,

پاکستان میں سی پیک کی تجدید

۱۴ جولائی کو ایکسپریس ٹریبیون کے رپورٹر شہباز رانا نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ایک منصوبے کے بارے میں خبر دی تھی جس کے مطابق حکومت نے سی پیک منصوبوں کی تکمیل کی نگرانی پر مامور حکام کیلئے انتظامی، معاشی اور حتیٰ کہ سزا سنانے کے اختیارات پر مشتمل نئی تجویز پیش کی ہے۔ بعد ازاں یہ خبر اخبار سے ہٹا دی گئی۔ اس سے دو ہفتہ قبل پاکستان اور چین نے سی پیک کے تحت ۱۱ بلین ڈالر مالیت کے منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کئے تھے جس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پن بجلی کے دو اور ایک ریلوے کا منصوبہ شامل ہے جو کہ تاحال مہنگا ترین سی پییک منصوبہ ہے۔

حالیہ رپورٹیں عمران خان حکومت کی جانب سے سی پیک کی تجدید نو کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو نمایاں کرتی ہیں، جس کی وجہ غالباً چین کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ اور یہ تاثر ہے کہ ان کی مدت میں سی پیک میں سستی آچکی ہے۔ منصوبوں کی لاگت اور شفافیت میں کمی پر مبینہ برہمی کے باوجود بھی سی پیک کی بحالی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ۷۰ بلین ڈالر سے زائد مالیت کی حامل معاشی راہداری ناکامی کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ ان دنوں بھی جب کووڈ ۱۹ کے مریضوں میں اضافہ ہورہا تھا، دونوں جانب کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ نہ صرف سی پیک منصوبے عالمی وبا سے محفوظ ہیں بلکہ یہ بھی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم جوں جوں سی پیک منصوبوں کی رفتار میں تیزی آرہی ہے، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا اہم ترین حصہ سویلین قانون سازوں کے ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

سی پیک اتھارٹی کیا ہے؟

گزشتہ چار برس کے دوران چین اور پاکستان دونوں جانب سے حکام سی پیک کے سست روی کا شکار ہونے کی بارہا تردید کرتے رہے ہیں۔ ان تردیدوں کے باوجود، پاکستان کا مرکزی ذرائع ابلاغ سی پیک کے تحت منصوبوں کی بھرمار کی وجہ سے درپیش مسائل اور رکاوٹوں پر برہمی کے بارے میں بتدریج خبریں دینے لگا۔ نتیجتاً ایک چیز واضح تر ہوتی چلی گئی: وزیراعظم عمران خان کے انتخاب سے قبل ہی مشکلوں سے دوچار سی پیک ان کے دور حکومت میں مزید سست روی کا شکار ہوچکا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا مرکزی منصوبہ ہونے کے ناطے، چین بھی اس صورتحال سے خوش نہیں تھا۔

چین اگرچہ نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی حمایت کرتا دیکھا گیا تھا تاہم سی پیک کے حوالے سے تناؤ محض عمران خان حکومت تک محدود نہیں تھا۔ شریف اور عسکری قیادت کے مابین مبینہ تناؤ کی وجوہات میں سے ایک سی پیک کا کنٹرول بھی تھا۔ ۲۰۱۶ میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق چین سی پیک منصوبوں پر تعاون اور اتفاق رائے میں کمی کی وجہ سے برہم تھا اور ”سی پیک ڈیولپمنٹ اتھارٹی“ تخلیق کرنے پر بات چیت کی جارہی تھی جو سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے ضمن میں فوج کو باقاعدہ کردار سونپ دیتی، جس کی شریف نے مخالفت کی۔ اس وقت پاک فوج کا ایک حصہ سی پیک منصوبوں کی حفاظت کا کام شروع کرچکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ چین بھی سی پیک کے عملی نفاذ اور اس کی نگرانی کیلئے فوج کی زیادہ شمولیت کے حق میں تھا۔ اگرچہ ایک علیحدہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کی تجویز برسوں قبل سے ہی موضوع بحث تھی تاہم یہ پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں ۲۰۱۹ میں ٹھوس شکل اختیار کرگئی۔

سی پیک اتھارٹی چین اور پاکستانی جانب موجود سی پیک منصوبوں کے شراکت داروں کے مابین بہتر تعاون کیلئے چین کی درخواست پر تشکیل دی گئی تھی۔ اس اتھارٹی نے سی پیک کو پاکستان کے سب سے طاقتور کھلاڑی کی ضمانت بھی دی۔ اکتوبر ۲۰۱۹ میں منظور ہونے والے سی پیک اتھارٹی آرڈینیننس کا مقصد ”سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانا“ تھا اور اسکی قیادت ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ کر رہے ہیں۔ سی پیک اتھارٹی کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے کردار کو نظرانداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وجود میں آئی تھی اور بعض کی رائے میں اس آرڈیننس نے سی پیک منصوبوں کا اختیار نہایت موثر طور پر سول حکومت سے فوج کو سونپ دیا ہے۔

جولائی میں ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وفاقی حکومت سی پیک اتھارٹی کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز بھی دے چکی ہے۔ ان اختیارات میں خاص کر ”ایسے افراد بشمول سرکاری عہدیداران کو جرمانہ کرنے، ان کیخلاف متعلقہ ایجنسیز کو تحقیقات و تفتیش سونپنے کا اختیار شامل ہے جو جانتے بوجھتے حکام کی ہدایات، احکامات اور بیان شدہ ہدایات سے انحراف میں ملوث ہوں۔“ یہ مضمون اگرچہ اخبار سے ہٹا دیا گیا تھا تاہم اس کے رپورٹر شہباز رانا اپنی خبر پر قائم رہے اور یہ ابلاغی حلقوں میں  زیربحث رہی حتیٰ کہ بی بی سی اردو نے اس معاملے پر تفصیلی خبر دی جس میں ٹریبیون کے رپورٹر کے دعووں کی تصدیق کی گئی۔ تاہم حکام نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ نئے سی پیک اتھارٹی بل میں بعض ایسی شقوں کو ختم کردیا گیا ہے جو سی پیک اتھارٹی کو تحقیقات کرنے اور تفتیش کا اختیار دیتی تھیں۔

سی پیک فیز ٹو: نئے منصوبے، پرانی آزمائشیں؟

سی پیک کی تجدید نو کی تازہ ترین علامت جون اور جولائی میں دستخط ہونے والے ۱۱ بلین ڈالر مالیت کے معاہدے ہیں نیز پاکستان کی جانب سے ان معاہدوں کے سب سے قیمتی حصے، استعماری دور کے ریلوے نظام کی بحالی کی منظوری ہے۔ مزید براں فیصل آباد میں سپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) کا افتتاح سی پیک کے دوسرے مرحلے کا کلیدی حصہ ہے۔ ان زونز کا مقصد مصنوعات، سائنس، ٹیکنالوجی اور ذراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا ہے۔ معاہدوں پر دستخط کے ساتھ سی پیک کے منصوبے ”پوری رفتار سے آگے بڑھتے“ دکھائی دے رہے ہیں۔

تاہم سی پیک کے ۶۲ بلین ڈالرمالیتی منصوبوں کے تقریباً تمام پہلوئوں کو ابتداء سے ہی خاص کر نوازشریف کی سربراہی میں سابق وفاقی حکومت کے دور میں خفیہ رکھا گیا۔ پاکستانی قانون ساز بھی سی پیک منصوبوں میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ ماضی میں، وزیراعظم عمران خان نوازشریف کے ساتھ اپنی سیاسی رقابت کی بنا پر معاہدوں کی شرائط و ضوابط پر چینی حکومت کے ہمراہ از سر نو غور پر زور دیتے رہے ہیں۔ یہ امر قابل غور ہے کہ تاحال پی ٹی آئی حکومت کے ماتحت بھی سی پیک منصوبوں کے حوالے سے شفافیت میں قابل ذکر بہتری نہیں آئی ہے۔

ابتداً، خان کے تحفظات کے اشارے ملنے اور سی پیک کے سست روی کا شکار ہونے کے باوجود بھی سی پیک کے معاملے پر اسلام آباد آج بھی بڑی حد تک پہلے جیسا موقف رکھتا ہے۔ بی آر آئی کا اہم ترین حصہ ہونے کے باعث سی پیک کی تکمیل چین کیلئے انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کیلئے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ حتیٰ کہ عمران خان کے وزیرتجارت نے ۲۰۱۸ میں خان کے انتخاب کے بعد جلد ہی سی پیک منصوبوں پر کام  روکنے کا مشورہ دیا تھا تاہم پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف نے اس کے بعد دو ہفتے سے بھی قلیل مدت میں بیان دیا کہ سی پیک منصوبہ ”ہرقسم کی رکاوٹوں کے باوجود بھی کامیاب ہوکر رہے گا۔“ آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خواہ کتنے ہی اعتراضات کیوں نہ ہوں، چین پر انحصار کے سبب وہ بیجنگ کو لمبے عرصے کیلئے ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

سی پیک اور علاقائی استحکام

اسلام آباد میں موجود سویلین حکومت کی رضامندی یا اس کے بغیر ہی، بیجنگ دونوں صورتوں میں سی پیک کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ باجود اس کے کہ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد سستی سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے، یہ حقیقت ہی کہ چین اور پاکستان آگے بڑھنے کی نیت رکھتے ہیں، علاقائی سلامتی کیلئے اہم مضمرات رکھتی ہے۔ لداخ میں بھارت اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ سی پیک منصوبوں کیلئے نیا محرک فراہم کرسکتا ہے۔ اسلام آباد کیلئے، لداخ میں بھارتی و چینی سپاہ کا آمنے سامنے آجانا اسے سی پیک سمیت دیگر امور سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا ایک موقع فراہم کرچکا ہے۔ جس وقت ایک متنازعہ سرحد پر افواج کے مابین کشیدگی جاری تھی اور بھارت چین کے ساتھ تناؤ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھا، چین اور پاکستان نے پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں پن بجلی کے معاہدوں پر دستخط کردیئے جس پر بھارت نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

سی پیک حکام کو زیادہ اختیارات سونپنے اور معاشی و تزویراتی پہلوئوں کے حامل منصوبوں کی تجدید کے بارے میں حالیہ خبریں دراصل یہ تجویز کرتی ہیں کہ سی پیک کے رفتار پکڑنے کے ساتھ ساتھ یہ منصوبے تیزی سے سویلین حکام کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں۔ فی الوقت، سی پیک کے دوسرے دور میں داخل ہونے پر ملک میں سی پیک منصوبوں کی تجدید کی گئی ہے اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں داخلی سطح پر مخالفت کے باوجود اس میں اضافہ ہوگا۔ اس کے باوجود یہ صورتحال ایک سوال اٹھاتی ہے کہ: منصوبوں کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ سویلینز کو اس پر کتنا اختیار ہوگا؟ چین اور پاکستان برسہابرس سے سی پیک کی دوبارہ بحالی کیلئے کسی نہ کسی طرح کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کی رفتار ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کے داخلی اور خارجی تعلقات میں اہم کردار کی ادائیگی جاری رکھے گا۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: via Wikimedia Commons

Image 2: Asim Hafeez/Bloomberg via Getty Images

Posted in , , China, CPEC, Development, Pakistan, Politics

Muhammad Akbar Notezai

Muhammad Akbar Notezai

Muhammad Akbar Notezai has been working with Dawn, Pakistan’s oldest leading English language newspaper, since 2015, and is currently a correspondent in Balochistan province. Along with Dawn, he also contributes to The Diplomat and Foreign Policy Magazine. He primarily covers Balochistan, Pakistan’s foreign relations, domestic politics, and militancy.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *