پاک-روس تزویراتی میلان اور افغانستان میں داعش کی روک تھام

داعش کا اسلامی ریاست بنانے کا بین البراعظمی خطرہ جو کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا  تک پھیلا ہوا ہے، نے چند مخالف طاقتوں کو بھی اس خطرسے سے نمٹنے کےلئے متحد کر دیا ہے۔ پاکستان، جو کہ امریکی اتحادی ہے ، نے ۱۹۸۰ میں سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جنگ لڑی۔ تاہم اب جب داعش افغانستان میں اثرو رسوخ قائم کر رہی ہے تو اسلام آباد اور ماسکو منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ داعش کے علاقائی حلیفوں یعنی اسلامک سٹیٹ خراسان پروونس (آئی-ایس-کے-پی) کو حال ہی میں قائم کئے گئے  دہشت گرد مخالف عسکری کمیشن کے ذریعے ختم کیا جائے۔ افغانستان میں تزویراتی میلان اور عسکری سطح کے بڑھتے تعلقات نے داعش خطرے سے نبرد آزما ہونے کےلئے ایک حقیقی موقع پیدا کر دیا ہے۔

اسلامک سٹیٹ خراسان پروونس افغانستان میں داعش کے الحاقی تنظیم کے طور پر ۲۰۱۴ میں نمودار ہوئی۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق اسکی تعداد ۱۰۰۰ سے ۱۰۰۰۰ کے قریب ہے ۔اس تنظیم نے ۲۰۱۷ میں افغانستان میں ۱۶ بدترین حملے کئے جن میں تقریباً ۲۷۶ افراد مارے گئے۔ آئی-ایس-کے-پی پاکستان اور روس کےلئے افغان طالبان سے زیادہ پُرخطر ہے چونکہ طالبان کی اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی توجہ محض افغانستان تک ہے۔ اور انہوں نے اپنے اثرورسوخ کو افغانستان سے باہر بڑھانے کی کبھی خواہش ظاہر نہیں کی۔ اسکے مقابلے میں آئی-ایس-کے-پی کا نظریہ بنیادی طور پر توسیع پسندانہ ہے  جبکہ تنظیم کے نام میں شامل لفظ ‘خراسان‘ سے مراد افغانستان ،پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا  پر مشتمل کچھ حصہ  ہے۔

اسلام آباد کےلئے داعش کی ملحقہ تنظیموں کا خطرہ  زیادہ مسائل کا باعث ہے چونکہ  آئی-ایس-کے-پی کے اُن گروہوں ، جیسا کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور جند الّلہ، سے مراسم ہیں جنہوں نے ماضی میں پاکستان کو نشانہ بنایا ہے۔ جہاں ان گروہوں  سے متصل افراد اب آئی-ایس-کے-پی میں شامل ہو رہے ہیں تو پاکستان ایف-پاک علاقے میں آئی-ایس-کے-پی کے پھیلاؤ پر پریشان ہے۔ مزید برآں عراق اور شام سے  جنگجوؤں کے افغانستان میں ڈیرے لگانےسے ماسکو  میں خدشات نے جنم لیا ہے ۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف  کے مطابق آئی-ایس-کے-پی کی افغانستان میں موجودگی “وسطی ایشیا میں دہشت گردوں کے داخلے کا خطرہ بڑھائے گی جہاں سے ان کےلئےروس اور دیگر علاقوں میں جانا زیادہ مشکل نہیں ہے”۔

اسی لئے افغانستان میں موجودہ حالات نے پاکستان اور روس کو مجبو رکیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ سیاسی مصلحت کریں۔ تاہم امریکہ اور افغانستان کی نیشنل یونیٹی حکومت  آئی-ایس-کے-پی کے بجائے طالبان سے لڑنے میں زیادہ  سنجیدہ ہیں۔ یہ شائد اس لئے ہے کہ داعش طالبان کی  مخالف رہی ہے اور  دونوں گروہ تزویراتی  مقابلے کی فضاء میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔کچھ لوگوں نے امریکہ اور افغانستان کی نیشنل یونیٹی حکومت پر داعش کی طالبان کے خلاف حمایت کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔  اگرچہ امریکہ نے اس بات سے انکار کیا ہے تاہم ایسا ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور نیشنل یونٹی حکومت نے داعش خطرے کو زیادہ بڑا نہ سمجھا ہو ۔

بلاشبہ افغان نیشنل آرمی نے داعش کی افغانستان میں اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں افغان آرمی چیف  محمد شریف نے روس کے اس بیان کو ‘جعلی و من گھڑت‘ کہہ کر مسترد کیا کہ  افغانستان میں داعش کے ۱۰،۰۰۰ جنگجو موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کی افرادی قوت ۲۰۰۰ سے زائد نہیں ہے۔ تاہم افغان شائد آئی-ایس-کے-پی کی قوت کو کم تر تصور کر رہے ہیں  چونکہ وہ ان  جنگجوؤں کی آئی-ایس-کے-پی میں شمولیت کو نہیں دیکھ رہے جو دیگر تنظیموں سے آئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور جنداللہ کے علاوہ آئی-ایس-کے-پی کی افرادی قوت میں شام اور عراق سے براہِ راست آنے والوں  کے علاوہ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور افغان طالبان  پر بھی مشتمل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور نیشنل یونیٹی حکومت کی طالبان خطرے سے نمٹنے کی ترجیحات نے داعش کو افغانستان میں پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے۔

اس پریشان کن تناظر میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے داعش کے پھیلاؤ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور امریکہ و نیشنل یونیٹی حکومت کو اس خطرے کے تدارک کےلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ تاہم غالباً اُنکی اس پیشکش کو سنا ہی نہیں گیا  چونکہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جبکہ امریکہ و افغانستان نے اسلام آباد اور ماسکو پر طالبان کی حمائت کا الزام لگایا ہے۔ امریکہ کے انکار کے باجود داعش خطرے سے نمٹنے کےلئے روس اور پاکستان نے حال ہی میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف کے فروری ۲۰۱۸ میں روسی دورے کے دوران اینٹی-ٹیرر ملٹری کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ۔ اس کمیشن کا بنیادی مقصد افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا سے داعش کے خطرے کو روکنا ہے۔

کمیشن کا قیام دونوں ملکوں کے بیچ بڑھتے تزویراتی تعلقات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ ۲۰۱۴ میں پہلی دفعہ روس اور پاکستان نے اپنی سکیورٹی  تعاون فریم ورک کی بنیاد رکھی۔ روس نے تب سے پاکستان  کو دفاعی ٹیکنالوجی دی ہے اور عسکری شعبے کی مشترکہ فوجی مشقوں سے وسعت دی ہے۔ ان بڑھتے تزویراتی تعلقات کی روشنی میں ماسکو اور اسلام آباد نے دہشت گردی سے نمٹنے کو خاصی توجہ دی ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج نے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی کی مشقیں “دروباز” روس کے جنگلوں اور پہاڑوں پر کی  ہیں۔ مزید برآں ایک روسی عسکری وفد نے ۲۰۱۷ میں جنگ سے متاثرہ شمالی وزیرستان  کا دورہ بھی کیا جو افغان بارڈر کے قریب ہے۔

بڑھتے روس-پاکستان تعلق  اور افغانستان میں مفادات کی یکسانیت کے باعث   انسدادِ دہشت گردی کےلئے مشترکہ  آپریشن بھی خارج از امکان نہیں۔ ان آپریشنز میں یہ صلاحیت ہو گی کہ  وہ آئی-ایس-کے-پی کو کمزور کر سکیں یا پھر گروہ کو محض افغانستان تک محدود کر دیا جائے۔ تاہم اس کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کس طرح روس اور پاکستان  افغان، امریکی اور نیٹو افواج کے  تزویراتی مفادات کو  مدِ نظر رکھتے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر داعش  کے ملحقین کے خطرے کو سنجیدہ سمجھ کر حل نہیں کیا جاتا تو آئی-ایس-کے-پی وقت کے ساتھ ساتھ مظبوط ہو جائے گی اور پاکستان ، روس اور حتی کہ امریکہ  و دیگر علاقائی ملکوں کےلئے بھی براہِ راست خطرہ بن جائے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: The Kremlin (cropped)

Image 2: Vasily Maximov via Getty

Posted in , Afghanistan, Internal Security, ISIS, Militancy, Pakistan, Politics, Russia, Terrorism

Kashif Hussain

Kashif Hussain

Kashif Hussain is a Research Associate at the Strategic Studies Institute, Islamabad (SSII) in Pakistan. He previously worked as an intern at the Center for International Strategic Studies, Islamabad (CISS). He was one of Pakistan’s youth ambassadors to Turkey under the Turkey-Pakistan Youth Bridge Program in March 2015. He received a B.A. from Pakistan Military Academy in Kakul followed by M.Sc and M.Phil degrees in International Relations from Quaid-e-Azam University, Islamabad. His research focus is the geopolitics of South Asia.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *