افغانستان سال۲۰۲۰ کا جائزہ: امن کی راہ میں رکاوٹیں برقرار

سال ۲۰۲۰ نے افغان عوام اور دنیا کے لیے امیدوں اور آزمائشوں کا ایک امتزاج پیش کیا۔ طالبان اور امریکہ کے مابین ۲۹ فروری کو دستخط پانے والا امن معاہدہ جنگ کے انیس برس کے بعد ایک اہم موڑ تھا؛ یہ افغان تنازعے کو میدان جنگ میں حل کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کرنے کی جانب ایک قدم دکھائی دیا۔ دوحہ میں ۱۲ ستمبر کو بین الافغان امن مذاکرات کا تاریخ ساز افتتاح ۲۰۲۰ کی اہم ترین پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے، افغانستان کے اندر بہت سے مخالف دھڑوں کیلئے یہ ایک ایسا موقعہ تھا جس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ تاہم بین الافغان مذاکرات کا خواب فوری تکمیل سے ماورا ثابت ہوا: سست روی کی شکار بات چیت کے نتیجے میں تین ماہ بعد فقط قواعد و ضوابط پر معاہدہ ہوسکا۔ افغانستان کے ۲۰۲۱ میں داخل ہونے پر امکان ہے کہ امن عمل کا ایجنڈا بھی واضح ہو جائے گا۔ افغانستان میں سیاسی تقسیم، ایک منقسم افغان حکومت جو امن مذاکرات کی قیادت کی اہلیت سے عاری ہوسکتی ہے، افغان امن مذاکرات اور امریکی فوجی انخلاء کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کے موقف میں وضاحت کا فقدان اور طالبان کی غیرلچکدار مذاکراتی پوزیشن نیز تشدد میں اضافہ، یہ تمام وہ عوامل ہیں جو افغانستان کیلئے  آزمائشوں سے بھرپور اور سیاسی بے یقینی کا شکار آنے والے برس کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ایک منقسم جمہوری اتحاد اور بےدھڑک طالبان

۲۰۱۹ میں لڑے گئے صدارتی انتخابات کے سائے ۲۰۲۰ کے آغاز پر بین الافغان امن مذاکرات پر بھی پڑے، انتخابی نتائج فروری تک ملتوی رہے۔ انتخابات کے نتائج نے افغانستان کے لڑکھڑاتے استحکام کو خطرے میں جبکہ ملک کو ایک سنجیدہ بحران کے دہانے پر پہنچا دیا کیونکہ عبداللہ عبداللہ جو کہ مرکزی حریف تھے، انہوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا اور انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کرتے ہوئے اشرف غنی کی تقریب حلف برداری والے روز ہی خود بھی حلف اٹھانے کا اعلان کردیا۔ دونوں سیاسی رہنماؤں نے ایک دوسرے سے چند سومیٹرز کی دوری پر صدارت کے عہدے کیلیے  حلف اٹھایا۔ نتیجتاً اختیارات کی تقسیم کے معاہدے کی بدولت ایک کمزور حکومت وجود میں آئی جس نے امن مذاکرات، سلامتی کی ضمانت یا افغان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شامل جمہوری اتحاد کی حیثیت کمزور کردی۔ بتدریج ابتری کا شکار ہوتی سلامتی کی صورتحال  بشمول کابل پر حالیہ راکٹ حملہ، افغانستان بھر میں ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر، خطرے کی گھنٹی بجاتا معاشی زوال اور حکومت میں مالی احتساب کی کمی  افغان عوام کو مایوس کرچکے ہیں۔ ان تمام نے حکومت کو اس نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنا اعتماد کھو چکی ہے، حتیٰ کہ ان لوگوں میں بھی جو طالبان کے مخالف کھڑے تھے۔

 افغان حکومت نے اختیارات کی تقسیم اور حتیٰ کہ افسرشاہی سے متعلقہ  معمولی نوعیت کے تنازعوں میں خود کو الجھا لیا ہے جس نے طالبان سے مذاکرات کی حکومتی حیثیت کو بہت کمزور بنا دیا ہے۔ اشرف غنی جو غالباً اپنی حکومت کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے امن مذاکرات پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں،  قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل (ایچ سی این آر) کی ممبرسازی میں اپنے حق میں جوڑ توڑ کرچکے ہیں تاکہ کسی بھی امن معاہدے میں حتمی فیصلے کا اختیار ان کے پاس ہو۔ یہ عبداللہ عبداللہ سے اختیارات کی تقسیم کے ان کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ایچ سی این آر جس کا مقصد امن عمل کو آگے لے جانا ہے، بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے مہینوں بعد عالمی برادری کے دباؤ کے بعد تشکیل پائی تھی۔ عالمی برادری عبداللہ سے ایچ سی این آر کے اندر غالب کردار ادا کرنے کی امید رکھتی ہے  جس کے بغیر امن مذاکرات میں قیادت کا خلا پیدا ہوسکتا ہے۔ نکتہ چینوں نے غنی پر امن مذاکرات کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا ہے تاکہ وہ اقتدار میں برقرار رہنے کیلئے سودے بازی کرسکیں۔ اسی اثناء میں دیگر بڑی جماعتوں اور بااثرشخصیات نے امن عمل کے موجودہ خدوخال کی مخالفت کی ہے اور ایچ سی این آر جس کا پہلا سربراہی اجلاس ۵ نومبر کو منعقد ہوا تھا، اس میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لیے ایک متوازی کونسل تشکیل دے لیں گے جو کہ طالبان مخالف اتحاد  میں اتفاق رائے کی کمی کا اشارہ دیتا ہے۔

افغانستان کی ناکامی یا بقا:عالمی برادری کی مداخلت کی روایت

 ایک مستحکم اور جمہوری دور کی حمایت اور اسے محفوظ بنانا، جہاں انسانی حقوق، خواتین کی شرکت، اظہار رائے کی آزادی اور اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہو، ۲۰۰۱ کے بعد کے افغانستان میں عالمی برادری کا اصل امتحان ہے جس کے اثرات ۲۰۲۰ کے واقعات سے نمایاں ہوئے ہیں۔ جنیوا کانفرنس جہاں عالمی شراکت داروں نے بھاری امداد کا وعدہ کیا تھا، عالمی برادری کی جانب سے افغانستان کیلئے اس مضبوط پیغام کے ساتھ مکمل ہوئی کہ  ”ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔“ یہ اگرچہ بہت حوصلہ افزا پیش رفت تھی جس کے بارے میں بہت سوں کو امید تھی کہ وہ افغانستان میں ترقی کو برقرار رکھے گی تاہم امریکی افواج کا ۲۰۲۱ تک انخلاء اورعالمی برادری کی جانب سے بظاہر طالبان کی دلجوئی افغانستان کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے۔

طالبان اور امریکہ کے مابین فروری میں ہونے والے امن معاہدے نے بین الافغان امن عمل کے لیے راہ ہموار کی اور سیاسی تصفیے کی امید کو جنم دیا تاہم اس کی وجہ سے افغان حکومت کی اہلیت کے لیے گزشتہ انیس برس سے ہونے والی کوششوں پر بھی سمجھوتہ ہوا۔ معاہدے کے چار کلیدی جزو ۲۰۲۰ کے اختتام تک بھی ادھورے ہیں؛ اس میں تشدد میں کمی، طالبان کے القاعدہ سے روابط کا خاتمہ، اور تنازعے میں شامل تمام فریقوں کی جانب سے سیز فائر کا اعلان شامل ہے۔ حکومت جو کہ اس معاہدے میں شامل نہ تھی، اس نے پانچ ہزار طالبان کو رہا کرنے کے وعدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مشاہدہ کاروں نے معاہدے سے اخذ کیا ہے کہ یہ طالبان کا اس انداز میں باقاعدہ اعتراف ہے جو کہ انہیں مذاکرات کیلئے قدرے طاقت کی حامل حیثیت دے گا۔

دوحہ، قطر میں امن معاہدہ

دوہا میں بین الافغان امن مذاکرات اگرچہ ایک تاریخی اور حوصلہ افزا پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں لیکن مسلسل فرقہ وارانہ کشیدگی کا مطلب یہ ہوا کہ یہ  تنازعے کا شفاف حل نہیں نکلنے دیں گے۔ ایک قابل عمل ”سیاسی فارمولے“ کی تشکیل کیلئے برسوں کی شکایات اور بنیادی نظریاتی اختلافات سے نمٹنا، عبوری لائحہ عمل یا پھر موجودہ سیاسی خدوخال میں طالبان کی شمولیت میں سے کسی ایک پر اتفاق وہ امور ہیں جنہوں نے امن مذاکرات کی رفتار کو سست کردیا ہے۔

دوحہ میں بات چیت کے حوالے سے پائی جانے والی تمام رجائیت اس وقت دم توڑنے لگی جب اصولوں اور ضوابط پر عدم اتفاق دو ماہ سے زائد عرصے پر محیط ہوگیا جبکہ پیش رفت خواہ وہ مذاکرات کی میز پر ہو یا تشدد میں کمی کی صورت میں، دونوں جگہ تھم گئی۔ امریکہ طالبان معاہدے کی مذاکرات کیلئے بطور نقطہء آغاز قبولیت اور  چار بڑے سنی مکاتیب فکر میں سے ایک حنفی مکتبہ فکر جس کی پیروی افغانستان کے سنی مسلمانوں کی اکثریت کرتی ہے، تنازعوں کے لیے ان کی فقہ کو قبول کرنا وہ دو بڑے مسائل بن چکے ہیں جو اس عمل کو سست بنا رہے ہیں۔ ۲ دسمبر کو مذاکراتی گروہ نے رہنما اصولوں پر معاہدے کا اعلان کیا جو کہ مذاکرات کواگلے مرحلے میں لے جائے گا جہاں اصل بات چیت ہوگی۔

مذاکراتی گروہ جس کے ذمہ سیاسی راہ  اور ایک جامع سیزفائر کیلئے نقشہ سازی ہے، اس عمل کے اہم حصے پر ۲۰۲۱ میں کام شروع کرے گی۔ انہیں بہت سے مراحل پر تعطل کا سامنا ہوسکتا ہے ماسوائے اس کے کہ ایک آزاد ثالث یا امریکہ پیش رفت کی رفتار کو برقرار رکھے۔ مذاکرات کا اگلا مرحلہ سب سے زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ دونوں فریقوں نے اس حوالے سے کم کم ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی حیثیت پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کی جانب سے موجودہ حکومت کے ہمراہ شراکت اقتدار پر مبنی معاہدے کو قبول کیے جانے کا بہت کم امکان ہے اور غنی کی جانب سے ایسے کسی بھی سیاسی نظم کو قبول کیے جانے کا امکان نہیں جس میں انہیں اپنے زیادہ تر اختیارات سے دستبردار ہونا پڑے۔ جب طالبان امریکی افواج کے انخلاء کے دن گن رہے ہوں گے، تب اشرف غنی کی جانب  سے بات چیت میں تاخیر کے لیے مسلسل کوششیں جاری تھیں جس کی کسی حد تک وجہ ان کی یہ امید تھی کہ بائیڈن انتظامیہ، طالبان کے حوالے سے امریکی پالیسی اور اس کے فوجی انخلاء میں تبدیلی لائیں گے۔

مذاکراتی ایجنڈا جس کا دونوں فریقوں کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا جانا ابھی باقی ہے، اس میں ایک افغان ریاست کے مجوزہ خدوخال، مختلف نسلی گروہوں اور نظریاتی طور پر منقسم دھڑوں کے درمیان اقتدار کے معاملے پر تاریخی اختلاف شامل ہوگا۔ طالبان عسکریت پسندوں کی دوبارہ شمولیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف نظام انصاف اور قومی مفاہمتی عمل بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔ ان میں سے ایک ہر معاملہ معطلی کی جانب لے جاسکتا ہے یا اسے طے کرنے میں مہینے لگ سکتے ہیں۔

امن کا راستہ یا جوں کی توں صورتحال؟

افغانستان میں تنازعے کے خاتمے کیلئے بات چیت کے ذریعے راضی نامہ راتوں رات وجود میں نہیں آسکتا۔ گزشتہ بیس برس کے دوران امن عمل کی داستان اتار اور چڑھاؤ سے مزین ہے۔ امریکہ، افغان حکومت اور دیگر بین الاقوامی حصہ دار تنازعے کو ختم کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کی میز پر آتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار امریکہ اور عالمی برادری مذاکرات کے ذریعے کسی راضی نامے تک پہنچنے کی ضمانت دینے کیلئے خاصی پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ کی ترجحیحات کچھ اس انداز سے تبدیل ہوئی ہیں کہ اب افغانستان اس کی فہرست میں اوپر باقی نہیں رہا ہے۔  بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے  پہلے سے جاری فوجی انخلاء میں ماسوائے نفاذ کے لیے ترمیم کے، اس سے انحراف کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ 

اگرچہ ایک منقسم افغان حکومت اور غیر طالبان اتحاد میں اتفاق رائے کی کمی امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں تاہم امکان ہے کہ امریکہ اپنے مکمل انخلاء سے قبل ایک معاہدے کے لیے زور دے گا۔ امریکہ، طالبان اور افغان حکومت دونوں کو معاہدے کی تشکیل تک مذاکرات کی میز پر بٹھائے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ بعد از انخلاء کے افغانستان کیلئے امریکہ پر انحصار میں طول کے اعتبار سے بری خبر ہوسکتا ہے۔ افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) امریکی فضائی مدد کے بغیر بڑے شہروں اور ضلعوں کی حفاظت کیلئے نااہل ثابت ہوئی ہے۔ طالبان بھی امریکی فضائی مدد کے مقابلے میں دفاع کے قابل نہیں ہیں اور وہ اس وقت تک اپنی کامیابی کا دعویٰ نہیں کرسکتے جب تک امریکی فوجی سرزمین پر موجود ہیں۔

طالبان کے ہمراہ کسی بھی قسم کا امن معاہدہ ۲۰۲۱ کا بہترین منظرنامہ ہوسکتا ہے، اگرچہ اس کا مطلب افغانستان میں ”امن“ ہرگز نہیں ہوگا۔ حکومت کیلئے یہ لازم ہوگا کہ وہ علاقائی اتفاق رائے کو برقرار رکھے، طالبان سے علیحدہ ہونے والے ہم خیال گروہوں سے نمٹے اور سب سے زیادہ اہم اسلامک اسٹیٹ ان خراسان (آئی ایس کے پی) کی صورت میں سامنے موجود خطرے سے نمٹے۔ آئی ایس کے پی وہ خطرہ ہے جسے افغان حکومت سیاسی وجوہات کی وجہ سے، اور مشاہدہ کار و ماہرین کم اہمیت دیتے رہے ہیں  تاہم اس کے باوجود متعدد صوبوں اور بڑے شہروں تک اس کی پہنچ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی فوجی اگرچہ ملک چھوڑنے کیلئے تیار ہیں تاہم افغانستان میں جاری قوم کی تعمیر کا عمل انجام سے کوسوں دور ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Pixabay

Image 2: Wasil Kohsar/AFP via Getty Images

Posted in , Afghanistan, Corruption, democracy, Development, Disarmament, Education, Elections, Ethnic Conflict, Extremism, Militancy, Nationalism, Peace, Politics, Security, Taliban, Terrorism, United States, Year in Review 2020

Jumakhan Rahyab

Jumakhan Rahyab is a Fulbright Graduate Fellow at the University of Massachusetts' McCormack Graduate School of Policy and Global Studies, where he is pursuing a master’s degree in Peace and Conflict Resolution Studies. He holds a BA in Political Science from Kabul University, and is an alumnus of the Young Leaders Forum (YLF). He has been involved in civil society and human rights activism since 2013 when he co-founded Youth Development Association (YDA), a local CSO focused on youth and women empowerment through advocacy, training, and raising awareness. He has also co-translated the book, China in the 21st Century: What Everyone Needs to Know.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *