کارگل جنگ کے دوران بھارتی سفارت کاری: کامیابی کی محدود میراث


کارگل کی جنگ کے دوران ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی سفارتکاری میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔۱۹۹۹ ء کے تیسرے ہفتے تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ بھارت کی طرف  لائن آف کنٹرول سے دراندازی روکنے کیلئے بھارت کو  فوجی کاروائی کرنا ہو گی۔البتہ اس میں درپیش چیلنج یہ تھا کہ اس کاروائی کو اس طرزِ پر کیا جائے جس کی وجہ سے بھارتی اقدام جائز قرار پائے جائیں اور اس کو ملکی اور بین الاقوامی سامعین کی حمایت حاصل رہے۔کارگل جنگ میں بھارتی کامیابی اس کی کامیاب سفارتکاری اور طاقت کے استعمال کا نتیجہ تھی۔

 ملکی سطح پر بھارتی حکومت، خاص طور پر فوج،  عوامی سفارت کاری میں مصروف رہے۔اور انھوں نے  ٹی وی کے ذریعے اپنا بیانہ مضبوط کیا اور عوام کو متحد رکھا۔بین الاقوامی سطح پر  بھارت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کو پاکستا نی جارحیت کے شکار کے طور پر دیکھا جائے۔اور اس کی جوابی کاروائی کو ایک حفاظتی قدم تسلیم کیا جائے۔

خاص طورسے ۱۹۹۸ کے ایٹمی تجربوں کے پس منظر  میں بھارت اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ وہ بین الاقوامی برادری کی نظر میں مزید اپنا مقام نہ کھوئے۔ اگرچہ بھارت نے ان دونوں مقاصد کو حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی،بیس سال بعد ان کامیابیوں سے حاصل کئے گئے اسباق بھلا دئیے گئے ہیں، کیونکہ  بھارت قومی اور بین الاقوامی بحرانوں میں ایک مرتبہ پھر ”ایڈ ہاک“ سفارتکاری کی طرف جا رہا ہے۔

عوامی سفارتکاری

کارگل ٹی۔ وی پر نشر ہو نے والی پہلی بھارتی جنگ تھی۔  پہلی دفعہ بھارتی صحافیوں نے جنگی محاذ  سے رپورٹنگ کی اور جنگ کے حوالے سے تصویریں ٹی وی پر چھائی رہیں۔اس عمل نے عوامی رائے کو بھارت کے حق میں متحد کر دیا۔ اس کاایک عملی مظاہرہ بھارتی ہلال احمر میں خون کے عطیات کے حوالے سے بھی سامنے آیا، جو عام دنوں کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئے۔

علاوہ ازیں،  فوجی فلاحی فنڈ میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا جس میں فلمی ستاروں اورکرکٹرز نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سکول کے بچوں نے بھی بے تحاشہ فنڈز  اکھٹے کئے۔ زخمی فوجیوں، تابوتوں، اور غمزدہ خاندانوں کی تصویروں نے عوامی سطح پر شعور اور یکجہتی پیدا کی۔اس کے علاوہ ذرائع ابلاع کے استعمال کو بھارتی فوج کی طاقت میں اضافے کے طور پر دیکھا گیا۔اس کی وجہ سے اگلی صفوں میں موجود بھارتی فوجیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

بھارتی حکومت نے ذرائع ابلاغ کو کنٹرول  کر کے معلومات کے پھیلاؤ کے پہلو  کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا۔اس حوالے سے وزارت دفاع کی معمول کی میڈیا بریفنگ کو مئی کے آخر میں روزانہ کی بریفنگ میں تبدیل کر دیا گیا، جس میں بھارتی فوج،ائیر فورس اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان حصہ لیتے تھے۔ تا ہم یہ ایک وقتی  انتظام تھا اور کوئی باقائدہ شکل نہیں اختیار کر سکا۔  کارگل کی جنگ میں اپنا بیانیہ مضبوط کر نے کے باوجود اس میں کچھ کوتاہیاں تھیں۔ کارگل ریویو کمیٹی رپورٹ _ جس کی سربراہی کے- سبرامنیم نے کی _ کے مطابق معلومات کی فراہمی اور ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھارت نے کئی اعتبار سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،  مگر یہ کافی نہ تھا۔

رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ صحافیوں کی مدد کیلئے کوئی میڈیا سیل موجود نہیں تھا اور جنگی محاذ پر موجود کئی صحافی جنگی رپورٹنگ کے اصولوں سے نا بلد تھے۔ اس کے علاوہ رپورٹ نے پاکستانی چینل دکھانے  اور ڈان اخبار کی ویب سائٹ پر پابندی کے اقدامات پر تنقید کی۔ اس اقدام سے پاکستان نے بھارتی سنسرشپ کو “سچائی کا خوف” قرار دیا اور اس پالیسی سے بھارتی ساکھ پر منفی اثر پڑا۔ اگرچہ بھارت نے عوامی سفارتکاری کو کامیابی سے اس بڑے  پیمانے  پر پہلی بار۱۹۹۹ میں استعمال کیا، البتہ کچھ مسائل سامنے آۓ جن کو کارگل ریویو رپورٹ نے اجاگر کیا۔ تا ہم دو دہایوں کے بعد یہ بات واضح نہیں ہے کہ بھارتی حکومت نے ان سے کچھ سبق حاصل کیا کہ نہیں۔

بین الاقوامی سفارتکاری

کارگل کی جنگ میں بھارت کی سب سے بڑی کامیابی بین الاقوامی سفارتکاری کے میدان میں تھی۔ ۱۹۹۸ ء کے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں بھارت پر پابندیاں عائد تھیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۱۱۷۲ میں بھارتی اقدام کی مذمت کی تھی اور ۱۹۹۹ میں بھارت کثیر الجہتی پابندیوں کی وجہ سے پیش قدمی پر مجبور تھا۔اسی تناظر میں بھارت نے  لائن آف کنٹرول کو پار نہ کر ے کا فیصلہ کیا۔ اس کو بین الاقوامی رائے عامہ  کی مدد چاہئیے تھی۔ ملکی عوام کی طرح بین الاقوامی برادری کی حمایت طاقت میں اضافے کے طور پر دیکھی گئی۔

جیسا کہ جنرل وی۔پی سنگھ نے اپنی کتاب ” بھارت کے عسکری تنازعات اور سفارتکاری ” میں اشارہ کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے حوالے سے بھارت کے اہداف درج ذیل تھے۔

د نیا کو قائل کرنا کہ بھارت پاکستان کی جارحیت کا شکار ہے اور یہ کہ پاکستان نے شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس بات کو ثابت کرنا کہ درانداز دراصل عسکریت پسند نہیں  بلکہ پاکستانی فوجی تھے۔

 ایک ایٹمی طاقت ہو نے کے حوالے سے ذمہ داری اور عدم تشدد کا اظہار کرنا، جس کی غیر موجودگی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی ترویج کی راہ میں رکاوٹ کا باعث تھا۔

یہ اہداف بھارتی سفارتکاری اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پار نہ کرنے کی وجہ سے حاصل ہوئے۔ جون کے آواخر میں  امریکی حکومت، یورپی یونین اور ”جی-ایٹ“ ممالک نے پاکستان پر  اپنی فوجیں لائن آف کنٹرول سے واپس نہ بلانے کی صورت میں  پابندیوں کی دھمکی دی۔ بین الاقوامی دباؤ خاصا بڑھ گیا تھا، حتیٰ کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم میں پاکستان کے روایتی اتحاد یوں نے بھی بھارت کے خلاف قراردادوں کومعتدل رکھا۔ جب۴  جولائی ۱۹۹۹  کو پاکستانی وزیرِاعظم نواز شریف امریکی صدر بل کلنٹن سے ملاقات کیلئے گئے تو پاکستان کی مدد کیلئے کوئی اتحاد ی ملک موجود نہیں تھا۔جیسا کہ  جنرل مشرف نے بعد میں اپنی  کتاب ”ان دی لائن آف فائر“ میں اعتراف کیا کہ پاکستان  کو سفارتی طور پر تنہا  کرنے کی بھارتی کوشش کامیاب ہوئیں اور اس کا وزیرِ اعظم نواز شریف پر بہت برا اثر پڑا۔با لاآخر نواز شریف کو کلنٹن کے دباؤ کے زیراثر جنگ کو ختم کر نا پڑا۔امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے  بھارت کو مذاکرات کی تفصیلات سے آخر تک آگاہ رکھا۔یہ عمل سابقہ پاک۔بھارت تنازعات کے دوران بھارت اورامریکہ کے باہمی تعلقات سےمختلف نوعیت کا تھا۔ کارگل کی جنگ کے دوران بھارت کی عسکری کامیابیاں محدود ہونے کے باوجود سفارتکاری کے میدان میں بھارت نے واضح بر تری حاصل کی۔

کارگل کے دور رس اثرات

کارگل کے دوران کامیاب بھارتی سفارتکاری کے دور رس نتائج کی نوعیت خاصی مختلف ہے۔ اس کا اہم پہلو بھارت اور امریکہ کے مثبت انداز میں بدلتے ہوئے تعلقات ہیں۔جنوبی ایشیائی تنازعات کی تاریخ میں کارگل کی جنگ پہلی مثال ہے جہاں امریکہ نے کھل کر بھارت کی حمایت کی۔ اس نے موجودہ بھارت-امریکہ تعلقات کی بنیاد رکھی، جو کہ جسونت سنگھ اور سٹروٹ ٹالبوٹ کے باہمی مذاکرات سے شروع ہو کر دس سال بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدہ پر منتج ہوۓ۔

علاوہ ازیں بعد میں وقوع پذیر ہونے والے والے تنازعات میں بھی بھارت نے بین الاقوامی دباؤ کا رخ پاکستان کی جانب موٹے  رکھا،  خاص طور پر ۲۰۰۱پارلیمنٹ حملہ اور ۲۰۰۸ کےممبئ حملے۔ یہ کامیابی کارگل کے دوران قائم ہو نے والے سفارتی اقدام کا نتیجہ تھی۔

البتہ دوسری جانب اس کامیابی کےعمل کو منظم کر نے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔پاکستان کے ساتھ حالیہ تنازعات میں سفارتی عمل کے بجائے وقتی قوت کا استعمال کارگل سے حاصل ہو نے والے اسباق، خاص طور پر عوامی سفارتکاری کی غیراستقلالی حیثیت کو ظاہر ہوتا ہے۔ 

بعد میں آ نے والے بحرانوں میں،  خاص طور پر حالیہ پلوامہ حملے کے  نتیجے میں بھارتی حکومت اور عسکری قیادت منقسم رہی اور عوام اور بین الاقوامی سامعین کیلئے ایک واضح اور سنجیدہ بیانیہ تیار کرنے میں  رہی۔ یہ کار گل کے دوران کامیاب سفارتکاری کے   مظاہرے کے برعکس تھا۔ کارگل ریو یو کمیٹی کی جانب سے باقاعدہ معلومات دینے کے حوالے سے دی گئی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں غیر مستحکم بنیادوں پر معلومات نشر  کی گئی۔

کارگل کے بیس سال بعدبھارت کو چاہیے تھا کہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیاب سفارتکاری کے اہم پہلوؤں پر نظر ثانی کرے۔ ۱۹۹۹ کے واقعات سے سٹریٹیجک امور کے ماہرین کیلئے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کے موثر استعمال کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کا بہترین استعمال سیاسی اہداف کے حصول کیلئے ناگز یر ہے۔ موجودہ پاک-بھارت کشیدہ صورتحال اور بھارت کی جانب سے طاقت کے ممکنہ استعمال کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ بھارت کارگل کی مہم سے سیکھے، اپنے سیاسی مقاصد واضح کرے اور انہیں سفارتکاری کے ذریعے حاصل کر لے۔ اس کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ایک باقائدہ ایجنڈا کے ذریعے سفارتکاری کو غیر منظم طاقت کے استعمال پر فوقیت دی جائے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Guarav Chaturvedi via Flickr

Image 2: The India Today Group via Getty

Posted in , 20 years Kargil series, Border, Defence, Foreign Policy, India, India-Pakistan Relations, Kashmir, LoC, Pakistan, Politics, Security, UN, United States

Debak Das

Debak Das

Debak Das is a PhD candidate in Political Science at the Department of Government, Cornell University. His doctoral dissertation examines how regional powers build their nuclear force structures. This research is based on extensive fieldwork in India, the United Kingdom, and France. Debak is also interested in historical archives, public opinion and foreign policy, and South Asian politics. He received his M.Phil in Diplomacy and Disarmament, and his M.A. in Politics and International Relations from Jawaharlal Nehru University, New Delhi. He also holds a B.A. (Honors) in History from Presidency College, Kolkata. Debak has formerly held research positions at Institute of Peace and Conflict Studies and the Centre for Dialogue and Reconciliation, New Delhi. In 2019-20, Debak will be a MacArthur Nuclear Security Pre-doctoral Fellow at the Center for International Security and Cooperation (CISAC), Stanford University.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *