!ہندوستان، پاکستان، اور چین کے ما بین آبی تنازعات

indus river_water_india_china_pakistan

کشمیر میں جاری حالیہ کشیدگی نے خطے میں پہلے سے موجودحساس فالٹ لائنز کو اور بھی کمزور کر دیا ہے۔ جوہری ہتھیاروں سےمسلح ہمسایوں ہندوستان اور پاکستان کے پاس   محدود فوجی رد عمل کی دستیابی نے تصادم کومشترکہ آبی وسائل کے ایک نئے محاذ پر منتقل کر دیا ہے۔

ستمبر میں کشمیر کے اڑی فوجی اڈے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے جواب میں ہندوستان نے ۱۹۶۰ کے انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کو ، جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی تھی ، کو منسوخ کرنے پر غور کیا ۔ اس کے رد عمل میں پاکستان نے   دریائے نیلم اور چناب  پر   ہائیڈروالکٹرک(پن بجلی) پلانٹس کی تعمیر سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے لئے عالمی بینک سے رابطہ کیا۔  گزشتہ ہفتے عالمی بینک کے پاکستان اور بھارت کے مطالبات پر باالترتیب ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہر کے تقرری کو بھارت میں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی   وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے خطرناک اشارہ   دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دوسرے آپشنز کی تلاش   کرے گی اور اس کے مطابق اقدامات کرے گی۔ اور اس طرح مشترکہ آبی وسائل اور اس سے متعلقہ دیگر ریسورس سیکورٹی چیلنجز ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرتے رہتے ہیں ۔ عمومی طور پر آئی- ڈبلیو-ٹی ( سندھ طاس معاہدہ) ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایک امن معاہدے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے اور یہ پانی کی تقسیم کا ایک ایسا معاہدہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تین جنگوں اور کئی ناخوشگوارواقعات کے با وجود اس پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ خطے میں طاقت کے پیچیدہ توازن اور باہمی انحصار کے نازک   ڈھانچہ کے اندر   مشترکہ آبی معاملات کے ساتھ کوئی بھی چھیڑچھاڑ ایسے کو تیسا کرنے والا   ڈامنو اثر جنم دے سکتا ہے اور حتی کہ چین کو، جو اب تک خاموش رہا ہے، بھی اس ہندوپاک   تنازعہ میں دھکیل سکتا ہے ۔

اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سندھ طاس معاہدہ کی ثالثی عالمی بینک نے کی تھی اور وہ اس معاہدہ میں بطور ضامن شامل تھا    اگر ہندوستان   یکطرفہ طور پر اس معاہدہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے خاطر خواہ سفارتی سبکی   کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور خاص طور پر ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر اس کی شہرت اور ساکھ متاثرکر سکتی ہے۔ تسلیم شدہ آبی تقسیم کے معاملات میں ردوبدل سے پڑوسی ممالک جیسے نیپال اور بنگلہ دیش بھی بھڑک سکتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر   یہ فیصلہ دیگر علاقائی کھلاڑیوں جیسےسری لنکا اور میانمارکو متنبہ کر سکتا ہے جو طاقت کے کھیل میں پہلے سے ہی چین کی آبی(میری -ٹائم) شاہراہ ریشم کے ڈیزائن میں   اہم اجزاء کے طور پر چین کی طرف جھکاؤ رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کو پانی کی فراہمی کا نئے سرے سے تعین کرکے پاکستان میں مقیم غیر ریاستی عناصر کی جانب سے کی جانے والی     دہشت گردی کو   سبق سکھانے   کا   ہندوستان کا منصوبہ   بھی کچھ خاص کامیاب نہیں ہوگا ۔ “ آبی دہشت” گردی کی اصطلاح کشمیر میں بگلیہار ڈیم کی تعمیراور بھراؤ کے دوران سامنے آئی تھی   چونکہ ڈیم   نے کاشت کاری کے اہم موسم کے دوران پاکستان کی طرف   جانے والے دریاؤں کے بہاوُ کو خاصا کم کر دیا تھا ۔ اس نے انتہاپسندوں کو ایک اور ایجنڈا  آیٹم اور اس کی وجہ فراہم کر دی ۔ بہت سے انتہا پسند تنظیموں نے وقتاً فوقتاً پانی کے بہاؤ کو لے کر ہندوستان کے ساتھ جنگ کی دھمکی دی ہے۔ معاہدے کی منسوخی ہندوستان کے بہتر ہائیڈرو پاور   انفراسٹکچر  پر دہشت گرد کارروائیوں کو بڑھاوا   دے سکتا ہے جو ہندوستان کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کرے گا۔

ویسے بھی، سندھ طاس معاہدہ کے دائرہ کے اندر کشمیر میں دریاؤں پر ہندوستان کی کئی ڈیمز کی مجوزہ تعمیر نے ، جس کی تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان نے مخالفت کی ہے ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بد اعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔  اگر سندھ طاس معاہدہ کی تشکیل نو سے کلکولس مزید بگڑا   ، خاص طور پر اس معنی میں کہ جہاں پاکستان کی زرعی معیشت کا بنیادی دارومدار دریائے سندھ پر ہوتا ہے ، تو اس سےباہمی کشیدگی مزید گہری ہو سکتی ہے   اور بہت بڑے سماجی، اقتصادی اور انسانی نقصانات   کو جنم دے سکتی ہے جس کا اثر بہرحال ہندوستان میں بھی پڑے گا۔

اگر ہندوستان کشمیر کےبڑے ہائیڈرو پاور کی صلاحیت کا استعمال کر کے اپنے اعلان کئے ہوئے آبی تقسیم کے منصوبہ کو اختیار کرتا ہے تو یہ گیم چینجر ثابت ہوگا۔ کشمیر کے مقامی استعمال کیلئے تخمینہ ۲۰۰۰۰ میگاواٹ ہائیڈرو پاور کی پیداوار سندھ طاس معاہدہ   پر پاکستان کے موقف کو کشمیر کے ساتھ   براہ راست ٹکراوٗ کی طرف   ڈھکیلنے کے لئے ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے۔ کشمیر کے اندر یہ احساس پہلے سے ہی پنپ رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے ذریعہ   ذخائر سے متعلق اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ یہ نقطہ مسئلہ کشمیر کی شکل تبدیل کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے-

پاکستان کے لئے ممکنہ ہندوستانی آبی پابندیاں بھی چین کو اس مسئلے کا متردد مگر کھلا شریک بنا سکتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری اور ون بیلٹ، ون روڈ وژن منصوبہ میں چین کا بہت کچھ داؤ پر لگے ہونے کی وجہ سے چین منصوبہ سے متعلق کسی بھی خطرے سے مضبوطی سے نمٹے گا، خاص طور پر جب پاک چین اقتصادی راہداری میں اہم   چینی سرمایہ کاری کا انحصار اس دریا کے پانی   پر ہے جس کے لئے اب ہندوستان خطرہ بنا ہوا ہے۔

چین کو یقیناً اس تنازعہ میں برتری حاصل ہے ۔ ہندوستان پاکستان سے آگے ہےتاہم چین کو ان دونوں سے زیادہ   فائدہ ہے۔   دریائے سندھ اور دریائے ستلج دونوں کا   بہاؤ چین کے تبت سے نکلتا ہے ۔ ان دریاؤں کے حوالے سے چین کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے کوئی بین الاقوامی معاہدہ   نہ ہونے کی وجہ سے چین ان دریاؤں کے پانی کا رخ پھیر نے کا انتخاب کر سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی سے   ہندوستان کو ۳۶  فیصد دریاکے بہاو کا نقصان ہوگا، او رساتھ میں ۲۷معاون   ندیاں بھی   ناپید ہو جائیں گی جس پر ہندوستان کے زرعی اور تجارتی سرگرمیوں کا کا ایک بڑا حصہ منحصر ہے۔ دریائے ستلج کے رخ کی تبدیلی   سے ہندوستان کو ۳۶۰۰ میگاواٹ ہائڈرو ایلکٹرک انرجی کا نقصان ہوگا جو بشمول دہلی شہری مراکز کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، چین برہم پترا کا بھی منبع ہے ، جو تبت کی سطح مرتفع سے نکلتا ہے۔ ہندوستان سے بہتے ہوئے بنگلہ دیش کے اندر خلیج بنگال میں گرنے والا دریائے برہم پترا تینوں ممالک کے آب پاشی، ہائیڈروالیکٹرسٹی اور نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ حال میں ہی   چین نے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے حصہ کے طور پر برہم پترا کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا تھا، خاص طور پر سندھ طاس معاہدہ پر ہندوستان کے نظر ثانی کرنے کے مبینہ بیان کی روشنی میں اس سے اس بات کا   اشارہ ملتا ہےکہ اگر چین چاہے تو   ہندوستان کو پاکستان کے خلاف اپنی آبی پابندیوں ختم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے، ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ آبی تنازعہ بہت احتیاط سے حل کرنا چاہئے ۔ ہندوستان کی جانب سے کوئی بھی سخت رد عمل نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ   کر سکتا ہے بلکہ خطے کے دیگر شراکت داروں کو بھی دور کر سکتا ہے، غیر ریاستی عناصر کی جانب سے خطرات کو بڑھا سکتا ہے اور چین کو ہندوستانی آبی وسائل کے خلاف سخت آبی پابندیاں عائد کرنے پر اکسا سکتا ہے۔

Click here to read this article in English.

***

Image 1: The Indus River (Muhammad Imran Saeed, Flickr)

Image 2: Baglihar Dam (JKSPDC)

Posted in , China, India, Kashmir, Pakistan, Water

Asma Khan Lone

Asma Khan Lone

Asma Khan Lone has widely written on the politics and security issues of South Asia, especially the Kashmir conflict. Her work has been published in India, Pakistan, Middle East, the United Kingdom and the United States. A University of Cambridge graduate, she has previously taught as an Assistant Professor at Jindal School of International Affairs (JSIA), Jindal Global University, India. She has also worked on various projects on Kashmir with Conciliation Resources, UK and had a stint at the Institute of Strategic Studies, Islamabad (ISSI), Pakistan. A Pakistani national dividing her time between Islamabad, Srinagar (Kashmir) and New Delhi, Asma has the unique opportunity of providing a balanced and informed narrative on the broader issues of the region.

Read more


Continue Reading

ARSA

विभेदक रोहिंग्या नीति : भारत के मूल्यों के विरुद्ध

** इस श्रृंखला का दूसरा भाग यहां पढ़ें। ** म्यांमार के रखाइन प्रांत से आने वाले रोहिंग्या मुसलमान, जनसंख्या लगभग दस लाख, मूल रूप से […]

September 18, 2017 - Views 0



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *