com_media_-20

جیسا کہ چین امریکہ تعلقات میں ابتری کے اثرات جنوبی ایشیاء پر منڈلانا شروع ہوچکے ہیں، پاکستان کو پھونک پھونک کے قدم رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ چین امریکہ تعلقات کی کشیدہ نوعیت اوربھارت سے امریکہ کی گہری ہوتی تزویراتی شراکت داری پاکستان کوغیرمحفوظ تزویراتی حیثیت میں پہنچا سکتی ہے۔ امریکہ میں نئی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے سے پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل بڑی حد تک اس امر پر منحصر ہوگا کہ امریکہ، چین اور بھارت کے ہمراہ اپنے تعلقات کو کیسے آگے بڑھاتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے ماتحت واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ کے ہمراہ ٹرمپ کے مقابلے میں قدرے کم درشتگی اپنائے جانے کا امکان ہے  تاہم نئی دہلی سے تعلقات میں بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں اور آنے والے برسوں میں چین سے مقابلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اسلام آباد کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ چین اور امریکہ دونوں سے مثبت تعلقات کو فروغ دے، اور اسے دونوں ممالک کے ہمراہ تزویراتی توازن قائم کرنے کے لیے متوازن طرزفکر اپنانے کی ضرورت ہوگی۔

تاہم باوجود اس کے کہ امریکہ چین رقابت میں وہ کسی ایک کی طرفداری کو فوقیت نہ دے تو بھی امریکہ بھارت تزویراتی شراکت داری اسے ایسا کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ لہذا، پاکستان کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ امریکہ بھارت غیر مشروط تزویراتی شراکت داری کے علاقائی استحکام پر اثرات پر زور ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے اور یہ کہ یہ شراکت داری کس طرح پاکستان کو مشکل اور ناپسندیدہ صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔ 

امریکہ بھارت تعاون : بیکا، لیموا اور کوم کاسا

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت ان تعلقات میں اپنی سمت کا فیصلہ کرچکا ہے، تاہم اس سمت میں وہ کتنا دور جانے کیلئے تیار ہے دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ۲۰۱۶ سے لاجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (لیمیو)، کمیونیکیشنز کمپیٹیبلٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ (کوم کاسا) اور حال ہی میں دستخط کیا گیا بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا) جیسے معاہدوں کے ذریعے بھارت کی بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت داری اس کی امریکہ کے ہمراہ فریق بننے کی ترجیح کو ظاہر کرچکی ہے۔ ان معاہدوں نے مشترکہ دشمن کے بڑھتے اثرورسوخ اور چین سے لاحق فوری عسکری خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے دونوں ریاستوں پر دور رس تزویراتی اور عسکری تعاون کے در وا کیے ہیں۔  مزید براں انڈوپیسیفک کے لیے امریکی تزویراتی لائحہ عمل (جو ٹرمپ انتظامیہ کے آخری دنوں میں منظرعام پر آیا) وہ بھی جنوبی ایشیا میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کی بطور اہم دفاعی شراکت دار صلاحیتیں بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھارت اپنے شمالی پڑوسی پر تجارتی انحصار کے سبب اس سے خود کو علیحدہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ غیر حل شدہ لداخ تنازعے اور سوشل میڈیا پر چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہمات کے زور پکڑنے کے باوجود، چین ۱۶ فیصد درآمدات کے ساتھ بھارت کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار کے طور پر برقرار ہے۔ مقامی مصنوعات کو جگہ دینے کے لیے چینی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی بھارتی معیشت کو نقصان پہنچائے گا لہذا چین سے مکمل قطع تعلقی بھارت کیلئے قابل عمل صورتحال دکھائی نہیں دیتی۔

