مئی 2025 کے پاک-بھارت بحران نے ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی قوّتِ مزاحمت کے ڈھانچے (ڈیٹیرنس آرکیٹیچر) کی نزاکت کو اُجاگر کیا ہے۔ گو کہ اس کا آغاز ایک مقامی تصادم کے طور پر ہوا تاہم اس کا تیزی سے بڑھ جانا اس امر کا اظہار ہےکہ کس طرح غلط فہمیاں، نظریاتی ابہام اور روایتی عدم توازن علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ایسے اہم بحران کے بعد یہ امر مفید ہے کہ تزویراتی استحکام کے تصور کے طور پر جنوبی ایشیا پر اس کے اطلاق ، بھارت اور پاکستان کے درمیان قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) سے متعلقہ نازک تعلق کے مستقبل کے مضمرات اور مستقبل میں استحکام کی بحالی کے لیے اختیارات کا جائزہ لیا جائے۔
تزویراتی استحکام کی تعریف
تزویراتی استحکام کو عموماً تین مربوط پہلوؤں کے ذریعے سمجھا جاتا ہے: استحکام بسبب پہلا حملہ (فرسٹ سٹرائیک) استحکام بسبب بحران، اور استحکام بسبب ہتھیاروں کی دوڑ۔تھامس شیلنگ اور مورٹن ہیلپرن نے اسے اس صورت کے طور پر بیان کیا جس میں کسی بھی فریق کے پاس پہلے حملہ کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ہوتی، حتیٰ کہ بحران کے لمحات میں بھی۔ اسی بنیاد پر جیمز ایکٹن نے جوہری پہلے استعمال (فرسٹ یوز) کے لیے ترغیبات کی عدم موجودگی، فوجی طاقت بڑھانے میں احتیاط اور جوہری طاقتوں کے مابین مسلح تنازعے سے گریز کو شامل کر کے اس تصور کو آگے بڑھایا۔
ان ضوابطِ کار (فریم ورکس) کی بنیاد جوہری مزاحمت (ڈیٹیرنس) ہے، جو بلند ترین استحکام اس وقت حاصل کرتی ہے جب دونوں فریقین دوسرا حملہ (سیکنڈ سٹرائیک) کرنے کی یقینی صلاحیت اور سخت حالات کا مقابلہ کرنے والے ہتھیاروں کا متناسب ذخیرہ برقرار رکھتے ہوں۔ محض برابری استحکام کی ضمانت نہیں دیتی، لیکن قابلِ اعتماد قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) غلط اندازے اور کشیدگی میں غیر ارادی اضافے کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
گو کہ اس کا آغاز ایک مقامی تصادم کے طور پر ہوا تاہم اس کا تیزی سے بڑھ جانا اس امر کا اظہار ہےکہ کس طرح غلط فہمیاں، نظریاتی ابہام اور روایتی عدم توازن علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر تزویراتی استحکام کے لیے خطرات
عالمی سطح پر تزویراتی استحکام کی ساخت شدید دباؤ میں ہے۔مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں سے پاک خطے کا خواب ابھی تک مبہم ہے، جبکہ ممکنہ جنگ بندی کے آثار نظر آنے کے باوجود غزہ کے تنازع نے علاقائی غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ روس-یوکرین جنگ نے واشنگٹن-ماسکو کے تزویراتی مذاکرات کو متاثر کیا ہے اور مفاہمت کے امکانات محدود نظر آ تے ہیں۔ توسیع کردہ نیو اسٹارٹ معاہدے کو—جو امریکہ-روس کے ہتھیاروں کے کنٹرول کا بچنے والا آخری انتظام ہے—ناگزیر غیر یقینی صورتحال کاسامناہے، حالانکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے فروری 2026 میں معاہدے کی ممکنہ میعاد ختم ہونے کے بعد مزید ایک سال تک اس کی پابندی کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پچھلی ٹرمپ انتظامیہ نے ہتھیاروں کے کنٹرول کے مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں چین کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔
دریں اثنا، بڑی طاقتوں کے درمیان رقابتیں بڑھتی جا رہی ہیں، جن میں تعاون کے بجائے یکطرفگی اور مسابقت کے پہلوزیادہ نمایاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس اے آئی)، اینٹی سیٹیلائٹ (اے ایس اے ٹی) ویپنز، ہائپر سونک گلائیڈ وہیکلز (ایچ جی ویز)، ہائپر سونک گلائیڈ وہیکلز، اور لیتھل اٹونومس ویپنز سسٹمز (ایل اے ڈبلیو ایس) سمیت اُبھرتی طرزیات (ایمرجنگ ٹیکنالوجیز) نئی مشکلات پیش کرتی ہیں، جو عالمی قواعد کی عدم موجودگی کے باعث پیچیدہ تر ہو جاتی ہیں۔یہ جدتیں دنیا بھر میں تنازعات کی ہلاکت آفرینی بڑھانے، کشیدگی میں اضافہ کرنے اور استحکام بسببِ قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) کی اہمیت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔آج کے دور میں بہت کم مقامات پرجنوبی ایشیا جتنے زیادہ خطرات ہیں۔
بھارت-پاکستان عظیم طاقتوں کی مسابقت کے سائے میں
بھارت اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین دو بحرانات نے خطے میں استحکام بسببِ قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس)کے لیے ایک تشویشناک مثال قائم کی ہے۔ فروری 2019 کے پلوامہ-بالاکوٹ بحران میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کو روکنے کے لیے ایک بھارتی جوہری آبدوز تعینات کی گئی تھی؛ مئی 2025 کی محاذ آرائی میں جوہری اشارے خاموش تھے تاہم نئی صلاحیتوں کے باعث روایتی کشیدگی تیزی سے بڑھی۔ایسے بحرانات کے نتائج جنوبی ایشیا کے اندر اور باہر شدّت سےمحسوس کیے جاتے ہیں۔
تاہم ایسے لمحات خلا میں رونما نہیں ہوتے—نہ تو خطے میں اور نہ ہی دنیا بھر میں۔ جسےکچھ لوگوں نے ‘تدریجی جرأت مندی‘ کہا، اس نے 2010 کی دہائی کے دوران نئی دہلی میں عسکری بالا دستی کا احساس پیدا کیا اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس تصور نے مئی 2025 کے بحران میں براہ راست حصہ ڈالا۔ کچھ محققین اور تجزیہ کاروں نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے فوجی اعتماد کو چین کے ساتھ اس کے بڑھتے دفاعی تعلقات کے ساتھ منسوب کیا ہے؛ تاہم جو بڑا خطرہ مئی کے بحران سے ظاہر ہوتا ہے وہ سر پر منڈلاتے جوہری خطرے کے سائے میں محدود جنگ کی حکمت عملیوں پر حد سے زیادہ اعتماد ہے۔ پاکستان کے مدرج ردعمل اور مؤثر عملیاتی کارکردگی نے قوّتِ مزاحمت میں عدم توازن کے موجودہ مفروضات کو للکارا اور جنوبی ایشیا کے ارتقا پذیر تزویراتی ماحول میں غلط فہمیوں اور دہانہ گیری (برنک مین شپ) کے جاری خطرات کو اجاگر کیا۔
بحر ہند کی نیو کلئیرائزیشن اور خلاء کو ہتھیاروں سے لیس کرنے سمیت جدید کاری کی تیز رفتار کوششیں (پری ایمٹیو) پیشگی حکمت عملیوں کی ترغیب دلاتی ہیں اور بھارت کے ’’نو فرسٹ یوز‘‘ عہد کی معتبریت پر سوال اُٹھاتے ہوئے استحکام بسببِ قوتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) کے لیے ممکنہ خطرات پیش کرتی ہیں۔ بحری مزاحمت کے ساتھ طویل فاصلے تک پہنچانے والے نظام کی ترقی—بالخصوص بھارت کی آبدوز آئی این ایس اریگھاٹ، جس میں اطلاعات کے مطابق K-4 سب میرین سے لانچ ہونے والے بیلسٹک میزائل (ایس ایل بی ایمز) نصب ہیں—سمندر میں بحران کی غیر مستحکم صورتحال کے نئے خطرات پیش کرتی ہے، جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول کی کمزوریاں اور مبہم اشارے کشیدگی میں تیزی سے اضافہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح بھارت کی کاؤنٹر اسپیس (خلائی سسٹمز کے حملوں کا توڑ) اور دوہرے استعمال کی سیٹلائٹ صلاحیتوں کی تلاش نے شہری اور عسکری شعبوں کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے، جس سے مستقبل کے تنازعے میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔گو کہ پاکستان نے سمندر میں دوسرا حملہ کرنے کی معتبر صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے محتاط اقدامات کیے ہیں، خطے میں مجموعی رجحان بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور بحران کی پیش گوئی کی گھٹتی ہوئی صلاحیت کا ہے۔ جب نظریاتی قطعیت اور سیاسی مجبوریوں نے دونوں فریقین کو خطرناک حد تک غلط اندازوں کے قریب دھکیلا، مئی 2025 کا تصادم ان خطرات کی تصویر نمایاں طور پر پیش کرتا ہے۔

جنوبی ایشیا کی پالیسی پر امریکہ کا از سرِ نوغور؟
حالیہ برسوں میں واشنگٹن نے اُبھرتے ہوئے جارحانہ چین کو متوازن کرنے کے لیے بھارت کی پشت پناہی کی ہے۔ نئی دہلی امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ کواڈ کا ایک مرکزی رکن ہے، جس کا مقصد انڈو پیسیفک میں چینی اثر و رسوخ پرقابو پانا ہے۔ ایل ای ایم او اے، سی او ایم سی اے ایس اے، اور بی ای سی اے جیسے بنیادی معاہدوں نے غیر معمولی سطح کے بھارت -امریکہ عسکری تعاون کو ادارتی صورت دی ہے۔اگرچہ ان کا بنیادی مقصد چین کے توازن کو برقرار رکھنا ہے، یہ اتحاد بھارت کو خطے کے ہمسایہ ممالک کے خلاف زیادہ جارحانہ رویے اختیار کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔بھارتی حکام اکثر اس رویے کو بڑھتی ہوئی چین-پاکستان شراکت داری کا ردِّ عمل قرار دیتے ہیں، تاہم یہ تصور بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری رسائی کی غیر مستحکم کرنے والی صلاحیت کو کم کرنے میں زیادہ مدد نہیں دیتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ‘نظریۂ ٹرمپ‘ یا حقیقت شناس محتاط حکمت عملی پر مبنی خارجہ پالیسی نے بحران کے دوران اور بعد میں امریکہ کے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو نئے سرے سے متعین کیا ہے۔تاہم واشنگٹن کی جانب سےاسلام آباد کی بظاہر توقیری اور نئی دہلی کی اچانک کم توقیری کے باوجود بھارت اب بھی امریکہ کے ساتھ متعدد بنیادی معاہدوں میں ثابت قدمی سے منسلک ہے، جو اس کے ممکنہ کم ترجیحی مگر چین کو محدود کرنے کے وسیع تر امریکی مقصدسے ہم آہنگ ہیں۔ ایس آئی پی آر آئی (اپریل 2025) کے مطابق امریکہ، چین، روس اور جرمنی کے بعد بھارت دنیا کا پانچواں بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک ہے۔
مغربی عسکری حمایت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ نئی دہلی نے بیجنگ کے ساتھ اقتصادی تعاون کے تعلقات بھی برقرار رکھے ہیں: چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت 2023-24 میں 136.2 بلین امریکی ڈالر تک پہنچی، جو 2021-22 کی 73.3 بلین امریکی ڈالر(مالیت) سےتقریباً دوگنا ہے۔بھارت کی چین کے ساتھ اقتصادی معاملت داری کا درجہ مستقبل میں چین کے مقابلے کی کسی بھی جارحانہ مہم میں امریکہ کے ساتھ شامل ہونے کی بھارتی صلاحیت اور رغبت سے متعلق شکوک پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح صدر ٹرمپ کا بار بار یہ اصرار کہ بھارت روس سے فروری 2022 سے بڑھ جانے والی خام تیل کی درآمدات بند کرے—ایک ایسا اقدام جو بھارت نے بائیڈن انتظامیہ کی غیر واضح درخواست پر کیا تھا—امریکی توقعات اور بھارتی تزویراتی اختیارات کے درمیان ایک نیا اختلاف ظاہر کرتا ہے۔
واشنگٹن کا بھارتی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کا حالیہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے ساتھ اپنے رویے کے از سرِ نو تعین کی کوشش کا عکاس ہے؛ اگر ایساجاری رہا تو اس تعین کی بدولت امریکی پالیسی سازوں کے ہاتھوں پچھلے چند سالوں میں نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی جرأت مندی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو جنوبی ایشیا میں استحکام بسببِ قوّتِ مزاحمت کی بحالی میں معمولی حصہ ڈال سکتا ہے۔تاہم تجارتی تنازعات کے نشیب و فراز سے آگے، اس غیر مستحکم خطے میں ایک اور تصادم کی راہ کو سست کرنے کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔
سیاسی گفت و شنید کی تجدید، علاقائی اسلحہ کنٹرول کے اقدامات اور بڑی طاقتوں کی جانب سے زیادہ محتاط رویے کی غیر موجودگی میں یہ خطہ ایسے تصادم کے تسلسل کو دوام دینے کےخطرے میں ہے جو بار بار جوہری حدوں کو آزماتا ہے۔
مستقبل کی راہ: جنوبی ایشیا میں امن کو یقینی بنانا
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سہ طرفی طرزِ نظر درکار ہے: تنازعات کا حل، اسلحے پر کنٹرول اور تزویراتی استحکام کے لیے ایک مضبوط لائحۂ عمل (فریم ورک)۔ایسے اقدامات باہمی سمجھوتے کو بڑھانے، جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے تباہ کن نتائج کی پہچان کو مضبوط کرنے اور صلاحیتوں پر متفقہ حد بندی کے ذریعے ضبط و وقار کو فروغ دینے کے سبب جنگ کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ عالمی اصولوں کو مضبوط بنانا اور انہیں خطے میں وسعت دینا ایک تعاونی حفاظتی ماحول کے قیام کے لیے ضروری ہے۔
مئی 2025 کا بحران یہ سنجیدہ یاد دہانی کراتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام قائم رکھنے کے لیے محض قوّتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) ہی کافی نہیں ہے۔ سیاسی گفت و شنیدکی تجدید، علاقائی اسلحہ کنٹرول کے اقدامات اور بڑی طاقتوں کی جانب سے زیادہ محتاط رویے کی غیر موجودگی میں یہ خطہ ایسے تصادم کے تسلسل کو دوام دینے کےخطرے میں ہے جو بار بار جوہری حدوں کو آزماتے ہیں۔آخرلامر، پرامن بقائے باہمی کو جنوبی ایشیا میں پائیدار خوشحالی، سماجی و اقتصادی ترقی اور طویل المدت سلامتی کے لیے بنیاد کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ اس سیاق و سباق میں تیسرے فریق کی مداخلت کے نایاب اشارے بھی—جیسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر تنازعے پر ثالثی کی پیشکش—ایسےمواقع ظاہرکرتے ہیں جو اگرچہ سیاسی طور پر حساس ہیں، مگر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنوبی ایشیا میں جوہری کشیدگی کے خطرات کو روکنے کے لیے وسیع تر کوششوں کے تحت غور و فکر کے مستحق ہیں۔
دونوں فریقین کے لیے سب سے زیادہ عملی نقطہ آغاز اعتماد سازی کے اقدامات کی بحالی ہے جو پہلے معمولی کامیابی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ فوجی سطح پر رابطے کے ذرائع کی دوبارہ بحالی، 2003 کی لائن آف کنٹرول ہتھیار بندی کے سمجھوتے کا احیا اور انسانی ہمدردی کے تبادلوں کا از سرِ نو آغاز—جیسے قیدیوں کی واپسی اور سرحد پار طبی امداد، جن میں سے اول الذکر تبادلہ حالیہ بحران کے بعد پہلی مرتبہ ستمبر 2025 میں ہوا—ایک محدود مگر قیمتی حرکت پیدا کر سکتا ہے۔ ان محاذوں پر بتدریج پیش رفت اعتماد کی بحالی میں مدد دے گی اور یہ ظاہر کرے گی کہ مسلسل گفت و شنید محدود سیاسی ماحول میں بھی ممکن اور فائدہ مند رہتی ہے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.