شمالی کوریا پر جوہری تبادلہ اورپاکستان کی جوہری کیفیات پر ممکنہ اثرات

قابل احترام سیاسی  نظریہ کار کینتھ والٹز نے ایک دفعہ کہا تھا “غلط اندازے جنگ کا باعث بنتے ہیں۔“ جزیرہ نُما کوریا  کی حالیہ فضاء  یہ بتاتی ہے کہ غلط انتباہات، کم تر معلومات اور  خود ساختہ تصورات حادثاتی یا حیران کن جوہری جنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔اسی تناظر میں یہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کِم جانگ-اَن کے مابین باہمی  اشتعال انگیزی اور دھمکیاں بحران کو اس مقام تک لے جائے گی کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ جوہری تصادم ، چاہے وہ شمالی کوریا یا امریکہ کی طرف سے شروع کیا جائے، جنوبی ایشیا کے جوہری ڈیٹرنس پر کئی طرح کے غیر متوقع اثرات ڈال سکتا ہے۔ میں نے اس مضمون میں یہ بیان کیا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں جوہری ہتھیاروں کی مرکزیت  شمالی کوریا میں جوہری تصادم کی صورت میں  تبدیل نہیں ہو گی۔ تاہم جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی صورتحال دیکھتے ہوئے پاکستان کئی طرح کے عالمی اور داخلی دباؤ کا شکار ہو گا جس کا مقصد بھارت کے مقابلے میں جوہری ڈیٹرنس کو مستحکم کرنا ہو گا۔

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا منظر نامہ اور دیگر جوہری ریاستوں کےلئے پیغام؛

جزیرہ نما کوریا پر حادثاتی یا حیران کن جوہری تجربہ “نیوکلئیر ٹیبو” کو ختم کر دے گا جسے دنیا نے کم و بیش ۷۰ سال سے برقرار رکھا ہوا ہے۔ سیاسی  سائنسدان نینا تانینوالڈ نے پہلی دفعہ “نیوکلئیر ٹیبو” لفظ کا استعمال ۱۹۹۹ میں  جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال (جو ریاستوں کو  “اخلاقی و سیاسی قیمت ” پر جوہری ہتھیاروں کا سہارا لینے سے روکتا ہے)  کے لئے استعمال کیا تھا۔

امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا پر جوہری حملہ ایک خطرناک مثال قائم کر دے گا۔ اولاً یہ امریکہ کی عالمی  ساکھ متاثر کرے گا۔ مزید تباہ کن یہ ہو گا کہ چھوٹی ریاستوں کی طرف سے اپنے دفاع کے لئے بڑی جوہری طاقتوں پر جوہری حملے میں پہل کے عنصر کو قانونی بنا دے گا۔ نتیجتاً یہ عمل چھوٹی ریاستوں کے بیچ جوہری پھیلاؤ  کا باعث بھی بنے گا۔ اور امریکہ (ایک ایسا ملک جسے جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے بہت سی بنیادیں فراہم  کرنے کی بدولت سراہا جاتا ہے) کی طرف سے کیا گیا حملہ   عالمی اخلاقیات اور قانون سے متعلق ایک مہلک مثال قائم کرے گا ۔

اگر شمالی کوریا جوہری جنگ کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اس  کےلئے بھی  کوئی فتح نہیں ہو گی۔ ایسا کرنا کوریائی حکومت کا خاتمہ کر دے گی چونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس  جوابی جوہری اور روائتی صلاحیت  میں برتری  شمالی کوریا سے کہیں ذیادہ ہے۔ تاہم شمالی کوریا میں حکومت کا خاتمہ کثیر انسانی جانوں کے ضیاع کے بغیر مکمل نہیں ہوگا۔البتہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں امریکی حملے سےچھوٹی ریاستوں کی طرف سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو روکا جاسکے گا۔

شمالی کوریا کے جوہری دھماکے کا پاکستانی جوہری  کیفیت پر اثر؛

اگر “نیوکلئیر ٹیبو” امریکہ یا شمالی کوریا کی طرف سے توڑا جاتا ہے تو پھر بھی جوہری ہتھیاروں کی اہمیت پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں کم نہیں ہو گی۔ بلاشبہ ایسی صورتحال پاکستان کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے نقطے میں جواز مہیا کرے گی۔

کوریائی حملے کے بعد پاکستانی جوہری پالیسی میں عدم تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان شمالی کوریا سے بہت سے معاملات میں مختلف ہے۔ اولاً، پاکستان جوہری ہتھیاروں کا حصول ڈیٹرنس اور بھارت کے مقابلے میں روائتی کمتری کی وجہ سے چاہتا ہے۔ شمالی کوریا کے برعکس پاکستان نے نہ تو “جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ” کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی راہِ فرار اختیار کی کیونکہ پاکستان اس معاہدے پر عدم دستخط کنندہ ہے۔ اسی طرح پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے کئی پروٹوکولز میں بھی شامل ہے جیسا کہ “جوہری دہشت گردی سے بچاؤ کےلئے عالمی انیشی ایٹو” اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر ۱۵۴۰۔

جہاں چند مبصرین نے خدشات کا اظہار کیا ہے وہیں پاکستان جوہری  صلاحیت کو  ایک جامع کمانڈ اینڈ کنٹرول  طریقہ ِ کار کے تحت قائم کیا ہے ۔ پاکستان کی حالیہ  ‘ریسیسڈ ڈیٹرنس” پالیسی  (جس میں جوہری جنگی ہتھیار ترسیلی نظام کے ساتھ منسلک نہیں ہیں) بھارت کے ساتھ ڈیٹرنس کے استحکام کا مزید ثبوت فراہم کرتی ہے ۔   جہاں پاکستان کے سیاسی و عسکری رہنماؤں نے ماضی میں اشتعال انگیز بیانات دیے وہیں   اعلیٰ سطحی لیڈرشپ میں “نیوکلئیر ٹیبو” کو ختم کرنے کے حوالے سے خاصی کم سنجیدگی ہے۔

شمالی کوریا سے مختلف یہ نقاط  اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان ڈیٹرنس اور جوہری استعمال کے حوالے سے سمجھدارانہ ذہنیت رکھتا ہے۔ بالفرض ڈیٹرنس ناکام ہو جاتا ہے اور پاکستان کو اپنی بقاء کا مسئلہ درپیش آ جاتا ہے تو جوہری ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر ہو جائے گا۔ اور  مصنف سےایک عسکری آفیسر نے اس خیال  کے ساتھ اتفاق کیا اور کہا “اخلاقیات اور اقدار کا اس وقت کوئی سروکار نہیں ہوتا جب بات قومی سلامتی اور بقاء تک پہنچ جاتی ہے”۔

شمالی کوریا کے جوہری دھماکے کے علاقائی و عالمی  مضمرات؛

حتی کہ جب پاکستان کی ڈیٹرنس پالیسی میں تبدیلی تقریباً نا ممکن ہے، پھر بھی پاکستان کو جزیرہ نما کوریا پر ہونے والے جوہری دھماکے کو علاقائی استحکام پر مجوزہ اثرات کی نظر سے دیکھنا چاہیئے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں بھارت  جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی سے دور ہو سکتا ہے۔ ایسا بالخصوص تب ہو گا جب امریکہ شمالی کوریا پر جوہری حملہ کرے گا۔

پہلے حملہ کرنے کی حکمتِ عملی کا پاک-بھارت تعلقات پر انتہائی اہم کردار ہے کیونکہ یہ صلاحیت  داراصل پاکستان کے جوہری اثاثوں پر   کاؤنٹر فورس حملہ کرنے میں پہل کا نام ہو گا۔ دوسری بات یہ کہ بھارت کی جوہری صلاحیت میں تبدیلی برصغیر میں دونوں ریاستوں کو جوہری طور پر تیار رہنے ، ہتھیاروں کے ترسیلی نظام کو متحرک رکھنے اورجوہری  رسک میں اضافہ کرے گی۔ جس سے یقیناً خطے میں جنگ یا حادثاتی دھماکے کے مواقع بھی ذیادہ ہو جائیں گے۔

بھارتی جواب کے علاوہ، کوریا میں جوہری دھماکہ پاکستان کے اندر بھی  نئی تزویراتی سوچ  کا باعث بن سکتا ہے۔ کوریا میں جوہری دھماکہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں بھی خوف کا باعث بن سکتا ہے اور جوہری پالیسی سازی میں لوگوں کا کردار اور رائے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال اگرچہ پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی میں تبدیلی کا باعث تو نہ بن سکے گی مگر اس سےجوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج کے حوالے سے ایک نئی بحث ضرور چھڑ سکتی ہے  ۔

مزید برآں کوریا میں جوہری دھماکے سے عالمی برادری آئندہ کےلئے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ٹھان سکتی ہے۔ مثلاً بھارت اور پاکستان شمالی کوریا کے علاوہ وہ واحد دو ممالک ہیں جنہوں نے سی-ٹی-بی-ٹی پر دستخط نہیں کئے ہیں اور پھر اسی بدولت دستخط کرنے کےلئے عالمی دباؤ میں  آ جائیں گے۔ اسکے علاوہ عالمی برادری کی طرف سے دونوں ملکوں پر   “فیسائل میٹرئیل کٹ آف ٹریٹی “(ایف-ایم-سی-ٹی) کے تحت تصدیقی طریقہِ کار  یا جوہری صلاحتوں سے متعلق گاہے بگاہے  آگاہ رکھنے کا دباؤ بھی بڑھ جائے۔

ہتھیاروں پر کنٹرول محض بیرونی طور پر ہی نہیں ہو گا۔ شمالی کوریا میں جوہری دھماکے کی صورت میں وہ بھی بالخصوص اگر کوریا کی جانب سے کیا جائےتو پاکستان اور بھارت میں اندرونی طور پر بھی جنگ سے بچنے کےلئے ڈیٹرنس کے استحکام پر زور دیا جا سکتا ہے۔ جوہری ڈیٹرنس پاک-بھارت تعلقات میں بہتری کا باعث ہو سکتا ہے اور جو جوہری معاملات میں تعاون (سیبیایمز) کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

خلاصہ؛

ایک غیر متوقع  واقعہ بشمول شمالی کوریا کے ساتھ جوہری  تصادم پر ماہرین تعلیم اور تزویراتی کمیونٹیز کی طرف سے ضرور  غور کرنا چاہیئے۔ جوہری استعمال بظاہر ایک مخفی اور فرضی عمل لگتا ہے تاہم بڑی آسانی سے ایک حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ اس طرح کی حقیقت سے اجتناب پاک-بھارت عسکری  افسران  اور پالیسی سازوں کی  خاطر خواہ کوششوں سے ہی ممکن ہو سکے گا۔

اگرچہ “نیوکلیئر ٹیبو” کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن اسکا خاتمہ بھی شائد ممکن نہیں۔ جوہری حملے کے بغیر بتائے گئے ۷۲ سال  کے بعد اگر کوئی حملہ ہوا تو وہ یقیناً اس عالمی  کامیابی  کے  عرصہ کو  مستقبل میں ناقابلِ یقین  نتائج  مرتب کرے گا۔ اس وقت پاکستان کے اندر ایک ایسی فضاء ہے جو ملک کو  جوہری ہتھیاروں پر ذیادہ انحصار کی طرف لے جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی اس خطرناک  دوڑ کو روکنے کےلئےتحمل مزاج حکومتیں اور ادارہ جاتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو اپنی روائتی صلاحیتوں  کا بہتر بنانے اور بھارت کے ساتھ سفارتی روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

(ایڈیٹر نوٹ)

اگر جوہری ہتھیاروں کا استعمال  شمالی کوریا میں ہوتا ہے تو اسکے پاکستان اور بھارت کےلئےتزویراتی، سیاسی ، معاشی اور ماحولیاتی اثرات یا خطرات کیا ہوں گے؟ پاکستان اور بھارت کی جوہری خیالات کس طرح متاثر ہوں گے، جوہری ہتھیاروں کو دونوں ملک اپنی حکمتِ عملی میں کتنی اہمیت دیتے ہیں اور علاقائی سکیورٹی کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ ساؤتھ ایشین وائسز کی لکھاری رضوانہ عباسی اور حنا پانڈے اس بارے میں اپنی رائے کو دو اقساط میں بیان کرتی  ہیں۔ ان کو مکمل پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: (stephan) via Flickr.

Image 2: Aamir Qureshi via Getty Images.

Posted in , India, India-Pakistan Relations, North Korea, North Korean Impact Series, Nuclear Security, Nuclear Weapons, Pakistan, Security, United States

Rizwana Abbasi

Dr. Rizwana Abbasi is an assistant professor in the Department of Strategic and Nuclear Studies at the National Defense University, Islamabad. She completed her PhD at the University of Leicester, and was a post-doctoral research fellow there. Formerly, she was a research fellow at the University of Leeds. She is a graduate of the Daniel K. Inouye Asia-Pacific Center for Security Studies (DKI APCSS), Hawaii, USA. She has authored a book titled Pakistan and the New Nuclear Taboo: Regional Deterrence and the International Arms Control Regime (Oxford: Peter Lang, 2012).

Read more


Continue Reading

Nepal-India

नेपाल और भारत की नई दोस्ती: बराबरी पर आधारित

इस महीने की शुरुआत में, प्रधान मंत्री के.पी. ओली कार्यभार संभालने के बाद अपनी पहली  विदेश यात्रा पर भारत गए। जैसा कि आम तौर पर द्विपक्षीय […]

April 20, 2018 - Views 0



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *