کشمیر میں داعش اور القاعدہ کے حقیقی خطرات

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں تین عشروں سے جاری عسکریت پسندی آج بھی، بالخصوص جولائی ۲۰۱۶ میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کے مارے جانے کے بعد سے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکساتی ہے ۔ برہان کی ہلاکت اور اسکے نتیجے میں  سویلین  بغاوت جس میں ۱۰۰ سے زائد افراد  جاں بحق ہوئے تھے کی وجہ سے بھارت مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ عسکریت پسندی کی یہ نئی لہر وادی میں عالمی اسلامی جہادی تنظیموں جیسا کہ القاعدہ اور داعش کے ایک نئے  نظرئے کی موجودگی  سے سامنے آئی ہے۔ تاہم اس بات کی صحیح تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں کہ یہ تنظیمیں کشمیر میں کس حد تک اثر انداز ہوئی ہیں۔ کیا وہ محض نوجوانوں کے نظریات  پر اثر انداز ہو رہی ہیں یا انہوں نے مسلح جتھوں  کی صورت میں رہنے کا ارادہ کر لیا ہے؟

وادی میں القاعدہ  اور داعش کے پنجے؛

ابتداء میں القاعدہ  اور داعش کی کشمیر میں موجودگی داعش کے کالے جھنڈوں کو احتجاجی مظاہروں میں لہرانے تک محدود تھی۔ ۲۰۱۵ میں مظاہروں میں ان جھنڈوں کے لہرائے جانے کی اطلاعات پر جموں و کشمیر کے سابقہ وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس پارٹی کے سربراہ  فاروق عبداللہ  نے کہا کہ یہ صرف “نوجوانوں کی مایوسی اور غصے ” کا اظہار ہے۔ لیکن انہی جھنڈوں کا لہرایا جانا گزشتہ برس بھی جاری رہا اور باغی مسلح گروہوں کی طرف سے ان جھنڈوں کے استعمال کی تصاویر سوشل میڈیا پر  پھیل گئیں۔ 

جھنڈے لہرائے جانے کے ساتھ ساتھ یہ اطالاعات بھی سامنے آئیں کہ عسکریت پسند داعش اور القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ۱۲ مارچ کو موسم گرما کے دارلحکومت سرینگر کے آس پاس تین مسلح لڑکے بھارتی فوج کے ساتھ مقابلے میں جاں بحق ہو گئے ۔ مرنے والوں کی پہچان ۲۳ سالہ عیسیٰ فضیلی، سید اویس شفیع اور محمد توفیق کے نام سے ہوئی۔ شروع میں اس مقابلے کی خبروں  میں داعش اور القاعدہ سے متعلق کوئی ذکر سامنے نہ آیا۔ عیسی اور شفیع کے بارے میں یہ کہا گیا کہ دونوں لمبے عرصے سےکشمیر میں موجود  ایک مسلح گروہ سے وابستہ تھے جبکہ توفیق بھارتی جنوبی ریاست تلنگانہ سے کشمیر ی عسکریت پسندوں میں شامل ہونے کےلئے آیا تھا۔ تاہم بعد میں داعش نے اعلان کیا کہ عیسی اور شفیع دونوں داعش کے ساتھ تھے جبکہ انصر غزوات الہند (اے-جی-ایچ)، القاعدہ کے لوکل یونٹ،  نے  دعوی کیا کہ توفیق  گروہ کی چند پہلی بھرتیوں میں سے ایک تھا۔ بعد میں جموں کشمیر کی پولیس نے کہا کہ توفیق داراصل “سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے نظرئے میں ڈھل گیا تھا اور پھر بعد میں وہ داعش کی سرگرمیوں میں شرکت کےلئے کشمیر چلا گیا”۔ تلنگانہ پولیس نے بھی اسی کہانی کی تصدیق کی۔ 

ان ہلاکتوں سے پہلے داعش اور القاعدہ کا پروپیگنڈہ سوشل میڈیا پر پھیل چکا تھا  لیکن اسلامک سٹیٹ جموں کشمیر (آئی-ایس-جے-کے) اور اے-جی-ایچ کے خطرے کے حوالے سے کمتر ثبوت تھے۔ صرف ایک عسکریت پسند مغیث احمد میر  داعش کے آن لائن پروپیگنڈہ کا شکار ہوا تھا اور گزشتہ برس نومبر میں اسکی تدفین کے وقت اسکا جسم داعش کے جھنڈے میں لپٹا ہوا تھا۔ لیکن چونکہ دونوں اے-جی-ایچ اور داعش مقابلے میں مارے جانے والوں کو اپنے بندے ہونے کا دعوی کرتی ہیں تو مبصرین نے سوال اٹھانا شروع کر دئے ہیں کہ کیا القاعدہ اور داعش کشمیر میں خطرہ بنتے جا رہے ہیں؟

