پاکستان میں پر تشدد انتہا پسندی کا خاتمہ: وقت کی ضرورت

پاکستان میں  دہشت گردی کی حالیہ لہر نے ساری قوم پر خوف طاری کر دیا ہے۔ دہشت گردوں نے صرف پانچ دنوں میں ۱۰۰ افراد کی جان لے لی۔ گذشتہ برس اسی طرح کی بڑی لہر نے کوئٹہ میں وکلاء کی تقریباً ایک نسل ختم کر دی تھی۔ جب بھی دہشت گردی ہوتی ہے تو تجزیہ کار اور میڈیا اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا واویلا کرتے ہیں۔ تاہم کچھ مہینے پہلے کوئٹہ میں حملوں کےبعد “کوئٹہ انکوائری کمیشن” رپورٹ سامنے آئی تو اس نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ)  میں موجود تضادات اور اس پر عمل درآمد کرانے میں حکومتی نا اہلی کو اجاگر کیا۔ رپورٹ میں واضح طور پر جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی  جیسی کلعدم تنظیموں اور ملک بھر میں ہونے والے حالیہ حملوں کےبیچ تعلق  بتایا گیا ۔  کوئٹہ حملہ میں ملوث جماعت الاحرار نے لاہور میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
پاکستانی حکومت کی دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں دو طرح سے ناکام ہوئیں۔ اولاً، وفاقی حکومت نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نرم رویہ اپنایا اور ثانیاً، حکومت  نیپ پر عمل درآمد کرنے اور انتہا پسندی کےخلاف ایک موئثر پالیسی بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔
پاکستانی طالبان نے ۲۰۱۴ میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا جس میں ۱۳۲ بچے شہید ہو گئے تھے، ۲۰ نکاتی نیپ اس سانحہ کے بعد بنایا گیا۔ نیپ دہشت گردوں کی مالی معاونت، مدارس کی رجسٹریشن سے لیکر  انکے خلاف کاروائیوں پر محیط ہے۔ مزید برآں قومی داخلی سکیورٹی پالیسی بھی بنائی گئی جسکا مقصد انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی بیخ کنی کرنا تھی۔
کوئٹہ کمیشن  کی رپورٹ سے واضح ہے کہ  نیپ پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سیاسی نا اہلی ہے، جس میں فرقہ وارانہ مواد اور مذہبی انتہا پسندی کیخلاف ایکشن لینے میں ناکامی، پولیس کی استعداد کاربڑھانے میں نا اہلی، دہشت گرد گروہوں پر پابندی اور اندرونی پالیسی کا فعال نہ ہونا شامل ہیں ۔ سول-ملٹری  تعلقات کا پیچیدہ ہونا بھی شائد دہشت گردوں کو کھل کر کاروائیاں کرنے کا موقع فراہم کرتا  ہے۔ مثال  کے طور پر کوئٹہ کمیشن نے تفتیش میں دیکھا کہ وزارت داخلہ نے ابھی تک جماعت الاحرار پر پابندی عائد نہیں کی جبکہ اسی گروپ نے کوئٹہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ وزارت داخلہ نے جواب دیا کہ جماعت الاحرار سے متعلق تفصیلات خفیہ ادروں  سے مانگی گئی تھیں جو وقت پر نہ مل سکیں  جبکہ خفیہ ادرے ایسی کسی بھی درخواست کے ملنے سے انکاری ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ وزیر داخلہ چوھدری نثار نے قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد گروہوں کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔ وزیر داخلہ کا بیان  اور دوسری طرف  کالعدم  تنظیموں جیسے اہل سنت و الجماعت  کا کھلم کھلا ریلیاں نکالنا کوئٹہ کمیشن کے تحفظات کو ظاہر کرتا ہے۔
نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ نعرے، انتہا پسند نظریات  کی عدم  روک تھام اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں نفرت سے بھرپور لٹریچر اور تقاریر کو کنٹرول نہ کرنا بھی نیپ پر عمل درآمد نہ ہونے کی  دیگرمثالیں ہیں۔
آج ہم یہ جو انتہا پسند نظریہ دیکھتے ہیں اصل میں تین عشرے پہلے صدر ضیاء کے دور میں قومی سطح پر وارد ہوا ، تاہم اب وقت ہے کہ اس نظریہ کا کوئی جوابی بیانیہ پیش کیا جائے۔
 
حکومت نیپ کے نتائج جاننے میں ناکام رہی ہے۔ جہاں آپریشن ضرب عضب نے کامیابیاں سمیٹی ہیں وہیں حکومت اس کے نتیجے میں آنے والے مسائل  کو سمجھنے سے قاصر  رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ “کومبنگ آپریشنز” کے نتیجے میں پر تشدد واقعات میں کمی آئی ہو۔۱۶فروری کو سیہون شریف پر حملے کے بعد فوج نے دعوی ٰ کیا کہ فوری ایکشن کے نتیجے میں ۱۰۰ دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک کثیر تعداد ہے تاہم اس آپریشن کے اثرات کو بھلا کیسے جانچا جائے؟ کیا  دہشت گردوں کا نظریہ  سرجیکل سٹرائیک سے ختم کیا جا سکتا ہے؟
ضروری یہ ہے کہ فوجی آپریشنز کے ساتھ ساتھ “سافٹ پاور” یا دیگر غیر فوجی طریقے بھی استعمال کیے جائیں۔ پر تشدد کلچر کو اندرونی طور پر کافی طریقوں سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے وفاقی حکومت کو قومی سطح پر ایک تشدد سے پاک جوابی بیانیہ تشکیل دینا ہو گا چونکہ شدت پسندی کے نظریاتی پہلو کو دیکھے بغیر دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانا  ناممکن ہے۔ داخلی قومی سکیورٹی پالیسی کے تحت وزارتِ داخلہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ڈائریکٹوریٹ آف کو آرڈینیشن کا قیام “نیکٹا” (قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی) کےزیِر سایہ بناتی تا کہ مذہبی سکالرز، دانشوروں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کی مدد سے انتہا پسندی کے خلاف محاذ بنایا جا سکے۔ تاہم نیکٹا محض جزوی طور پر ہی فعال ہوسکا۔ انتہا پسندی کے خلاف ایک قومی پروگرام کی تشکیل بھی نہایت اہم ہے  جس کے ذریعہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے  بات چیت کر کے انہیں نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔
اسکے بعد الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انتہا پسندی کے معاندانہ رخ کو دیکھنا بھی اہم ہے جس کےلئے  پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور نیکٹا  کا باہمی اشتراک نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ نعرے بازی اور افراد جو نفرت پھیلانے کا سبب بنتے ہیں، کی روک تھام کےلئے ناگزیر ہو گا۔ پیمرا کا ایک ضابطہ ا خلاق موجود ہے جو نفرت سے بھرپور تقاریر کی شناخت  کرتا ہے اور ادارے نے اس بارے میں کچھ نوٹسز بھی جاری کیے ہیں ۔ اسکے علاوہ کچھ ٹی وی چینلز کالعدم تنظیموں کی ریلیاں اور انکے سربراہان کے انٹرویوز بھی نشر کرتے ہیں۔ پیمرا اور نیکٹا کے کچھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جا سکتی  ہے جو چینلز پر دکھائے جانے والے مواد، نعروں، ٹاک شوز اور ویڈیوز کو پرکھ سکے۔ پیمرا کو موئثر کام کرنے کےلیے نیکٹا کالعدم تنظیموں کا ڈیٹا، ان کے سربراہان اور نظریات کی تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔
انتہا پسندی کنٹرول کرنے کےلیےسول سوسائٹی کا کردار  بھی ناگزیر ہے۔ سول سوسائٹی مسائل کو حل کرنے، امن لانے، قوانین کے نفاذ کےلیے راہ ہموار کرنے، آبادکاری اور مفاہمت جیسے اقدامات کرتی رہی ہے۔ بہت سی این-جی-اوز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ معاشرے میں تحمل اور برداشت کا عنصر پیدا کر سکیں جو آخر کار انتہا پسندی قابو کرنے میں مدد دے گا۔
حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ این-جی-اوز  کی سر پرستی کرے اور انکی مدد سےقومی اتفاقِ رائے پیدا کرے تا کہ کالعدم تنظیموں، دہشت گردوں اور انکے نظریات کو کنٹرول کیا جا سکے۔  اچھے اور برے طالبان میں تمیز کرنے والی نظریہ ترک کر دینا چاہیے تاکہ نیپ پر موئثر عمل درآمد ہو سکے۔

 

***

Click here to read this article in English.

Posted in , Militancy, Pakistan, Security, Terrorism

Ayub Ayubi

Ayub Ayubi

Ayub Ayubi is a social activist and founder of Renaissance by Social Innovation, Pakistan (RESIP). Established in 2011, RESIP addresses violent extremism and radicalization through engaging youth. Ayub, after being born and raised in a strict, orthodox family, was once influenced by extremist religious ideologies. However, a combination of experiences including education and dialogue with the right individuals enabled him to challenge dogmas and overcome radical influences. Now, Ayub believes that civic education alone cannot achieve the desired condition of tolerance in Pakistan. Education must be coupled with culturally-sensitive conflict resolution skills and ample opportunity for dialogue at home and at school. His work with RESIP focuses on bringing these elements together to engage youth and vulnerable populations. He also launched the Mashal-e-Rah Campaign to counter ideological extremism on campuses across Pakistan and currently engages over 1500 students through the initiative. He has completed several certifications for countering violent extremism and regularly writes on issues related to violent extremism and civic education.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *