پلوامہ بحران میں خلیجی ثالثی : بھیڑ چال کا عمل


فروری ۲۰۱۹ میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہونے والا خودکش حملہ جس نے  کم از کم ۴۰ پیراملٹری کے جوانوں کی جان لی تھی، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے خدشات کے ساتھ ساتھ ایک اور کشیدگی کی لہر کا باعث بنا۔ یہ واقعہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ ایشیاکے وقت ہوا،  دورے کے پہلے حصے میں اسی ہفتے ان کی پاکستان آمد طے تھی۔ ریاض میں ایک وقفے کے بعد، شاہ سلمان کا مشرقی خطے کے کلیدی دورے میں دوسرا پڑاؤ بھارت میں تھا۔ بھارتی جارحیت کے بعد، پاکستان کی جانب سے جوابی ردعمل دیا گیا جس کا نتیجہ بھارتی فضائیہ کے دو طیارے گرائے جانے کی صورت میں  سامنے آیا۔ (طیارے سے) کود جانے والے ہواباز کو بعد ازاں جذبہ خیرسگالی کے تحت دہلی کوواپس کردیا گیا۔ محمد بن سلمان کے دونوں ممالک کے دورے کے دوران سعودی حکام نے پلوامہ واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ اس واقعے کے بارے میں واحد بلواسطہ تذکرہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں تھا، جہاں انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنی اپنی عوام کو ذہن میں رکھتے ہوئے معاملات کو طے کریں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اگرچہ دیر سے ہوئیں، تاہم ثالثی کی کوششوں کے لئے بھیڑ چال کا شکار ہونے کی وجہ برصغیر میں ان کے مفوضہ مفادات اورعلاقائی  طاقت کی حرکیات ہیں۔

کیا ہوا تھا؟

جوں ہی بھارت پاکستان کے بیچ تناؤ انتہائی حدوں کو چھونے لگا اور جوہری حملے کا خطرہ منڈلانے لگا بہت سے ممالک ثالثی کیلئے میدان میں کود پڑے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اگرچہ کسی حد تک دیر کی تاہم وہ بھی شامل تھے۔ عادل الجبیر مارچ کے ابتدائی ہفتے میں “ولی عہد کے خصوصی پیغام” کولےکر  پاکستان اور بھارت کے ایک روزہ دورے پر آئے اور یو اے ای کے سفیر احمد البناء نے دونوں فریقوں کو فون پر ” حکمت کی باتیں” بتائیں، ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے یو اے ای کے دونوں ممالک سے “خصوصی تعلقات” کو بنیاد بناتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ایک انٹرویو کے دوران، پاکستان کے وزیر اطلاعات نے بیان دیا تھا کہ ریاض اور ابو ظبی کے ولی عہد نے تناؤ کم کرنے میں اہم کردار کیا اور دیگر ممالک کو بھی ملتے جلتے اقدامات کیلئے راغب کیا۔ سعودی وزیرخارجہ کے بطورخاص دونوں ممالک کے دوروں کی وجہ سے سعودی ردعمل کو جہاں متحرک سمجھا جاسکتا ہے، وہیں مقابلاً  یو اے ای کا ردعمل خاموش تھا۔ تناؤ میں دھیمے پن کو براہ راست خلیجی ممالک کی ثالثی سے تو نہیں جوڑا جاسکتا ہے، لیکن بہرحال اس کے اثرات مرتب ہوئے کیونکہ اسکے بعد پلوامہ واقعے کے بارے میں بیانات کی شدت میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔

سعودی عرب اور یواے ای نے ثالثی کے معاملے میں ترکی جیسے ممالک کے مقابلے میں اگرچہ بہت دیر سے اور محتاط رویہ اپنایا، ان کی کوششیں نمایاں طور پرزیادہ متحرک تھیں۔ جہاں چین اور امریکہ جیسے ممالک نے محض بیانات دیئے، سعودی عرب واحد ملک تھا جس کے اعلیٰ سطحی افسرنے تناؤ میں کمی میں مدد دی۔ یہ واضح طور پر اس اہمیت کا عکاس ہے جو سعودی عرب دونوں ممالک کے درمیان امن کو دیتا ہے اور جو دونوں ریاستوں میں سعودی سرمایہ کاری کے سبب ہے۔ 

ثالثی کی دلیل: معاشی اور تزویراتی مجبوریاں

سعودی عرب اور یو اے ای ثالثی کیلئے کیوں کودے؟

معاشی مفادات

اس کا نمایاں ترین جواب یہ ہے کہ خلیجی ممالک کے بھارت اور پاکستان میں طے شدہ معاشی مفادات ہیں۔ یو اے ای کے دونوں ممالک سے تعلقات روایتی طور پر معیشت سے جڑے ہیں، جبکہ سعودی عرب، پاکستان کے تعلقات عمومی طور پر ریاض اور اسلام آباد کی قیادتوں کے درمیان قربت کے تعلقات طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ سعودی بھارتی تعلقات بھی زیادہ تر معاشی شراکت داری کے امکانات کی بنیاد پر ہیں، جیسا کہ سعودی عرب بھارت کا چوتھا بڑا تجارتی شراکتدار ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں پہلی بار دونوں ممالک نے خطے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس میں یو اے ای کی جانب سے ۲۰۱۹  میں پاکستان کیلئے ۲.۶ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا عہد شامل ہے۔ اسی طرح سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت میں بالترتیب ۲۰ارب ڈالر اور ۱۰۰ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کی گئی ہے۔

ریاض اور ابوظبی کے میدان میں کود کے کشیدگی کو کچلنے کی ایک اور وجہ تیل ہے، جس کی دونوں ممالک کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی چلانے کیلئے شدید ضرورت ہے۔ بھارت جو پہلے ہی دنیا میں تیل کا تیسرا بڑا صارف ہے، سال ۲۰۲۴ تک تیل کی طلب کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ دے گا، اور ایران پر امریکی پابندیوں کے سبب بھارت کو اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے خلیج اوردیگر جانب تیزی سے دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ۲۰۱۸ میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ بھارت میں پیٹروکیمیکل  کمپلیکس کے قیام کے سلسلے میں سعودی آرام کو، ابو ظبی نیشنل آئل کمپنی کا ساتھ دے گی۔

دوسری جانب پاکستان سالانہ ۱۶ارب ڈالر سے زائد رقم خام تیل کی درآمدات پر خرچ کرتا ہے، جو کہ ۲ کروڑ۶۰ لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ گوادر بندرگاہ پرتیل صاف کرنے کے کارخانے اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے قیام میں سعودی سرمایہ کاری پاکستان کیلیئے سعودی تیل کی درآمد کو مزیدسستا کردے گی، جس سے پاکستان کو اندازاً سالانہ ۳ ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ لہذا سعودی اور یو اے ای کی تنازعے میں ثالثی کو تیل فراہمی کیلئے ایک منڈی کی سلامتی کی اہمیت سے جوڑا جاسکتا ہے کیونکہ عالمی سطح پراس جنس کی طلب میں کمی بیشی آتی رہتی ہے اور جنوبی ایشیا مناسب ترین منڈی ہے۔

تزویراتی مفادات

تیسری وجہ یہ ہے کہ فروری کے بحران میں ریاض نے ممکنہ طور پر اپنے علاقائی تشخص کو مضبوط بنانے اور ایران کو تنہا کرنے کی ضرورت پر غور کیا۔ بھارت اور پاکستان سے انفرادی طور پر سعودی عرب کے دو طرفہ مثبت تعلقات، دہلی اور اسلام آباد کے تہران سے تعلقات پر نگاہ رکھنے کے ذریعے سے جنوبی ایشیا میں ایرانی اثر ورسوخ کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی لئے پلوامہ کو (مناسب) موقعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ، سعودی عرب نے بھارت اور پاکستان دونوں سے اپنے تعلقات کا اظہار کیا اور غیر جانب دار ثالث کے طور پر اپنی حیثیت کو مستحکم بنایا۔

اگر سعودی عرب اور اس کے اتحادی جیسا کہ یو اے ای تنازعے میں غیر جانب دار کے بجائے کسی دوسرے روپ میں ظاہر ہوتے، تو وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے تزویراتی اور معاشی مفادات کے ضمن میں نقصان اٹھاتے۔ اگر یہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کو ناخوش کرتے تو اس سے “ڈومینو افیکٹ” پیدا ہوسکتا تھا جس سے یہ ممالک ایران سے قریب ہوتے۔  بھارت نے سعودی ایران تعلقات کے بارے میں غیر جانب داری کے علاوہ کسی قسم کا اظہار نہیں کیا اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے مضبوط معاشی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ  بھارت بھی ایران کیلئے سب سے بڑی برآمدی مقامات میں سے ایک ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارت ایران کی چاہ بہار بندگار پر ۲۱.۸۵ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے سے اسکے اخراجات اٹھارہا ہے۔ لہذا اس امر کے امکانات موجود نہیں کہ دہلی ایران سے تعلقات کو محدود کرے گا، خواہ اس کیلئے اس پر ریاض کی جانب سے دباؤ ہی کیوں نہ ہو۔

جہاں تک پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات ہیں، تو ان میں کچھ وقت سے کشیدگی ہے۔ تاہم گزشتہ برس پاکستان میں نئی حکومت کی آمد کے بعد سے ایران نے تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے فعال کوششیں کی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اپنے انتخاب کے بعد پہلی بار تہران کا ۲۱اپریل کو دورہ کیا۔ پلوامہ بحران میں ایک غلط قدم اسلام آباد کو تہران کی جانب دھکیل سکتا تھا۔

چوتھی وجہ سعودی عرب کو اپنی لڑائی لڑنے کیلئے درکار کرائے کے فوجیوں کی فراہمی ہوسکتی ہے جسے  موجودہ دفاعی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور جس کے تحت پاکستان نے بیرونی خطرات کے خلاف سلطنت کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے۔ سعودی عرب پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرچکا ہے اور یہ یمن یا کہیں بھی اور پاکستانی فوجیوں کی طلبی کیلئے بطور ہتھیار استعمال ہوسکتا ہے۔ پاک بھارت جنگ کی صورت میں جہاں دونوں فریق اپنی لڑائیوں میں الجھے ہوں، ریاض کیلئے یہ امکان باقی نہیں رہے گا۔ پاکستان اگرچہ ۲۰۱۵ میں یمن میں اپنے فوجی بھیجنے سے انکار کرچکا ہے، پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت میں پہلی بار براہ راست ریاض کے معاشی مفادات وابستہ ہیں، جو مستقبل کی حرکیات کو تبدیل کرسکتے ہیں۔

نتیجہ

بدترین منظرنامے میں، پلوامہ بحران جلد ہی جوہری لڑائی میں تبدیل ہوسکتا تھا جس کے دنیا پر بدترین نتائج مرتب ہوسکتے تھے۔ مزید براں سعودی عرب شدید مخالفت، خاص کر تہران کی جانب سے مخالفت کے باوجود بھی خاموشی کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اگر پلوامہ کے نتیجے میں جوہری جنگ ہوتی، تو اس کے وجہ سے سعودی عزائم بھی خاک ہوسکتے تھے کیونکہ عالمی برادری ایک اور جوہری لڑائی کے  شروع ہونے کے خدشات میں گھری ہوتی۔

 فروری کے بحران میں ثالثی کرنے والے خلیجی ممالک  اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ اس کے برعکس ان کے وابستہ مفادات ان کی حرکات و سکنات کی وجہ تھے۔ فی الحال وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بحالی کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ  اپنے دوطرفہ معاملات کسی تیسرے ثالث پر انحصار کئے بغیر سلجھانا خود ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور مفادات کے حامل افراد کو زیادہ دخیل کرنا دونوں ممالک کو ایسے شکنجے میں جکڑ سکتا ہے جس سے آزاد ہونا ممکن نہ ہو۔ 

Click here to read this article in English.

Image 1: MEAphotogallery via Flickr

Image 2: Aamir Qureshi via Getty

Posted in , Cooperation, Crisis, Defence, Economics, Economy, Escalation Control, Foreign Policy, Geopolitics, India, India-Pakistan Relations, Iran, Military, Nuclear, Pakistan, Peace, Policy, Politics, Security, Turkey

Arhama Siddiqa

Arhama Siddiqa

Arhama Siddiqa is a Research Fellow at the Institute of Strategic Studies, Islamabad, Pakistan. She graduated from the Lahore University of Management Sciences (LUMS) in 2013 with a B.Sc. (Hons) in Political Science and Economics and went on to complete an MA in International Political Economy from the University of Warwick in 2014. Her research interests focus primarily on the Middle East, the role of major powers in South Asian politics, and the Kashmir dispute. She regularly contributes to publications such as The Pakistan Observer, Daily Times, and The Nation and has also written articles for HILAL. She was a 2017 Commonwealth Fellow at Conciliation Resources in the United Kingdom.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *