پولیس کی تنظیمِ نو: انسدادِ دہشت گردی کا نا مکمل ایجنڈا

پاکستان میں اس سال فروری میں دہشت گردی کی لہر نے صرف پانچ دن کے اندر ۱۰۰ سے زائد زندگیاں نگل لیں۔ان حملوں میں چاروں صوبوں اور فاٹا کو نشانہ بنایا گیا۔ جہاں جماعت الاحرار نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی وہیں داعش نے لال شہباز قلندر کے مزار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ۸۳ افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اگرچہ ایسے حملوں کے بعد پاکستانی فوج کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس کی استعداد کار کو بھی پرکھا جائے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے بیلفر سینٹر  میں محقق ڈاکٹر حسن عباس کا کہنا ہے کہ “دہشت گردی کے خلاف پہلا دفاع فوج کی بجائے پولیس کےذمے ہے۔ یہ ذمہ داری بھی پولیس کی ہے کہ کسی علاقے میں امن و امان برقرار رکھے تاکہ لاقانونیت جنم نہ لے”۔

بد قسمتی سے پاکستانی پولیس  دہشت گردی سے نمٹنے کی مطلوبہ صلاحیت سے عاری ہے۔ یہ درست ہے کہ اس جنگ میں پولیس کے بھی سینکڑوں جوان جان کی بازی ہارے مگر  دگرگوں بنیادی ڈھانچے ، تربیت کے کمزور نظام، قانون نافذ کرنے میں سیاسی مصلحتیں اور بیش بہا بدعنوانی کی وجہ سے پولیس کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔  پولیس کی غیر فعالیت دراصل ورثے میں ملے فرسودہ  نظام اور موجودہ  غلطیوں کی وجہ سے ہے۔

پاکستانی پولیس کو  نظام ورثے میں ملا جن میں سے سب سے اہم نو آبادیاتی نظام کے دوران نافذالعمل  پولیس ایکٹ ۱۸۶۱ ہے۔ اس ایکٹ کے تحت پولیس کو لوگوں کی خدمت کی بجائے  ان پر حکومت کرنے کا گر بتا دیا گیا۔ یہ نظام ، جسکو ماضی میں سلطنتِ برطانیہ نے آئر لینڈ میں استعمال کیا،  نے ایک خطرناک مثال قائم کی  اور پولیس کو ریاستی اختیارات کی آڑ میں  جبر  اور بھتہ خوری کی علامت بنا دیا۔ بد قسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔ حتیٰ کہ جمہوری ادوار  میں بھی پولیس کو پرائیویٹ ملیشیا کے طور پر دیکھا جاتا رہا   نہ کہ ایسی پولیس جو معاشرے میں امن و امان کو نافذ کر سکے۔ امن و امان نافذ کرنے سے متعلق تجربہ کار اور سرکاری عہدیدار محمد شعیب کا کہنا ہے کہ “نااہلی، نالائقی، بد اخلاقی، مصالحت میں ناکامی، شہریوں کی ناکافی مدد اور بد عنوانی جیسے خرافات  پولیس  میں روزمرہ  کا معمول ہیں”۔ پولیس کے غیر اخلاقی اور گالم گلوچ پر مبنی رویے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے اور پولیس کے مابین عدم تعاون کو جنم دیا اور موئثر نظامِ پولیس نافذ نہ ہو سکا۔ پولیس  آرڈر ۲۰۰۲ میں پا کستا ن  نے اختیا رات کا ناجائز استعمال،آپریشنز میں سیا سی مداخلت اور کمزور کمانڈ اینڈ کنٹرول جیسے مسائل کو ختم کرنےکی کوشش کی۔ سیا سی مداخلت سے مبئرا رہنے کے لئے وفاقی اور صوبائی پولیس افسران کے لئے تین سال کی طے شدہ میعاد مقرر کی گئی۔ شکایا ت کے لئے آزادانہ کام کرنے والے شکایات سیل اور عوام کے تحفظ کے لیے سیفٹی کمیشن بنائے گئے تاکہ لوگوں اور پولیس کے مابین فاصلوں کو ختم کیا جا سکے ۔ تا ہم ۲۰۰۴ میں سیاسی دباؤ نے پرویز مشرف کو ان اصلاحات کو کمزور کرنے پر مجبورکر دیا۔ اسی بدولت آج بھی پاکستانی پولیس کی ذہنیت اور طریقہ کار ۱۸۶۱ کے پولیس ایکٹ کے تابع ہے جسکا استعمال سیاسی پسند ناپسند اور لوگوں کی خواہشات کے برعکس کام کرنے کے لیے ہوا۔

جیسا کہ انتہا پسند جتھے ملک بھر میں آزادی کے ساتھ کام کرتے رہیں ہیں ،پاکستان کے لئے یہ ضروری ہے کہ جلد سے جلد پولیس کے نظام کو بدلا جائے ۔ ان میں سے بنیادی کام یہ کرنا چاہیے کہ ۲۰۰۲ کے پولیس آرڈر کو صحیح معنوں میں نافذ کر دیا جائے۔ صوبائی  اور ضلعی پولیس افسران کی معیاد کو مقرر کیا جائے تاکہ پولیس انتظامیہ سیاسی اثرورسوخ سے مبئرا ہو سکے ۔ شکایات سیل  کو بھی مؤثر طاقت اور حفاظت کے ساتھ نافذ کیا جائے ۔  ۲۰۱۰ میں اٹھارویں ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ، جس میں وفاقی حکومت کے کافی اختیارات کو صوبائی حکومتوں کو منتقل کر دیا گیا ،  ان معاملات کو مزید گھمبیر کر دیا ہے چونکہ اس سے تمام  صوبوں میں الگ الگ نظام پولیس نے جنم لیا ہے  اور پولیس کے قومی معیار پر سوالیہ نشان ثبت ہوا۔ دوسری بات، پاکستان کو پولیس فورس کی تنطیمِ نو اور مستحکم کرنا  ہو گا۔ نا مناسب تربیت اور کم درجہ افسران کےلئے کم وسائل، کام کرنے کےلئے نا منا سب ماحول، اور کم تنخواہیں، ان سب مسائل کو درست کرنا ہو گا ۔ اور آخر میں پاکستان کو موئثر  ‘کمیونٹی پولیسنگ’   یعنی سماجی خدمت  کی ذہنیت پر مبنی سروس کا ماحول  پیدا کرنا ہو گا۔ چونکہ اس سے عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھے گا اور معاشرے کے اندر پائے جانے والے انتہا  پسندوں سے چھٹکارا ملے گا۔ اگرچہ یہ ایک صبر آزما اور طویل مرحلہ ہو گا لیکن مستحکم پولیس  اور اسکی آذادی وشفافیت کےلئے اچھا آغاز ہو گا۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں غیر اخلاقیت اور بد عنوانی عام ہے ، یہ ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔ سیاسی طور پر ان اصلاحات کا نافذ کر نا بھی مشکل ہو گا لیکن دہشت گردی کی جڑوں کو ملک سے ختم کرنے اور عالمی سطح پر حکومت کے مثبت جمہوری تشخص کو بہتر بنانے کے لئے اس امر کی اشد ضرورت ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image: Punjab Police, Pakistan

 

Posted in , Internal Security, Pakistan, Policy, Security, Terrorism

Zainab Ahmed

Zainab Ahmed

Zainab Ahmed is completing her MPhil in International Relations at the University of the Punjab, Lahore. Her areas of research include conflict politics, regional security, human security, non-traditional threats, and conflict resolution through economic integration.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *