ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ موجودہ صورتِ حال سے کس طرف کو جائے گا

ٹاپی (ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت) گیس پائپ لائن منصوبے  کے افغان حصے کا فروری میں افتتاح ایک امید دلاتا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل قریب میں مکمل   جائے گا۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس منصوبے پر ٹویٹ کرتے ہوئے اسے “خطے کی معاشی ترقی اور علاقائی ربط سازی” میں ایک اہم باب قرار دیا۔ان کی یہ ٹویٹ افغانستان  کی منصوبے سے وابستہ امیدیں  اور تمام چار ملکوں کےلئے اس منصوبے کی اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔۱۹۹۰ کی دہائی میں ۱۸۱۴ کلومیٹر طویل اس منصوبے کو ترکمانستان نے ترویج دی اور یہ پائپ لائن وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا میں براستہ افغانستان داخل ہو گی۔ منصوبے کی راہ میں کثیر رکاوٹوں کی وجہ سے اب اٹھایا گیا ایک ایک اور چھوٹا سا  قدم بھی انتہائی  اہم ہے۔ تاہم منصوبے کے مالی ، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی مسائل اب بھی منصوبے کی تکمیل میں خطرات کا باعث ہیں۔

”ٹاپی“ پائپ لائن کو درپیش سکیورٹی خطرات:

افغانستان میں سکیورٹی مسائل ”ٹاپی منصوبے کی راہ میں اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم ایک اہم خبر یہ سامنے آئی ہے کہ طالبان نے منصوبے کی تعمیر میں اعلانیہ حمائت کا اعلان کیا ہے ۔لیکن انکی طرف سے منصوبے کی حمائت پہلی دفعہ سامنے نہیں آئی ہے۔ ۱۹۹۸ میں جب طالبان کی اپنی حکومت تھی تب بھی انہوں نے ”ٹاپی کےلئے سکیورٹی فراہم کرنے میں رضامندی دکھائی لیکن بعد میں یہ یقین دہانی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ اسی طرح ۲۰۱۶ میں بھی طالبان نے اپنے کنٹرول کے علاقوں میں بھی منصوبے کے سکیورٹی کا یقین دلایا تاہم یہ وعدے محض باتیں ثابت ہوئیں۔

کابل میں حکومتی عہدیداروں کے مطابق افغانستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ”ٹاپی منصوبہ جنگ سے متاثرہ ملک میں ۵۰۰ ملین ڈالر کے مالی  وسائل بھی مہیا کرے گا ۔ لیکن منصوبے کی سکیورٹی کےلئے حکومت نے ۷۰۰۰سکیورٹی  فورسز کو تعینات کیا ہے جو کابل کےلئے بہت بڑا مالی بوجھ ہیں۔ مزید برآں کابل کو توانائی انفراسٹرکچر بشمول ٹرانسمشن لائنز اور بجلی کے کھمبوں  کی حفاظت بھی کرنی ہو گی  جنہیں اکثر طالبان نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اس لئے ”ٹاپیمنصوبے کو افغانستان، پاکستان اور بھارت کےلئے کارگر بنانے کےلئے افغان حکومت کو  سکیورٹی تناظر میں وسیع تر اقدامات کرنے ہوں گے۔

اسی طرح پاکستان بھی توانائی کی کمی کا شکار ہے اور وسطی ایشیا سے آنے والی گیس سے بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ لیکن منصوبے کا ایک بڑا ۸۲۶ کلومیٹر طویل حصہ بلوچستان  سے گزرے گا جو پہلے ہی شورش زدہ ہے۔ بلوچستان کا دارلحکومت کوئٹہ  داعش کی طرف سے دہشت گرد حملوں کا بالخصوص نشانہ بنتا رہتا ہے۔ اس لئے ”ٹاپی کے افغانستان اور پاکستانی حصے پر سکیورٹی کے زبردست مسائل موجود ہیں۔

جغرافیائی سیاسی مسائل:

سکیورٹی خدشات کے علاوہ جغرافیائی سیاسی مسائل بھی پائپ لائن منصوبے کےلئے رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں۔ اپنے بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے باعث بھارت نے ”ٹاپی میں ۲۰۰۶ میں شمولیت اختیار کی اور اسکی کامیاب تکمیل پر بھارت  خاصی حد تک مستفید ہو گا۔ اس منصوبے سے بھارت توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں سے زمینی تعلق قائم کر سکے گا  جو اس وقت پاکستان اور چین سے تلخ حالات کی وجہ سے  ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کےلئے نئی دہلی متبادل راستوں بالخصوص ایرانی روٹ پر بھی آنکھ رکھے ہوئے ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں نے بھی بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے میں  دلچسپی ظاہر کی ہے جو کہ قزاقستان کی طرف سےبھارت کو پائپ لائن کے ذریعے ۳ بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس فراہم کرنے کی پیشکش سے ظاہر ہے۔ لیکن ایسے کسی بھی منصوبے پر کام اور علاقائی روابط سے قبل اسلام آباد اور نئی دہلی کو بڑھتی دوریاں کم کر نا ہوں گی۔ بھارت کےلئے یہ نامناسب ہو گا کہ وہ جو توانائی حاصل کر سکتا ہے اس میں کوئی اور ملک، بالخصوص پاکستان، اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے  آڑے آ جائے۔

مالی خدشات:

تمام ممالک کےلئے جو چیلنج مشترکہ ہے وہ پائپ لائن کی تعمیر کےلئے درکار  رقم ہے۔ پائپ لائن کا چار ملکی کنسورشیم ،ٹاپی پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ ، چاروں ملکوں کی  ان کمپنیوں پر مشتمل ہے جو ریاستی  ملکیت ہیں۔ تاہم ترکمانستان کی ریاستی کمپنی  “ترکمینگاز” کنسورشیم کی سربراہ ہے اور اس نے منصوبے پر اٹھنے والے ۸۵ فیصد اخراجات  کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ باقی کا ۱۵ فیصد انتظام  افغانستان، پاکستان اور بھارت کریں گے۔ اس کے باوجود کنسورشیم کی طرف سے اس منصوبے کی فنڈنگ کیا جانا سولات سے بھرپور ہے۔ مثال کے طور پر اگرچہ ترکمانستان میں منصوبے کے ۲۱۴ کلومیٹر حصے کا سنگِ بنیاد ۲۰۱۵ میں رکھا لیکن ابھی تک کوئی بھی دستاویز یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ترکمانستان کے حصے پر کام مکمل ہو گیا ہے یا کام جاری ہے۔ مزید برآں ترکمانستان گیس کی قیمتوں میں کمی کے باعث پہلے ہی مالی مشکلات سے گزر رہا ہے اور عالمی توانائی کمپنیوں کی طرف سے منصوبے کی فنڈنگ کا بھی کوئی انتظام نہیں کر سکا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک منصوبے کے ایک حصے کو فنڈ کر رہا ہے لیکن بیرونی فنڈنگ پائپ لائن پر مزید کام کےلئے اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

منصوبے کے ممکنہ سہولت کار کے طور پر سعودی عرب نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ سے ”ٹاپی کےلئے رقم فراہم کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ حتیٰ کہ جاپان نے بھی ایسی ہی آمادگی ظاہر کی ہے اور اسی سلسلے میں جاپان اور ترکمانستان کے بیچ بات چیت جاری ہے۔ چین بھی فنڈز دے سکتا ہے چونکہ ترکمانستان چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا رکن ہے اور چین ترکمانستان کی گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس عمل سے چین کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو بھارت کے مغربی سرحدوں تک وسعت دینے میں مدد ملے گی اور بھارت کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط استوار ہوں گے۔ چین کے پاکستان ، افغانستان اور ترکمانستان کے ساتھ مراسم سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو پاکستان میں بھی پھیلانے میں مدد ملے گی جہاں پہلے ہی سی-پیک کی صورت میں  اس انیشیٹو کےلئے  فضاء ہموار ہو رہی ہے۔ تاہم منصوبے کی حمائت کےلئے چین کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہو ا ہے۔ بلاشبہ ”ٹاپی منصوبے کےلئے وسیع تر مالی و انفراسٹرکچر کےلئے مدد کی ضرورت ہو گی  لیکن مالی حمائت کی مبہم صورتِ حال کے باعث یہ دیکھنا ہو گا کہ منصوبہ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

خلاصہ:

”ٹاپی منصوبے کی معاشی و جغرافیائی اہمیت کے پیشِ نظر یہ گمان  کیا جاتا ہے کہ مخالف ممالک ، جیسے پاکستان اور بھارت بھی دشمنیوں کو ایک طرف رکھ کر  باہمی معاشی مفادت کےلئے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ لیکن چیلنجز کی فہرست بھی طویل ہے اور مالی مسائل اپنی جگہ۔ طالبان کی طرف سے اس ۱۰ بلن ڈالر کے منصوبے کی سکیورٹی کی گارنٹی دینے سے یہ منصوبہ ۲۰۲۰ کی توانائی سکیورٹی کےلئے  گیم چینجر بن سکتا ہےلیکن  اگر طے کی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق کام کر لیا جاتا ہےتو۔ اگر مالی و سکیورٹی مسائل حل ہو بھی جاتے ہیں تو مستقبل میں  پھر بھی رکاوٹیں ہوں گی ، جیسا کہ تمام پارٹیوں کی طرف سے  گیس کی قیمتوں کا طے کیا جانا، گیس کا کوٹا اور لاجیسٹیکل چیلنجز۔ ایک اور اہم رکاوٹ پاکستان اور بھارت کا وقفے وقفے سے تعاون اور مقابلے کی فضاء میں رہنا بھی ہے  اور یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کا مستقبل قریب میں کوئی حل بھی نظر نہیں آ رہا۔ ان تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود ”ٹاپی منصوبہ آج بھی توانائی بحران اور جنوبی ایشیا میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: USACE Afghanistan Engineer District-South via Flickr

Image 2: Hoshang Hashimi via Getty

Posted in , Afghanistan, China, Cooperation, Economics, Economy, Energy, Geopolitics, India, Internal Security, Pakistan, Peace, Regional Connectivity

Chithra Purushothaman

Chithra Purushothaman

Chithra Purushothaman is a researcher in the Non-Traditional Security Centre at Institute for Defence Studies and Analyses (IDSA), New Delhi. She recently received her PhD from the Centre for International Politics, Organization and Disarmament (CIPOD), Jawaharlal Nehru University, specializing in emerging powers and their development assistance. At IDSA, her work is focussed on India's foreign policy and energy security. She has previously worked as a guest faculty in Jawaharlal Nehru University and has held research positions in Centre for Policy Research and MyGov India.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *