حال ہی میں اعلان کردہ پاک-سعودی اسٹریٹیجک میوچول ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ڈی ایم اے) تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ بہت سے مشاہدین کے لیےباعثِ حیرت تھا۔ نو زائیدہ ’’اسلامی نیٹو‘‘ یا مسلم ممالک کے اجتماعی فوجی اتحاد سے متعلق بات چیت کے سنگ، جو نئی دہلی کے لیے سنگین سے سنگین تر نتائج پیش کرتی ہے، بھارت میں اس پیش رفت کو ابتدائی طور پر جنوبی ایشیا کے نقطہ نظر سے دیکھا گیا۔ اس تشخیص کا مغربی ایشیا کے تجربہ کار مبصرین، ماہرین اور سفارتکاروں نے مزید باریکی سے جائزہ لیا، جنہوں نے اس کے بر خلاف رائے دیتے ہوئے کہاکہ یہ معاہدہ جس کا آغاز قطر میں اسرائیل کے بِلا اشتعال حملوں سے ہوا، مغرب کی طرف مائل ہے، اور اس کا بھارتی مفادات پر کوئی اثر نہیں ہے؛ انہوں نے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر پچھلے دو عشروں میں نئی دہلی کے ریاض کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا۔
تاہم اس ادراک کے باوجود بالخصوص بھارت کی پاکستان سے ڈی ہائفنیٹ ہونے کی کوششوں کے لیے، اس معاہدے اور پاک سعودی قریبی سکیورٹی تعلقات کی وسیع تر بھارت-پاکستان تزویراتی مسابقت پر کم سے لے کر درمیانے درجے کےاثرات مرتب ہونے کی توقع کرنے کی جائز وجوہات موجود ہیں ۔ یہ پاکستان کےاپنے معاہدات کے فوری دائرہ کار سے باہر اتحاد سے فائدہ اُٹھانے کے ماضی، مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے عدم تحفظ بڑھاتے موجودہ رجحانات اور پاکستان کے بھارت پر مسلسل تزویراتی ارتکازِ توجہ کے سبب ہے۔
اتحاد سازی کے لیے پاکستان کا طرزِ نظر
ایک تبدیلی پسندانہ مقاصد رکھتی اور تزویراتی گہرائی (اسٹریٹیجک ڈیپتھ) کی کمی کےشکار کمزور طاقت کے طور پر پاکستان طویل عرصے سے بھارت کے مقابل اپنے عدم توازن کو دور کرنے کے لیے غیر علاقائی عظیم طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو استوارکرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مثلاً سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں پاکستان نے سوویت یونین کو محدود کرنے کے امریکی مقصد کے لیے اپنےجغرافیائی فوائد پیش کر کے امریکہ کے ساتھ اتحادی تعلقات قائم کیے۔ لیکن کمیونزم کی مخالفت پاکستان کے زیادہ دیرپا مقصد کا جغرافیائی لحاظ سے محض ایک موزوں پردہ تھا: (وہ مقصد) جنوبی ایشیا میں بھارتی طاقت کو محدود کرنا (تھا)۔ سویت افغان جنگ کے دوران اسلام آباد نے جدید ہتھیار حاصل کرنے اور بھارت کو مدنظر رکھتے ہوئے (نیو کلئیرائزیشن) جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ اور سعودی عرب کے اسی طور کے انحصار کا فائدہ اٹھایا۔
بھارت کی پاکستان سے ڈی ہائفنیٹ ہونے کی کوششوں کے لیے، اس معاہدے اور پاک سعودی قریبی سکیورٹی تعلقات کی وسیع تر بھارت-پاکستان تزویراتی مسابقت پر کم سے لے کر درمیانے درجے کےاثرات مرتب ہونے کی توقع کرنے کی جائز وجوہات موجود ہیں۔
واشنگٹن کے ساتھ2000 کی دہائی کے آغاز میں جیسے ہی تعلقات کشیدہ ہوئے، جنرل پرویز مشرف نے گوادر کی بندرگاہ کو ایک نئے اقتصادی اور ممکنہ تزویراتی مرکز کے طور پر پیش کرتے ہوئے بیجنگ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ چین کی بحرِ ہند تک رسائی کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس منصوبے میں ایک اہم حصہ دار بنایا جا سکے۔پاکستانی رہنماؤں نے یہ پیشکش اس امید کے ساتھ کی کہ مستقبل میں بھارت کے مقابلے میں اس سے فائدہ ہو گا۔ جیسا کہ مشرف نے ایک دہائی سے زیادہ بعد اس کی وضاحت کی، ’’گوادر مکمل طور پرمیری رائے تھی، چینی رائے نہیں۔میں صرف پاکستان کے تزویراتی مفادات کے بارے میں فکر مند تھا‘‘، جو بھارت کے کراچی بندرگاہ کی ناکہ بندی کے پاکستان کے یرینہ خوف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق گوادر ممکنہ طور پر پاکستان کو بھارت کی مشرق وسطیٰ کے تیل تک رسائی کو خطرے میں ڈالنے کا موقع دے گا اور اس طرح اس کی قوتِ مزاحمت (ڈیٹیرنس) کو بڑھا سکے گا۔اگرچہ ابتدائی طور پر چینی رہنماشکوک و شبہات رکھتے تھے، تاہم بعد میں وہ منصوبے کی اہمیت کے قائل ہو گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ جیسا کہ محقق ڈینیئل مارکی اجاگر کرتے ہیں، پی ایل اے این بندرگاہ کے تزویراتی فوائد کی قدر کرنے لگی۔پاکستان اور چین کے مابین مشترکہ سلامتی کے مفاد کا یہ احساس سالوں کے دوران بڑھا ہے، جسے ماہر سمیر لالوانی نے درست طور پر ’’حدِ آغاز برائے اتحاد‘‘ (تھریش ہولڈ الائنس) کے طور پر بیان کیا ہے۔اس سال بھارت نے اس بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون کے اثرات محسوس کیے جب پاکستان نے مئی میں اپنے چار روزہ حرکی تنازعے (کائنیٹک کونفلکٹ) میں چینی ساختہ پلیٹ فارمز کا استعمال کیا۔
وتھائی صدی بعد بھارت ایک بار پھر دیکھ رہا ہے کہ ایک مضبوط اقتصادی شراکت دار اپنے بنیادی سیکیورٹی مفادات کے تقاضے نبھانے کے لیے پاکستان پر انحصار کرنے کا انتخاب کر رہا ہے۔ گو کہ سعودی عرب خلوص دل سے بھارت تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا، تاہم نئی دہلی میں خاص طور پر کسی ممکنہ مستقبل کے بحران میں پاکستان کے اپنے بڑھتے تعلقات سے ایسے طریقوں سے فائدہ اُٹھانے کے حوالے سے جو بھارتی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں،واہمہ لاحق ہو رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں موجودہ رجحانات اور پاکستان کی مبادلہ پذیری
گو کہ بھارت میں کچھ لوگ ایس ڈی ایم اے کے عوامل کو جنوبی ایشیا کے نقطہ نظر سے دیکھنے پر راغب ہو سکتے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں رکھا جائے۔ریاض کے لیے سیکیورٹی تشویش کے ذرائع مضبوط بھی ہیں اور ساختی بھی۔ تعلقات میں بہتری آنے کے باوجود ایران سے، یمن میں حوثیوں سے، اسرائیل کے بڑھتے ہوئے غیر متوقع پن اور علاقے میں امریکہ کے زیرِ قیادت سیکیورٹی آرڈر کی جزوی تحلیل کے سبب واشنگٹن کی ممکنہ گھٹتی ہوئی یقین دہانیوں کے باعث اس کی تشویشات جاری ہیں۔ ٹرمپ وائٹ ہاؤس نے اپنی جانب سے بیرون ملک تنازعات کے محاذوں میں امریکی یقین دہانیوں کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، جن میں مشرق وسطیٰ بھی شامل ہے، جہاں سےامریکی فوجی عملے اور سازوسامان کا چھوٹی سطح پر انخلا پہلے ہی شروع ہو چکاہے۔
طویل مدت میں یہ پریشان کُن صورتحال امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی کے نئے علاقائی ڈھانچوں کی حمایت کرنے کی وجوہات پیدا کرتی ہے، جن میں پاکستان کو شامل کرنے والے (ڈھانچے) بھی شامل ہیں۔بالآخر یہ کثیر القطبی (ملٹی پولیرٹی) کی جانب عالمی رجحانات کے مطابق ہوگا — جس کی نظریاتی طور پر بھارت نے سالوں سے حمایت کی ہے۔امریکہ نے آخری بار اس قسم کی’ریجنل شیرف’ (علاقائی تھانیدار) کی حامی جدتوں یا ‘پاس دا بک’ (ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالنے) کی کوششیں 1970 کی دہائی میں کی تھیں تاکہ اختیارِ کار کے حد سے تجاوز سے بچا جا سکے اور تزویراتی لچک پذیری بڑھائی جا سکے۔ ایک بڑھتی ہوئی کثیرالقطبی دنیا میں پاکستان کے زیادہ رضامندانہ اور قابل فوجی وسائل اور اہلکار اسلام آباد کی جانب سے مؤثر طریقے سے استعمال کیے جا رہے ہیں اور یہ (عمل) مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
درحقیقت سعودی-پاکستان ایس ڈی ایم اےبحران کے دوران مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے میں اسلام آباد کی شمولیت کا دوسرا موقع ہے : اسرائیل کے دوحہ حملوں سے قبل پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ان قائدین میں شامل تھے جن سے امریکی صدر ٹرمپ نے جون میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ پر بات چیت کی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی حکام یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ جوہری حملوں کی صورت میں پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایران کی حفاظت کرنے کی پیشکش کی تھی—جس دعوے کی پاکستان کے قانون سازوں نے سختی سے تردید کی۔

مزید برآں پاکستان نے خود کو جنگی محاذوں میں فوجی علم کے تبادلے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔چین اور ترکی جیسےممالک جن کی دفاعی صنعتیں ترقی یافتہ ہیں،کے ہتھیاروں اور سسٹمزکے ساتھ پاکستان کا گہرا انضمام اس کے لیے یہ ممکن بناتا ہے کہ وہ ایسے آلات اور علم کو تیسرے ممالک تک پہنچا سکے جو اس قسم کی مقامی صلاحیتوں کے حامل نہیں ہیں۔ مثلاً پاکستان کا آذربائیجان جیسے ممالک کے لیے اہم ڈیفنس پورٹ فولیو اسے سعودی عرب کے ساتھ اسی ماڈل کو دہرانے کا موقع دیتا ہے، جس کی جدید دفاعی پلیٹ فارمز بنانے کی مقامی صلاحیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔اگر یہ انضمام مزید گہرا ہو جائے تو یہ چین سے سعودی عرب اور آذربائیجان کے ذریعے ترکی تک ہتھیاروں کی پیداوار اور فراہمی کے لیے تعاون کا ایک مؤثر راہ گزر (بیلٹ) بنا دے گا۔
اس سیاق و سباق میں،پیش قدمی کرنے والی قیادت کے ماتحت قابلیت میں بڑھتی ہوئی پاکستانی فوج، سیکیورٹی (کے مسائل) کے حل کے لیے سو ئس آرمی نائف (ہر فن مولا) کے طور پر ابھری ہے—اس میں اس امکان کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ پاکستانی اہلکار صدر ٹرمپ کی تجویز کردہ بین الاقوامی استحکام فورس (انٹر نیشنل سٹیبلائزیشن فورس) کے تحت غزہ میں بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا بیرون ملک سیکیورٹی معاونت کی مہمات میں تجربہ اور حصہ لینے کی آمادگی مشرق وسطیٰ میں نئے عرب سیکیورٹی تقاضوں کو پورا کر سکتی ہے اور عربوں کے ناگوار خطرات سے بچاؤ کر سکتی ہے جو کم تجربہ کار افواج کی تعیناتی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ایسے رجحانات باآسانی یا جلد کمزور ہونے کے امکان نہیں رکھتے، جس کا مطلب ہے کہ ریاض کے مقابلے میں پاکستان کا اثر و رسوخ مستحکم اور حقیقتاً بڑھتا ہواہے۔وہ ذرائع جن کے ذریعے پاکستان مستقبل کے تصادم میں بھارت کے خلاف یہ اثرو رسوخ استعمال کرسکتا ہے، پہلے سے جاننا مشکل ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود ممکنہ اتحاد کی تکمیل محنت سے کی گئی بھارت کی ان کوششوں کو پلٹنے (بے کار) کرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے جو بھارت نے پچھلی دو دہائیوں میں ریاض اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بڑھتے تعلقات میں پاکستان کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی ہیں۔
پاکستان کا بھارت پر مسلسل ارتکازِ توجہ
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے حملوں پر اس کی توجہ بڑھنے کے باوجود اسلام آباد کا بنیادی تزویراتی خدشہ اب بھی بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہی دکھائی دیتے ہیں۔مئی میں چار روزہ تنازع کے خاتمے کے بعد، پاکستان نے بلاشبہ بھارت سے متعلقہ اپنی سفارتکاری اور عسکری کوششیں اس احساس کے تحت بڑھا دی ہیں کہ تنازع دوبارہ بھی پیدا ہو سکتا ہے؛ پاکستان کے وزیر دفاع نے حال ہی میں کہا کہ “بھارت کے ساتھ جنگ کے امکانات حقیقی ہیں‘‘۔
کثیرالجہتی فورمز میں پاکستان کی حالیہ ’’پوسچرل لیڈر شپ‘‘ (وضعی قیادت) بھی بھارت سے متعلقہ نقطہ نظر کی عکاس ہے۔مثلاً اسرائیل کے قطر پر حملوں کے بعد منعقدہ حالیہ دوحہ سمٹ کا مقصد بظاہر اسرائیل کے قطر کے خلاف اقدامات اور بھارت کے پاکستان کے خلاف اقدامات کے درمیان ایک مماثلت قائم کرنا نظر آتا تھا۔آخر الذکر معاملے میں پاکستان غالباً یہ امید کرتا ہے، جو کہ غیر معقول نہیں، کہ اسرائیل کے معاملے میں خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ اس کی واضح یکجہتی کو کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے وقت یاد رکھا جائے گا؛ مستقبل میں کسی بھارت-پاکستان تنازع کے دوران؛ یا اگر پاکستان، بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزی پر ردعمل ظاہر کرتا ہے (ایک ایسا اقدام جسےاسلام آباد جنگ کا عمل سمجھتا ہے)۔
اس سیاق و سباق میں بھارت ڈی ہائفنیشن کی مشکلات کا دوبارہ سامنا کر سکتا ہے۔ نئی دہلی نے گزشتہ دہائی میں عرب ممالک کی بھارت سے متعلق خارجہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کو بہت اہمیت دی ہے اور ان پیش رفتوں کو—بالخصوص دہلی کے کشمیر تنازع کو دوطرفہ معاملہ کے طور پر تعبیر کرنے کو ریاض کا قبول کرنا—اپنی ڈی ہائفنیشن کی کوششوں کی کامیابی کے نشان کے طور پر دیکھا ہے۔
کم از کم بھارت کو خلیج کی سفارتی غیر جانبداری یا اگلے پاک بھارت بحران یا تنازع میں نئی دہلی کے موقف کو سمجھنے کی ریاض کی اہلیت پر بھروسہ کم ہوگا۔
اب ایک کامل ہوتا ایس ایم ڈی اے علاقائی منظرنامے پر سعودی عرب کی بھارت کے حوالے سے پوزیشن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ پاکستان کے حق میں تاریخی طرفداری چھوڑ کر پاک بھارت بحرانات میں ایک ثالثی حیثیت اختیار کرنے کے ریاض کے حالیہ محور کو کمزور کر دے گا۔ کم از کم بھارت کو خلیج کی سفارتی غیر جانبداری یا اگلے پاک بھارت بحران یا تنازع میں نئی دہلی کے موقف کو سمجھنے کی ریاض کی اہلیت پر بھروسہ کم ہوگا۔
بھارت کو کیا کرنا چاہیئے؟
ایس ایم ڈی اے ریاض کی نئی دہلی کی حساسیتوں اور مفادات کی نظرانداز ی کی مثال کم ہے بلکہ ریاض کے اپنے علاقائی بگڑتےہوئے سیکیورٹی کے ماحول پر زیادہ توجہ دینے کی مثال زیادہ ہے۔ نئی دہلی کے لیے ریاض کے اپنے قومی مفاد کو آگے بڑھانے پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں، اور نہ ہی ریاض کو 1.4 بلین آبادی کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات رکھنے والی ایک بڑھتی ہوئی معیشت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا کوئی فائدہ ہے؛ قابل ذکر امر یہ ہے کہ روسی تیل سے دوبارہ تنوع اختیار کرنے کی بھارت کی بڑھتی ہوئی ضرورت بھی خلیجی ریاستوں کے ساتھ توانائی کے تعلقات کی تجدید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تاہم بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات کی بہتری ایک زیادہ مستحکم علاقائی اور بین الاقوامی طریقۂ کارکے تحت واقع ہوئی۔ وہ طریقۂ کار اب تیزی سے بدل رہا ہے اور گذشتہ یقین دہانیاں اب مضبوط ضمانتیں نہیں رہیں۔حال ہی میں ہونے والی پیش رفتوں کے پیش نظر، بھارت کو 2010 کی دہائی اور 2020 کی دہائی کے اوائل میں حاصل کردہ سفارتی اور ساکھ کے فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاط سے قدم اُٹھانے ہوں گے۔
لہٰذا، گو کہ بھارت کو اس معاہدے کو بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کے حوالے سے دیکھنا چاہیے، تاہم اسے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی غیر محفوظ خلیجی ریاستوں کے حوالے سے پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافے کے امکان کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے، جو بحران کے وقت بھارتی مفادات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔اس کے لیے نئی دہلی کو خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔اس میں اقتصادی تعلقات میں تیزی سے ترقی شامل ہو سکتی ہے، جس نے پہلے ہی خلیج کے ساتھ تزویراتی شراکت داریوں کے لیے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنی قدر ثابت کی ہے، نیز بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کے ذریعے خطے کے درمیان اقتصادی تعاون (بھی شامل ہو سکتا ہے) تاکہ سعودی-پاکستان ایس ایم ڈی اے اور بھارتی مفادات کے درمیان ایک بفر (حائلی رکاوٹ) قائم کیا جا سکے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.