تحریک آزادی اور اسلام پسند تحریک؛

برہان وانی کی ۲۰۱۶ میں ہلاکت کے بعد ذاکر موسی جو کہ بنیادی طور پر انجینئر تھے ، کو حزب المجاہدین کا کمانڈر بنا دیا گیا  لیکن اس نے اے-جی-ایم بنانے کےلئے جلد ہی جولائی ۲۰۱۷ میں  عہدہ چھوڑ دیا۔ اے-جی-ایم بنانے سےپہلے موسٰی نے ایک خطرناک مثال قائم کر دی جب اس نے اعلان کیا کہ کشمیر میں جاری تحریک کا مقصد  ایک نئی ریاست بنانا نہیں ہے ۔اپنے ایک آڈیو پیغام میں موسٰی نے حریت راہنماؤں (جنہوں نے روائتی طور پرکشمیری سیاست میں  بھارت مخالف سیاسی بیانیہ کو اپنائے رکھا ہے) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “اگر آپ ہمارے راستے کا کانٹا بنے تو ہم کافروں کو چھوڑ کر پہلے آپکو مار ڈالیں گے”۔ موسیٰ نے پیغام میں مزید کہا “کشمیر بالخصوص مجاہدین کے جنگ  صرف اور صرف شریعت کے نفاذ کےلئے ہے اور یہ ایک اسلام کو شش ہے”۔

کشمیر میں تحریک آزادی اور اسلام کے نفاذ  میں فرق  فضیلی  کی تدفین کے موقع پر دوبارہ نمودار ہوا جب اس کی لاش کالے جھنڈے میں  لپٹی ہوئی تھی اور پاکستان و آزادی  کے عام نعرو ں کے ساتھ ساتھ فضیلی کے حق میں بھی نعرے  لگائے گئے۔ اگرچہ کچھ مبصرین  کا اصرار تھا کہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے فضیلی کی لاش کو کالے جھنڈے میں لپیٹا تاہم فضیلی کا اسلامی پسندی کا نظریہ تب سے سامنے آ چکا تھا جب سے اس نے ایک ویڈیو پیغام  ۲۰۱۷ میں ریکارڈ کیا تھا۔ بیان میں فضیلی نے کہا “میں معاشرے یا اپنی انجینئرنگ کی تعلیم سے تنگ نہیں تھا۔ میں نےتو بس مسلم امہ کی کسمپرسی دیکھ کر اللہ کی راہ میں جہاد کا ارداہ کیا”۔ 

فضیلی اور موسٰی کی طرف سے اسلام پسندی کے نظرئے کا وادیِ کشمیر میں سیاسی  اثرات مرتب ہوں گے۔ کشمیری اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انکی  تحریک خالصتاً اندرونی ہے اور مذہبی انتہا پسندی سے عاری ہے لیکن بھارت میں بہت سارے لوگ کشمیر کی آزادی کی تحریک  کو عالمی اسلامی  دہشت گردی  سے جوڑتے ہیں۔اس لئے داعش اور القاعدہ کے ملحقین اور ہمدردوں کی موجودگی کشمیری آزادی کی تحریک   پر بھی اثرات پڑیں گے۔ 

کشمیر میں حقیقی موجودگی:

ابھی تک داعش اور اے-جی-ایچ نے مارے جانے والے چند عسکریت پسندوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، کچھ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، عوام کےلئے آڈیو اور ویڈیو پیغامات ریکارڈ کئے ہیں اور سوشل میڈیا پر خبروں کے ذریعے وادی میں اپنی موجودگی کا پرچارکیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انکی سوشل میڈیا پر موجودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بھی ویڈیو یا تصویر میں اسلحہ سے لیس عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد نہیں دکھائی گئی ہے یا سامنے نہیں آئی ہے۔ 

اس بات کے اشارے اگرچہ ملے ہیں کہ اے-جی-ایچ نے عسکریت پسندوں کےلئے بنیادی قیام گاہ کا انتظام کر لیا ہے۔ اس گروہ کے جولائی ۲۰۱۷ میں قائم ہو نے کے بعد دو اعلیٰ سطح کے واقعات دیکھے گئے جس میں پاکستانی حمائت یافتہ گروہوں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کے کمانڈروں ابو دجانہ اور ابو حماس نے اپنی وفاداری بدلتے ہوئے اے-جی-ایچ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس سال اپریل کے پہلے ہفتے دو مختلف چھاپوں میں اے-جی-ایچ کے چار ممبرز کو اسلحہ خریدتے ہوئے پکڑ لیا گیا ۔ یہ گرفتاریاں دکھاتی ہیں کہ موسیٰ اپنے گروپ کو  لوگوں کی بھرتی اور اسلحے کا ذخیرہ کر کےمظبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق موسیٰ کو ابھی تک  صرف دس مسلح عسکریت پسندوں کی حمائے حاصل ہے۔ 

اے-جی-ایچ کے برعکس داعش  کا خطے میں موجودگی نظر نہیں آئی ہے اسکے باوجود کہ سوشل میڈیا پر ٹیلی گرام چینل کے ذریعے مہمات  بھی چلائی گئیں۔ داعش نے اسلامک سٹیٹ خراسان پرووِنس (آئی-ایس-کے-پی)، جو بنیادی طور پر افغانستان میں ہے اور کشمیر وادی میں اسکی آمد فروری۲۰۱۶ میں ہوئی، کا وجود بڑھانے کے اعلان سے لے کر ابتک صرف دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس نوعیت کا پہلا واقعہ تب ہوا جب ایک پولیس اہلکار سرینگرمیں حریت رہنما کی  سکیورٹی پر مامور تھا اور اس سے بندوق چھین کر اس پر گولی چلائی گئی اور پھر بعد میں وہ ہسپتال میں جاں بحق ہو گیا۔ داعش کی خبروں کا مرکز ، عمق نیوز ایجنسی نے ایک پیغام جاری کیا جس میں حملے کا دعوی کیا گیا اور چھینی گئی رائفل کی تصویر بھی جاری کی گئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس واقعہ کا ذمہ دار فضیلی تھا۔

دونوں گروہ البتہ اپنے پیغامات میں مختلف رائے رکھتے ہیں  اور اے-جی-ایچ اپنے پیغامات میں اسلام پسندی  پر ذیادہ زور دیتی ہے۔ دوسری طرف داعش نےاپنی کاروائیوں کا طریقہ کار وہی رکھا ہے جو اس نے عراق اور شام میں   اپنائے رکھا، جہاں وہ بدترین حملوں کی ذمہ داری قبول کر کے تصاویر ، جھنڈے اور اپنے بینرز جاری کرتی تھی۔ اسکے برعکس اے-جی-ایچ نے اپنے جہاد کو “قومیت پرستی ” سے مبرا رکھا ہے اور پاکستان پر زبردست تنقید کی ہے۔ موسیٰ نے اپنی ایک پیغام میں کہا ‘میرے پیارے اور عزت دار بھائیو، میں آپکے پیروں کی خاک بھی نہیں مگر اسلام کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں”۔ 

موسیٰ کا کے مشہور تحریک کے برعکس اقدامات نے اسکو نوجوانوں میں مقبول کر دیا ہے۔اس سال  اپریل میں طلباء کے احتجاج میں  موسیٰ کے حق میں نعرے بھی  لگائے گئے۔ موسیٰ کا اس طرح سے  وادی کے افق پر نمودار ہونا  سیاسی لوگوں کےلئے پریشانی کا باعث ہے۔ 

سیاسی تقسیم اور ردِ عمل:

کشمیر کے سیاسی افق پر لوگ دو رائے میں منقسم ہیں کہ کیا موسیٰ صحیح ہے یا پھر تحریکِ آزادی کےلئے نقصان بن رہا ہے۔ بلاشبہ کچھ مارے جانے والے عسکریت پسندوں نے یہ کہا تھا کہ انکی تدفین پر موسیٰ کے حق میں نعرے نہ لگائے جائیں۔ یکم اپریل کو مارے جانے والے ایک عسکریت پسند نے اپنے والدین سے کہا “میری تدفین پر کالے جھنڈے کی بجائے پاکستانی جھنڈا ہونا چاہیئے جو کہ اسلامی ہے۔ موسیٰ کے حق میں نعرے غیر اسلامی ہیں اور جو ایسے نعرے لگانا چاہتا ہو وہ میری تدفین پر نہ آئے”۔

تحریکِ آزادی کی لیڈر شپ کی طرف سے بھی اس معاملے پر منفی تاثر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ان نئے نظریوں کی وادی میں آمد کو بھارتی ایجنسیوں کی سازش قرار دیا ہے۔ حریت لیڈرز نے جولائی ۲۰۱۷ کے ایک  مشترکہ بیان میں کہا “دہشت گردی اور تحریکِ آزادی مختلف ہیں۔ ہماری تحریک مکمل طور پر اندرونی نوعیت اور مقاصد کےلئے ہے”۔ انہوں نے کہا کہ داعش اور القاعدہ کا اس خطے میں ‘وجود نہیں’ ہے  اور ‘ان گروہوں کا ہماری تحریک میں کوئی کردار نہیں ہے” بلکہ نئی دہلی اس کوشش میں ہے کہ اسکو “عالمی دہشت گردی سے جوڑا جائے”۔ 

کشمیر کے سیاسی و جغرافیائی  تناظر میں  اور اے-جی-ایچ اور آئی-ایس-جے-کے کو تحریکِ آزادی  کے رہنماؤں کی طرف سے ملنے والے ردِ عمل سے یہ بات واضح ہے کہ  اسلام پسندی  کے نظریات  کشمیری لوگوں کی خواہشات اور مزاحمتی تحریکوں کے خلاف ہیں۔ بلاشبہ تحریکِ آزادی  کے رہنما ان گروہوں کو اپنی آزادی کی کوششوں کےلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے گروہوں کے مقاصد  بھی داعش کے وژن (وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں خراسان پرووِنس کی خلافت قائم کرنا) سے بھی متصادم ہیں۔ 

مستقبل کے خطرات:

جہاں دونوں گروہ ابھی ابتدائی سطح پر ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی واضح آئی-ایس-جے-کے اور اے-جی-ایچ  مسلح جتھوں کی بجائے محض خیالی سطح تک ہیں اور مستقبل قریب میں انکا یہی  مقام برقرار ہے گا۔ لیکن انکے انتہا پسند نظریات پہلے سے سیاسی عدم استحکام کے شکار خطے کےلئے خطرناک ہیں۔ کشمیر میں ایک سینئیر انسدادِ دہشت گردی کے سرکاری عہدیدار نے مصنف کو بتایا کہ”داعش یا القاعدہ  شائد ایک مظبوط مسلح  فورس تو تیار نہ کر سکیں لیکن انکے نظریات  پھیل رہے ہیں جو کشمیر کےلئے انتہائی خطرناک ہے”۔ اگر انکے خیالات کشمیری نوجوانوں کو متاثر کرنا شروع کر دیتے ہیں تو  داعش اور القاعدہ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ وادی میں جاری سیاسی جدوجہد کو ناکارہ کر سکے اور سیاسی  لوگوں میں تقسیم کرکے انکو ایک پلڑے یعنی  بھارت یا پاکستان کی طرف مائل کر دے۔ اور یہ امر عسکریت پسندوں کے اندر بھی شورش کا باعث بن جائے گا جیسا ۱۹۹۰کی دہائی میں ہوا تھا۔ 

کشمیر کا تنازعہ داراصل اس ساری صورتحال کے باوجود اصل مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کی بندوقوں کے ساتھ موجودگی اور پھر  ان  کے حمائتیوں کا وجود داراصل پاکستان اور بھارت کے بیچ  تنازعہ کی ایک  شاخ ہے کہ جسکا حل دور دور تک نظر نہیں آ رہا ہے۔ عسکریت پسندوں کے مارے جانے سے امن ناممکن ہے بلکہ اس سے ایک ایسی انتہائی خطرناک بنیاد رکھی جائے گی جس سے  نہ صرف کشمیر منقسم ہو گا بلکہ جنوبی ایشیا  کا استحکام بھی داؤ پر لگ جائے گا۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: thierry ehrmann via Wikimedia Commons (cropped)

Image 2: Tauseef Mustafa via Getty

Image 3: Yawar Nazir via Getty

Posted in , Doctrine, India, ISIS, Kashmir, Militancy, Pakistan, Policy, Security, Terrorism

Fahad Shah

Fahad Shah

Fahad Shah is an independent journalist and editor who writes on India's foreign policy, China-Pakistan relations, human rights violations in Kashmir and India and Pakistan relationship for the Foreign Affairs, South China Morning Post, The Diplomat, Dawn, Hindustan Times and is a correspondent at The Christian Science Monitor. He is also the editor-in-chief of The Kashmir Walla magazine and the editor of the anthology Of Occupation and Resistance: Writings from Kashmir (2013). He recently founded and functions as Director of The Kashmir Institute - a policy institute focusing on erstwhile Jammu and Kashmir. He tweets at @pzfahad and can be emailed at thekashmirwalla@gmail.com

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *