Afghanistan-protest-1095×616

۲۰۲۱ کے آغاز پر افغان عوام کو  تنازعات اور و معاشی چیلنجز کے ایک اور سال کا سامنا ہوا جس میں امید کا ایک سلسلہ بھی تھا کہ شائد ان کی قیادت اور طالبان  بین الافغان امن مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے تک پہنچ جائیں گے۔ یہ خواب اس وقت چکنا چور ہوگیا جب ۱۵ اگست کی سہ پہر سابق صدر اشرف غنی غیرمتوقع طور پر فرار ہوگئے۔ ان کے متحدہ عرب امارات فرار نے قیادت کا خلا پیدا کردیا جو افراتفری اور کابل حکومت کے گرنے کا سبب بنا اور اس طرح گزشتہ دو دہائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام فوائد اور جمہوری سیاسی معتبری سے ہاتھ کھڑے کر لیے گئے۔ ۱۵ اگست کے بعد کے واقعات جدید افغان تاریخ میں افسوسناک ترین رہے ہیں۔ معیشت زمین بوس ہوگئی، افغان فنڈ منجمد ہوگئے، سینکڑوں ہزاروں افغان پناہ گزین بن گئے، خواتین نے اپنی بنیادی آزادی کھو دی، افغان ریاست نے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت کھو دی اور لاکھوں عام شہری جس میں بچے بھی شامل ہیں قحط اور انسانی سانحے کے دھانے پر ہیں۔ ۲۰۲۲ افغانستان کی تباہ شدہ معیشت، بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور قانونی حکومت کی غیرحاضری کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ طالبان کی غیرقانونی حکومت کو نئے حکمران کے طور پر قبول کرے گی یا پھر افغانستان کو ۱۹۹۰ کے تاریک دور اور خانہ جنگی میں واپس دھکیل دے گی۔

 اگست ۱۵ کی جانب سفر اور واشنگٹن کے غلط اندازے

سقوط کابل سے قبل کے مہینوں نے مذاکرات کی ناکامی کی پیشنگوئی کر دی تھی: بین الافغان مذاکرات  کم و بیش علاقائی اجلاسوں کی نمائش کا ذریعہ بن کے رہ  گئے تھے جبکہ نہ صدر غنی اور نہ ہی طالبان سیاسی اقتدار کی منتقلی یا شراکت کی خواہش رکھتے تھے۔ اس کے باوجود بین الاقوامی برادری نے امید کی کہ دوحہ  میں تنازعے کے فریقوں کے درمیان مذاکرات نصف صدی پرانے افغان تنازعے کو ختم کردیں گے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے ۱۱/۹ کے بیس برس مکمل ہونے سے پہلے تمام افواج کو باہر نکالنے کے فیصلے نے جمہوریہ کی تباہی کے عمل کو تیزتر کیا۔ بائیڈن انتظامیہ کو یقین تھا کہ صدر غنی اور ۳۵۰،۰۰۰ افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورس (اے این ڈی ایس ایف) جس کی تربیت امریکی اور اتحادی افواج نے کی تھی، جمہوریہ کو محفوظ رکھ سکیں گے جو کہ سیاسی، سفارتی، انٹیلی جنس اور عسکری شعبوں میں حساب کتاب کی غلطی ثابت ہوا۔

 اے این ڈی ایس ایف جسے تعداد اور سازوسامان کے اعتبار سے طالبان پر برتر حیثیت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، دو اصولوں کی بنیاد پر اپنے حوصلے گنوا بیٹھی تھی: اولاً دوحہ  میں امریکہ طالبان معاہدہ جس نے حکومت کو نظرانداز کردیا تھا اور دوئم اعلیٰ عہدوں پر بدعنوانی نیز غنی کے کمانڈر آف چیف کا نچلی سطح کے افسروں پر عدم اعتماد جس نے ان کے حوصلے توڑ دیے تھے۔ طالبان نے کئی اضلاع کے زعماء سے مذاکرات کیے جس کے بعد اے این ڈی ایس ایف کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ جس وقت امریکی افواج نے انخلاء کی تیاری کی، طالبان نے ایک کے بعد ایک صوبائی دارالحکومتوں کو اپنے قبضے میں لینا شروع کیا حتیٰ کہ وہ اگست کے وسط میں کابل کے دروازے پر جا پہنچے۔

 سقوط کابل اور کابل ایئرپورٹ کی ناقابل فراموش تصاویر 

غنی کے چھوڑے ہوئے سیاسی خلا  کے سبب  طالبان افغان دارالحکومت میں داخل ہوئے اور ایک بھی گولی چلائے بغیر صدارتی محل پر قابض ہوگئے اور یوں جیسے تیسے مجتمع کی گئی ریاست کا شیرازہ تیزی سے بکھرنے لگا۔ چند گھنٹوں بعد امارات اسلامیہ کا جھنڈا صدارتی محل کی چھت سے لہرانے لگا جو دراصل امریکی حملے سے شروع ہونے والی دو دہائی طویل جنگ کے ڈرامائی اختتام اور امارات اسلامیہ افغانستان کی باقاعدہ بحالی کی علامت تھا۔ قبضے کے کچھ وقت بعد ہی طالبان نے کابل میں امریکی سفارت خانے کی دیوار پر اپنا جھنڈا لہرا دیا جس نے دنیا بھر کے جہادی نیٹ ورکس کو متاثر کیا اور ایک نئی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ واشنگٹن کی دہشتگردی کیخلاف جنگ ناکام ہو چکی ہے۔

افغان ریاست انتقال اقتدار، تختہ الٹنے، انقلاب، خانہ جنگی کی ایک طویل داستان رکھتی ہے- جو منظم طور پر عدم تسلسل سے مامور ہے۔ اس بار جمہوریہ کے سقوط کی خبر افغان خاندانوں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد تک نشر کی گئی جنہوں نے  افغان مردوں، عورتوں اور بچوں کے کابل ہوائی اڈے پر امریکی فوجی انخلاء کے طیاروں کے پیچھے  بھاگنے کے دلخراش مناظر براہ راست دیکھے۔  مایوس افغانیوں کے ان طیاروں سے گرنے کے ہولناک مناظر کی تصاویر پھیلنے سے وہ امریکی ناکامیاں بین الاقوامی سطح پر نشر ہوئیں جو طالبان کی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کرنے والے امن معاہدے پر دستخط کے ذریعے اسے افغان حکومت کی پشت پناہی میں ہوئی۔ 

امارات کے پہلے ۱۰۰ دن اور افغان خواتین کو ۲۰ برس میں ملنے والے فوائد کا راتوں رات خاتمہ

اگست کے بعد ہونے والی پیش رفت افغانستان کی خواتین کے لیے مساوات اور شخصی آزادی کے لیے بیس برس سے جاری ترقی کے سفر کے خاتمے کا نشان بنیں۔ جمہوریہ کی قیادت بشمول بعض امراء خواتین یا وہ جو جنہوں نے افغانستان کی خواتین کی آوازوں کے سبب معاشی فائدہ اٹھایا تھا، افغان معاشرے میں پھیلے پدری اور متعصبانہ نظریات کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہیں ہیں۔ اس کے باوجود جمہوریہ کی چھتری تلے اور بین الاقوامی برادری کی مدد سے لاکھوں عام افغان لڑکیاں اسکول جانے کے قابل ہوئیں اور ہزاروں خواتین نے جمہوریہ کی سیاست اور معیشت میں حصہ لیا۔ ہزاروں نوجوان افغان خواتین نے اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کی اور عمومی طور پر خواتین اظہار رائے یا سفری پابندیوں سے آزادی کا لطف اٹھانے کے قابل ہوئیں تھیں۔

طالبان کی واپسی خواتین کی جامعات اور اسکولوں کی فوری بندش کا سبب بنی کیونکہ نئی حکومت نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کردی۔ ستمبر میں تمام عمر کے  لڑکوں کے لیے اسکول کھول دیے گئے  جبکہ لڑکیوں کو محض پرائمری کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ متعدد مظاہروں کے بعد طالبان نے  ۱۲ برس سے اوپر کی بچیوں کے لیے کچھ اسکول کھولنے کا وعدہ کیا لیکن عملی طور پر لڑکیوں کی اکثریت کو سیکنڈری کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ پالیسی میں تبدیلی کے واضح اشارے  کے طور پر طالبان نے وزارت برائے امور خواتین کو وزارت برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے تبدیل کردیا  جو شریعہ قوانین کے بارے میں عسکریت پسندوں کے گزشتہ دو دہائیوں کے موقف کو نافذ کر رہی ہے۔ خواتین نے  طالبان کی متعصبانہ اور فرسودہ پالیسیوں کیخلاف احتجاج اگرچہ جاری رکھا ہے لیکن  وہ فوائد جن سے  وہ گزشتہ دو دہائیوں سے فائدہ اٹھا رہیں تھیں، وہ راتوں رات ان سے واپس چھین لیے گئے۔

طالبان کی اندرونی و بیرونی لڑائیاں

طالبان کی قیادت جو کبھی ایک سفید جھنڈے تلے متحد تھی ،آج عدم مرکزیت کا شکار ہے جس کا مطلب کئی دھڑوں کا آپسی اختلافات کا شکار ہونا ہے۔ جہاں حقانی نیٹ ورک پاکستان سے قریبی تعلقات کو ترجیح دیتا ہے  وہیں ملا برادر اور اس کی دوحہ  کی ٹیم اسلام آباد پر طالبان کے انحصار میں کمی چاہتی ہے، نئی نسل کا دھڑا ایک قدرے کم تنہا افغانستان چاہتا ہے۔

 قیادت میں مقابلے کے علاوہ طالبان نچلی سطح پر بھی آزمائشوں سے دوچار ہیں۔ اپنے جنگجوؤں کی تصدیق کے لیے ایک کمیشن کی تخلیق کے باوجود طالبان کا ان پر قابو نہیں ہے۔ ایسی اطلاعات کہ جن کے مطابق نچلی سطح کے طالبان کے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات ہوسکتے ہیں، مستقبل میں طالبان امریکہ ممکنہ روابط کے لیے خطرہ ہوسکتی ہیں۔

طالبان خارجہ محاذ پر بھی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں، جن میں سے سب سے نمایاں چیلنج خود کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانا ہے۔ علاقائی سطح پر لابی بنانے کی کوششیں بڑی حد تک ناکام ہوچکی ہیں جن میں پاکستان میں اسلامی سربراہی اتحاد (اوآئی سی) کا تازہ ترین اجتماع شامل ہے۔ منجمد اثاثے طالبان کے لیے بھاری معاشی بوجھ کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ وہ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے قاصر ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کے لیے کسی سروس، بشمول پڑوسی ممالک سے برآمد ہونے والی بجلی  تک کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔

 ایک اور آزمائش نیشنل ریززسٹینس فرنٹ آف افغانستان (این آر ایف) ہے جو کہ سیکنڈ ریززسٹینس کے نام سے بھی مشہور ہے۔اگرچہ فی الوقت اس مزاحمتی گروہ کو کسی قسم کی غیرملکی امداد یا سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے اور نا ہی یہ گروہ افغانستان میں قابل ذکر علاقے پر قابض ہے جیسا کہ ۱۹۹۰ میں ان کے پیش رو کے پاس تھے، تاہم اس کے باوجود یہ گروہ طالبان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے۔ خطرے کی گھنٹی بجانے والی ایسی رپورٹس جن کے مطابق طالبان سابق افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے اور قتل کررہے ہیں، این آر ایف ان کے لیے شکار کا جال بن سکتی ہے جہاں  سابق اے این ڈی ایس ایف ان کے ہمراہ شامل ہوسکتی ہے اور طالبان کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک کھڑی ہوسکتی ہے۔

نام نہاد ریاست اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی) ایک اور خطرہ ہے۔ آئی ایس کے پی  کا انخلاء کے دنوں میں کابل کے ہوائی اڈے پر حملہ جس میں ۱۳ امریکی فوجی اور ۱۷۰ سے زائد افغان باشندوں نے اپنی زندگیاں کھو دی تھی، یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انخلاء کے باوجود دہشت گردی کیخلاف جنگ اپنے اختتام سے کوسوں دور ہے۔

افغانستان میں انسداد دہشت گردی کا مستقبل

واشنگٹن کے لیے غیرمتوقع سقوط کابل کا موازنہ سقوط سیگان سے کیا گیا: طالبان کا قبضہ افغان جمہوریت میں دو دہائیوں تک کی گئی سرمایہ کاری اور انسداد دہشتگردی کے ذریعے ملنے والی برتری سے ہاتھ دھونے کو ظاہر کرتا ہے۔ طالبان کے قبضے کے کچھ ہی وقت بعد، امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا کہ ریاست اسلامیہ چھ ماہ کے اندر اندر مغرب پر حملہ کرسکتی ہے اور القاعدہ ۲۴ ماہ کے اندر ایسا کرسکتی ہے۔

 اگرچہ امریکی دوحہ میں سفارتی بیک چینلز کے ذریعے طالبان سے انسداد دہشتگردی کے معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، تاہم طالبان سے تعاون بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی خطرہ ہے، جسے پہلے ہی ٹرمپ دور میں دوحہ میں ہونے والے امریکہ طالبان معاہدے کا الزام ورثے میں ملا ہے۔ اس کے علاوہ، دہشتگردی سے لڑائی کے لیے طالبان کے عزم پر ماہرین پہلے ہی اختلاف کا شکار ہیں۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ طالبان نے بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں سے اپنے تعلقات کبھی ختم نہیں کیے اور وہ القاعدہ سے قریبی رابطے میں ہے۔

طالبان امریکہ سے تعاون کے معاملے پر بھی اختلاف کا شکار ہیں، اگرچہ وہ اس امر سے باخبر ہیں کہ انتہاپسندی سے لڑائی کے لیے انہیں امریکی فنڈنگ اور پڑوسی ممالک کی انٹیلی جنس کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اگر طالبان قیادت خود کو دہشتگرد گروہوں سے فاصلے پر کرنے کا فیصلہ کرلے تو بھی ان کے پاس نہ تو اندرونی و بیرونی انتہا پسندی سے لڑائی کی کوئی صلاحیت ہے نہ انٹیلی جنس اور سب سے اہم یہ کہ نہ وسائل ہیں۔

۲۰۲۲ میں افغانستان: معاشی بربادی، انسانی بحران اور وسیع پیمانے پر ہجرت

اگست ۲۰۲۱ کے بعد کسی خودمختار ریاست نے طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے؛ امداد  کی یکخلت بندش اور فنڈز کے منجمد ہونے سے رونما ہوتے انسانی المیے نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل کیلئے مجتمع ہونے پر اکسایا ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے تجزیوں کے مطابق ۲۳ ملین افغان باشندے بشمول بچے آنے والی سردیوں میں بڑے پیمانے پر بھوک اور جان لیوا غذائی قلت کا سامنا کریں گے۔

تاحال ہزاروں افغان معلمین، صحافی، فعال کارکنان، سیاست دان اور سابق سیکیورٹی فورسز کے جوان امریکی انخلاء کے آپریشن کے ذریعے ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ  مزید پانچ لاکھ پناہ گزینوں کی توقع کر رہا ہے کہ جو اس وقت چھپے ہوئے ہیں اور اس کی معاشی تباہی کی وجہ سے ملک چھوڑیں گے۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے خطے سے درخواست کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت دے تاہم زیادہ تر افغان بند سرحدوں کے پیچھے پھنسے ہوئے ہیں یا انہیں ملک چھوڑنے کے لیے ضروری دستاویزات کی کمی کا سامنا ہے۔

اگر بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے بحران کو ترجیح نہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایک معاشی و سیاسی قرارداد کی تشکیل میں ناکام رہی تو افغانستان ۱۹۹۰ کی طرز کی خانہ جنگی میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس بار نسلی بنیادوں پر گہری تقسیم اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی افغانستان کو اس راستے پر دھکیل سکتی ہے جس پر شام گامزن ہوا یا پھر یہاں بلقان اور روانڈا کی مانند بڑے پیمانے پر انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ خانہ جنگی کی صورت میں لاکھوں پناہ گزین بین الاقوامی سطح پر ایسا بحران پیدا کریں گے جو کہ خطے کے تصور سے باہر ہوگا۔ انسانی تباہی کو روکنے کے لیے انسانی برادری کو امدادی اور دوبارہ آباد کاری کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔ آنے والے وقت میں خواتین کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور طالبان کو اندرونی و بیرونی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے دوحہ میں کیے گئے ان کے وعدے پر قائم رکھنے کے لیے ریاست کو تسلیم  کرنا اور معاشی امداد کو بطور دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Anadolu Agency via Getty Images

Image 2: Anadolu Agency via Getty Images

Share this:  

Related articles

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات Hindi & Urdu

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال Hindi & Urdu

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال

نومبر ۲۰۲۱ میں دنیا بھر سے سفارت کار و رہنما…