20110912_WN_S1015650_0073.jpg
On patrol in North East Bamyian with Kiwi Team One, performing both mounted and dismounted patrols. Afghanistan flag.The NZ PRT Bamyan is tasked with maintaining security in Bamyan Province. It does this by conducting frequent presence patrols throughout the province. The PRT also supports the provincial and local government by providing advice and assistance to the Provincial Governor, the Afghan National Police and district sub-governors. Thirdly the NZ PRT identifies, prepares and provides project management for NZAID projects within the region. These are contracted to Afghan companies who hire local workers to assist with the completion of these projects. Thus each project provides new amenities, and also provides employment in the region.

تعارف

کابل سے عجلت میں ہونے والے امریکی انخلاء کے بعد، افغانستان کے حوالے سے بیجنگ کی تزویراتی جوڑ توڑ میں سلامتی سے جڑی مشکلات مسلسل ترجیح بنی ہوئی ہیں تاکہ وسطی ایشیا میں زیادہ گہرائی میں قدم جمائے جا سکیں۔ “سلطنتوں کا قبرستان” کہلانے والے افغانستان نے چار دہائیوں سے زائد پر محیط تنازعے کو سہا ہے جس دوران صرف ۲۰۰۰ کی دہائی کے وسط میں قدرے استحکام دیکھنے کو ملا۔ یہ جنوبی ایشیائی ملک ایک بار پھر طالبان کے زیر نگیں ہے – اور اس بار زیادہ وسیع پیمانے پر چینی مداخلت جاری ہے۔ واشنگٹن کی رخصت سے قبل کے آخری آخری مہینوں میں، بیجنگ نے اپنے اعلیٰ سطحی دوروں میں تیزی کے ساتھ اضافہ کیا، اپنے اہم ترین منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلقہ معاہدوں میں افغانستان کو شامل کرنے کا وعدہ کیا اور ایران، پاکستان اور روس کے ساتھ ساتھ اس نے بھی ملک میں اپنے سفارتی مشن کو جاری رکھا۔

ایک غیر مستحکم خطے میں استحکام کی خاطر سرمایہ کاری کے ذریعے سے افغانستان، چین کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ سنکیانگ کے خطے میں ایغور کی علیحدگی پسند تحریک کے حوالے سے درپیش سلامتی خدشات سے نمٹ سکے – یہ وہ واحد مشترکہ سرحد ہے جو چین چہار سو خشکی میں گھرے اپنے پڑوسی کے ہمراہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب طالبان کے لیے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے رہنماء جنگ سے تباہ شدہ ملک کو ممکنہ طور پر جدید بنانے کا ایک راستہ دکھاتے ہیں تاکہ وہ اپنے لیے سیاسی جواز میں اضافہ کر سکیں اور ایک پشتون اکثریتی ریاستی نظام کے اندر دیگر اسلامی انتہا پسند گروہوں کا راستہ روک سکیں۔ اگرچہ مرکزی دھارے میں شامل ذرائع ابلاغ امریکی انخلاء کے بعد چین افغانستان تعلقات میں موجود مواقع کی زیادہ قدر و قیمت لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ عملی حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں اور اس میں متعدد کثیرالسطحی جغرافیائی تزویراتی ایجنڈوں کے ساتھ دیگر ریاستی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

بیجنگ کے وسیع تر جغرافیائی مفادات

ایک زیادہ مستحکم افغانستان کے حصول کے لیے چین کی کوششیں وسیع تر تزویراتی مقصد پورا کرتی ہیں۔ چونکہ بیجنگ وسطی ایشیا میں اپنے معاشی اثرورسوخ میں اضافہ کر رہا ہے، اور ایسے میں چینی سرمایہ کاریاں افغانستان کی تعمیر نو اور خطے سے اس کے دوبارہ انضمام کی خواہاں ہیں۔ اس کی اہمیت اس امر سے واضح ہوتی ہے کہ بیجنگ پورے وسطی ایشیا میں کم از کم ۹۰ بی آر آئی سے متعلقہ منصوبوں کی ذمہ داری اٹھا چکا ہے۔ وسط ایشیا میں سابق سویت ریاستوں کے ہمراہ بیجنگ کا تجارتی حجم روس کے اپنے سابقہ علاقوں کے ساتھ کل معاشی روابط سے کہیں زیادہ لاگت کا حامل ہے۔ ۲۰۲۲ میں چین نے ۷۰ بلین امریکی ڈالر مالیت کے ساتھ سب سے بڑے علاقائی تجارتی شراکت دور کے طور پر روس کو پیچھے چھوڑ دیا تھا جس کی تجارتی سرگرمیوں کا تقریباً حجم ۴۰ بلین امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یوکرائن پر روسی حملے نے جہاں اسے وسیع تر پیمانے پر چین کو کروڈ آئل کی برآمد کا موقع فراہم کرتے ہوئے مغربی پابندیوں سے بچنے کی سہولت پیدا کی۔ وہیں بیجنگ نے ساتھ ہی ساتھ دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کے ذریعے سے اپنی توانائی کی فراہمی کو متنوع بنانے کی کوشش کی ہے۔

مئی کے وسط میں چینی صدر شی جن پنگ نے سابق “-ستان” ریاستوں کے ہمراہ بیجنگ کے کثیرالفریقی تعلقات کے فروغ کے لیے چائنہ سینٹرل ایشیا سمٹ کی افتتاحی تقریب کی سربراہی کی، جبکہ اس حوالے سے جاری ہونے والی سرکاری پریس ریلیز میں افغانستان میں امن اور تعمیرِ نو کی کوششوں کو آٹھویں اور حتمی پوزیشن دی گئی تھی۔ لہذا، باوجودیکہ پی آر سی کے علاقائی پالیسی سازی کے اہداف میں افغانستان بذات خود فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتا تاہم کابل یوریشیائی خطے بھر کو ایران اور وسط ایشیا سے ملانے کے لیے زیادہ وسیع پیمانے پر بین العلاقائی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ تیل کی دولت سے مالامال وسط ایشیائی ریاستیں چین کو امریکی اور روسی ممکنہ جارحیت کا متبادل فراہم کرتی ہیں۔ افغانستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بیجنگ کو اہم معدنیات اور توانائی کی فراہمی تک اپنی رسائی میں تنوع لانے اور اسے مغربی سمندری قوتوں کی جانب سے جزیروں کی زنجیر میں رکاوٹیں  پیدا کرنے کی صورت میں انہیں خشکی کے راستے جاری رکھنے کا موقع دیتا ہے۔آخر میں یہ کہ ایسے وقت میں کہ جب دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اپنے علاقائی حریفوں کے خلاف ایک مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، بیجنگ کے مفادات عملیت پسندی پر مبنی سیاسی عوامل پر مشتمل ہیں۔

ضرورت پر مبنی شراکت داری

بے قابو ہوتے افغانستان میں چین کا پہلا اور سب سے اہم ہدف معتدل نوعیت کے استحکام کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی قسم کی عسکری سرگرمی کا اپنی علاقائی حدود میں داخلہ روکا جا سکے۔ سی سی پی کے رہنما، اسے بنیادی مسئلہ گردانتے ہیں جو ایغور کہلانے والے ترک نسل کے مسلم اقلیتی گروہ کی جانب سے چین کے شمال مغربی سنکیانگ کے خودمختار علاقے میں علیحدگی کی تحریک سے پھوٹتا ہے– یہ واحد خطہ ہے جس کی سرحد افغانستان سے ملحقہ ہے۔

دہائیوں تک چین اس نکتے پر مصر رہا ہے کہ مشرقی ترکستان کی تحریک اسلامی (ای ٹی آئی ایم) – جو امریکہ کی جانب سے قبل ازیں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی ہے، بیرون ملک موجود اسلامی گروہوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتی ہے۔ اس گروہ کے طالبان کے سابقہ دور میں مبینہ تعلقات کے سبب، امریکی انخلاء کے بعد اس کے اپنے خطے میں دہشتگردی میں اضافے کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق برائے نام اسلامی ریاستِ خراسان (آئی ایس-کے) نے مئی ۲۰۲۲ میں چین اور ایران میں حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ وسطی اشیا میں بیجنگ کی ایک غیر مسلم ملک کے طور پر موجودگی نمایاں ہو رہی ہے جبکہ اس کی جانب سے اپنی سرحدی حدود کے اندر اقلیتی مسلم ایغور گروہ کے خلاف سرگرمیوں کی شدت میں بھی کوئی کمی نہیں آ رہی ہے، ایسے میں آئی ایس-کے اور دیگر طالبان حکومت مخالفین ممکنہ طور پر طویل عرصے تک افغانستان میں چینی اثاثوں اور حکام کو نشانہ بنائیں گے۔

معاشی محاذ پر آج طالبان حکام، مغربی پابندیوں کے سبب جمود کا شکار اور بڑی حد تک امداد پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے ایک متبادل کے طور پر چینی سرمایہ کاریوں کے خواہاں ہیں۔ ماضی کے باغیوں کی جانب سے کابل کا محاصرہ کرنے کے محض ایک ماہ بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دیا کہ “چین ہمارا بنیادی شراکت دار ہو گا اور وہ ہمارے لیے ایک شاندار موقع کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں معاونت کے لیے تیار ہے۔“ ایک اور موقع پر، طالبان حکام نے بیان دیا کہ وہ ایغور کی علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ ای ٹی آئی ایم اور دیگر انتہا پسند عناصر کے لیے سہولت فراہم نہیں کریں گے۔ ادھر بیجنگ کے لیے، معاشی سرمایہ کاریاں ہی کابل میں موجود نئے سیاسی کھلاڑیوں کے ہمراہ ایک عملی تعلق قائم رکھنے اور باقی ماندہ وسطی ایشیا تک رسائی برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں۔

چین کی بڑے پیمانے پر نمایاں موجودگی اس وقت ٹھوس شکل اختیار کرے گی جب ملک میں سلامتی کی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے لیے عملی ماحول قدرے مستحکم ہو۔ یہ صرف اسی صورت میں ہو گا جب بیجنگ کو افغانستان کی جانب سے پالیسی کی سطح پر اور زمینی سطح پر یہ یقین دہانی ملے کہ وہ اپنی سرزمین پر بیجنگ کے خلاف عسکری کارروائیوں کو روکے گا۔ چین نے اگرچہ حال ہی میں مس عینک میں واقع تانبے کی کان اور کئی دیگر منصوبوں پر معاہدے کیے ہیں، تاہم داخلی سطح پر سلامتی کی موجودہ صورتحال وسیع پیمانے پر پھیلے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے متعلقہ عہد و پیمان کے لیے درکار بنیادی پیشگی شرائط کو پورا کرنے کے قابل نہیں۔

زمینی سطح پر مقامی کمانڈروں سے لے کر کابل میں اعلیٰ ترین سطح تک آپس میں جاری مسلسل لڑائیوں کی وجہ سے طالبان قیادت بدستور پارہ پارہ ہے۔ اقوام متحدہ کی جون ۲۰۲۳ کی ایک رپورٹ کے مطابق “طالبان میں شامل اہم شخصیات کے خلاف حملوں نے (آئی ایس-کے) حوصلے بلند کیے ہیں، بغاوتوں کے آگے بند باندھا ہے اور بھرتیوں کے عمل کو تقویت دی ہے جس میں طالبان کی اپنی صفوں میں موجود افراد بھی شامل ہیں۔” چینی معیارات کے مطابق، کسی بھی عدم استحکام کو سرحد پار تک پھیلنے سے روکنا ہی عارضی طور پر پالیسی کی کامیابی کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔

ضرورت کی بنیاد پر قائم یہ شراکت داری براعظم چین کے کناروں پر محسوس کیے جانے والے سلامتی خدشے سے پھوٹتی ہے۔ شمالی کوریا کے ہمراہ چین کے تعلقات کو بھی ماہرین اسی سے مماثل پیرائے میں دیکھتے ہیں جہاں بیجنگ دنیا کی سب سے زیادہ خودانحصار معیشت کی حامل ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ کے معاملات میں دخیل نہیں؛ اس کے بجائے سی سی پی کے رہنما زیادہ مستحکم فصیلیں چاہتے ہیں تاکہ دیگر علاقائی قوتوں کو وسیع تر پیمانے پر علاقے میں امریکی موجودگی کو فروغ دینے سے روکا جائے۔ بالکل اسی طرح افغان معاملے میں چین کی پوزیشن جو اپریل ۲۰۲۳ میں ظاہر ہوئی، واضح طور پر کہتی ہے کہ “چین افغانستان کے اندرونی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کرتا، نہ ہی افغانستان میں خودغرضی پر مبنی دلچسپی رکھتا ہے، اور نہ ہی اثراندازی کا برائے نام ہالہ بناتا ہے۔“

جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست میں حالیہ پیش رفتیں

حالیہ برسوں میں پی آر سی نے افغانستان کے ہمراہ اپنے دو طرفہ روابط میں تیزی کے ساتھ اضافہ کیا ہے۔ تاہم کابل میں استحکام، بنیادی ڈھانچوں اور انتظامی صلاحیتوں کی کمیابی نے وسیع تر پیمانے پر چین افغانستان تعاون میں رکاوٹ حائل کی ہے۔ امریکی انخلاء کے بعد طے شدہ منصوبے کے تحت نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی محدود صلاحیت پر مزید روشنی ڈالی ہے۔ ۲۰۲۲ میں ایسے حملے اس وقت نمایاں ہوئے تھے جب آئی ایس-کے، کے عسکریت پسندوں نے کابل میں پاکستانی اور روسی سفارت خانوں پر جان لیوا حملے کیے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ہوٹل کو نشانہ بنایا جہاں چینی باشندے بکثرت آتے تھے۔

کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، دہشتگردی پر مبنی حملوں میں ۵۰ فیصد اضافہ ہوا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی افغانستان کے حصوں میں محفوظ ٹھکانے پانے کرنے کے بعد وسیع تر “تزویراتی گہرائی” حاصل کر چکی ہے۔ ٹی ٹی پی نے مبینہ طور پر پاکستان میں علیحدگی پسند بلوچ تحریک کی بھی معاونت کی ہے جو سی پیک سے متعلقہ منصوبوں اور صوبہ بلوچستان میں موجود چینی باشندوں کو مسلسل نشانہ بناتی ہے۔

اس کے نتیجے میں، بیجنگ نے افغانستان میں موجود اپنے ہم منصبوں کے ہمراہ اعلیٰ سطحی مذاکرات اور کثیرالفریقی فورمز جیسا کہ ثمرقند میں وزرائے خارجہ کی افغانستان پر غیر رسمی بات چیت جس میں چین، روس، پاکستان، ایرانی اور ازبکستان شامل تھے، دونوں جگہ پر بات چیت کی ہے۔ یہ تمام مذاکرات بنیادی طور پر وسیع تر معاشی مواقع کے ذریعے علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے گرد گھومتے تھے۔

افغانستان کے لیے، پی آر سی روابط کے قیام کے لیے موزوں ترین کھلاڑی ہے، تاہم یہ واحد امکان نہیں۔ پاکستانی اور ایرانی بارڈر پٹرولز کے ہمراہ حالیہ جھڑپوں کے باوجود، کابل میں طاقتور ترین جغرافیائی سیاسی اثر پاکستان اور ایران ہی رکھتے ہیں، جس میں اولالذکر بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے طالبان کی بطور پراکسی معاونت کرتا ہے جبکہ موخرالذکر اپنے ثقافتی اور تجارتی روابط کے ذریعے معاونت کرتا ہے۔ تمام تینوں ریاستیں اپنی افغانستان پر پالیسی کے ضمن میں متنوع جغرافیائی تزویراتی ایجنڈے رکھتی ہیں اور جب یہ مفادات کسی مقام پر یکجا ہوئے تو وہ آپس میں تعاون کریں گے۔

حاصل کلام

طالبان قیادت میں افغانستان، بی آر آئی اور اعلیٰ سطحی سفارتی دوروں کے ذریعے قریب قریب یقینی طور پر چین کے ہمراہ مفید پیشہ ورانہ تعلقات کو آگے بڑھاتا رہے گا۔ کابل میں موجود حکام علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے چینی معاشی سرمایہ کاریوں اور ثقافتی پیش رفتوں کا کھلے بندوں استقبال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان “دنیا کی تمام ریاستوں کے ساتھ” سفارتی تعلقات چاہتے ہیں۔ تاہم خصوصاً نشانہ بنانے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں کمی لانے میں کابل کی نااہلی اور بیجنگ کے اسلام آباد کے ہمراہ قریبی تزویراتی شراکت داری اور ساتھ ساتھ واشنگٹن کے ہمراہ جغرافیائی لڑائی وہ امور ہیں کہ جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاریوں کے لیے ٹھوس تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہوں گے۔ پڑوسی ملک پاکستان میں چینی باشندوں اور اثاثوں کو خصوصاً نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی سرمایہ کاریوں کے حوالے سے محتاط سوچ اپنانے کی ضرورت کو ظاہر کیا ہے۔ انجام کار چین افغانستان تعلقات صرف اسی صورت میں رفتار پکڑ سکتے ہیں جب سلامتی کی صورتحال ایک ایسے غیر مستحکم خطے میں وسیع تر استحکام کا اشارہ دے جو کئی نسلوں سے جاری اندرونی خلفشار سے مامور ہے۔ اس کا مطلب وسطی ایشیا میں چینی حفاظتی فصیلوں میں اضافہ بھی ہو گا تاکہ یوریشین خطے میں امریکہ کی وسیع تر رسائی کو محدود کیا جا سکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Afghanistan Flag via Pay Youth Forum

Image 2: Uyghur Meshrep via Wikimedia Commons

 

Share this:  

Related articles

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات Hindi & Urdu

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات

بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز کی تکڑی…

بلوچستان کے کثیر الجہتی بحران کا حل: مصالحت اور اصلاحات Hindi & Urdu

بلوچستان کے کثیر الجہتی بحران کا حل: مصالحت اور اصلاحات

پاکستان ایک کمزور جمہوریت ہے اور پاکستانی فوج اور سویلین…

بھارت اور بنگلہ دیش کو موسمیاتی نقل مکانی سے مل جل کر نمٹنا ہو گا Hindi & Urdu

بھارت اور بنگلہ دیش کو موسمیاتی نقل مکانی سے مل جل کر نمٹنا ہو گا


گزشتہ ماہ بنگلہ دیش جانے والے ایک امریکی وفد کے…