بھارت کے ساتھ مئی 2025 کے تنازعے کے فوراً بعد جس میں پاکستان نے فوجی اہداف کے خلاف گائیڈڈ فتح راکٹ سیریز کا استعمال کیا، اسلام آباد کا اپنے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر آرمی راکٹ فورس کمانڈ (اے آر ایف سی) کے قیام کا اعلان بہت سے لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بنا۔ اے آر ایف سی کا قیام پاکستان کے میزائل سسٹمز سے متعلق اس کے سابقہ رویے کی تبدیلی کا مظہر ہے، جو اپنے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے تحت روایتی اور جوہری وار ہیڈز دونوں کو شامل کرتا تھا اور ہدف بندی میں وضاحت کے بجائے ابہام کو ترجیح دیتا تھا۔ یہ امر اے آر ایف سی کی افادیت، اس کےنظریاتی ابہام اور جوہری خدشات پر اثرات اور اس کی مجموعی روک تھام کی قدر سے متعلق سوالات اُٹھاتا ہے۔ گہراتجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آر ایف سی مئی 2025 کے بحران کی بدولت سامنے آنے والے پریسیژن سٹرائیک کی محدود خلا کو میزائل کے روایتی جوابی حملوں کو ادارہ جاتی صورت دے کر پُر کرتا ہے اور ساتھ ہی جوہری اور روایتی صلاحیتوں کو علیحدہ کر کے جوہری خدشات کو کم کرتا ہے۔ تاہم متناقض طور پر مستقبل کے بحران میں پاکستان کی روایتی میزائل صلاحیتوں کے استعمال کے ظاہری عزم کے ساتھ ساتھ بھارت کا خطرہ مول لینے کا رجحان،مستقبل کے تنازعات کو ان کے آغاز ہی سے زیادہ تباہ کن بنا سکتا ہے۔
علاقائی اور داخلی عوامل
جنوبی ایشیا میں مخصوص میزائل فورس رکھنے کی علاقائی مثالیں موجود ہیں۔ چین نے کافی پہلے 1966 کے لگ بھگ اپنی دوسری آرٹلری کور قائم کی، جسے بعد میں پیپلز لبریشن آرمی راکٹ فورس (پی ایل اے آر ایف) کا نام دیا گیا۔سال 2021 میں، چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی میزائل اور جوہری عدم مساوات کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے ایک انٹیگریٹڈ راکٹ فورس (آئی آر ایف) قائم کرنے کی تجویز دی۔ روس اور یوکرین کی جاری جنگ اور 2025 کے ایران-اسرائیل تنازع نے بھی جدید پریسیژن سٹرائیک کی جنگ میں میزائلوں کی عسکری افادیت اُجاگر کی ہے۔ تاہم پی ایل اے آر ایف کے مقابلے میں، جو روایتی اور جوہری دونوں میزائل چلاتا ہے، آئی آر ایف اور اے آر ایف سی صرف روایتی میزائلوں کے ذخائر کے لیے مخصوص ہیں۔
قابل بحث امر یہ ہے کہ پاکستان کا اے آر ایف سی کے قیام کے اعلان کے لیے سب سے مضبوط محرک ممکنہ طور پر مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والا بحران رہا۔ روایتاً، وسائل کی غیر مساوی محدودیت نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنے کئی میزائل سسٹمز کو آئی ایس پی آرکے بیانات میں دوہری صلاحیت کا اہل قرار دے، حالانکہ این سی اےکے تحت وہ بنیادی طور پر جوہری کردار کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ یہ انتظام منصوبہ بندی کے بجائے ضرورت کاعکاس تھا: اس نے پاکستان کو آپریشنل کنٹرول کو مرکز گیر رکھتے ہوئے اپنےمحدود میزائل ذخائر کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کا موقع دیا۔ تاہم اس نے محدود، پریسیژن سٹرائیک حملوں کے لیے دستیاب ڈیلیوری سسٹمز کی اقسام اور کمان کی تغیریت کو بھی محدود کر دیا، جیسے کہ 2019 اور 2025 کے بحرانات کے دوران دیکھا گیا۔اس کے برعکس بھارت دونوں مواقع پر اپنے کروز میزائلوں کے وسیع ذخیرے (اور) براہموس، اور اسکالپ اور ہیمر جیسے پریسیژن گائیڈڈ اسلحے کے استعمال میں زیادہ آزاد تھا۔
مستقبل کے بحران میں پاکستان کی روایتی میزائل صلاحیتوں کے استعمال کے ظاہری عزم کے ساتھ ساتھ بھارت کا خطرہ مول لینے کا رجحان،مستقبل کے تنازعات کو ان کے آغاز ہی سے زیادہ تباہ کن بنا سکتا ہے۔
سال 2019 اور 2025 کے بحرانات کے دوران پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں عملی مہارت اور معتبرسدِّ راہ کے جوہر دکھائے۔ پاکستان آرمی کا آپریشن بنیان المرصوص کے تحت کارروائی کرنے کے باوجود اس امر کے شواہد کم ہیں کہ وہ اپنے تمام مطلوبہ ہدفی مقامات کو بھارتی رکاوٹ کے بغیر نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہو۔ پاکستان کی فوج کی طرزِ حکومت میں مرکزی حیثیت کے پیش نظر، اے آر ایف سی اسے مستقبل کے بحرانات کے دوران مزید وسائل فراہم کرے گا۔
ایک اور عنصر جس نے اے آر ایف سی کے قیام کو ہوا دی، وہ فوج کی اندرونی حرکیات ہیں۔ انفنٹری (فوجی دستے)، آرمر (بکتر بند)، اور آرٹلری ( توپ خانہ )سمیت فوج کی لڑنے والی شاخوں میں اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) ہمیشہ آرٹلری کے جنرلز کا میدان رہا ہے؛ کیونکہ نظریاتی طور پر آرٹلری کے افسران کی ڈیلیوری طبیعیات، ہتھیاروں کے انتظام اور دیگر تکنیکی پہلوؤں سے واقفیت انہیں نیو کلئیر ڈیلیوری سسٹمز کی عملیاتی جہتوں کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔ 2000 کے اوائل سے 2017 تک یہ امر درست تھا، حتیٰ کہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار، ایک آرمرافسر کی ایس پی ڈی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر (2017 میں) تعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد ایک اور آرمر اور ایک انفنٹری افسر نے قیادت سنبھالی، جس نے کسی بھی اہل افسر کے لیے موزوں ڈی جی ایس پی ڈی کی بطورایک انتظامی اور ترقیاتی عہدے کے ادارہ جاتی نظریے کی عکاسی کی۔تاہم اے آر ایف سی کے ساتھ ایک اور آرٹلری افسر کی دوبارہ اس پوسٹ کی کمان کرنے کے امکان کا پاکستان کی تزویراتی کمیونٹی میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نظریاتی ابہام اور جوہری خدشہ
مئی کے بحران کے بعد سے اس بات پر دعوے اور جوابی دعوے کیے گئے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دشمنیوں کا پیمانہ استحکام بسبب سدِّ باب کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے ’’نیو کلئیر بلف‘‘ (جوہری دھونس) کو بے نقاب کیا ہے اور ایک ’’نیو نارمل‘‘ (نیا معمول) قائم کیا ہے۔ پاکستان نے اسے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ اس کی بھارتی متحدہ حربی گروپوں کے خلاف نصر کو استعمال کرنے کی کم از کم جوہری حد (نیو کلئیر تھریش ہولڈ) پار نہیں ہوئی۔ بحث کو چھوڑ کر، ایک سابق ایس پی ڈی اہلکار کا کہنا ہے،’’اگر طاقت کااستعمال کرنا پڑے تو تعریف کے مطابق قوّتِ مزاحمت [ڈیٹیرنس] ناکام ہو چکی ہے‘‘۔
تاہم پاکستانی نقطہ نظر سے یہ بحران رسمی طور پر نہ تو روایتی اور نہ ہی جوہری سدِّ باب (نیو کلئیر ڈیٹیرنس) کی ناکامی کی نمائندگی کرتا ہے۔ منظرِ عام پر آنے والی جنگ مکمل پیمانے کی روایتی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ پریسیژن (انتہائی درست) صلاحیتوں کا ایک محدود مقابلہ تھا جس نے روایتی اور ثانوی روایتی عملی کارروائیوں کے درمیان سرمئی خلا (عدم وضاحت) کو اجاگر کیا۔ محدود، پریسیژن سٹرائیک سپیس کے اس وسطی میدان میں سدِّ باب (ڈیٹیرنس) ناکام رہا—جس کا دونوں جانبین نے وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا کیے بغیر استحصال کرنے کی کوشش کی۔ اے آر ایف سی کو میزائل کے روایتی جوابی حملوں کے اختیارات کو مضبوط بنا کر اور ضمنی طور پر روایتی سدِ باب (کو بہتر) کرکے اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تاہم اسٹینڈ آف (طویل فاصلے سے مار کرنے والے) میزائل صلاحیتوں کے استعمال کے لیے یہ آمادگی پاکستان کے شفافیت کےبجائے ابہام کو ترجیح دیتے جوہری نظریے میں ایک تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان کے جوہری اصولوں میں کیا شامل ہے، اے آر ایف سی اس کے بارے میں کوئی نئی بصیرت پیش نہیں کرتا، تاہم یہ ان نکات کی وضاحت کرتا ہے جو اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اس سے مرادیہ ہے کہ پاکستان کی نیو کلئیر تھریش ہولڈ ( کم از کم جوہری حد) کو عبور نہیں کیا جائے گا اگر بھارت اسٹینڈ آف میزائل استعمال کرتے ہوئے فوجی اڈوں اور بڑےشہروں میں مبینہ عسکریت پسند گڑھوں پر حملہ کرے، کیونکہ پاکستان اب اسی قسم کی جوابی کارروائی کرے گا۔اصولی شفافیت کے ذریعے پاکستان تزویراتی سدِّ باب میں مزاحمت کی جو قدر کھو دیتا ہے، اب اسے وہ اے آر ایف سی کے ذریعے روایتی سدِّ باب میں حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔
اس طرح اے آر ایف سی کا قیام روایتی اور جوہری تنازع کے درمیان ایک مؤثر سدِّ راہ بن جاتا ہے، جس سے جوہری استعمال کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔روایتی اور جوہری ڈیلیوری سسٹمز کے درمیان یہ علیحدگی علاقائی اور بین الاقوامی برادری کے لیے خوش آئند خبر ہے جو پاکستان کی کم جوہری حد اور جوہری جنگ کے منصوبوں سے متعلق خدشات کے باعث کشیدگی بڑھنے کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ تاہم، بحران یا تنازع کے دوران روایتی طویل فاصلے سے مار کرنے کی صلاحیتوں کے استعمال کا رجحان غیرمتوقع نتائج اور حادثات کے امکان کو بڑھا دے گا، جس کے نتیجے میں کم وقت میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح اگرچہ جوہری تصادم میں لاکھوں افراد کے ہلاک ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے،مگر روایتی میزائل جنگ میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی یقینیت بڑھ جاتی ہے۔

کیا اے آر ایف سی سدِّ باب کر پائے گی؟
اے آر ایف سی کے بجٹ کے قابل جو بنیادی سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا یہ بھارتی قیادت کو محدود پریسیژن سٹرائیکس کرنے سے روک پائے گی یا نہیں۔2019 کے بعد بھی پاکستانی فیصلہ سازوں کا دعویٰ تھا کہ قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) بحال ہو گئی ہے تاہم مئی 2025 کا بحران پھر بھی پیش آیا۔گو کہ یہ امر درست ہے کہ پاکستان 2019 اور 2025 کے تنازعات کے دوران فضا اور زمین دونوں پر اپنے عسکری عزم کا مؤثر مظاہرہ کرکے بوقتِ جنگ/ تصادم مزاحمت (ڈیٹیرنس) پیش کرنے میں کامیاب رہا، تاہم مستقبل کے بحران کی کار گزاری اور استحکام بسببِ سدِّ باب کا دارومدار اے آر ایف سی کی انسدادی مؤثریت پر ہوگا۔
ای آر ایف سی کے لیے صلاحیتوں کی شرائط
پاکستان کا مقصد اے آر ایف سی کے توسط سے بھارتی منصوبہ سازوں کو یقینی جوابی کارروائی کے ذریعے سزا کے خطرے کے سبب روکنا ہے۔اے آر ایف سی کی تشکیل سے قبل ہی فتح 1 اور 2 کی تکمیل کے باعث توجہ نیویگیشن (رہنمائی)، ٹریجیکٹری (راہ گزر) اور مینووریبیلیٹی (حرکت پذیری) پر ہو گئی ہے تا کہ میزائل کے دفاع میں کیے گئے اقدامات سے بچتے ہوئے اہداف کا درست نشانہ لیا جا سکے۔ فتح 4 کروز میزائل کی ‘رسائی، ہلاکت خیزی اور بقا‘ پر زور دینے کے ساتھ اس کی زمین کے قریب رہنے کی صلاحیت، یہ بھی پیش آگاہ کرتی ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی روایتی میزائل ترقی کا مرکز میزائل دفاع سے بچاؤ اور درستگی پر ہوگا تاکہ کامیاب جوابی حملے کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل کے بحران کی کار گزاری اور استحکام بسببِ سدِّ باب کا دار و مدار اے آر ایف سی کی انسدادی مؤثریت پر ہوگا۔
تاہم 10 مئی کو پاکستانی فتح میزائلز کو بھارتی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکنے کے دعوے، ساتھ ہی بھارت کے اولوالعزم مشن ‘سدرشن چکرا‘—جو 2035 تک تمام تزویراتی اور شہری انفرا اسٹرکچر کو اپنے احاطے میں لانے کے لیے ایک مقامی مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی منصوبہ بندی کررہا ہے— پاکستانی جوابی اقدامات کی فوری ضرورت ہوگی۔ مستقبل کے بحران میں اے آر ایف سی کو بھارتی دفاع کو چکمہ دینے اور اہداف کادرست نشانہ بنانے کے لیے معیاری اور مقداری ترقی دونوں کی ضرورت ہوگی۔ میزائل دفاع کو بہتر طور پرشکست دینے کے لیے یہ سپرسونک اور بالآخر ہائپرسونک میزائل سسٹمز میں سرمایہ کاری کے زیادہ امکانات پیش کرے گا۔
معتبریت اور واضح اشاروں کی ضرورت
تین سیز—کیپابیلیٹی (قابلیت)، کریڈیبیلیٹی (معتبریت) اور کمیونیکیشن (رابطہ کاری)—کے مجموعے کے طور پر، انسداد (ڈیٹیرنس) کے لیے پاکستان کو یہ واضح اور قابل اعتبار طریقے سے بیان کرنا ہوگا کہ وہ مستقبل کے بحران میں بھارت کے خلاف اے ایف آر سی کو کیسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مئی کے بحران کے دوران فتح 1 اور 2 میزائلوں کو فضائی اور فوجی اڈوں، ذخیرہ کے مقامات، فضائی دفاعی نظاموں اور ریڈار سائٹس کو ہدف بنانے کے لیے ایک جوابی طاقت کے کردار میں استعمال کیا گیا۔تاہم بھارت نے جنگ بندی کے اعلان سے کچھ ہی قبل اسٹینڈ آف میزائلز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی فضائی اڈوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی (بھارتی) محفوظ تر عسکری اہداف کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکامی سے بھارتی قیادت کی مکمل طور پر حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔
لہذا، مؤثر مزاحمت (ڈیٹیرنس)کے لیے بھارتی قیادت کے لیے سیاسی فوائد کے لیے محدود درستگی والے روایتی حملوں کا تصور ہی بہت بھاری ہونا چاہیے۔اس کے لیے پاکستان کو محض جوابی فوجی اہداف کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے بلکہ کچھ ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی ضرورت ہےجو بڑے اقتصادی نقصان کا باعث بن سکیں، تاکہ دشمن کی انتقامی کارروائی کو روکا جا سکے۔ پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے اس حوالے سے پہلے ہی کچھ اشارے دیے جا چکے ہیں: اکتوبر میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خبردار کیا کہ پاکستان بھارتی جارحیت کے جواب میں ‘تناسب سے متجاوز‘ اور ‘منتقمانہ فوجی اور اقتصادی نقصانات‘ کے ساتھ جواب دے گا۔فیلڈ مارشل کی مشہور ‘ڈمپ ٹرک’-‘مرسیڈیز’ تمثیل کے ساتھ ساتھ گجرات میں تیل کی بڑی بھارتی ریفائنری کا واضح ذکر بھی اس نکتہ کو متاثر کن بناتا ہے۔ایسی اعلانیہ ہدف بندی کی حکمت عملی بھارتی میزائل دفاعی نظام کے لیے دباؤ پیدا کرے گی، جو پہلے ہی جغرافیائی اور تکنیکی چیلنجز کی وجہ سے محدود ہے اور انہیں فوجی یا اقتصادی اہداف کی حفاظت کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کرے گی۔
استحکام بسببِ بحران کے مضمرات
تاہم یہ نئی ہدفی حکمت عملی، بھارتی خطرہ مول لینے کے رجحان کے ساتھ اور حقیقی بحران کے انتظام اور تنازعات کے حل کے کسی بھی مؤثر طریقہ کار کی غیر موجودگی، پہلے سے ہی غیر مستحکم تزویراتی ماحول کو اور بھی تیز ی سے بڑھنے والی پرتشدد کشیدگی کے لیے موزوں بنا دے گی۔مئی 2025 جیسے مستقبل کے کسی منظرنامے کا آغاز کشیدگی کے زینے کے ایک بلند درجے سے ہوگا، جس میں کم سیاسی احتیاط اور زیادہ ہلاکت خیزی کے ساتھ فوجی اور صنعتی اہداف پر وسیع پیمانے پر پریسیژن سٹرائیکس شامل ہوں گی۔ یہ دوسرے فریق کو اس کے جواب میں اور بھی بڑا ردعمل دینے پر مجبور کرے گا، جس کے نتیجہ میں انسانی، فوجی اور اقتصادی نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے جتنا کہ جنوبی ایشیا نے اعلانیہ جوہری قوت بننے کے بعد سے دیکھے ہیں۔کسی بھی حد بندی کی غیر موجودگی ممکنہ طور پر کئی سالوں تک اس خطے میں تزویراتی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی رہے گی۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: Wikimedia Commons
Image 2: Yeddulas at Wikimedia Commons