ نواز (پی۔ایم۔ایل این) نے معیشت کی بدانتظامی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوۓ اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا آغاز کیا۔ اگرچہ پی۔ٹی۔آئی نے وی۔این۔سی سے قبل اپنی مخلوط حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے  بیک چینلز کی سہولت کاری جاری رکھی تاہم اس نے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اپنے پارٹی کارکنان پر نا منصفانہ طریقوں سے اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا، خصوصاً جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پی۔ٹی۔آئی کے ۲۴ ارکان کو اپوزیشن پارٹی کے ممبر کے گھر میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا۔ اس سے یہ بات عیاں ہوئی کہ خان اپنے اتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کھو چکے تھے۔ 

اس سال کے واقعات نے اسلام آباد کےاسٹریٹجک وژن کے حصول میں مشکلات حائل کیں اور سیاسی عدم استحکام اور مالياتی نادہندگی کے خدشات بڑھنے  کے باعث امیدیں دم توڑ گئیں۔

اس کے بعد آنے والے مہینوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ملک کو عدم استحکام کی جانب لے جانے میں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو واضح کیا۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے وی۔این۔سی پر راۓ شماری کرنے کے بجاۓ حیران کن طور پر اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ چند منٹ بعد ہی صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور پی۔ٹی۔آئی نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم پانچ دن بعد سپریم کورٹ نے اسمبلی بحال کر دی۔ غیر معمولی طور پر سپریم کورٹ اور اسلام آباد کورٹ تقریباً نصف شب کو کھولے گئے تا کہ ووٹنگ کے عمل کو شروع کرنے کا حکم دیا جا سکے۔ اس سے قبل کہ اس پر عمل درآمد کیا جاتا، وی۔این۔سی کو حرکت میں لایا گیا جس کے نتیجے میں ایک نئے وزیرِ اعظم کا تقرر ہوا۔ 

فوری طور پر خان نے اپریل میں اپنی تاریخی بے دخلی کا سبب اپنی پارٹی کی آزاد خارجہ پالیسی کو قرار دیا۔ پی۔ٹی۔آئی کے مطابق  عمران خان کے دورۂ روس کو، جو کسی پاکستانی وزیرِاعظم کا۲۳ سالوں میں پہلا دورہ تھا، مغرب نے ناپسند یدگی سے دیکھا اور یہی وجہ ان کی اقتدار  سے بے دخلی کا سبب بنی ۔ تاہم خان کی امریکہ سمیت دنیا بھر سے اچھے تعلقات کی بحالی کی خواہش کے سبب اس حالیہ عرصے میں پی۔ٹی۔آئی نے اس الزام کو دہرانے سے گریز کیا ہے۔ 

اگرچہ خان کو وفاقی عہدے  سے ہٹا دیا گیا تھا تاہم پنجاب، جو بلحاظِ آبادی سب سے بڑا صوبہ ہے اور جسے روایتی طور  پی۔ایم۔ایل این کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے، اور خیبر پختون خواہ  (کے۔پی۔کے ) میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے ۔ آئندہ انتخابات کے لیۓ حمایت حاصل کرنے کے لیۓ  پی۔ٹی۔آئی اور مخلوط حکومت بنیادی طور پر بدعنوانیوں  کے ضمن میں باقاعدگی سے ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ 

اپریل اور نومبر کے درمیان ، خان کے زیرِ قیادت پی۔ٹی۔آئی نے حقیقی آزادی اور قبل از وقت انتخابات کے حصول کیلئے میں اپنے حمایتیوں  کو متحرک کیا، جس کا ثبوت ضمنی انتخابات میں پی۔ٹی۔آئی کی انتخابی فتوحات سے ملتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں ملکی سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے تقطیب  (پولرائزیشن) کی ایسی صورتحال کی کوئی مثال نہیں ۔ پی۔ٹی۔آئی کے لاہور سے اسلام آباد  کے  لانگ مارچ کے دوران  سیاسی تناؤ میں اس وقت شدّت آ گئی جب خان وزیر آباد میں گولی کا نشانہ بنے ۔ خدشات کے باوجود خان تین ہفتوں کے بعد ایک نئے الٹی میٹم (آخری انتباہ ) کے ساتھ راولپنڈی کے جلسے میں واپس آۓ : اگر قبل از وقت انتخابات نہیں کراۓ گئے  تو پنجاب اور کے۔پی۔کے کی اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔

نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری 

اس سال کی ایک اور اہم پیش رفت نئے چیف آف آرمی اسٹاف (سی۔او۔اے۔ایس)  جنرل عاصم منیر کی تقرری تھی۔  چیف آف آرمی اسٹاف کو فوج کے بارے میں رائے عامہ بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان اور افغانستان میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا بھی سامنا ہے ۔

جنرل منیر کی تعیناتی سے توقع ہے کہ سول۔ملٹری (عام شہری اور فوج) کے مابین کشیدہ تعلقات میں بہتری آئے گی  اور فوج کے مجاز (امیج) کی تعمیرِ نو ممکن ہو گی۔ اگرچہ خان یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر قبل از وقت انتخابات نہ کرائے گئے، تو پی۔ٹی۔آئی اسمبلیاں تحلیل کر دے گی، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کا انحصار  ملک کی بااثر فوج کے  پی۔ٹی۔آئی کے ساتھ تعلقات پر  ہے ۔ اس وقت کے وزیرِاعظم خان کا وی۔ان۔سی کا سامنا کرنے کے دو دن بعد انٹر سروسز پبلک ریلیشنز  (آئی۔ایس۔پی۔آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ملک کے سیاسی معاملات میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کار قیاس کرتے ہیں کہ فوج نے خان کی برطرفی کی حمایت کرتے ہوئے سیاسی موزونیت (پولیٹیکل ایکویشن) کو شدید متاثر کیا ۔مزید بر آں زیادہ تر عوام فوج کی غیر جانب داری برقرار رکھنے کی کوششوں سے مطمئین نہیں۔ سنیارٹی کے اصول کے تحت جنرل منیر کی تقرری حکومت ِ وقت کی اپنے پسند یدہ امیدوار کو ترجیح دینے کے سابقہ طریقۂ کار کے بر عکس  ہے، جس نے ممکنہ طور پر سول۔ملٹری تعلقات میں ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے ۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے عہدہ سنبھالنے کے دو دن بعد ایک نئے ڈی۔جی۔ آئ ۔ایس۔پی۔آر کا تقرر بھی کیا ، جس سے ان کی فوج کے عوامی تاثر کی بحالی کے لیۓ ترجیح کا اظہار ہوتا ہے ۔

 چیف آف آرمی اسٹاف کے لیۓ ایک اور اہم ضرورت ٹی۔ٹی۔پی کو دوبارہ متحرک ہونے سے روکنا ہے ۔ جون میں ٹی۔ٹی۔پی نے حکومت کے ساتھ کی جانے والی جنگ بندی کو یک طرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے ملک بھر میں حملوں  سے خبر دار  کیا  اور ان دھمکیوں کو پورا بھی کیا ۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے ضلع بنوں میں ٹی۔ٹی۔پی کاروائیوں کا خاتمہ کرنے اور امریکہ کے ساتھ انسداد ِ دہشت گردی کے ممکنہ تعاون کا اشارہ دینے کے لیۓ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی ۔ اگرچہ پاکستان میں کابل مشن پر حالیہ حملے کو آئی۔ایس۔کے۔پی سے منسوب کیا گیا تاہم یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے جدا نہیں ۔ چیف آف آرمی اسٹاف کے لیۓ ایک مستقل چیلنج اندرونِ پاکستان دہشت گردی کے خطرات کو دوبارہ ابھرنے سے روکنا ہے ۔

مالی بحران سے بال بال بچنا 

نئی مخلوط حکومت کو اقتدار میں آتے ہی معیشت کو مستحکم کرنے کی ضرورت تھی ۔ تقریباً آدھے سال تک مخلوط حکومت مالیاتی نادہندگی کےخدشے سے بال بال بچتی رہی۔ جولائی ۲۰۲۲ میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر مبینہ طور پر ۷.۹ بلین امریکی ڈالرز تک گر چکے تھے۔ ایسی صورتحال میں بین الاقوامی مالياتی فنڈ (آئی۔ایم۔ایف) کی امداد کے بغیر  حکومت معاشی نادہندگی کے دہانے تک پہنچ چکی تھی۔

مخلوط حکومت کو مالی بحران سے نکلنے کے لیۓ مجبوراً  آئی۔ایم۔ایف پروگرام کی بحالی پر کام کرنا پڑا۔ اگرچہ پاکستان نے ۲۰۱۹ میں ۳۹ ماہ کے عرصے میں ۶ بلين ڈالرز کے معاہدے کے ساتھ آئی۔ایم۔ایف پروگرام میں شمولیت اختیار کی، تاہم اسلام آباد کو اب تک محض نصف فنڈز ملے ہیں۔ اس کی وجہ خان کے زیرِ قیادت سابقہ حکومت کی پروگرام کے اہداف اور شرائط کو پورا کرنے میں ناکامی کی تاریخ ہے؛ گو کہ ان کی حکومت اس طرح کی کارکردگی دکھانے والی پہلی حکومت  نہیں ہے۔ مثلاً آئی۔ایم۔ایف نے گزشتہ سال فروری میں پاکستان کے لیۓ ایک بلين ڈالرز کی ادائیگی کی منظوری دی۔ اسی ماہ کے دوران سابق وزیرِاعظم خان نے عوام کے لیۓ امدادی اقدامات کے ضمن میں ایندھن کی قیمتوں کی حد (پرائس کیپ ) مقرر کرنے کا اعلان کیا ، جو کہ پروگرام اہداف سے پیچھے ہٹنا تھا۔

قیمتوں کی حد (پرائس کیپ ) ختم کرنے جیسے سخت فیصلوں پر  عمل کر کے ہی پاکستان مالياتی نادہندگی سے بال بال بچا ۔اگرچہ افراطِ زر کی شرح ستّر سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے ۱۴ فیصد تک پہنچ گئی تاہم اگست میں ایک بلين ڈالرز کا  بیل آؤٹ نادہندگی کے فوری خدشے کو دور کرنے میں کامیاب رہا۔ مگر پاکستان ابھی مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں نکلا ۔اس طرح کی مالياتی غیر یقینی صورت حال میں ایک بات پھر بھی واضح ہے :۲۰۲۳ میں افراطِ زر مزید بڑھے گا، جس سے شہریوں کے لیۓ آسانی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

مون سون کی تباہی :  سیلاب کی بربادی

جولائی اور اگست میں آنے والے غیر معمولی سیلاب کی تباہ کاریوں نے پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کو شدید دھچکا دیا۔عالمی بینک کے مطابق سیلاب کی وجہ سے انفرا سٹرکچر کو ہونے والے نقصان اور اس کے نتیجے میں ہونے والا آمدنی کا خسارہ کُل ملا کر ۳۰ بلين ڈالرز ہے۔ مزید برآں پاکستان کی ۴۵ فیصد زرعی زمین بارش کے پانی میں ڈوب گئی تھی ۔ نقصان کا دائرہ صرف معاشی اثرات تک ہی محدود نہ تھا بلکہ جانوں کے ضیاع  اور وسیع  پیمانے پر نقل مکانی تک بھی پہنچا۔ اس سال مون سون کی بارشیں پچھلے  سالوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہوئیں۔ قابلِ  ذکر امر  یہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں بہت زیادہ بارشیں ہوئیں، جو ایسے صوبے ہیں جہاں مون سون کی بارشیں  شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اس پیمانے کے سیلاب سے مناسب طور پر نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے (انفرا سٹرکچر) کا فقدان ہے۔