چونکہ واشنگٹن میں پالیسی سازچین کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت سے تعلقات کو بڑھاوا دینے کیلئے بیتاب ہیں، ایسے میں امریکہ بھارت دفاعی شراکت داری کے منفی اثرات پاکستان کو برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ چینی عسکری قوتیں امریکہ سے مقابلہ کرنے کیلئے خود کو جدید خطور پر اسطوار کررہی ہیں۔ یہ جواب میں بھارت کو چین کے ہمراہ کسی سنجیدہ عسکری تنازعے میں الجھنے سے روکتا ہے۔ جیسا کہ اوپر تذکرہ کیا گیا،  نئی دہلی بھی اس قابل نہیں کہ وہ چین سے رابطے کے تمام پلوں کو جلا دے اور یوں وہ بھی عسکری تصادم سے بچنا چاہے گا۔ اس کے برعکس، بھارتی عسکری ہتھیار پاکستان کیخلاف نصب کیے جاسکتے ہیں اور پاکستان کو یہ تشویش ہے کہ نئی دہلی اپنے نئے ہتھیاروں کا رخ چین کے بجائے پاکستان کی جانب کرسکتا ہے۔ چونکہ پاکستان بھارت کے ردعمل میں اپنے ہتھیاروں کو جدید اور نئے تیار کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف سلامتی المیہ اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہونے کا امکان ہے بلکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ بھی شروع ہوسکتی ہے جو کہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی اہداف کو اس جانب توجہ کرنی چاہیئے کہ وہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اس تشویش ناک صورتحال کو دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کے سامنے رکھے اور یہ مستقبل میں کیا شکل اختیار کرسکتی ہے، اس بارے میں زیادہ واضح طور پر اپنا موقف دے۔ امریکہ کی جانب سے بھارت کیلئے جاری عسکری حمایت کے سبب حادثاتی اشتعال انگیزی اور غیرمتوقع جارحیت کا خطرہ موجودہ ہے۔ تاہم پاکستان سمجھتا ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تزویراتی شراکت داری کی بساط واپس لپیٹے جانے کی معمولی سی ہی امید ہے۔ البتہ اگر امریکہ خطے میں علاقائی توازن کار کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ماضی میں اس کی کوشش رہی ہے، تو اسے ان تعلقات پر نظرثانی کرنی ہوگی جس میں جنوبی ایشیا میں امریکی شراکت دار کے طور پر بھارت کو بنیادی توجہ دی گئی ہے۔ 

پاک چین تعلقات میں تزویراتی توازن قائم کرنا

بہرصورت پاکستان تحفظ کی فراہمی کیلئے کلی طور پر امریکہ پر انحصار نہیں کرسکتا ہے، خاص کر ایسے میں جب بھارت امریکہ تزویراتی شراکت داری گہری ہورہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے لازم بنا دیتی ہے کہ وہ چین سے قریبی تعلقات برقرار رکھے۔ مزید براں چونکہ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی تک محدود رسائی حاصل ہے ایسے میں بھارت کے ہمراہ تزویراتی توازن قائم رکھنے کیلئے پاکستان کو ابھرتے ہوئے دفاعی نظام کے حصول کی ضرورت ہے۔ پاکستان بالخصوص ہائبرڈ جنگوں میں پائیدار دفاعی حل کی تلاش کے روشن امکانات کے سبب سائبر اور خلائی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں چین کے ہمراہ دفاعی تعاون کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ تزویراتی عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے چین کے ہمراہ دفاعی تعاون خودکار سسٹمز، مصنوعی ذہانت، فضائی دفاعی نظام اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ہوسکتا ہے۔

ملک کے عسکری اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاونت کے علاوہ چین نے پاک چین معاشی راہداری (سی پیک) کے ذریعے اسے باقی کی دنیا سے ملانے کیلئے منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کی اہمیت کو ازسرنو اجاگر کیا ہے۔ پاکستان جو معاشرتی معاشی مسائل میں جکڑا ہوا ترقی پذیر ملک ہے سی پیک سے جڑے ترقی کے امکانات سے ہاتھ نہیں دھو سکتا۔ سی پیک نہ صرف پاکستانی معیشت کیلئے بلکہ مجموعی طور پر پورے خطے کیلئے ناگزیر ہے۔ مجموعی طور پر عسکری وٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بھارت کو توانائی کے شعبے میں امریکی مدد پاکستان کو بھی اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے چین کے ہمراہ اپنے معاشی تعلقات گہرے کرنے پر راغب کرسکتی ہے تاکہ وہ بھارت کا مقابلہ کرسکے۔ یہ صورتحال پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے کیونکہ یہ دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے کے مخالف خیموں میں لے جائے گی اور ممکنہ معاشی تعاون پر دروازے بند ہوجائیں گے۔ 

 پاک امریکہ تعاون کے ممکنہ شعبہ جات

چین کے ساتھ تعاون اگرچہ معیشت اور عسکریت کے شعبوں میں پاکستان کی ترقی کا باعث ہوگا تاہم اسے امریکہ کے ہمراہ بطور پرانے اتحادی مثبت تعلقات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ امریکہ پاکستان تعاون کو بڑھاوا دینے کیلئے دونوں ریاستوں کو ایک دوسرے کے سلامتی تحفظات کو سمجھنے اور زیادہ غیرجانب دار سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کو ہانگ کانگ یا بحیرہ جنوبی چین جیسے مسائل پر چین یا امریکہ میں سے کسی ایک کے موقف کی تائید سے باز رہنا چاہیے اور اسی طرح امریکہ کو دوطرفہ سلامتی امور پر بھارت یا پاکستان کی حمایت سے احتراز برتنا چاہیے- جیسا کہ وہ پلوامہ/ بالاکوٹ بحران میں کرتا دیکھا گیا۔

پاک چین تعلقات میں سی پیک بالخصوص  ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا کیونکہ یہ اس میں قرضوں کے جال اور تزویراتی زاویہ نگاہ سے ترقیاتی منصوبے جیسے سقم دیکھ رہے تھے۔ پاکستان، سی پیک منصوبے کی اتھارٹی کے طور پر غیرعسکری فرد کی تعیناتی سے واشنگٹن میں پائے جانے والے ایسے شبہات کو دور کرسکتا  ہے۔ دریں اثنا، بائیڈن انتظامیہ کو بھی سی پیک کے حوالے سے چین کیخلاف رقابت کے جال میں خود کو الجھنے سے بچنے کیلئے محتاط رہنا چاہیے اور پاکستان کو ”ہم“ یا ”وہ“ جیسی غیر معقول پیشکش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان کو واشنگٹن کے تمام خدشات کو دور کرنا چاہیے جبکہ دونوں فریقوں کو تعلیم، امیگریشن اور صحت کے شعبوں میں عوام کے عوام سے روابط کو فروغ دینا چاہیے۔

 جنوبی ایشیا میں امریکی موجودگی کی گزشتہ دو دہائیاں خطے کی سلامتی کی کیفیت کو ترتیب دینے میں اہم رہی ہیں۔ اب جبکہ تنازعے کے ۱۹ برس بعد افغانستان میں دست و گریبان قوتیں آخرکار مذاکرات کی میز پر آچکی ہیں، امریکہ اور پاکستان کے مابین تعاون بے حد اہم ہے کیونکہ دونوں ریاستیں خطے میں برسوں سے جاری ابتری کے خاتمے کیلئے اطمینان بخش حل چاہتی ہیں۔  افغان امن عمل میں پاکستان، تیسرے کلیدی کھلاڑی کا کردار حاصل کرچکا ہے جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امریکہ پاکستان دوطرفہ تعلقات میں اونچ نیچ کے باوجود بھی واشنگٹن کی سلامتی کے لیے جوڑتوڑ میں اسلام آباد ہمیشہ منفرد مقام کا حامل رہے گا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ افغان امن عمل میں اپنے  کردار کے ذریعے پاکستان نے امریکہ سے بدلتے تعلقات کو بہتر بنا لیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اس ممکنہ علاقائی عدم استحکام پر توجہ دے جو بھارت کیلئے اس کی عسکری حمایت کے نتیجے میں پیدا ہوسکتا ہے۔

 ایک کثیرالقطبی دنیا میں جہاں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اب  بڑی حد تک چین اور بھارت کے کردار کی وجہ سے شکل پاتے ہیں، دونوں ممالک کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ لاتعلقی کی جانب سفر کریں۔ اس لاتعلقی سے پاکستان میں امریکی قبولیت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے جبکہ یہ پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی چین کی جانب دھکیل سکتی ہے  جو بالآخر خطے میں امریکی مفادات جیسا کہ افغانستان یا علاقائی استحکام پر اثرانداز ہوگی۔ 

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Prime Minister’s Office, Pakistan via Twitter

Image 2: Mark Wilson via Getty Images 

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور Hindi & Urdu

پاکستان کے لیے سیاحت بطور سافٹ پاور

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر…