Screenshot 2025-09-16 094012

امریکی محکمہ خارجہ  نے 11 اگست کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے عرف/اہم خودکش دہشت گرد سکواڈ، مجید بریگیڈ، کو خارجی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) کے طور پر نامزد کیا۔ یہ اقدام  امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری— جس کا نقطہ عروج جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک نجی ملاقات کی صورت ہوا، اور کرپٹو کرنسی سے  لے کر تجارت، اہم معدنیات و توانائی اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی بد ترہوتی صورتحال، جو کہ پاکستان کا معدنیات سے مالا مال مگرسب سے زیادہ محروم صوبہ ہے، سمیت ہر امر پر مشتمل معاملت داری، دونوں کے نتیجے میں اُٹھایا گیا۔ درحقیقت بلوچستان کی صوبائی وزارتِ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) کی وسطِ سال کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صوبے بھر میں تشدد سال 2025  کے پہلے نصف میں 45 فیصد بڑھ گیا ہے، جس میں شورشی حملے، قتل بہدف (ٹارگٹڈ کلنگز) اور بم دھماکوں  کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں  بی ایل اے  نے پاکستان میں سب سے زیادہ دیدہ دلیری سے  حملے کیے ہیں، جن میں مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی بے مثال ہائی جیکنگ بھی شامل ہے، جس میں 30 سے زائد شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

واشنگٹن کی جانب سے بی ایل اے کی  بطورایف ٹی او نامزدگی پاکستان کے دیرینہ سیاسی مطالبات میں سے ایک کو پورا کرتی ہے اور اس طرح یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی وسیاسی کامیابی ہے جو ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کو بھی مضبوط کر سکتی ہے۔ تاہم ایف ٹی او کی نامزدگیوں کی تاریخ اور بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے مخصوص عوامل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ (محض) یہ نامزدگی بی ایل اے کو نمایاں طور پر کمزور کرنے یا اسے ختم کرنے کے لیے کافی نہیں جب تک کہ انتظام و انصرام میں دیگر تبدیلیاں (بھی) نہ لائی جائیں۔

سیکیورٹی اور سیاسی مضمرات

پاکستان کے لیے بی ایل اے اور مجیدبریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان خود ’’دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط فصیل‘‘ کے طور پر کام کر رہا ہے اور پاکستان کے اس دعوے کی توثیق کرتا ہے کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو بلوچ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے لڑنے کے بجائےخوف و ہراس اور انتشارپھیلاتی ہے۔ریاست کا طویل عرصے سے یہ موقف ہے کہ بی ایل اے پروپیگنڈا اور نوجوانان کی انتہاپسندی اور بیرونی طاقتوں کی مبینہ حمایت  پر فروغ پاتی ہے ۔ بلوچستان میں جارحیت پسندانہ تشدد میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر پاکستان اس گروپ کی مقامی جڑیں رکھنے کے دعوے کو کمزور کرنے اور اس کے خلاف حرکی کارروائیاں کرنے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزید برآں یہ نامزدگی ممکنہ طور پر امریکہ-پاکستان تعاون  برائے انسدادِ دہشت گردی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  جیسے مذہبی بنیاد پرست دہشت گرد انتہاپسند گروپوں  کا مقابلہ کرنے کے دائرہ کار سے آگے بڑھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

چونکہ بی ایل اے نے حالیہ برسوں میں حملوں میں شدت پیدا کی ہے، ریاست نے اس  کے اور ٹی ٹی پی جیسے گروپوں کے درمیان فرق کو مبہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی کوایک بنیاد پرست مذہبی نظریاتی (تنظیم) سمجھا جاتا ہے جو جمہوریت اور پاکستانی آئین کو مسترد کرتی ہے اور بڑے پیمانے پر افغان طالبان  کے ساتھ منسلک ے، پاکستانی ریاست کا یہ ماننا ہے کہ بی ایل اے—جس کا ماخذ دیرینہ شکایات، سیاسی نظر اندازی (مارجینلائزیشن) اور ریاست کی متواتر فوجی کارروائیاں ہیں— کو ٹی ٹی پی کے برعکس پیش کرنا بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے تشدد کو جائز قرار دینے کاموجب بنتا ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان تدبیراتی تعاون (ٹیکٹیکل کو آپریشن) کی اطلاعات اسے زیادہ تشویش کا باعث بناتی ہیں۔ایف ٹی او کی نامزدگی سے پاکستانی ریاست کے اس بیانیے کو قانونی حیثیت ملتی ہے کہ اس کے سب سے زیادہ بے چین صوبے کو دراصل کیا مسئلہ لاحق ہے اور یہ اس مسئلے کے ممکنہ حل کے طور پر تعاون  برائے انسدادِ دہشت گردی میں اضافے کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

بی ایل اے کے مالی وسائل کو کم کرنے اور اس کی قیادت کی نقل و حرکت کو محدود کرنےکے علاوہ ایف ٹی او کی نامزدگی  علیحدگی پسند مقاصد کے حامی یا ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بلوچ تارکینِ وطن کی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ بلوچ تارکینِ وطن نے علیحدگی کی تحریک اور صوبے کے وسائل کے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی  پیک) کے نتیجے میں استحصال کے حوالے سے  بیانیہ کو رُخ دینے میں، بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے، اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ مبینہ طور پر جارحیت پسندگروہوں کی مالی معاونت کا ذریعہ بھی ہیں۔

بی ایل اے اور اس کے خودکش حملہ آور یونٹ کو ایف ٹی اوکے طور پر فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان کے معدنی اور توانائی کے وسائل میں سرمایہ کاری کی حالیہ امریکی دلچسپی کے پیش نظر مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ کسی تنظیم کو نامزد کرنے کے لیے تین میں سے ایک معیار یہ ہوتا ہے کہ آیا وہ “امریکی قومی یا اقتصادی مفادات کی سلامتی کو خطرہ” پہنچاتی ہے (یا نہیں)۔ بلوچستان میں ممکنہ امریکی سرمایہ کاری کے ساتھ ، واشنگٹن اب صوبے میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی عملی صلاحیت کو محدود کرنے میں براہ راست دلچسپی رکھ سکتا ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی کسی حد تک تعاون  برائے انسداد دہشت گردی موجود ہے، جیسا کہ صوبے کے سرحدی علاقے سے ایبی گیٹ بم دھماکے کے منصوبہ ساز کی گرفتاری و حوالگی میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعاون سے ظاہر ہوتا ہے۔ پاکستان کے صوبے میں اسلامی ریاست (آئی ایس  پی پی) ، جس کی  نظریاتی اساس قومیت سے بالاتر  (ٹرانس نیشنل) ہے اور صریحاً امریکی مفادات کے لیےخطرہ ہے، بلوچستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے، سو اس بناء پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی بڑھ سکتا ہے۔

سی  پیک کے مرکز اور تانبا اور معدنیات کے استخراج میں بھاری  چینی سرمایہ کاری والے بلوچستان میں انسداد دہشت گردی میں امریکہ کا برترکردار بیجنگ کے لیے مشکل بھی  پیدا کر سکتا ہے اور اس کو بہتر بھی  بناسکتا ہے۔ متصورہ  ناانصافیوں، مقامی رضا کے بغیر وسائل کااستحصال اور آبادیاتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بی ایل اے  نے 2018 سے انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں اور چینی شہریوں کو مسلسل ہدف بنایا ہے تاکہ بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان بے اعتمادی پیدا کر کے  اور علاقائی رابطہ کاری و بین السرحدی تجارتی راہداریوں کے ان کے مشترکہ وژن میں خلل ڈال کر سی  پیک کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس حکمت عملی نے چین-پاکستان تعلقات پر قابلِ ذکر دباؤ ڈالا ہے: گذشتہ سال چین کے سفیر نے چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں پاکستان کی ناکامی پر اعلانیہ پریشانی کا اظہار کیا اور خبروں کے مطابق چین  نے پاکستان میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی سیکورٹی تعینات کرنے پر غور کیا۔اگرچہ انسداد دہشت گردی  (کے سلسلےمیں) امریکہ کی موجودگی میں اضافہ خطے میں خدشات بڑھا سکتا ہے اور جغرافیائی سیاسی تناؤ  پیدا کر سکتا ہے، تاہم  چین کے تزویراتی اور اقتصادی مفادات کے لیے (اس) اہم خطے میں سیکیورٹی کو بہتر بنا کریہ بالواسطہ طور پر چین کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ 

ایف ٹی او نامزدگی کی حدود

ایف ٹی او کی نامزدگی — جو بنیادی طور پر مالی پابندیاں ، ترک وطن پرپابندی (امیگریشن  ریسٹرکشن) یا قومی سلامتی کے نام پر دیگر پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے — کی اثر آفرینی مالی اعانت کے ماخذ اور  جارحیت پسندتنظیم کی امریکہ اور اس کے مالی نظام پر انحصار پر دارومدار رکھتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بلوچ علیحدگی پسند گروپ بعض امریکی نمائندوں کی جانب سے کچھ غیر معمولی حمایتی بیانات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ بی ایل اے کے امریکہ میں مالی اثاثے ہیں یا ان کے رہنما وہاں اکثر سفر کرتے ہیں۔بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی مالی اعانت کی نوعیت پر دستیاب قلیل عوامی ڈیٹا مختلف ذرائع کی نشاندہی کرتا ہے، جن میں بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پھلتی پھولتی غیر رسمی معیشت کے ساتھ ان کے تعلقات، کوئلے کے کان کنوں اور سرمایہ کاروں پر استحصال بالجبر، جو معدنی وسائل کے استخراج اور  ملک کے دیگر حصوں میں اس کی منتقلی میں ملوث ہیں اور پڑوسی ممالک کی مبینہ مالی معاونت شامل ہیں۔ یہ سب قانون کی حدود سے باہر سرگرمِ عمل ہیں اور ان کے ذرائع زیادہ تر امریکی قانونی یا مالیاتی نظام کی پہنچ سے باہر کام کرتے ہیں۔

اگرچہ امریکہ جیسی عالمی سپر پاور کی جانب سے ایف ٹی او کی نامزدگی  علامتی اور سفارتی اہمیت رکھتی ہے، تاہم اس کادہشت گرد تنظیموں کو کمزور یا ختم کرنے کا سبب بننا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کا  ان کی دہشت گرد حملے کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ضروری ہے۔ حماس، حزب اللّٰہ اور کردش ورکرز پارٹی  سمیت کئی عسکری تنظیمیں، جن سب کو1997میں ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا تھا، آج بھی مضبوط عسکری اداروں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔پاکستان میں ہی  ٹی ٹی پی کو 2010 میں ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا؛ اس نامزدگی کے باوجود ٹی ٹی پی گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان کے لیے سب سے خطرناک داخلی سیکورٹی خطرہ رہا ہے۔ اگرچہ اسے 2015 اور 2019 کے درمیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ گروپ ایک زبردست خطرے کے طور پر دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ نظریات، طویل المدتی شکایات اور انتہاپسندانہ مطالبات سے پنپنےوالے داخلی تنازعات کی پیچیدہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے — جو بی ایل اے کے پاکستانی ریاست کے خلاف موقف کی بھی خصوصیت ہے۔

 ٹرمپ انتظامیہ کا سیاسی رُخ موڑ لینے کا رجحان معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے جیسا کہ پاکستان  نے ان کے پہلے دور میں سہا اور جس کا اس وقت بھارت سامنا کررہا ہے۔ ایف ٹی او کی نامزدگی کے باوجود بی ایل اے اور  بیشتر بلوچ علیحدگی پسند گروپ براہِ راست امریکی مفادات کے لیےخطرہ نہیں بنے؛  ہربیار مرّی کے زیرِ قیادت بی ایل اے  کےدھڑے کے علاوہ، ان گروپوں کے بین السرحدی (ٹرانس نیشنل)مقاصد نہیں ہیں۔  بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی ایف ٹی او نامزدگی کا ٹھوس تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کی طرف  لے جانے کا دارومدار عمومی طور پر پاکستان- امریکہ تعلقات کے مثبت رجحان کے جاری رہنےمیں اور خصوصی طور پر امریکی سیاسی سرمایہ کاری پر ہے جس میں بلوچستان کے توانائی اور معدنی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت شامل ہے، تاکہ پاکستان کے اپنے سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

بغاوت کی مقامی جڑوں سے نمٹنا

بی ایل اے کی خطرے  کے طور پر بین الاقوامی شناخت اور اس کی ایف ٹی او کی نامزدگی  یقیناً پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے اور اس کے اس  بیانیہ کے لیے بھی کہ بی ایل اے ایک جائز تنظیم کے بجائےایک دہشت گرد جماعت ہے۔یہ واشنگٹن کے ساتھ اس کی حرکی کارروائیوں کی حمایت میں ممکنہ تعاون برائے انسداد دہشت گردی کے مواقع بھی کھولتا ہے ۔ لیکن ایک باغیانہ تحریک کے تناظر میں جو زیادہ مہلک اور پیچیدہ ہوتی جارہی ہے، مقامی شکایات اور عدم اطمینان کو بدلتے ہوئے علاقائی محرکات اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کے ساتھ الجھاتی ہے،  بی ایل اے کی محض  نامزدگی اس طویل المدتی پیچیدہ مشکل کو حل نہیں کر سکتی۔علاقے میں پائیدار امن اور خوشحالی کا انحصارایسی پالیسیوں پر ہوگا جو تنازع کے بنیادی اسباب کو حل کرسکیں۔

الغرض بلوچستان میں بغاوت کی سیاسی اور اقتصادی جڑیں گہری  ہیں جو کئی دہائیاں پرانی ہیں۔ریاست اور بلوچ آبادی کے درمیان کشیدہ تعلقات دیرینہ شکایات، اقتصادی محرومی کےاحساس اور سیاسی حقوق پر جبر کے باعث ہیں۔موجودہ علیحدگی پسند بغاوت بلوچستان کی تاریخ میں سب سے طویل تنازعہ  اور  پانچویں لہرِ تشدد ہے، جو صوبے کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر رہی ہے اور اپنی صفوں میں خواتین سمیت مسلسل بھرتیوں کو راغب کر رہی ہے۔ یہ رجحان بلوچ آبادی کے کچھ طبقات میں بی ایل اے اور اسی طرح کے گروپوں کی مسلسل اور حقیقتاً  بڑھتی ہوئی کشش کی عکاسی کرتا ہے۔

علیحدگی پسند تحاریک سیاسی انضمام کی کمی اور سیاسی اختلاف رائے اور شکایات کے لیے کم گنجائش دینے کے سبب اُبھرتی ہیں۔ اس لیے بی ایل اے اور اس کے عرف مجیدبریگیڈ، ملک کےسب سے بڑے صوبے سے ریاستی غفلت کی علامات ہیں، جو اپنی  حمایت برگشتہ نوجوان طبقے سے حاصل کرتے ہیں۔ریاست کی انسدادِ بغاوت کی پالیسی کو ایک جامع سیاسی وژن کی رہنمائی میں ہونا چاہیے، جس میں ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیا جائے—جیسا کہ فوجی قوت کا کثرت سے استعمال اور صوبے کے معدنی و توانائی کے وسائل کا مقامی لوگوں کوفائدہ  پہنچائے بغیر استحصال—اور ایسی پالیسیوں کو سی پیک اور سینڈک پراجیکٹ کے حوالے سے برقرار رکھنے سے اجتناب کیا جائے۔ اس وژن کو منصفانہ انتخابات کے ذریعے ایک قدرتی سیاسی عمل کو بڑھنے کی اجازت دینی چاہیے، لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کو سامنے لانا چاہیے اور اس صوبے کے لوگوں (کے احوال) کی اصلاح کرنی چاہیے جہاں کثیرالجہتی غربت کی شرح 70 فیصد سے زائد اور زچگی میں اموات کی شرح قومی اوسط سے دُگنی ہے۔پاکستان کی حرکی کوششیں صرف دیرینہ اور سیاسی شکایات کا سامنا کرکے اور ایک مؤثر ریاستی  بیانیہ، جو مقامی آبادی کو اپنی طرف راغب کرے،  پیش کرکے پائیدار استحکام اور امن میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

This article is a translation. Click here to read the article in English.

 
Share this: