Rajnath Singh Flags

تاریخی طور پر متواتر بحرانات، وسائل کی کمی اور وقتی سوچ کے رجحان نے بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی کو محدود کیا ہے۔ لیکن 10 مارچ 2026 کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس فورسز وژن 2047: اے روڈ میپ فاراے فیوچر-ریڈی انڈین ملٹری جاری کیا،جو بھارتی فوج کے مستقبل کے اہداف کی وضاحت کرتی، 34 صفحات پر مشتمل دستاویز  ہے۔ 
’ڈیفنس فورسز وژن 2047’، جو بھارتی دفاعی منصوبہ بندی کی ایک نایاب منظم، سرکاری توثیق،  ہے جو قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کے میعادی اعلان کی غیر حاضری کی مضبوط روایت سے ہٹ کر ہے، بھارت کے جغرافیائی و سیاسی سیاق و سباق، تزویراتی ثقافت، ترجیحات، مقاصد، عملیات (آپریشنز) اور فوجی سفارت کاری کی تصویر پیش کرتا ہے۔ دستاویز کا موقع (وقت) اور مواد تین بڑے مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے: خارجہ پالیسی میں طاقت کی مرکزی حیثیت کو دوبارہ ثابت کرنا،جوائنٹنس (مختلف فوجوں کے اشتراک) کی پہیلی کو حل کرنا اور وِکسِت بھارت “ترقی یافتہ بھارت”) کے بیانیے کو مضبوط کرنا۔ تاہم ایک برترسیاسی  بیانیہ سے  پیوستہ بڑی حد تک ایک  خطیبانہ مشق کے طور پر، یہ دستاویز فوجی-سیاسی تشریقِ نو اور اصلاح کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ کے طور پر تو کم ہی فائدہ دے گی تاہم  بھارتی قیادت کی سوچ کی جھلک پیش کرتے رہنما اصولوں کے بیان کے طور پر (زیادہ) مفید ہوسکتی ہے۔ 

دستاویز: سیاق و سباق، مقصد اور مواد 

تصوّر پیش کرتی یہ دستاویز(وژن ڈاکومنٹ) وزیراعظم مودی کے(فلیگ شپ) ممتازسیاسی پروگرام وِکسِت بھارت کی عکاس ہے، جس کا مقصد سال 2047 تک بھارت کو اقتصادی، سماجی، سیاسی اور ماحولیاتی لحاظ سے ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔ اہم امریہ ہے کہ یہ اعلان عالمی فوجی تنازعات کے درمیان بھی کیا گیا—جن میں روس-یوکرین کی تعطل کا شکار جنگ اور امریکہ-ایران فوجی جمود شامل ہیں—اوراسے بھارت کے آپریشن سندور کے بعد پیش کیا گیا، جسے مرکزی حکومت ‘تزویراتی وضاحت اورتخمین شُدہ طاقت’ کی علامت قراردیتی ہے۔ 

اس سیاق و سباق میں، وژن ڈاکومنٹ داخلی اصلاحات اورخارجی طورپرتشریقِ نو کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے تاکہ ابھرتے ہوئے تنازعے کی حدِ عمل سے نمٹا جا سکے۔ سنگھ کا اس متن کے لیے دیباچہ اس ‘بلند نظر تاہم لازمی تبدیلی’ کی ضرورت اُجاگر کرتا ہے تاکہ ‘ایک عالمی معیار کی فوج’ تیار کی جا سکے جو بھارت کے ‘عالمی سطح پر جائز مقام’ کو منوا سکے۔ 
ڈیفنس فورسز وژن 2047 ’’تزویراتی  برتری‘‘ ان اہم پہلوؤں  کے ذریعے پانے کے لیے کوشاں ہے: تینوں سروسز کا انضمام؛ ‘سوچ اور صلاحیتوں میں خود مختاری‘؛ اور’ مکمل پیمانے کے تنازع ‘ کے دوران درپیش خطرات سے نمٹنا۔ 

