کشمیر اور افغانستان کا معمہ: بھارت کو تاریخ دہرانے سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے


جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ افغانستان سے اپنی افواج کے نکالنے کا اعلانکیا تو کشمیر پر اس انخلا کے ممکنہ اثرات کا سوال بھارت کیلئے ایک “بڑا درد سر” بن گیا۔ موزوں حالات کی موجودگی میں ایک مضبوط عسکری طاقت کے خلاف کسی عسکری تحریک کی کامیابی، ممکنہ طور پر کسی اور جگہ جاری ایسی  تحریک میں نئی روح ڈال دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ تین دھائی پہلے افغانستان سے سویت انخلاء نےکشمیر میں بھارت خلاف عسکری عناصر کو تقویت دی۔ اس وقت جب کہ افغانستان سے امریکی افواج کی ممکنہ واپسی کیلئے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان بحالیِ امن کے لئے گفت و شنید جاری ہے، بھارت ان مذاکرات کے نتائج پر کڑی نظر رکھ رہا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں جموں وکشمیر  پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے۔راحندرہ نے افغانستان سے امریکی انخلاء پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ” وقت آنے کی دیر ہے۔ بہت جلد ہم اس کے اثرات وادی میں محسوس کریں گے۔“ انہوں نے بھارت حکومت پر زور دیا کہ وہ “ہتھیار ڈالنے” والی پالیسی اپنا لیں جس کے تحت ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کو نفع بخش ملازمت دی جاتی ہے اور جنگجوئی کی طرف واپس جانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس مشورے پر توجہ دیتے ہوئے موجودہ جموں اور کشمیر حکومت نے “ہتھیار ڈالنے” والی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا اور ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کو فکسڈ ڈپازٹ اترازاً ۷،۰۰۰۔۸،۵۰۰ $کیلئے اہل قرار دیا اور ساتھ ہی ذاتی کاروبار شروع کرنے کے پروگرامز میں اپنا نام شامل کرنے کی اجازت بھی دی۔

 لیکن بھارت کیلئے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے اثرات کتنے سنگین ہیں؟ بھارت میں مباحثوں میں ان خطرات کو بےشک بڑھا چڑھاکر پیش کیا جائے لیکن ایک گہرے تجزیے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بھارت کو امریکی انخلاء کے بعد خطے میں طاقت کے توازن پر اثرات کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے، نہ کہ کشمیر میں شدت پسندی کی طاقت میں اضافے کے بارے میں ۔

 کیا تاریخ اپنے آپکو دہرا رہی ہے؟

کشمیر میں بھارت مخالف عسکریت کا  آغاز، سرد جنگ کا اختتام اور افغانستان سے سویت افواج کا انخلاء ایک ہی وقت پر ہوا۔ افغان مجاہدین، جن کو امریکی معاونت اور پاکستانی خفیہ ایجنسی (آئی ایس ائی) کی تربیت حاصل تھی، سرخ فوج کے خلاف جنگ  پر جنگ جیتے گئے لیکن جب سویت افواج کو مکمل شکست ہوچکی تو مجاہدین  کی عسکری طاقت کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جہاد کے اعلان کا مطلب دنیا پر اسلامی ریاست قائم کرنا نہیں بلکہ مسلم سر زمین پر غیر مسلموں کی حکمرانی کا خاتمہ تھا۔ اور اس طرح کشمیر مجاہدین کیلئے اپنے علاقے کے قریب ایک نئے میدان جنگ کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکہ کے اچانک ہاتھ کھینچ لینے پر بہت سے مجاہدین نے کشمیر کی طرف صفر کیا اور وادی کے کچھ حصوں جیسے سوپور، کو اپنا “آزاد کردہ علاقہ” بنا لیا۔ 

تیس سال بعد بھارت کو تاریخ کے دہرائے جانے کا خوف ہے جو ماضی میں وادی پر اس کے کنٹرول اور گرفت کیلئے ایک المناک دھچکا تھا۔ بھارت کو ڈر ہے کہ افغانستان سےعسکریت پسندوں کی دخل اندازی کشمیر میں زبردستی قائم شدہ امنکے ڈھونگ پر سے پردہ اٹھا سکتی ہے۔ اس تناظر کے سبب پہلی دفعہ بھارت نے طالبان کیلئے اپنے موقف میں نرمی پیدا کی ہے اور پچھلے سال نومبر میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں ایک غیر سرکاری وفد کو شرکت کے لئے بھی بھیجا۔ ماسکو کے طرزِ مذاکراتایک دلچسپ نظارہ تھا جس میں سابق دشمن، روس اور طالبان، کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے تھے۔

طالبان کا کردار

ایسے مذاکرات جن کا فائدہ افغان حکومت کے بجائے طالبان کو ہونے کا امکان ہو، بھارت کے لئے پریشانی اور شرمندگی کا باعث ہیں، اور اسے پاکستان کی فتح کی علامت سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر یقین رکھا ہے کہ طالبان ہی افغانستان کا مستقبل ہیں۔ جوں جوں سترہ  سالہ جنگ خاتمے کے قریب آ رہی ہے، بھارت کو صرف سٹریٹیجک سطح پر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ نئی دہلی  کی طرف سے ملک کی تعمیرِ نو کی تمام تر کوششوں اور افغان حکومت کی متواتر امداد کے باوجود جنگ کے بعد قائم ہونے والی افغان حکومت میں بھارت کا اثرورسوخ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کیا طالبان کا افغان حکومت میں ممکنہ شراکت داری سے کشمیر میں بھارت کیلئے کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے؟ صرف ایک لفظ  میں اگر جواب دینا پڑے تو وہ ہے: نہیں۔ امریکہ نے طالبان کے بنیادی مطالبے کو مانتے ہوئے افغانستان سے فوجیں نکلانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس کے بدلے میں طالبان سے توقع کی جائے گی کہ وہ القاعدہ اور داعش کیمخالفتکریں گے اور افغان سرزمین پر انہیں ٹھکانے بنانے نہیں دیں گے۔ طالبان کے بعض ارکان نے ۱۱/۹حملوں کے بعد القاعدہ کی میزبانی کرنے کو اپنی غلطی تسلیمکیا اور دونوں، القائدہ اور داعش میں سے کسی بھی گروہ کیلئے نرم رویہ نہ رکھنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے تاکہ عالمی برادری کسی الجھن اور پریشانی میں نہ پڑے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ درپیش حالات کی وجہ سے طالبان اس وقت کشمیر میں دلچسپی نہ لیں کیونکہ انہیں اس وقت اپنے ملک میں موجود القاعدہ اور داعش جیسی قوتوں سے مصلاحات طے کرنے ہیں۔ افغانستان میں داعش کی تعداد، جو ۲۰۱۵سے افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان اور افغان طالبان سے علیحدہ ہونے والے جنگجوؤں کا ایک ایسا گروہ ہے جسکو ۲۰۱۵کے دوران افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنانے کا موقع ملا، کی صحیح تعداد معلوم نہیں لیکن مختلف اندازوں کے مطابق ان جنگجوؤں کی تعداد تین ہزار اور پانچ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔  فی الحال طالبان اپنی توانائیوں کو کشمیر کاز میں پیش کرنے کے بجائے اپنی تمام تر کوششیں داعش سے اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے پر مرکوز کریں گے۔ اسکے علاوہ القاعدہ نے اپنی تنظیم نو کے شواہد بھی ظاہر کر دیئے ہیں اور اب دیکھنا ہے کہ فرقہ وارانہ تشخص رکھنے والی یہ تنظیم داعش کے ساتھ ہم آہنگی کیسے پیدا کرتی ہے، جبکہ مستقبل میں دونوں میں سے ایک تنظیم کے دوسری تنظیم میں مدغم ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔

کشمیر کی صورتحال

کشمیر کی موجودہ صورتحال ایسی نہیں کہ  ۹۰کی دہائی کے ابتائی سالوں میں کی جانے والی بیرونی مداخلت کی مانند کچھ کیا جائے۔ جموں و کشمیر پولیس رپورٹ کے مطابق، جہاں ۹۰کی دہائی میں ہزاروں کی تعداد میں جنگجو کاروائیوں میں مصروف تھے، اب صرف ۳۰۰کےقریب  جنگجو موجود ہیں۔ عسکریت پسندوں کی کاروائیوں سے اس وقت اتنا نقصان نہیں پہنچ رہا جو بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے یا پھر کشمیر میں حریت کانفرنس کے نمائندوں سے مذاکرات پر مجبور کر سکے۔ شدت پسندوں سے نمٹنے کیلئے بھارت کے پاس موجودہ سازوسامان اور حکمت عملی۹۰ کی دہائی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اس لئے اب ہنگامہ آرائی کے واقعات ”بھارتی فوج بمقابلہ شدت پسند“ سے تبدیل ہو کر “شدت پسند بمقابلہ مقامی پولیس”کے درجہ پر آ گرے ہیں۔ یوں کشمیر میں بیرونی طاقتوں کے استعمال سے کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کی شدت میں فرق تب محسوس ہو گا جب بھارت کے خلاف جنگ میں مصروف گروہ اپنی طاقت کا لوہا منوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تمام عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کی غرض سے حالیہ کارروائی “آپریشن آل ۔آؤٹ”  کے شروع ہونے کے بعد کشمیری جنگجوؤں کو بھاری نقصاناٹھانا پڑا۔

کشمیر میں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یا نہیں؟ کا تعین کرنے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہوگا۔  سٹریٹیجک اعتبار سے، اور  کشمیر کی اہمیت کو نظریہ پاکستان کے تناظر میں اوربھارت کے نقطہٴِنظر سے دیکھا جائے، تو پاکستان کا شدید تر جارحانہ رویہ اپنانا پاکستان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا اور جنگ کے خاتمے کے بعد، جب افغانستان میں استحکام کے آثار نظر آنے لگیں اور حکومت پر طالبان اپنی گرفت مضبوط کر لیں تو پھر طالبان کو کشمیر کی طرف بھیج دیا جا سکتا ہے۔ لیکن فی الوقت کشمیر کے حالات اور طالبان کی اپنی پوزیشن اس نوعیت کی کاروائیوں کے لئے موزوں نہیں دکھائی دیتی۔ اسلام آباد فی الحال کشمیر کے مسئلے کو “مذاکرات کے ذریعے حل کرنے” کی راہ اختیار کرنے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اگرچہ وزیراعظم مودی کا خیال ہے کہ اسلام آباد پر یقین کرنا غلطی ہوگی۔

کشمیر کیلئے آگے کیا ہے؟

ایک طرف افغانستان میں بھارت کے اتحادی  طالبان کے ساتھ غیر مشروط بنیاد پر مذاکراتکرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لئے دہشت گردی کی معاونت ختم کرنے کی شرط” آئد کر رکھی ہے۔ کشمیر میں بھارت اپنی موجودہ پالیسی، جیسا کہ یہ مصنف پہلے کسی اور جگہ اس کے بارے میں لکھ چکا ہے، یعنی ”دولت، قوت اور مرکزی دائرے میں لاؤ“ پر عمل پیرا رہنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ اس کی ہتھیار ڈالنے کی نئی پالیسی سے  بھی واضح ہے، بھارت کا موجودہ طریقہِ کار یہ ہے کہ ان شدت پسندوں کو خرید لیا جائے جو ہھتیار ڈالنے کے لئے راضی ہوں اور ان کو قتل کر دیا جائے جو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ ہوں (جیسے “آپریشن آل۔آؤٹ”  کی کاروائیوں میں ظاہر ہو رہا ہے) اور اسکے ساتھ کوشش کرنا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کر کے ان کو مرکزی سیاست کے دائرے میں لایا جائے۔

بھارت اور پاکستان کوکشمیر میں تشدد میں اضافے سے بچنے اور بیرونی مداخلت کو روکنے کیلئے بھارت اور پاکستان کو سنجیدہ کوششیں کر کے امن عمل کو آگے بڑھا کر اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی شدید ضرورت ہے چاہے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر دوسرے فریق کو غیر مشروط طور پر غور کرنا پڑے۔ تاہم موجودہ حالات میں بھارت کو اس معاملے کو حل کرنے کے لئے پہل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تین ممالک یعنی پاکستان، بعد از جنگ افغانستان اور چین کے قریب تر آنے کے بعد بھارت کی جیو پولیٹیکل پوزیشن کمزور ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

Click here to read this article in English.

Image 1: Jesse Rapczak via Flickr

Image 2: Yawar Nazir via Getty

Posted in , Afghanistan, China, Cooperation, Defence, Foreign Policy, Geopolitics, India, Kashmir, Militancy, Military, Pakistan, Peace, Policy, Politics, Security, Terrorism, United States

Basharat Ali

Basharat Ali

Basharat Ali has a post-graduate degree in Conflict Analysis and Peace Building from Nelson Mandela Center for Peace and Conflict Resolution in Jamia Millia Islamia, New Delhi. He is currently enrolled as a Ph.D. student at the same University’s Academy of International Studies. Basharat’s Ph.D. is a theoretical exploration of political violence in Kashmir. Previously, he has contributed to Outlook Magazine, Dawn, and Kashmir INK among other South Asian publications. Besides research and writing, he is passionate about reviewing books. Basharat Ali is also a Contributing Editor to Wande Magazine.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *