کیا افغانستان میں عارضی جنگ بندی کچھ نتائج دے گی؟

 Editor’s Note: This article has been translated from its original English version by SAV staff. To read the original version, click here

افغان حکومت نے ۱۲ جون سے ۸ روز کےلئے عارضی  اور غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔ جنگ بندی اتفاقاً عید کے دنوں میں ہوئی۔ ۴ جون کو افغانستان بھر کے ۲۰۰۰۰ علماء کے اجتماع  میں  خود کش حملوں کی مذمت  کی گئی اور  افغانستان میں جنگ کو شرعی طور پر غیر قانونی کہا گیا جبکہ حکومتی جنگ بندی داراصل اسی اجتماع کا شاخسانہ ہے۔ اگرچہ جنگ بندی یک طرفہ تھی لیکن اس کو علاقائی اور عالمی سطح پر بشمول اقوامِ متحدہ، نیٹو، یورپی یونین، ایران، پاکستان، چین اور امریکہ کی طرف سے سراہا گیا۔ افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ امریکہ بھی جنگ بندی پر عمل درآمد کرے گا۔ 

نتیجتاً ۹ جون کو طالبان نے بھی جنگ بندی کا اعلان کیا مگر صرف عید کے ۳ دن کےلئے۔ لیکن گزشتہ ۱۷ برسوں میں پہلی بار تھا کہ دونوں فریقین نے جنگ بندی پر رضامندی دکھائی چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ تھی۔ افغانستان میں ۲۰۱۸ کا پہلا حصہ کشیدگی سے بھرپور رہا ہے اور اسکے  نتیجے میں پہلے تین مہینوں میں ریکارڈ ۲۲۵۸ ہلاکتیں ہوئیں تاہم  اب امن مذاکرات کی بات نے سر اٹھایا ہے چونکہ دونوں اطراف اس بات کو سمجھا گیا ہے کہ  جنگ  صرف عسکری طور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ 

اس بات کی امید ہے کہ  جنگ بندی امن مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی لیکن اس مقصد میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں ۔ طالبان کا مضبوط بیانیہ اور اندرونی خلفشار کے ساتھ ساتھ علاقائی کرداروں کے اپنے اپنے بدلتے مفادات  اس معاملے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ 

منقسم مگر مضبوط طالبان؛

افغان حکومت اور عالمی اتحادیوں کی طالبان کے برخلاف دو عشروں پر محیط  جنگ  کے باوجود طالبان  آج بھی طاقتور ہیں اور وہ  تقریباً آدھے افغانستان کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں۔ طالبان غیر متوقع طور پر  سخت گیر ثابت ہوئے ہیں اور نئے نئے علاقوں کو فتح بھی کرتے رہے ہیں جبکہ اتحادی فوج  ان کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ تاہم ۲۰۱۵ میں رہنما کی ہلاکت کے بعد گروپ  کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ موجودہ گروپ کم از کم پانچ شوریٰ میں تقسیم ہے ۔ اس تقسیم کی وجہ سے فیصلہ سازی میں مشکل درپیش آ رہی ہے اور افغان حکومت بھی انکے ارداوں کے بارے میں ابہام کا شکار ہے۔ 

تقسیم کے باوجود تمام شوریٰ کا جنگ سے متعلق ایک ہی نظریہ ہے  اور اس نظریئے کو تقویت غیر ملکی فوجوں کی موجودگی، صدر ٹرمپ کی طرف سے فوج میں اضافے اور شہری اموات میں زیادتی کی وجہ سے ملی ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت اور اسکے عالمی اتحادی طالبان بیانیے کے مقابلے میں کوئی بیانیہ نہ بنا سکے۔ بس حال ہی میں ایک کوشش کی گئی جب جکارتہ اور کابل میں مذہبی سکالروں کو اکٹھا کر کے ان سے طالبان کے اقدامات پر فتویٰ لیا گیا۔ 

امن مذاکرات پر علاقائی  اتفاقِ رائے:

افغانستان میں جنگ بغاوت سے بڑھ کر ہے چونکہ  اس کے تانے بانے علاقائی سٹیک ہولڈرز جیسے پاکستان اور ایران میں  ملتے ہیں۔ اس  لئے امن مذاکرات کےلئے تمام علاقائی کرداروں کا اتفاقِ رائے بھی ضروری ہو گا۔ افغان حکومت  نے اس مقصد کےلئے کئی فورمز جیسے کوآڈ لیٹرل کوآرڈینیشن گروپ (کیو-سی-جی) جو افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ پر مشتمل ہے، کا استعمال بھی کیا۔ گروپ نے ۲۰۱۶ میں ابتدا سے لے کر اب تک ۶ دفعہ بیٹھک کی ہے لیکن آخری دفعہ  کی بیٹھک امن مذاکرات کی مضبوط بنیاد فراہم کئے بغیر ہی منتج ہو گئی۔ 

ایسی ہی ایک اور کوشش ‘کابل پراسیس’ کے تحت کی گئی۔ اسکی پہلی میٹنگ جون ۲۰۱۷ میں ہوئی اور ۲۴ ممالک نے شرکت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ‘سکیورٹی الائنسز’ بنانے کا اعادہ کیا۔ دوسری میٹنگ فروری ۲۰۱۸ میں جس میں ۲۶ملکوں نے شرکت کی اور افغان حکومت نے امن کےلئے غیر مشروط سفارشات سامنے رکھیں۔ ‘کابل پراسیس’ نے اگرچہ عالمی توجہ تو مبذول کرائی تاہم امن بات چیت کےلئے علاقائی اتفاقِ رائے پیدا کرنے سے قاصر رہا۔ 

جب ہم  علاقائی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہیں تو امن بات چیت کے خوش کن اثرات مبہم پڑ جاتے ہیں ۔افغان طالبان کو اسلحہ دے کر رُوس افغان معاملات میں خاصہ متحرک ہو گیا ہے۔ اسی طرح ایران بھی طالبان کی حمائت کر کے افغانستان میں مزید  جارحانہ روش پر ہے۔ طالبان کی پانچ میں سے ایک شوریٰ  ‘مشہد’  ایران میں ہے۔ جب وسط مئی میں مغربی صوبے فاران میں  گڑ بڑ ہوئی تو افغان وزیرِ دفاع جنرل طارق شاہ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان میں جنگ بڑھا کر افغانستان سے ایران کی طرف بہنے والے پانی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

افغان معاملات اور امن مذاکرات میں ملوث علاقائی کرداروں  کے مفادات داراصل ایک غیر خوش کنُ حالات کا پتہ دیتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ امن بات چیت تب تک رسائی میں نظر آتی ہے جب تک  بات محض بغاوت کی ہو لیکن  جب انہی لوگوں کا ستعمال پراکسی جنگ میں ہو رہا ہو تو پھر  کوئی اور ہی تصویر سامنے آتی ہے۔ حقیقت میں افغان طالبان بغاوتی اور پراکسی گروہوں کا مجموعہ ہیں۔ اور یہ حقیقت امن لانے کی کوششوں میں آڑے آ جاتی ہے چونکہ طالبان کی ڈیل کے ساتھ ساتھ علاقائی سٹیک ہولڈرز کے مفادات بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔ 

کئی مسائل میں ایک امید؛

ساری صورتحال کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں  کہ جنگ بندی ممکنہ طور پر طالبان اور افغان حکومت کے بیچ امن بحال کر سکتی ہے۔لیکن طالبان کے اندرونی خلفشار ، (لیکن)انکےمضبوط بیانیے اور کم تر علاقائی اتفاقِ رائے  جیسے عوامل کی وجہ سے  یہ بھی  نہیں کہا جا  سکتا کہ افغان امن کس طرح کا ہو گا۔ 

***

.Click here  to read this article in English

Image 1: Al Jazeera English via Flickr

Image 2: Shah Marai via Getty

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Escalation Control, Internal Security, leadership, Militancy, Negotiations, Pakistan, Peace, Policy, Politics, Russia, Terrorism, UN, United States

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada holds a BA in political science from Kabul University. He has been involved in civil society and human rights activism since 2012 when he co-founded Youth Development Association (YDA), a local CSO focused on youth and women empowerment through advocacy, training, and awareness raising. He is a contributor to the Global Voices, the Diplomat, and the Institute of Peace and Conflict Studies (IPCS) in New Delhi. Currently, he is the deputy director at Organization for Policy Research and Development Studies (DROPS), a research and advocacy organization based in Kabul. He has also co-translated the book China in the 21st Century: What Everyone Needs to Know.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *