چین سے تعلقات: بی آر آئی کے تناظر میں سری لنکا اور نیپال سے حاصل شدہ سبق


۲۰۱۳ میں جب سے چینی صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ( بی آر آئی) کا آغاز کیا ہے، بھارتی اور مغربی تجزیہ کار تسلسل کے ساتھ جنوبی ایشیائی ترقیاتی منصوبوں میں چینی شرکت کو جغرافیائی سیاست میں نئی جگہ سنبھالنے کا پیش خیمہ اور چینی فوجی پھیلاؤ کی کھلی کوشش قرار دے رے ہیں۔  ان خدشات کو پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے تحت فوجی تعاون میں اضافے کے حوالے سے حالیہ رپورٹ سے مزید تقویت ملی ہے۔ اس کے بر خلاف، چینی ذرائع بی آر آئی کو “باہمی احترام “، ” دو طرفہ فوائد پر مبنی تعاون” اور “مل جل کے انسانیت کے مستقبل کیلئے ایک برادری” کی تشکیل کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کی لفاظی پر مبنی بیان بازی سرکار کے زیر انتظام چینی میڈیا کا خاصہ ہے، لیکن وہ اس اقدام کے اصل نتائج کے حوالے سے محدود بصیرت فراہم کرتا ہے۔ البتہ،  بی آر آئی کے متحرک شرکاء میں شامل نیپال اور سری لنکا کی منفرد مثالیں چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں ممکنہ مواقعوں اور نقصانات کا اندازہ لگانے کیلئے رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔

سری لنکا: ایک خبردار کرنے والی داستان

سری لنکا میں چینی نگرانی میں شروع کئے گئے  بڑے منصوبوں، بالخصوص ہمبنتوتا بندرگارہ منصوبے کی ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے کولمبو اور بیجنگ کے مابین معاملات بی آر آئی میں شامل دیگر ممالک کیلئے انتباہ ہیں۔ چونکہ بندرگاہ سے وصول ہونے والے محصولات چینی قرضے اتارنے کیلئے ناکافی تھے، اس لئے آخر کار بندگارہ ۹۹ برس کی لیز پر چین کے “حوالے” کردی گئی۔ نتیجے میں بیجنگ پر پڑوسی ممالک کے اقتداراعلیٰ میں طے شدہ مداخلت اور بحیرہ ہند میں عسکری عزائم کے حوالے سے انگنت الزامات نے جنم لیا ہے۔ منصوبے کی ناکامی، چینی جانب سے درکار جاں فشانی کے ناکافی  ہونے اور موقع پرستی سے لاحق خطرات کا ثبوت ہے لیکن یہ مکمل تصویر نہیں- سری لنکا میں مقامی سطح پر کرپشن کا بھی اس میں اہم کردار تھا ۔ 

۲۰۰۶ میں ایک ڈینش کنسلٹنگ کمپنی کی فیزیبلٹی رپورٹ میں منصوبے کے بارے میں مثبت رائے دی گئی تھی، جس سے سریلنکن بندرگاہ کے حکام کی جانب سے کی گئی امید افزاء پیشگوئیوں کو سہارا ملا۔ تاہم انجینیئروں کو دوران تعمیرغیر متوقع چیلنجز کا سامنا ہوا اور اس میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اس وقت کے صدر مہیندا راجاپاکسے کی سالگرہ تک بندرگارہ کی تعمیر مکمل کرنے کی خاطر منصوبہ اجلت میں مکمل کیا گیا۔ اس غیر حقیقی ٹائم ٹیبل کا نتیجہ اضافی اخراجات اور بندرگاہ کھولے جانے پر اس تک رسائی کے محدود راستے کی صورت میں سامنے آیا۔ یوں ، سری لنکن قرضے کے مسائل کی کسی حد تک وجہ مقامی سطح پر لاپرواہی اور راجاپاکسے انتظامیہ کی جانب سے طے کئے گئے غیر حقیقی اہداف تھے۔

سری لنکن حکام  کے بلند بانگ عزائم پر مبنی بڑے منصوبوں کی چین کی جانب سے بلاامتیاز منظوری کا آخر کار خمیازہ نہ صرف سری لنکا کو بھگتنا پڑا بلکہ دیگر چینی منصوبوں کی شہرت پر بھی دور رس نتائج مرتب ہوئے اور دوسرے ممالک کے چین کے بارے میں بطورغیر ملکی سرمایہ کار تاثر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ہمبنتوتا اسی جیسی صورتحال کا شکار ممالک کیلئے ایک سبق ہوسکتا ہے جنہیں ایسے منصوبوں پر دستخط کرتے ہوئے اور ایسے منصوبوں پر کام کے دوران اپنی قرضے اتارنے کی صلاحیت کا انتہائی احتیاط سے تخمینہ لگانا چاہئے۔

نیپال ایک دوراہے پر

سری لنکا کی مثال جہاں قیمت کا اندازہ کئے بنا چین پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے جڑے خطرات کو واضح کرتی ہے وہیں چین – بھارت مسابقت سے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر نیپالی کوششیں چھوٹی ریاستوں کیلئے ایک کارآمد ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں کہ کس طرح عظیم طاقتی انتظام میں موثر طور پر حصہ لینا چاہئے۔

روایتی طور پر اگرچہ بھارت نیپال میں ترقیاتی سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے،  تاہم حالیہ برسوں میں چین نے یہاں زیادہ بڑے اقدامات کئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بڑے حجم اور لاگت والے  منصوبوں کی بولی میں مقابلہ کی فضا ہے- جیسا کہ پانچ بڑے پن بجلی کے منصوبوں میں سے دو چین اور تین بھارت کی جانب سے تعمیر ہوں گے۔

 مغربی تجزیہ کاروں کے اس انتباہ کے باوجود کہ چینی سرمایہ کاری “قرض کے پھندوں” سے بھرپور ہے، نیپال نے عمومی طور پر چینی سرمایہ کاری کیلئے  خیرمقدمی رویہ اپنایا ہے- یہ انتباہ ہمبنتوتا کے بعد زیادہ وزن رکھتا ہے۔ تعلقات میں اس کشادگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیپال اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ چین کے ساتھ معاملات کے ذریعے وہ  بھارت کے ساتھ تعلقات میں اپنی مذاکراتی طاقت بڑھا سکتا  ہے۔ اس طریقےسے چین اور بھارت کے درمیان تزویراتی مقابلہ نیپال کی ساخت میں اضافہ کرسکتا ہے،  کھٹمنڈو کو یہ آزادی مل سکتی ہے کہ وہ  بجائے اس کے کہ اسے جو بھی پیشکش کی جائے محض قبول کرلے، چین اور بھارت سے معاہدوں کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں اچھی طرح سوچ بچار کرسکتا ہے۔

نیپال میں انفراسٹرکچر کی ترقی کی ضرورت یہ بتاتی ہے کہ وہ چین یا بھارت کسی ایک سے تعاون کو ختم نہیں کرسکتا ہے۔ لہذا نیپال میں نئے وزیراعظم کے پی شرما اولی کے دفتر سنبھالنے کے بعد سے  ظاہر ہورہا ہے کہ اس نے اپنی حیثیت کو مزید بہتر طور پر منوانے کیلئے جانتے بوجھتے چین اور بھارت کے درمیان مسابقت میں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے سے گریز کی حکمت عملیاپنائی ہے۔ نیپال میں شدید بھارت مخالف جذبات کے زمانے میں، اولی نے اپنی انتخابی مہم میں چین کی جانب جھکاؤ ظاہر کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے انہوں نے بھارت کیلئے دوستانہ اور احترام پر مبنی رویہ اپنا ہے اور اس سے تعاون کیلئے دروازے کھلے رکھے ہیں، حتیٰ کہ وزارت عظمیٰ کا دفتر سنبھالنے کے بعد پہلا سرکاری دورہ بھی نئی دہلی کا کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ   بی آر آئی کے تحت تعاون جاری رکھ کے اور نیپالی صدر بدیا دیو بھاندری کی بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے ذریعے سے انہوں نے چین کے ساتھ بھی ثمرآور تعلقات قائم کئے ہیں۔

چھوٹی ریاستوں کیلئے حکمت عملی کی تیاری

 نیپال اور سری لنکا کی مثالیں ان حکمت عملیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں جنہیں چھوٹی ریاستیں استعمال میں لاتے ہوئے مسابقتی طاقتوں سے یکساں فاصلے پررہ سکتی ہیں  اور کسی ایک سمت میں بہت آگے چلے جانے کی صورت میں بھی سمت درست کرسکتی ہیں۔ مثال کے طور پرسری لنکا کی جانب سے ہمبنتوتا بندرگاہ کی چین کو حوالگی کے بعد سریسینا حکومت چینی سرمایہ کاری پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے اعتراف کے بعد بھارتی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، نتیجتاً سری لنکا اور بھارت کے درمیان معاشی تعاون میں اضافہ ہوا۔ اسی وقت نیپالی وزیراعظم اولی نے سرعام کہا کہ وہ چین اور بھارت دونوں جانب سے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سری لنکا اور نیپال کی دو بڑے پڑوسی ممالک سے بیک وقت معاشی تعاون میں اضافے کی صلاحیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ  معاشی شراکت داری گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ چین کے بھارت سے جنوبی ایشیائی علاقائی سردار چھین لینے کے بھارتی خدشات کے باوجود خطے کے دیگر چھوٹے ممالک کو چین اور بھارت کے تعلقات کو خطرے کی گھنٹی کے بجائے تعاون میں اضافے کیلئے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہئے۔  چینی رہنمائی میں معاشی ترقی ، اگرانتہائی محتاط فریقوں کے ذریعے ہو اور مستحکم و ذمہ دار مقامی حکومتوں کی موجودگی میں ہو تو یہ دیگر ممالک کیلئے بھی ایک قیمتی تزویراتی موقع فراہم کرتی ہے۔ جیسا کہ دکھائی دیتا ہے کہ بھارت اور چین دونوں ہی خطے میں اپنے سیاسی اور معاشی اثر کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، ایسے میں چھوٹی ریاستیں چینی اور بھارتی مفادات کو استعمال میں لاتے ہوئے مزید فائدہ مند سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کا حصول یقینی بناسکتی ہیں۔

مزید براں چین اور بھارت کے پڑوسی تزویراتی طور پر ایسے مقام پر ہیں کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی اور دوسری بڑی  ممکنہ منڈیوں کے مابین تجارت میں اضافے کیلئے بطورپل خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چین اور بھارت دونوں ہی اپنے ممالک نیپال سے ملانے کیلئے ریلوے کا نظام تعمیر کرنے کے خواہاں ہیں، تاکہ تجارت، سیاحت اور توانائی کے ساتھ ساتھ نیپال تک رسائی کو بہتر کیا جائے ۔ سری لنکا کی مثال سفید ہاتھی جیسے منصوبوں کے نقصانات جو ناقص انتظامات اور غیر ضروری حد تک بلند نظر سرمایہ کاروں کی وجہ سے ہوسکتے ہیں، کا پتہ دیتے ہیں جبکہ نیپال میں چینی اور بھارتی منصوبوں کے ایک دوسرے کو متوازن کرنے کا ذریعہ بننے کا امکان موجود ہے۔ دونوں ریلوے منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد نیپال چین اور بھارت دونوں کے درمیان تجارت اور نقل و حمل کی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ یہ اور اس جیسے دیگر ملانے والے منصوبے نیپال کو اپنے دونوں پڑوسیوں کے درمیان باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی کے ذریعے سے معاشی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

نیپال اور سری لنکا کی مثالیں یہ ظاہر کرنے جارہی ہیں کہ وہ ممالک جو چینی سرمائے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں چین اور دیگر ممکنہ سرمایہ کاروں جیسا کہ بھارت، کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہئے  تاکہ علاقائی مسابقت سے حاصل فوائد میں اضافہ کیا جاسکے۔ یہ ممالک معاشی طور پر قابل عمل منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھ کے، کسی ایک سمت حد سے زیادہ جھکے بناء اس معاشی مسابقت کی فضاء سے فائدہ بٹور سکتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1:  Maithripala Sirisena via Flickr

Image 2: Etienne Oliveau via Getty Images

Posted in , China, China in South Asia, Development, Economics, Energy, Geopolitics, Nepal, Sri Lanka

Amanda Bogan

Amanda Bogan

Amanda Bogan is a researcher at the Asia Society’s Center on U.S.-China Relations in New York and a recent graduate of the School of Advanced International Studies’ Hopkins-Nanjing Center, where she earned her M.A. in International Affairs with a concentration in China Studies and International Politics. While pursuing her Master’s degree, she served as an intern with the Congressional-Executive Commission on China in D.C., the U.S. Consulate in Chengdu, and Deloitte’s Risk Advisory branch in Hong Kong. She also studied for two years at National Taiwan University’s International Chinese Language Program as a Huayu Enrichment Scholar. She is fluent in Chinese.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *