کیا پاکستان امریکا تعلقات بہتری کی جانب جائیں گے؟ شاید اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں کچھ وقت مزید انتظار کرنا پڑے گا، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ میں واقعہ ہونے والے حالات و واقعات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت تبدیلی اور بہتری کے امکان کا اشارہ دے رہے ہیں۔

اکتوبر ۱۳ ۲۰۱۷ کو پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان جاری کیا کہ پاک فوج نے کامیاب آپریشن کرکے کینیڈین – امریکن خاندان “خاتون کیٹیلین کولمین ،شوہر جوشوا بوائلے اور ان کے تین بچوں” کو طالبان کی قید سے بازیاب کروالیا ہے، جن کو ۲۰۱۲ میں طالبان نے افغانستان سے اغوا کیا تھا۔ پاکستانی فورسسز کی دہشتگردوں کے خلاف اس کامیاب کارروائی  کی تعریف کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ پاک امریکا تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ دوسری جانب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹیلرسن نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی پاکستان امریکا کے ساتھ اپنا تعاون اسی طرح جاری رکھے گا۔

یہ واقعہ بلاشبہ پاک امریکا تعلقات میں جاری جمود کو کافی حد تک ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ لیکن یہ کہنا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا قبل از وقت ہوگا۔ پچھلے چند ماہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہت زیادہ اتار چڑھاوٴ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں پاکستان پر دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام لگایا جسے پاکستان نے سختی کے ساتھ مسترد کیا۔ حتیٰ کے اسی سال جولائی میں امریکا نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دی جانے ۳۵۰ ملین ڈالر کی امداد بھی روک دی، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے  تعلقات مزید سرد مہری کا شکار ہوگئے۔

پاک امریکا تعلقات میں تناوٴ میں کمی لانے میں اس وقت مدد ملی جب پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے اپنے دورہِ امریکہ میں ٹرمپ ایڈمینسٹریشن کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور تھنک ٹینکس میں پاکساتنی پالیسی کو ازسرنو دہرایا ۔ اس دوران انہوں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا دونوں ممالک کے تلعقات  کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی وزیرخارجہ نے دوٹوک الفاظ میں امریکا کی نئ افغان پالیسی اور بھارت کے افغانستان میں بڑھتے کردار پر پاکستان کے شدید تحفاظات کا بھی اظہار کیا۔ پاکستان شروع سے افغانستان میں نئی دہلی کی بڑھتی دلچسپی پر مختلف فورمز میں اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔ پاکستان کو تشویش ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان میں دہشتگرد کارروائیوں کو ہوا دے سکتا ہے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان اور امریکا افغان ایشو کو مشترکہ مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کے پائیدار حل کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر دونوں ممالک کے تحفظات ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان مسئلے کے پائیدار حل کے لئے ہمسایہ ممالک چین اور روس بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں لیکن اس کے برعکس امریکا چین اور روس کے افغانستان میں قیام امن کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ امریکا اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارتی کردار پر زیادہ زور دے رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں بھارت کے بڑھتے کردار اور امریکی جھکاوٴ پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں پاک امریکا تعلقات کی سمت کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن یہ بات یقیناً غور طلب ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات نہ صرف افغانستان میں قیام امن کے لئے بلکہ جنوبی ایشیاء کی سلامتی اور استحکام کے لئے بھی بہت ضروری ہیں۔ ماضی میں بھی پاک امریکا تلعقات میں تناوٴکا فائدہ صرف ان عناصر کو ہوا ہے جو خطے میں امن کے دشمن ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ، جو کہ ایک اہم موڑ اختیار کرچکی ہے، میں امریکا کا تعاون بہت اہمیت کا حامل ہے۔ حالیہ امریکا اور پاکستان کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ اور جواب میں پاکستانی فورسسز کی بروقت اور کامیاب کارروائی دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کی بناء پر ہی ممکن ہوئی ۔ پاک امریکا تعلقات میں یہ بہتری بلخصوص افغانستان میں دیرپا امن اور جنوبی ایشیاء کی سلامتی کےلئے پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ پاک امریکا تعلقات کی بہتری اسی میں ہے کہ دنوں ممالک ایک دوسرے کے تحفاظات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان تحفظات کے حل کے لئے اعلیٰ سطح پر لائحہ عمل تشکیل دیں۔  لہٰذا اب یہ دونوں ممالک کے حکمرانوں پر منحصر ہے کہ وہ ان تعلقات کو مثبت سمت لے کر چلیں جس پر پورے خطے کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے.

***

Image 1: U.S. Embassy Pakistan via Flickr

Image 2: USAID Pakistan via Flickr

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…