28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملے کا آغاز ایران کے فضائی دفاعی نظامات کو کمزور کرنے، فضائی برتری حاصل کرنے اور ایران کے مختلف مقامات کو جنگی حکمتِ عملی کے تحت نشانہ بنانے کے لیے تھا۔ اپنے فضائی دفاع میں ہم آہنگ سازی (انٹیگریشن) کی کمی اور دقیانوسی فضائی فوج کے سبب ایران نے اب تک علاقائی امریکی فوجی چھاؤنیوں پر جوابی کارروائیوں میں حیران کُن طور پر مؤثر سستے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں پر انحصار کیا ہے۔
مغربی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے قریبی فوجی تعلقات اور حالیہ بھارتی فوجی خریداریوں (ایکویزیشنز) کے پیش نظراپنی سیکیورٹی ضروریات کے باعث پاکستان، بالخصوص فضائی شعبے میں، اپنے طور پر نظریاتی اسباق اخذکر رہا ہے۔ ایران میں تنازعے نے فضائی دفاع (ایئر ڈیفنس) میں لاگت-مبادلہ کے مسئلے (کوسٹ ایکسچینج پرابلم) کو عیاں کیا ہے، جس کا پاکستان کی محدود وسائل والی دفاعی منصوبہ بندی سے گہرا تعلق ہے۔ مزید اہم ا سباق میں روایتی فضائی دفاع کی تحدید، ڈرونز کا تباہ کُن کردار، شدید اور کثیرحملوں (سیچوریشن اسٹرائیکس) میں مقدار کی اہمیت اور موجودہ فوجی نظریات کی ازسرِنوترتیب شامل ہیں۔ مغربی ایشیا میں فضائی جنگ سے حاصل شدہ ان اسباق سے اخذ کرتے ہوئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کم بلندی اور حرکت پذیر(موبائل) فضائی دفاع کا انضمام کرے؛ بڑے پیمانے پر تیار کردہ، کم لاگت، اَن مینڈ ایریل سسٹمز(یو اے ایس) میں سرمایہ کاری کرے؛ چین اور ترکی کے ساتھ اپنی دفاعی شراکت داری کو وسیع کرے؛ اور نئے نظریاتی علوم کو تمام اداروں میں رائج کرے۔
فضائی جنگ سے حاصل کردہ اسباق
لاگت-مبادلہ آزمائش (کوسٹ ایکسچینج چیلنج)
مغربی ایشیا میں اس تصادم سے سامنے آنے والی سب سے اہم پیش رفت غالباً یو اے ایس اور اسٹینڈ آف میونیشنز (دُور سے مار گرانے والے ہتھیاروں) کا تباہ کُن کردار ہے۔ امریکہ اوراسرائیل کی نسبت کم ہتھیار ہونے کے باوجود، ایران نے شاہد-136 اور آرش سمیت ڈرونز پراور اپنے کم سے درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں پر توجہ مرکوز کی ہے، جو خطے بھر میں اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یو اے ویز کے خلاف فضائی دفاع کے وسیع اختیارات کے باوجود، جب ڈرونزاورمیزائلز کے شدید اور کثیر حملوں (سیچوریشن اسٹرائیکس) کا سامنا کرنا پڑا تو خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نسبتاً سستے ایرانی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے مہنگے انٹرسیپٹر میزائلز پر انحصار کرنا پڑا۔
لاگت کا تناسب ایک نمایاں عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے: ایک پیٹریاٹ پی اے سی-3 انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 4 ملین امریکی ڈالر کے قریب ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت 20,000 سے 50,000 امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ تقریباً 12 ملین امریکی ڈالر کی لاگت رکھنے والا ایک تھاڈ میزائل، 250,000 امریکی ڈالر سے 2 ملین امریکی ڈالر کی لاگت رکھنے والے بیلسٹک میزائلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، انٹرسیپٹر پروٹوکولز کے تحت ہر آنے والے پروجیکٹائل (ہوا گیر ہتھیار) کے لیے دو یا زیادہ انٹرسیپٹرز کا تقاضا اس لاگت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اس حیران کن لاگت کے تبادلے کے پیش نظر، حالیہ تنازعے میں زِچ کر دینا (آیٹریشن) ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتےہیں کہ ایران نے تنازعے کے پہلے ہفتوں میں 3,000 سے زیادہ ڈرونز اور میزائل داغے، اور ایک آر یوایس آئی تجزیہ خلیج میں انٹرسیپٹرز کی تعداد میں ناگزیرکمی کو اجاگر کرتا ہے۔ تخمینے کے مطابق جنگ سے پہلے کے تقریباً 75 فیصد انٹرسیپٹر کے ذخائراستعمال ہو چکے ہیں، جس کے باعث امریکہ کو میزائل کے ذخائر دوسرے علاقوں سے خلیج کی طرف لانے پڑے ہیں۔ جنسا (جے آئی این ایس اے)کے ایک جائزے کے مطابق، بحرین نےغالباً اپنے پیٹریاٹ میزائلز کا قریباً 87 فیصد (ذخیرہ) استعمال جبکہ متحدہ عرب امارات اور کویت نے اپنے فضائی دفاع کے میزائلز کا بالترتیب تقریباً 75 اور 40 فیصد (ذخیرہ) استعمال کر لیا ہے۔ اسرائیل کی پوزیشن سب سے زیادہ پریشان کن ہے: آر یوایس آئی کی رپورٹ کے اندازے کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک اسرائیل کے جنگ سے پہلے کے ایرو انٹرسیپٹر ذخائر میں سے 81.33 فیصد پہلے ہی ختم ہو چکے تھے۔
ایران میں تنازعے نے فضائی دفاع (ایئر ڈیفنس) میں لاگت- مبادلہ کے مسئلے (کوسٹ ایکسچینج پرابلم) کو عیاں کیا ہے، جس کا پاکستان کی محدود وسائل والی دفاعی منصوبہ بندی سے گہرا تعلق ہے۔ مزید اہم اسباق میں روایتی فضائی دفاع کی تحدید، ڈرونز کا تباہ کُن کردار، شدید اور کثیرحملوں (سیچوریشن اسٹرائیکس) میں مقدار کی اہمیت اور موجودہ فوجی نظریات کی از سرِنوترتیب شامل ہیں۔
روایتی فضائی دفاعی (اے ڈی) نظام کی تحدید
موجودہ جنگ نے جدید جنگوں میں فضائی دفاع (اے ڈی)کے دو نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ پہلا، ساکن، مہنگےسسٹمز پریسیژن سیچوریشن کے سامنے کمزور نظر آتے ہیں، جس سے پیٹریاٹ، تھاڈ، یا ایس-400 جیسے طویل فاصلے تک مار گرانے والے دفاعی نظامات کا مؤثر پن کم ہو جاتا ہے۔ یوکرین کی جنگ نے اس مظہر کا پہلا مثالی مطالعہ فراہم کیا: ساکن (سٹیشنری) ریڈار سائٹس اور میزائل بیٹریز کو ڈرونز کے پہلے متواترحملوں سے مغلوب کیا جا سکتا ہے جو گولہ بارود ختم کر دیتے ہیں، کمزوریاں ظاہر کرتے ہیں اور سنگین مالی اخراجات عائد کرتے ہیں۔ لانگ رینج اے ڈی محض پیچیدہ اینٹی ریڈیشن میزائلوں سے ہی نہیں بلکہ سستے لوئٹرنگ ڈرون حملوں سے بھی کمزور ہو سکتی ہے، جو بعد میں بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے مزید مہلک حملوں کا راستہ ہموار کر دیتی ہے۔ مغربی ایشیا کی جنگ نے ان ابھرتی ہوئی حرکیات کو مزید مضبوط کیا ہے: ایران نے یہ حربے قطر، بحرین، کویت، اردن، یو اے ای اور سعودی عرب میں اہم ریڈار سائٹس پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے، جو امریکہ کے علاقائی میزائل دفاع کے اہم مقامات تھے اور ساتھ ہی دیگر قیمتی اثاثوں جیسے کہ ای-3 سینٹری اے ڈبلیو اے سی ایس کو بھی نشانہ بنایا۔
دوسری جانب، اس تنازعے نے حرکت پذیر (موبائل) ، بآسانی تعینات ہونے والے اورغیرمرکزی نظامات کی افادیت کو بھی اجاگر کیا۔ درمیانی سے طویل رینج کے اے ڈی کھونے کے باوجود، ایران نے ٹرک پر لگے انفراریڈ سسٹمز سے لے کر مین پیڈز پر مبنی شارٹ رینج اے ڈی استعمال کرتے ہوئے متعدد امریکی-اسرائیلی ڈرونز (ایم کیو-9 اور ارمیز) کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ امریکہ نے اس تنازعے کے آغاز سے اب تک قریباً 16 ایم کیو -9 ریپرز کا نقصان برداشت کیا ہے۔ اپریل کے شروع میں، ایران نے ایک امریکی ایف-15 ای اور ایک اے-10 وار تھاگ بھی مار گرایا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فضائی دفاع کی شدید تباہی کے باوجود یہ محدود کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ چھوٹے، حرکت پذیر نظامات استعمال کر کے اب بھی کسی حد تک فضائی دفاع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پس اس تنازعے نے یہ ظاہر کیا کہ منتشر، شارٹ رینج اے ڈی ملک کے بنیادی فضائی دفاعی نظام کے کمزور پڑ جانےکے بعد بھی کچھ صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز
ایران کے تنازعے نے جدید فضائی جنگ میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اور بھی مضبوط کیا ہے۔ پہلا امرتو یہ کہ امریکی آپریشنز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ہدف بندی کے نظامات (سسٹمز) استعمال کیے ہیں، جس میں سیٹلائٹ ڈیٹا، ڈرون سینسر فیڈزاوردیگر انٹیلی جنس ذرائع کو یکجا کیا گیا ہے۔ سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے تصدیق کی کہ ایسے جدید اے آئی ٹولز کمانڈروں کو “بہت زیادہ ڈیٹاسے سیکنڈوں میں نمٹنے” کا موقع دیتے ہیں تاکہ فیصلے “دشمن کے ردعمل سے بھی تیز” کیے جا سکیں، اور ہدف بندی کی رفتار کو بڑھایا جا سکے۔
علاوہ ازیں اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے چینی کمرشل سیٹلائٹ امیجری (تجارتی سیٹلائٹ سے حاصل شُدہ تصاویر) اور روسی فوجی آئی ایس آر ڈیٹا کا استعمال کیا، جو کامیاب حملوں میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوا۔ ایسی امیجری (تصاویر) اور قریباً رئیل ٹائم آئی ایس آر کی زیادہ دستیابی کامطلب یہ ہے کہ اہم ساکن اثاثے جیسے لانگ رینج ریڈارز، کمانڈ سینٹرز، ایئر بیسز اور دیگر مستقبل میں اب شایدزیادہ خطرے میں ہوں گے۔ ڈرونز پر مبنی آئی ایس آر ہدف بندی کی صلاحیتوں کو مزید بڑھاتا ہے—موجودہ تنازعے میں، امریکی اور اسرائیلی ڈرونز نےایران کے (علاقے پر) دورانِ گشت ایرانی میزائل اور ڈرون لانچرز کا پتہ لگایا اور ایران کے جارحانہ ہتھیاروں کو غیر مؤثر بنانے میں مدد دی۔
الیکٹرانک وارفیئر (ای ڈبلیو) کامسلسل ارتقا ایران کی فضائی جنگ سے ایک اور اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسی حکمت عملیوں میں ریڈار جیمنگ، سینسر ڈیریثن (سینسر کو چکما دینا) اور جی پی ایس سپوفنگ (جی پی ایس کو دھوکہ دینا) شامل ہیں تاکہ آنے والے پروجیکٹائلز (ہوا گیر ہتھیاروں) کا مقابلہ کیا جا سکے۔ روس کو یوکرین کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر (برقیاتی جنگ) کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجتاً اس نے اپنے سیکنڈ جنریشن جیرن ڈرونز کی بہتر مزاحمت میں سرمایہ کاری کی۔ حالیہ تنازع میں ایران واضح طور پر اسی روسی تجربے سے استفادہ کر رہا ہے، جو اس کی ڈرون حکمت عملی کی غیر متوقع کامیابی کی توجیہ دے سکتا ہے۔
تنظیمی مطابقت پذیری
آخر الذکر، ایران تنازع نے تنظیمی مطابقت پذیری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ امر کہ امریکہ اورخلیجی فوجوں نے یوکرینی محاذ سے ملنے والے اہم اسباق کو اتنے مؤثر طور پر نافذ نہیں کیا، جہاں روس-ایران ڈرون جنگی حکمت عملی کارگرثابت ہوئی، مشاہدین کے لیے باعثِ حیرت ہے۔ یوکرین میں فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) ڈرون وارفیئر معمول بن گیا تھا، تاہم عراق کے کیمپ وکٹری میں امریکی اثاثوں کو ایران کے غیر ریاستی اتحادیوں کے اسی طرح کے حملوں کا سامنا تھا، جبکہ اسرائیلی ٹینک لبنان میں اسی طرح کے خطرات کا سامنا کر رہے تھے۔ یوکرین نے روسی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے سستے انٹرسیپٹر ڈرونز بھی تیار کیے، جس کے سبب مہنگے میزائلز پرانحصار کم ہوا اور(یُوں) رُکاوٹ کی لاگت گھٹ گئی۔ اگرچہ مارچ میں یوکرین کے مشیراپنی مہارت پیش کرنے کے لیے علاقے میں بھیجے گئے تھے، ایران اور روس کے تعاون کو مد نظر رکھتے ہوئے، مغربی ممالک اور ان کے خلیجی اتحادی روس-یوکرین جنگ سے ڈرون اور کاؤنٹرڈرون وارفیئر کے چار سالہ تجربے کو مغربی ایشیائی منظرنامے میں زیادہ فعال طور پر منتقل کر سکتے تھے۔سو، یہ تنازعہ اس دائمی چیلنج کو اجاگر کرتا ہے کہ تزویراتی تعلّم کو تنظیمی تبدیلی میں کس طور رائج کیا جائے، بالخصوص جبکہ نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جنگ کے پرانے طریقوں کو متاثر کر رہی ہوں۔

پاکستان کے لیے مضمرات
مغربی ایشیا میں جنگ ایک رئیل ٹائم لیبارٹری کی مانند ہے جس کے اسباق پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کو دفاعی منصوبہ بندی، خریداری کی ترجیحات اور نظریاتی تبدیلیوں کی مد میں آنے والے سالوں میں متاثر کریں گے۔ پاکستان کی سعودی عرب میں اسٹریٹیجک میوچول ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ایم ڈی اے) کے تحت موجودگی شاید اسے درجِ بالا رجحانات پر اور زیادہ توجہ دینے پر مجبور کرے گی۔
پاکستانی نقطہ نظر سے، ایران جنگ کی حرکیات بڑی حد تک بھارت کے ساتھ مئی 2025 میں تنازعہ اور پاکستان-افغانستان جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کو مضبوط کرتی ہیں۔ مئی کے بحران میں، بھارت اور پاکستان دونوں نے نسبتاً ایک جیسے حربے استعمال کیے۔ 7 مئی کو ابتدائی فضائی جھڑپ کے بعد، جس میں پاکستانی فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے، بھارتی فوج نے زیادہ تر ڈرونزاورمیزائلوں کا تدبیراتی استعمال کیا۔ پاکستان بھرمیں ریڈار اور اے ڈی سائٹس کو نشانہ بنانے کے لیے ہیروپ ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد کروز میزائل حملے کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارتی ایئر ڈیفنس کو درماندہ کرنےکے لیے ییہا-3 ڈرونز استعمال کیے تاکہ ائیر لانچ سی ایم -400 میزائلز کے ذریعے بھارتی اے ڈی سائٹس اور ریڈار نوڈز پر پریسیثن اسٹرائیکس کی کوشش کی جا سکے۔علاوہ ازیں، اس سال کے شروع میں طالبان کی ڈرون تباہ کاریوں اور طالبان سے وابستہ عسکری گروپوں کے ڈرون استعمال نے بھی پاکستانی حکمت عملی سازوں کو ڈرون کے خلاف اقدامات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی دفاع پر دوبارہ غور کرنے پرمجبورکردیا ہے۔
ان فوری خطرات کے باوجود باقی دنیا کی فوجوں کی طرح پاکستان بھی، نئے جنگی رجحانات کے مطابق ڈھلنے میں سست رہا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر ایک ہائبرڈ فضائی دفاع اور حملہ کرنے کی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو یو اے ویز کے خلاف شارٹ رینج ائیر ڈیفنس میں کمزوریوں کو دور کرے اور بڑے پیمانے پر پریسیثن اسٹرائیکس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
پاکستان کو فوری طور پر ایک ہائبرڈ فضائی دفاع اور حملہ کرنے کی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو یو اے ویز کے خلاف شارٹ رینج ائیر ڈیفنس میں کمزوریوں کو دور کرے اور بڑے پیمانے پر پریسیثن اسٹرائیکس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے۔
مغربی ایشیا کے تنازعے نے دکھا دیا ہے کہ جدید فضائی جنگ میں (حملے کے) حجم اور حرکت پذیری کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اسی لیے پاکستان کو پلیٹ فارم ایکویزیشن کے بجائے اپنے قریبی دفاعی شراکت داروں کے ساتھ صنعتی تعاون کو استعمال کرنا چاہیے۔ مثلاً چین نے درجہ بدرجہ فضائی دفاع تیار کیا ہے جو مغربی نظامات کے مماثل ہے اور پاکستان کو اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے، جس میں ایچ کیو -17، ایف کے- 3000 اور ٹائپ- 625 جیسے شوریڈز (شارٹ رینج اے ڈی) اور لانگ رینج سسٹمز جیسے ایچ کیو-9 اور تھاڈ کے مساوی (ایچ کیو -19) بھی شامل ہیں، جبکہ ترکی نے اپنی جدید ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ البتہ، قریبی شراکت داریوں کے باوجود، پاکستانی دفاعی حصول ابھی بھی مالی مجبوریوں، محدود مقامی تکنیکی صلاحیت، عملی انضمام کی پیچیدگیوں، اور ایک نوخیز مقامی ٹیکنالوجی انڈسٹری جیسے عوامل پر منحصر ہے۔ آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے، پاکستان کےچین اور ترکی کے ساتھ موجودہ صنعتی تعاون کو رفتار اور دائرہ کار میں بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی زِچ کر دینے والی طویل لڑائی میں پاکستان کو رسد کی دوبارہ فراہمی کی صلاحیت مل سکے۔
مزید براں، جدید جنگی حالات میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر، ایک الگ تھلگ کمان ڈھانچہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو لازمی طور پر اپنی فوجی ڈھانچے کو از سرِ نوترتیب دینا پڑے گا تاکہ ڈرون اورغیررابطہ جنگ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ 2025 کے آخر میں پاکستانی فوج نے ایک یو اے وی کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا اور ڈرون وارفیئر یونٹس کی تربیت کا مظاہرہ کیا۔ یہ پیش قدمی ایک مثبت پہلا قدم ہے، تاہم اس کو مسلح افواج کے ساتھ ساتھ غالباً قانونِ دیوانی (سول لا) نافذ کرنے والے اداروں میں بھی عام کرنا چاہیے، کیونکہ پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے میں غیر متوازن جنگ اور عسکریت پسندی کی حقیقت موجود ہے۔
آخر میں، مغربی ایشیا سے اپنے تحفظ کے سبق سے سیکھتے ہوئے، پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ایران کی ’’موزیک ڈیفنس‘‘ کے مشابہ ایک غیر مرکزی، پھیلے ہوئے دفاعی رویے کو اپنانے پرغور کرے، (جس کے تحت) سسٹمز اور لانچرز کو طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر(یا) غیر محفوظ مقام پر رکھنے کے بجائے انہیں مختلف مقامات پر تقسیم کیا جائے، تاکہ اپنے تحفظ اور جنگ کے دوران کارکردگی کوبرقرار رکھا جا سکے،خواہ دشمن ایئر ڈیفنس کو کمزور یا ہتھیاروں پر حملہ ہی کرے۔
ماحصل
مغربی ایشیائی فضائی جنگ اس امر کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے جس کی جانب حالیہ تنازعات، بالخصوص روس-یوکرین جنگ، پہلے ہی اشارہ کر چکے تھے: مہنگے اور ساکن نظامات پر مبنی پلیٹ فارم سینٹرک فضائی دفاع کا دور ختم ہو رہا ہے اورایک نیا دور آ رہا ہے جو حجم، حرکت پذیری، ای ڈبلیو (برقیاتی جنگ) اور قریباً رئیل ٹائم آئی ایس آر سے پہچانا جائے گا۔ اعلیٰ سطح کے فضائی دفاعی نظام اب بھی کمزور ہیں اور مہنگی خریداری بچاؤ کے بجائے ممکنہ طور پر ترغیب دلاتی ہدف بن سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے مضمرات فوری اوراثر پذیر دونوں ہیں۔ پاکستان کو ایک جامع فضائی دفاعی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو تزویراتی تعلم کو شامل کرے اور آنے والے سالوں میں ریاستی اور غیر ریاستی خطرات کے خلاف کم لاگت کے اختیارات استعمال کرے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا مغربی ایشیا کے اسباق متعلقہ ہیں(یا نہیں) ، بلکہ یہ کہ اسلام آباد انہیں اگلے تصادم کے نظریاتی جمود کی قیمت ناقابل تردید ہو جانےسے پہلے عملی جامہ پہنا سکتا ہے یا نہیں۔
***
This article is a translation. Click here to read the article in English.
Image 1: VIRIN via Wikimedia Commons