سامنے آتے ہوئے دہشت گرد  حملوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی  تبدیلی بھی  ملک  کی سلامتی کے لیۓ خطرے کا باعث بن رہی ہے  اور اب اسے کسی طور  نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 

سیلاب سے ہونے والی تباہی نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی بد حالی کو مزید اجاگر کیا ۔ اگرچہ قیادت نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو تسلیم کیا،  جیسا کہ این۔ایس۔پی میں دیکھا گیا، تاہم روایتی سیکیورٹی  خطرات کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلی کے  خطرے کی حد اور  پیمانے پر محدود اتفاق رائے نظر آتا ہے۔  اسلام آباد نے ہمیشہ کی طرح کافی نقصان کے بعد ہی بحران کی شدّت کا اعتراف  کیا۔

آنے والے خلفشار  سے  نمٹنے  کا انتظام 

موجودہ سال کو ورثے میں سیاسی خلفشار اور معاشی عدم استحکام  کا بڑا حصہ ملے گا، جو کہ سال ۲۰۲۲ کا خاصہ رہا ہے۔ اگرچہ خان نے الٹی میٹم (آخری انتباہ ) جاری کر دیا ہے تاہم یہ حکومت پر  قبل از وقت انتخابات کے انعقاد  کے لیۓ دباؤ ڈالنے کے لیۓ مذاکرات کا آخری حربہ ہو سکتا ہے کیونکہ  انکی فوج کے خلاف اشتعال انگیز  بیان بازی نے انہیں طاقت کے روایتی مرکز سے علیحدہ کر دیا ہے۔ تاہم اس امکان کے پورا نہ ہونے کی صورت میں آنے والے مہینوں میں مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا۔ 

پاکستان کو  اپنے طویل المدتی  استحکام کے لیۓ سیاست کے ساتھ ساتھ  اپنے معاشی ماڈل کا بھی از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مالياتی اداروں پر انحصار  کی جگہ برآمدات کے باعث ہونے والی ترقی کو لے لینی چاہئے۔ اس کے حصول کیلئے پاکستان کے معاشی نقطۀ نظر کا دائرۂ کار  ٹیکنالوجی جیسے غیر روایتی شعبوں تک پھیلانا چاہیۓ ۔ 

ابھرتے دہشت گرد  حملوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی بھی ملک کی سلامتی کے لیۓ خطرے کا باعث بن رہی ہے  اور اب اسے کسی طور  نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ حکومت اندرونی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیۓ بندوبست کرتی ہے تاہم اسے علاقائی تعاون کے فریم ورک پر بھی کام کرنا چاہیۓ ۔ گزشتہ سال پاکستان اور اس کے عوام  کی اپنی بقاء اور پھلنے پھولنے کے لیۓ خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لینے کا مظہر ہے ۔ بدقسمتی  سے آنے والے سال میں بھی ایسے ہی حالات نظر آتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Arif Ali/AFP via Getty

Image 2: Abdul Basit/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ Hindi & Urdu

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال…

بنگلہ دیش ۲۰۲۳ : ہلچل کا سال اور منڈلاتی  ہوئی مزید بےیقینی Hindi & Urdu

بنگلہ دیش ۲۰۲۳ : ہلچل کا سال اور منڈلاتی  ہوئی مزید بےیقینی

 جنوری ۷، ۲۰۲۴ کو ہونے والے عام انتخابات کے پیش…

پاکستان ۲۰۲۳ میں: معاشی بے چینی، سیاسی انتشار اور سلامتی سے جڑی آزمائشوں کا ایک اور سال Hindi & Urdu