پاکستان کےلئے مشرق وسطٰی کا چیلنج

مشرق وسطٰی کی دگرگوں صورتحال بالخصوص ایران اور سعودی عرب تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے پاکستان کو انتہائی پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے ۔ حال ہی میں ریاض میں مسلم امہ کے منعقدہ  بیٹھک میں پاکستان اس تاثر پر شریک ہوا کہ یہ اتحاد دہشت گردی سے نمٹنے کیخلاف تھا۔ تاہم ریاض اجلاس کے دوران یہ بات شیشے کی طرح واضح ہوئی کہ یہ اتحاد داراصل ایران کےخلاف ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد کا تہران کے  ساتھ  تعلق کشمکش کا شکار ہے۔

برسوں سے پاکستان سعودی عرب اور ایران کے ساتھ  متناسب سفارتی تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اسکا جھکاؤ کسی ایک ملک کی طرف نہ ہوا۔ ایک طرف پاکستان توانائی، امداد اور قرضوں کےلئے سعودی عرب پر انحصار کرتا رہا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ معاشی و تجارتی تعلقات، بالخصوص امریکہ-ایران جوہری معاہدے کےبعد، کو وسعت دینا بھی پاکستان کا ایک اہم مقصد رہا ہے۔ لیکن پاکستان کی سُنی اتحاد میں شمولیت نے اسے مشکل میں ڈال دیا ہے۔

پاک-سعوی تعلقات میں حالیہ اُتار چڑھاؤ

پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ تعلق ۵۰ کی دہائی میں شروع ہوا جب پاکستان کو مشرقی وسطٰی کے دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹومیں شامل کیا گیا۔ تب سے پاکستانی فوجی جرنیل سعودی عرب میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور سعودی فوجی نظم و نسق بھی چلاتے رہے۔ اسوقت بھی ۷۰۰۰ کے قریب پاکستانی فوجی وہاں پر مقیم ہیں۔

پاکستان کیلئے ریاض کی مخالفت  مشکل ہو گی کیونکہ پاکستان مالی اور توانائی ضروریات کیلئے سعودی عرب پر منحصر ہے۔ اس وقت پاکستان سعودی ارب سے روزانہ تقریباً ۱۰،۰۰۰ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے، جس کی سالانہ قیمت  7.5بلین ڈالر ہے۔  پچھلے سال پاکستان نے سعودی عرب سے 1.5ارب ڈالر حاصل کیے تھے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو یمن جنگ کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔ یہ کہنا معصومانہ ہو گا کہ اتنی بڑی رقم محض تحفے میں دی گئی ۔ سیاست حقیقت پسندی پر چلائی جاتی ہے اور یہ باہمی لین دین کا سودا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ  امداد، عطیات اور قرضے ادلے بدلے کا کھیل ہے تاہم پاکستان نے اپنی افواج کو یمن میں حوثی باغیوں کیخلاف سعودی اتحاد کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ چین نے  پاکستان کو اس تنازعہ سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ اس دباؤ کی وجہ سے نواز شریف یہ مسئلہ پارلیمنٹ لے گئے جہاں کثرتِ رائے سے یمن میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی گئی۔

پاک-ایران تعلقات

گزشتہ برس ایرانی صدر حسن روحانی  کے دورہ پاکستان کے بعد سے پاک-ایران تعلقات  بہتری کی جانب گامزن ہیں۔دونوں ملکوں کے بیچ آزادانہ تجارت پر بات چیت ہوئی جبکہ ایران نے کئی سالوں بعد پاکستانی کنو کی درآمد پر عائد پابندی  اٹھا لی۔ تہران نے اپنے ملک میں بھارتی مدد سے قائم ہونے والی چاہ بہار بندرگاہ سے متعلق پاکستانی خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ  یہ بندرگاہ پاکستانی پورٹ گوادر سے  ملائی جائے گی۔ پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کا کہنا تھا کہ ایران، بھارت اور افغانستان کے بیچ چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ کسی صورت بھی گوادر کیلئے خطرہ نہیں ہے  اور مستقبل میں  گوادر اور چاہ بہار مشترکہ مقاصد کےلئے کام کریں گی۔ تاہم معاملات تیزی سے تب بدلے جب نواز شریف حکومت نے ریٹائرڈ آرمی چیف راحیل شریف کو سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے ۳۹ رکنی فوجی اتحاد کی سربراہی کےلئے این-او-سی جاری کر دیا۔ ایران نے جنرل راحیل کی تعیناتی پر خدشات کا اظہار کیا اور ہنردوست کا کہنا تھا کہ “اس سے اسلامی یگانگت پراثر پڑ سکتا ہے”۔ مزید برآں ہنردوست ایک ہفتے میں موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ سے دو دفعہ ملے اور ایرانی خدشات کا ذکر کیا۔

اسی تناظر میں ایران  نے تجارت کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ پھلوں کی پاکستان سے درآمد، ممنوعہ درآمدی اشیاء کی فہرست میں مزید اضافہ اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرنا اسکی چند مثالیں ہیں۔ کنو پر ایران نے  ٹیرف کی شرح ۴۴ سے بڑھا کر ۹۰ فیصد کر دی ہے۔ جب صدر روحانی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے دو طرفہ تجارت کو ۵ ارب ڈالر تک لے جانے کا کہا لیکن ان حالات میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

حالات مزید خراب تب ہوئے جب ۲۶ اپریل کو دس ایرانی سرحدی محافظوں کو سُنی عسکریت پسندوں نے مار ڈالا اور اسکی ذمہ داری جیش العدل نامی گروپ نے قبول کی۔ ماضی میں جیش العدل نے جنوب مشرقی علاقے (سیستان)میں ایرانیوں کیخلاف حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ اپریل ۲۰۱۴ میں اسی گروپ نے ایرانی فوجیوں کو پکڑا اور سرحد پار کرا کر پاکستان لے گئے۔ ان فوجیوں کی رہائی پاکستان سکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کے بعد عمل میں آئی۔ اسکے بعد ایران نے پاکستان کو دھمکی دے ڈالی کہ وہ ایسے عناصر کی سرکوبی کےلئے خود پاکستانی علاقے میں کروائی کرے گا۔ ایرانی دھمکی اُس وقت سامنے آئی جب سعودیہ اور ایران آپس میں تلخ جملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

پاکستانی پالیسی کا امتحان

حالیہ دنوں میں سعودی شہزادے اور ایرانی آرمی چیف کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کی مشرق وسطیٰ میں میدان گرم ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کی پاکستان اس صورتحال سے کیسے نمٹے گا؟   راحیل شریف، جو کہ اب سعودی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں، سعودی اشارے پر یمن میں ایرانی حمائت یافتہ حوثی باغیوں کیخلاف کیسے کاروائی کریں گے؟

تیل کی ادائگیوں میں آسانی سے لیکر دیگر مالی امداد کے باعث، پاکستان سعودی عرب کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ سعودی ناراضگی ریاض کا جھکاؤ بھارت کیطرف کر سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو سعودی عرب کو خوش رکھنا ہو گا لیکن ایسا کرنے میں ایران کےساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایران پاکستان میں شیعہ عناصر کی سرپرستی میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ سرحد پر کشیدگی بھی پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے صورتحال کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان بیک وقت تین محاذوں پر برسرِ پیکار ہے۔

پاکستان کو  مستحکم ہمسایوں کی ضرورت ہے بالخصوص پاک-چین -اقتصادی-راہداری کی کامیابی کےلئے۔ اسلام آباد کو ان وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا جو اسکے تعلقات ایران کے ساتھ خراب کر سکتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے والے دہشت گرد۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے سعودی تعلقات کے فوائد اور مسائل کو بھی پرکھنا ہو گا۔

اس بات کے اشارے ابھر رہے ہیں کہ پاکستان اپنے سفارتی مخمصے سے بخوبی آگاہ ہے اور اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت کو سنُی فوجی اتحاد میں شراکت کے  بارے میں اب خدشات کا سامنا ہے۔ کچھ لوگ جنرل راحیل شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان اس سفارتی مشکل سے ابھی  پوری طرح نمٹا نہ تھا کہ ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا، اس مرتبہ سعودی عرب اور قطر کے بیچ۔ قطر پر سعودی سفارتی حملے نے پاکستان کےلئے معاملات گھمبیر کر دیے ہیں۔ ایران کے مقابلہ میں قطر کے ساتھ پاکستان کے سفارتی اور تجارتی تعلقات زیادہ اہم ہیں، اس میں ۱۵ سالہ گیس کی درآمد کا معاہدہ، تارکین وطن کی بڑی تعداد  اور دفاعی معاہدے شامل ہیں۔ پاکستان کو ایک ایسی حکمت عملی کی اشدضرورت ہے  جو اس کے جغرافیائی عزائم اور معاشی مفادات کو متوازن رکھ سکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Anadolu Agency, Getty

Image 2: Anadolu Agency, Getty

Posted in , Foreign Policy, Iran, Pakistan, Saudi Arabia, Security

Yaqoob ul Hassan

Yaqoob ul Hassan

Dr. Yaqoob ul Hassan is a Researcher at the Institute for Defence Studies and Analyses (IDSA). He has done his PhD on Pakistan and was also a post doc fellow at Istanbul University, Turkey. His area of interests are Pakistan, Afghanistan, and Political Islam.

Read more


Continue Reading




One thought on “پاکستان کےلئے مشرق وسطٰی کا چیلنج

  1. This is Old wine in new bottle. Pakistan has done remarkably well and is productively involved in evolving a new thinking and regional order. Saudi Arabia is center of gravity of Muslim people. Iran inherits an ancient civilization and represents a particular school of thought. This combination will produce a remarkable process which will culminate in long term peace in the region.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *