چین جنوبی ایشیا میں: افغانستان میں اہم کھلاڑی

سکیورٹی خدشات نے افغانستان  کو چین کی سفارت کاری میں اکثروبیشتر کم اہمیت کا حامل ملک بنائے رکھا۔ افغانستان پر سوویت یونین کے ۱۹۵۰ سے ۱۹۸۰ کے طویل عرصے میں اثرورسوخ کے بعد چین نے افغان مجاہدین کی سوویت یونین کے خلاف لڑائی کو سپورٹ کیا۔ تاہم جب افغانستان روسی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان کے زیرِ سایہ آیا تو چین طالبان حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات براقرار نہ رکھ سکا۔ اس سرد مہری کی وجہ چین کے صوبہ ژن ژیانگ میں یوگار علیحدگی پسند وں کا طالبان سے تعلق اور اس صوبے کی افغانستان سے قربت تھی ۔مزید برآں یہ تعلق چین کےلئے مسلسل پریشانی کا باعث رہا ہے بالخصوص ۲۰۰۰ میں جب سے یوگار گروپ نے دوبارہ سر اٹھایا۔اس خطے میں منشیات کی تجارت بھی چین اور افغانستان کے درمیان ایک اہم سکیورٹی مسئلہ رہا ہے۔ اگرچہ یہ مسائل بدستور موجود ہیں تاہم چین نے افغانستان سے نایاب معدنیات کے ملنے اور اسکا وسطی ایشیا سے تجارت کےلئے مرکزی راستہ ہونے کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ معاشی روابط استوار کیے ہیں۔

چین کے افغانستان میں مفادات

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ بیجنگ کا افغانستان کے ساتھ بنیادی تعلق ژن ژیانگ صوبے میں بد امنی اور افغانستان سے شورش کے اثرات کی وجہ سے ہے۔ پس چین کا افغانستان کے استحکام میں ہی فائدہ ہے۔ معاشی مفادات بھی ایک اہم جزو ہے۔ چونکہ چین کی توانائی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور افغانستان میں استعمال میں نہ لائے گئے تیل اور گیس کے کئی ذخائرموجود ہیں۔

افغانستان چین کےلئے جغرافیائی سیاست میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ چینی نقطہِ نظر سے امریکہ کی افغانستان میں مداخلت وہاں پر سکیورٹی کو بہتر کرنے کےلئے نہیں بلکہ اس کا مقصدچین کو روکنے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی رکن وسطی ایشیائی ریاستوں کے ہائیڈروکابن ذخائر تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ اگرچہ چین شروع میں امریکہ کی افغانستان میں آمد کا حامی تھا  تاہم بیجنگ نے امریکہ کی عراق میں مداخلت کے بعد اسکی پالیسی کے مقاصد بھانپ لئے۔ قابل ذکر امریکی سکالر جان میئرشیمر کا کہنا ہے کہ “چین پرامن طریقے سے طاقتور نہیں بن سکتا چونکہ اس کو علاقائی طور پر بالادست ہونے کےلئے امریکہ کو یوریشیا سے نکالنا ہو گا”۔ یہ حکمتِ عملی امریکہ کو چین کو روکنے کی پالیسی کی طرف مائل کرے گی اور یہ وہ پالیسی ہوگی جو امریکہ نے سرد جنگ کے دوران سووویت یونین کے خلاف استعمال کی۔ ایسا لگتا ہے کہ وسطی ایشیا میں یہ حکمتِ عملی کھیلی جا رہی ہے چونکہ چین نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ کُلی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار نہیں کر سکتا اور اسی لئے چین  وسطی ایشیائی ریاستوں کو توانائی کے حصول کا  متبادل سمجھتے ہوئے ان سے تعاون بڑھا رہا ہے۔

افغانستان میں چین کا ایک اور مفاد اپنے اتحادی پاکستان کی مدد ہے۔ مثال کے طور پر صدر ٹرمپ نے اپنی حالیہ تقریر میں پاکستان کی طرف سے افغانستان کو عدم استحکام کےلئے دہشت گردوں کے مدد کرنے کی پُرزور مذمت کی۔ لیکن چین نے ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستان کو سپورٹ کیا۔ چینی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے”نیک نیتی کے ساتھ پوری کوشش کی ہے”۔ اگرچہ برکس اجلاس ۲۰۱۷ کے اعلامیہ میں چین نے پاکستان سے عسکریت پسند گروہوں کے خاتمے پر زور دیا اور بہت سوں کی رائے میں چین نے اس معاملے میں پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا ہے تاہم وزیر خارجہ خواجہ آصف کا چین میں پرتپاک استقبال اوربیجنگ کا اسلام آباد کی حمائت کا دہرائے  جانے کے عزم نے بہت سی قیاس آرائیوں کو روک دیا ہے۔

سیاسی کردار

معاشی اثرورسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ چین افغانستان  کے سیاسی استحکام اور طالبان سے مفاہمت میں بھی شامل ہو گیا ہے۔ ۲۰۱۴ میں صدر بننے کے بعد اشرف غنی نے چین کے امن عمل میں شرکت کو سراہا۔اگرچہ چین کی خارجہ پالیسی کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ کسی ملک کی داخلی پالیسی میں مداخلت نہیں کرتاتاہم اس پالیسی میں ردوبدل کرتے ہوئے اب چین  امن عمل اور مفاہمتی عمل کا حصہ بنا ہے۔ چین نہ صرف طالبان چار ملکی  بات چیت میں شامل رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر طالبان وفد کی اپنے ملک میں میزبانی بھی کی۔ تاہم اسکے کچھ اقدامات کو افغانستان میں شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا گیا  ،جیسا کہ روس اور پاکستان کے ساتھ دسمبر ۲۰۱۶ میں تین ملکی مذاکرات کہ جن میں افغانستان کے نمائندے کو مدعو ہی نہ کیا گیا۔ گردشی حالات میں صدر ٹرمپ نے اپنی حالیہ افغان پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا تو نہ ہی مفاہمت اور نہ  امن عمل میں چین کے کردار کا ذکر کیا۔ امریکہ کی افغانستان میں از سرِنو سرمایہ کاری چین سے مختلف ہو سکتی ہےکیونکہ چین خود کو عسکری معاملات میں کم جبکہ معاشی معاملات میں زیادہ شامل رکھنا چاہتا  ہے۔

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق چین کےکچھ اپنے بھی شکوک و شبہات ہیں۔ چونکہ وہاں امریکہ کے سیاسی مقاصد مبہم ہیں اور اسی لئے افغانستان کو وہ علاقائی کھیل میں اہمیت دیتا ہے۔ مزید برآں افغانستان میں پاکستانی موقف کی حمائت کر کے چین یہ ظاہر کرواتا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی طرح کا اہم کھلاڑی ہے۔

چین کے افغانستان میں معاشی مفادات

جیسے جیسے افغانستان میں امریکی اثرورسوخ کم ہو رہا ہےچین نے آگے بڑھ کر افغان حکومت کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ اس کا معاشی حلیف ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۴ میں چین نے ۲۰۱۷ تک افغان حکومت کو ۳۲۷ ملین ڈالر امداد کا تہیہ کیا جو کہ ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۳ تک دی گئی رقم(۲۴۰ ملین ڈالر ) سے زیادہ ہے۔

ماضی میں چین نے افغانستان میں بنیادی ڈھانچے(جیسا کہ ۱۹۷۰ کا پروان آبپاشی منصوبہ، یا پھر ایک ہسپتال اور تعلیمی ادارہ)  کی تعمیر معاشی امداد کی غرض سےکی لیکن اب وہ یہ کام کمرشل بنیادوں پر کررہا ہے۔ چین چند پہلے ملکوں میں سے تھا جس نے افغانستان میں معدنیات نکالنے میں سرمایہ کاری کی اور ۲۰۰۸ میں مس عینک سے تانبہ نکالنے کےلئے ۳ ارب ڈالر خرچ کئے۔ اس سرمایہ کاری سے سالانہ ایک ارب آمدنی اور افغانیوں کےلئےبراہِ راست ۸۵۰۰ نوکریاں  متوقع ہیں۔ شمالی صوبے سرپل اور فریاب میں بہنے والے آمو دریا سے قدرتی گیس کے ذخائر کو نکالنے کےلئے بھی چین نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔یہاں کی ۵۰-۷۰ فیصد آمدنی افغانستان کو ملے گی۔ تاہم یہ منصوبے یا تو سکیورٹی خدشات یا پھر ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے شروع نہ ہو سکے یا تاخیر کا شکار  رہے۔

اس لئے اب معاشی فوائد حاصل کر نے کی ساری افغان امیدیں ون-بیلٹ-ون-روڈ اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے منسلک ہو گئی ہیں۔ دونوں ملکوں نے اس منصوبے پر تعاون بڑھانے کےلئے گزشتہ برس ایک معاہدہ بھی کیا اور افغانستان نے اپنا وفد بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں شرکت کےلئے چین بھیجا۔اسی سلسلے کی کڑی میں چین اور افغانستان نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ترقی دی ہےاور پہلی فریٹ ٹرین ہیرتان(افغانستان) سے نونتانگ(چین) کے درمیان اگست ۲۰۱۶ سے چل پڑی ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ سے ایک بیان ون-بیلٹ-ون-روڈ کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔ “افغانستان جو وسطی، جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کے سنگم پر ہے، اسی لئے ون-بیلٹ-ون-روڈ کے فوائد حاصل کر نے کےلئے تیار ہے۔ ون-بیلٹ-ون-روڈ افغان حکومت کے بنیادی ڈھانچے، ربط سازی اور پرائیویٹ شعبے سے متعلق شروع کئے گئے تمام منصوبوں کےلئے بہتر طور پر کام کر سکتا ہے”۔

افغانستان چین کے مستقبل کے کردار کو کیسے دیکھتا ہے؟

افغانستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  کے بعد چین کا اپنے ملک میں امن، استحکام اور معاشی حوالے سے مستقبل کےلئے اہم کردار دیکھتا ہے۔ تاہم چین کے کردار کے حوالے سے تھوڑی بہت پریشانی بھی ہے چونکہ چین کے پاکستان سے اچھے مراسم ہیں اور امریکہ کے ساتھ جغرافیائی سیاست میں مقابلے کی فضاء ہے۔ غالب امکا ن ہے کہ افغان  معاملات میں چین پاکستان کی بات کو ترجیح دے گا۔اور یہ ایک غلطی ہو گی کیونکہ چین –افغان تعلقات کی کامیابی کا دارومدار باہمی اعتماد اور اُن جگہوں پر تعاون بڑھانا سے ہے جہاں دونوں کا فائدہ ہے نہ کہ کسی تیسرے ملک کا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Lintao Zhang via Getty Images

Image 2: Jerome Starkey via Flickr

Posted in , Afghanistan, Aid, China, China in South Asia, Cooperation, Development, Economics, Geopolitics, Pakistan, Peace, Security, United States, US

Ahmad Shah Angar

Ahmad Shah Angar

Ahmad Shah Angar is a political analyst, with 12 years experience in media, communications, and legal affairs in Afghanistan. He was a journalist with the BBC World Service in Afghanistan and has also worked as an interpreter and communications officer in many international organizations like the United Nations Development Program as well as with U.S. and ISAF forces in Afghanistan. Currently, he is an MA student in Conflict Analysis and Peace building at Jamia Milia Islamia in New Delhi, India.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *