Pakistan-Military-Swat-1600×900-1-1536×864

کرنل (ریٹائرڈ) ڈیوڈ او اسمتھ اپنی کتاب ”دی کوئٹہ ایکسپیریئنس: اے اسٹڈی آف ایٹی چیوڈز اینڈ ویلیوز ود ان پاکستانز آرمی“ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں ۱۹۷۷-۲۰۱۴ کے درمیان تربیت پانے والے پاکستان آرمی کے افسروں کے خیالات میں ارتقا (اور تسلسل) پر ایک جامع تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ ۳۷ برس پر محیط یہ تحقیق کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کی تین مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی افسران کے نقطہ نگاہ (جن میں سینیئر افسران، سینیئر مڈ لیول اور جونیئر مڈ لیول افسران شامل ہیں) نیز اس عرصے کے دوران اسٹاف کورس میں حصہ لینے والے امریکی فوج کے  فارن ایریا آفیسرز (ایف اے اوز) کے تجربات کا احاطہ کرتی ہے۔

کتاب کے اہم ترین پالیسی سے متعلقہ حصوں میں اسمتھ کے وہ تجزیے شامل ہیں جو انہوں نے پاکستانی افواج کے نظریات پر کیے۔ اس کے لیے جن چار شعبوں میں نقطہ نگاہ کی کھوج کی گئی تھی ان میں 1) بیرونی خطرات اور دوستیوں کے بارے میں نقطہ نگاہ، 2) داخلی سلامتی کو لاحق خطرات پر نقطہ نگاہ، 3) ریاست اور اس کے اداروں پر رائے، اور 4) جوہری ہتھیاروں پر رائے شامل ہیں۔ تاہم یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ یہ معلومات ایف اے اوز کے ذاتی تجربات سے کشید کی گئی ہیں اور متعدد وجوہات کی بنا پر یہ قابل بحث ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ  مقامی زبانوں اور ثقافت سے واقفیت کے درجوں  میں فرق ایف اے اوز کی قابل بھروسہ معلومات بھانپ لینے کی صلاحیت میں فرق پیدا کرتا ہے۔ دوئم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایف اے اوز کو اسٹاف کالج میں اپنی مدت کے دوران کس قدر رسائی حاصل تھی۔ یہ راز کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سلامتی ادارے اکثر فقط وہی معلومات آشکار کرتے ہیں جو کہ وہ ”غیرملکیوں“ کو بتانا اور دکھانا چاہتے ہیں۔

ان خدشات کے باوجود بھی، اسمتھ نے ایف اے اوز کی آراء کے وسیع مجموعے کو یکجا کرنے اور ماہرین کی آراء کے ہمراہ انہیں ملا کے اپنی تحقیق کے نتائج مرتب کرنے میں قابل تعریف کام کیا ہے۔ اسمتھ  کم و بیش گزشتہ چار دہائیوں پر مشتمل پاکستان کی تزویراتی حرکیات کا ایک مختصر مگر جامع جائزہ پیش کرتے ہیں اور آخر میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ”اس تحقیق کے ۳۷ برسوں میں (پاکستان کی) فوج کے نقطہ نگاہ اور اقدار میں معمولی تبدیلی آئی ہے اور یہ توقع کرنے کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں کہ یہ مستقبل میں نمایاں تبدیل ہوگی، اور آئندہ دہائی میں تو یقیناً نہیں ہوگی۔“ یہ نتیجہ برقرار رہتا ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم اسمتھ کی کاوش کے بعد ہونے والے واقعات یہ تجویز کرتے ہیں کہ عوامی بیانیے میں کلیدی لمحات یا اہم تبدیلیوں کی گونج سخت سے سخت ترین اداروں میں بھی سنی جاسکتی ہے۔

پاکستانی فوج میں تسلسل پر مبنی نکات نیز ممکنہ اختلافات یا نقطہ نگاہ میں تبدیلی کا ذیل میں جائزہ لیا گیا ہے۔

بیرونی خطرات اور دوستیوں کے بارے میں نقطہ نگاہ

خطرات کے ضمن میں پاکستانی نقطہ نگاہ کے حوالے سے موجود عام مفروضوں کے برعکس اسمتھ کی یہ معلومات حیران کن ہے کہ اندرونی و بیرونی خطرات  میں ترجیح کے معاملے پر نوجوان فوجی افسران کے  نقطہ نگاہ میں قابل ذکر حد تک تبدیلی آئی ہے۔ اسمتھ  کی دلیل ہے کہ بہت سے ”حالیہ طلبہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان پر توجہ مرکوز رکھنے والے عسکری گروہ پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہیں اور یہ اس سے بڑا خطرہ ہے جو بھارت کی جانب سے لاحق ہے۔“ نیز وہ بھارت سے لاحق خطرے کی حیثیت پر نقطہ نگاہ میں نسلوں کے درمیان آنے والی تفریق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے موقف کے مطابق وہ نوجوان افسران جو سوات اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں عسکریت پسندوں کیخلاف لڑائی میں اپنے دوست اور سپاہی کھو چکے ہیں، بھارتی خطرے کی حیثیت پر دوسروں سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ افسران ”حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ امن کے لیے بھی زیادہ آسانی سے آمادہ ہوسکتے ہیں۔“

گزشتہ ایک عشرے کے دوران فوج میں اندرونی خطرات کی حیثیت کا بلاشبہ بڑی حد تک اعتراف کیا گیا ہے۔ تاہم اندرونی اور بیرونی سلامتی کو لاحق خطرات  کے بارے میں فوج کا موقف دو خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے۔ اندرونی خطرات خاص کر عسکریت سے متعلقہ خطرات کو بیرونی خطرات بالخصوص بھارت سے خطرات کا ہی تسلسل سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور جگہ اسمتھ نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ بلوچستان میں شورش کے لیے بالعموم بھارت کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔  ریاست اور ریاستی اداروں کو درپیش ہر چیلنج پر یہ وضاحت اس حد تک فراخدلی سے نافذ کی جاتی ہے کہ حتیٰ کہ اختلاف رائے رکھنے والی آوازوں پر بھی بھارتی ایماء پر کام کرنے کا الزام وارد کیا جاتا ہے۔

یقیناً اس رجحان کی کلی وجہ بھارت کے ساتھ روایتی طور پر معاندانہ تعلقات نہیں ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ہمراہ غیرمعمولی تنازعات کے حل کے لیے پرخلوص امن کیلیے کوششوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس کے پس پردہ معاشی کیفیت کو بہتر بنانے پر مبنی پاکستان کا ذاتی مفاد تھا جو کہ اس حد تک تباہی کا شکار ہوچکی ہے  کہ اب بھارت کے ہمراہ معاندانہ تعلقات کو برقرار رکھنا ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔ تاہم بھارت میں داخلی سیاسی صورتحال اور ۲۰۱۹ میں کشمیر کے معاملے پر بھارت کی پالیسی میں تبدیلی نے پاکستان میں حکومت کے لیے زیادہ امکانات باقی نہیں رہنے دیے ہیں۔ ان حالات میں اس بیانیے کا ایک بار پھر سراٹھانا کہ پاکستان سے بھارت کو لاحق خطرہ بدستور موجود ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ سینیئر افسروں کی نئی جماعت کے ساتھ بھی تعاون کے موقع محدود ہوسکتے ہیں۔

امریکہ اور چین کے ساتھ دوستی

پاکستان کی بیرون ملک دوستیوں کے بارے میں اسمتھ اپنے تجزیے کا آغاز امریکہ پاکستان تعلقات کے جائزے سے کرتے ہیں، جس میں وہ امریکہ پر پاکستان کی رائے میں زوال کو محسوس کرتے ہیں کہ جو  دوست سے ایک ناقابل بھروسہ شراکت دار اور بلآخر ایک خطرے کا روپ دھار چکا ہے۔ اسمتھ اگرچہ بڑی حد تک امریکی ایف اے اوز کے بیان کردہ نقطہ نگاہ پر انحصار کرتے ہیں تاہم ان کا بیان بھی  پاک امریکہ تعلقات میں اہم لمحات سے مطابقت رکھتا ہے۔

۱۹۵۰ اور ۶۰ کی دہائی دو طرفہ اور کثیرالفریقی معاہدوں کے تحت پاک امریکہ تعلقات کے پھلنے پھولنے کی گواہ ہے، وہیں ۱۹۶۵ اور ۱۹۷۱ کی پاک بھارت جنگوں نے پاکستانیوں کے لیے کچھ تلخیاں چھوڑیں جن میں بہت سے یہ شکوہ کناں نظرآئے کہ امریکہ نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ناقابل بھروسہ شراکت دار ہے۔ سرد جنگ کے بعد یہ نقطہ نگاہ تب زور پکڑ گیا جب امریکہ نے افغانستان میں سابقہ سویت یونین کیخلاف پاکستان کے ایک دہائی تک جاری خفیہ تعاون کے بعد اس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ۹/۱۱ نے پاک امریکہ تعلقات کی حرکیات ایک بار پھر تبدیل کردیں اور پاکستان ایک اہم غیر نیٹو اتحادی بن گیا۔ مگر پاکستان کی جانب سے  یہ تعلقات، محسوس کی گئی تزویراتی مجبوریوں کا نتیجہ زیادہ تھے اور اعتماد کے فقدان کا سلسلہ بدستور رہا۔ اسی اثناء میں ۲۰۰۴ کے امریکہ بھارت فریم ورک برائے تزویراتی شراکت داری اور ۲۰۰۸ کے سول جوہری تعاون کے معاہدے نے حتیٰ کہ پاک امریکہ تعاون کے حامیوں میں بھی بے چینی پیدا کردی۔ آخر کار ۲۰۱۱ دوطرفہ تعلقات کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کیلئے چھاپہ اور بعد ازاں سلالہ واقعے نے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے حوالے سے سنگین شکایات کو جنم دیا۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت و سلامتی کے حوالے سے امریکی تشویش نے بھی پاکستانی حکام کو امریکی منصوبوں کے ضمن میں شک میں ڈال دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ امریکہ کے بارے میں ناقابل بھروسہ شراکت دار پر مبنی تاثر تبدیل ہوکے خطرے کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اس کے باوجود پاکستان نے افغان امن عمل میں امریکہ کے ہمراہ تعاون کیا نیز متعدد عوامل امریکہ کو پاکستان کی عسکری اور سیاسی اشرافیہ کے حساب کتاب میں اہم عنصر کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی پہلی وجہ امریکہ کی بطور عالمی قوت حیثیت اور نتیجتاً جنوبی ایشیا میں امن و جنگ کی حرکیات پر اس کی اثرانداز ہونے کی قوت ہے۔ دوئم، گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کی عسکری و معاشی معاونت پاکستان میں فیصلہ سازی میں شامل اشرافیہ کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان کی قیادت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ جو کہ امریکہ کے بے حد زیراثر ہے، اس پر انحصار کی وجہ سے خود کو بے بس پاتی ہے۔ آخر میں یہ کہ مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والی پاکستان کی عسکری اور سیاسی اشرافیہ  قدرتی طور پر امریکہ کی جانب کشش محسوس کرتی ہے۔ اسمتھ کا نتیجہ درست ہے کہ دونوں فریقوں میں دکھائی دینے والے تناؤ کے باوجود ”فوج کی قیادت بدستور معتدل مزاجوں کے ہاتھوں جاری رہے گی جو کہ پاک امریکہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔“ البتہ یہ سوال اہم ہے کہ امریکہ خطے میں اپنے اہداف کیسے پورا کرے گا کیونکہ پھر پاکستان اپنا ردعمل اسی مناسبت سے ترتیب دے گا۔

پاک چین تعلقات پر اپنے مختصر سے بیان میں اسمتھ نے دو موقعوں پر پاک امریکہ تعلقات میں زوال اور پاک چین تعلقات میں عروج کے مابین ربط پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ موقعے پریسلر پابندیوں  کے دوران اور بعدازاں ۲۰۱۱ میں آئے۔ اسٹاف کالج میں پائے گئے رجحانات جنہیں اسمتھ بطور ثبوت پیش کرتے ہیں، ان کے علاوہ پاک چین تعلقات پر اینڈریو اسمال کا بیان یہ انکشاف کرتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان مضبوط تعلقات سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جاری رہے۔ مثال کے طور پر اسمال دعویٰ کرتے ہیں کہ ۲۰۰۷ کے لال مسجد بحران کے دوران چین پاکستان پر بے حد دباؤ ڈالتا رہا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی دوستی کی یہ نوعیت حتیٰ کہ ۲۰۱۱ کے پاک امریکہ تعلقات میں شدید تناؤ کے دور سے قبل بھی موجود تھی۔

اسمتھ یہ درست طور پر محسوس کرتے ہیں کہ فوجی افسران چینی ہتھیاروں پر مغربی عسکری سازو سامان کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ رائے درست ہوسکتی ہے لیکن پاکستان میں چین کے لئے زیادہ قابل بھروسہ معاشی و عسکری شراکت دار کے طور پر بھی واضح قبولیت موجود ہے۔  پاکستان میں سیاسی و عسکری اشرافیہ چین کے ہمراہ ثقافتی اعتبار سے زیادہ ربط نہیں پاتے ہیں تاہم یہ اعتراف واضح دکھائی دیتا ہے کہ  چین نے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز بشمول ٹیلی کمیونیکیشنز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس نمایاں ترقی کی ہے۔ پاک فوج اور پی ایل اے کے درمیان بڑھتے روابط کے اس امر پر بھی اثرات ہوسکتے ہیں کہ پاکستانی افسر چین کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مزید براں عالمی سیاست میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ عوامل پاکستان سمیت بہت سوں کے لیے چین کو من چاہا شراکت دار بنا دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کے  پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد کی چینی اہلیت اور اس کی آمادگی نے اس تاثر کو تقویت بخشی ہے کہ چین ایک قابل بھروسہ دوست ہے۔

ریاست اوراس کے اداروں کے بارے میں نقطہ نگاہ

دیگر شعبوں میں تاثرات کی طرح اسمتھ نے ریاست اور اس کے اداروں کے بارے میں بھی رائے میں نمایاں تسلسل پایا ہے۔ وہ درست طور پر یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ”اسٹاف کالج کے طلباء نظریاتی طور پر جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر سویلین سیاسی اداروں کے شدید نقاد ہیں۔“ بعد ازاں اسمتھ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ”سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کے لیے فوج کی شدید نفرت کو دیکھتے ہوئے عسکری حکومت کی جانب واپسی کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔“ اسمتھ مستقبل میں بھی فوج میں کسی قسم کی تقسیم بھی نہیں دیکھتے ہیں اور فوج میں اس اتحاد کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے  کے سر سہرا باندھتے ہیں جو اپنے اراکین کو بے مثال فوائد دیتا ہے۔ اس اتحاد پر اسمتھ کا یہ مشاہدہ بھی درست ہے کہ نوجوان افسروں کا پیشہ وارانہ مستقبل ادارے کے بیانیے اور اس کی اقدار سے وفاداری پر منحصر ہوتا ہے جو کہ تنقیدی سوچ اور اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی شخص  کے لیے ایک سے دوسری نسل میں آتی تبدیلی کے نتائج جو ابھی دھندلے ہیں ان کا قبل از وقت مشاہدہ ممکن نہیں۔ آج کے نوجوان افسران سوشل میڈیا کے دور میں پروان چڑھتی نسل کا حصہ ہیں جو کہ گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں باقی کی دنیا کے ساتھ زیادہ گہرائی سے جڑی ہے۔ یہ کہنے کا مقصد سوشل میڈیا کی بدولت ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے امیدوں کو بڑھانا چڑھانا نہیں ہے بلکہ امکانات کی نشاندہی کرنا ہے۔

اسمتھ کی تحقیق جو کہ ۲۰۱۴ میں مکمل ہوئی تھی، ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے احاطے سے بھی قاصر رہی ہے۔ اس ضمن میں دو بڑی تبدیلیاں قابل ذکر ہیں۔ سب سے پہلی تو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جھنڈے تلے خیبرپختونخواہ میں ابھرنے والی امن کی بھرپور تحریک ہے۔ دوئم، پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کی صورت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا حال ہی  میں تشکیل پانے والا اتحاد ہے۔  پی ٹی ایم اور پی ڈی ایم دونوں نے فوج کے کردار کو طاقت کا ناجائز استعمال قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔ پی ٹی ایم پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی پر سوال اٹھاتی ہے جبکہ پی ڈی ایم فوج کے سیاست میں کردار کیخلاف ہے۔

یہ مشکل ہی ہے کہ فوج کے کردار پر اس قدر بڑے پیمانے پر ہونے والی تنقید نوجوان افسران کی نظروں سے نہ گزرے۔ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ ان پر کیسے اثرڈالتی ہے۔ اعلیٰ قیادت ہر وہ ممکنہ اقدام اٹھائے گی جو قومی سلامتی پر ادارہ جاتی بیانیے اوراس تاثر کو تقویت بخش سکے کہ سویلین اداروں کی ناکامی کی صورت میں ہی فوج آخری چارے کے طور پر  سیاست میں مداخلت کرتی ہے۔ باوجود  اس یگانگت و تسلسل کے جس کی اسمتھ نے پاکستان کی مسلح افواج میں شناخت کی ہے، سیاست میں فوج کے کردار پر عوام کی غیرمعمولی تنقید ادارے کے تشخص کے بارے میں غیریقینی کیفیت پیدا کرسکتی ہے۔

جوہری امور پر نقطہ نگاہ

اسمتھ کی تحقیق یہ آشکار کرتی ہے کہ گزشتہ دو دہائی کے دوران اسٹاف کالج میں پڑھائے جانے والے نصاب یا گفتگو میں جوہری امور پر مواد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ زیادہ تر افسران یہ فرض کرتے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے قبل ہی ختم ہوجائے گی۔ اسمتھ کا دعویٰ ہے کہ کالج میں موجود طلبا جوہری جنگ سے متعلقہ امور سے زیادہ باخبر نہیں اور وہ مزید لکھتے ہیں کہ ”جوہری ہتھیاروں کے تزویراتی اور ٹیکٹیکل استعمال کو زیادہ اچھی طرح نہیں سمجھا گیا ہے اور اسٹاف کالج میں جنگ لڑنے کے بارے میں کوئی ڈاکٹرائن نہیں پڑھایا جاتا ہے۔“

فرسودہ نصاب، مشترکہ قوت کے ساتھ جنگ لڑنے کیلئے موثر ڈاکٹرائن کی کمی اور پاکستان اور بھارت کے روایتی عسکری توازن میں بگاڑ پر مبنی اپنے مشاہدوں کے برعکس اسمتھ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ مستقبل میں کسی جنگ کی صورت میں پاکستان شکست سے بچنے کے لیے اسے جوہری سطح تک لے جانے پر مجبور ہوگا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی بحران کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے جلد استعمال کا امکان موجود ہے تو ایسے میں اسٹاف کالج کا نصاب جوہری لڑائی کے لیے آپریشنل تربیت کو نظرانداز کیوں کرے گا؟ مزید یہ کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو بالاکوٹ بحران کے تناظر میں پاکستان کے تحمل کو بیان کرتے ہیں؟ مقصد یہ تجویز کرنا ہرگز نہیں کہ فوج بحران میں جلد یا بدیر جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور نہیں کرے گی۔ معلومات کی موجودہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ پاکستان  کی اصل جوہری حکمت عملی اور جنگ لڑنے کی صلاحیتوں کے بارے میں ٹھوس جوابات کی عدم موجودگی میں ممکنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ  قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے۔

حاصل کلام

کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے نظم اور ڈھانچے نیز نوجوان افسروں کی اقدار اور نقطہ نگاہ کے بارے میں اسمتھ کا بیان بصیرت آموز اور فوج کی ادارہ جاتی ثقافت و اخلاقیات کے بارے میں فائدہ مند جھلک پیش کرتا ہے۔  پاک فوج پر اسمتھ کا تجزیہ آنے والے برسوں میں بھی متعلقہ رہنے کا امکان ہے۔ تاہم پاکستان اور جغرافیائی سیاسی ماحول میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ تحقیق قارئین کو چھان بین اور نتائج کی جانب علیحدہ علیحدہ متوجہ کرنے میں بے حد کارآمد ہوگی۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Al Jazeera English via Wikimedia Commons

Image 2: Wakil Kohsar/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…

ادارہ جاتی نقطہ نگاہ اور خارجہ پالیسی: کوئٹہ ایکسپیریئنس کا ایک جائزہ Hindi & Urdu

ادارہ جاتی نقطہ نگاہ اور خارجہ پالیسی: کوئٹہ ایکسپیریئنس کا ایک جائزہ

جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست کے مشاہدہ کاروں کے لیے پاک…