ان اہداف کے حصول کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے— تغیر پذیری کا دور(2026-30)، حصولِ استحکام کی ایک دہائی (2030-40)، اورعمدگی پانےکا دور (2040-47)۔ پہلے مرحلے میں تین اہم کارِ ہدف ہیں: (کثیر شعبہ جاتی) ملٹی ڈومین آپریشن (ایم ڈی او) کے لیے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیلِ نو، مقامی صلاحیتوں کا حصول اور پالیسی ضابطۂ عمل (فریم ورک) کی تخلیق۔ دوسرے مرحلے میں زیادہ تفصیلی اور وسیع انضمام، تصوری وضاحت اور صلاحیتوں کا فروغ (شامل) ہوگا۔ آخری مرحلہ، جو بھارتی آزادی کے صد سالہ جشن کے ساتھ ملتا ہے، کا مقصد ‘عالمی معیار کی فوج’ کا حتمی ہدف حاصل کرنا ہے۔ 

اس طوریہ دستاویز بھارتی فوجی صلاحیت کی نمائش کے ذریعے وِکسِت بھارت کے بیانیے کو مضبوط بناتی ہے۔ تاہم اہم امریہ ہے کہ (دستاویز کا) متن نظریاتی وضاحت کے بجائے زیادہ تر سیاسی قیادت کو مطمئن کرنے کے لیے تحریر کیا گیا لگتا ہے، جس کا تعلق حکومت کی عوام کوفنیاتی (ٹیکنالوجیکل) ترقی اور فوجی صلاحیت دکھانے کی حکومتی خواہش سے ہے۔ 

بلند حوصلہ مقاصد، متفرق کامیابیاں اور تشریقِ نو کیے گئے موضوعات

اگلے اکیس سالوں کے اس متصورہ سفر کے دوران، اس دستاویز میں قومی عسکری حکمت عملی کی دستاویزی تشکیل، مشترکہ ہیڈ کوارٹرز کا قیام، جوائنٹ آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر کے فعال ہونے، اور فورس جنریشن (طاقت کی تخلیق) اورفورس ایپلیکیشن (طاقت کااستعمال) کو اِنٹیگریٹڈتھیٹر کمانڈ اینڈ کنٹرول (آئی ٹی سی سی) کے ذریعے علیحدہ کرنے کاتصور پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں انٹیگریٹڈ کیپیبلیٹی ڈویلپمنٹ پلان (آئی سی ڈی پی) کو رسمی شکل دینے، ایک ڈیفنس جیواسپیشل ایجنسی، ایک ڈیٹا فورس، ایک ڈرون فورس اورایک کوگنیٹو وارفیئر ایکشن فورس قائم کرنا شامل ہے اور ساتھ ہی یہ ایک کامن ڈیفنس فورسز ایکٹ کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ دیگر تقاضوں کے ساتھ ساتھ “تینوں سروسزکے اہلکاروں کے رویے، ڈسپلن اور سروس کی شرائط” کو منظم کیا جا سکے۔

یقیناً منصوبہ بند اقدامات کی فہرست کافی طویل ہے۔ تاہم بھارت میں دفاعی اصلاحات کی تاریخ اس تصورکے حقیقت بننے سے متعلق کافی شبہات پیدا کرتی ہے۔ ماضی میں فوجی جدید کاری سے متعلق بڑے اعلانات (منصوبے) اکثر ادھورے رہ جاتے تھے یا نیم دلی سے آگے بڑھائے جاتے تھے۔ مثلاً ایک بھارتی دفاعی یونیورسٹی کا قیام 2000 کی دہائی کے اوائل سے زیر التواء ہے اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) کا دفتر ویسا بااختیار نہیں ہے جیسا کہ 2001 کے گروپ آف منسٹرز(جی او ایم) کی رپورٹ میں تصور کیا گیا تھا۔ ڈیفنس پلاننگ کمیٹی (ڈی پی سی) اور2018 میں قائم ہونے والے تین خصوصی ادارے یا تو غیر فعال ہیں یا اب بھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ مزید پریشان کن امر یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے اُٹھائے گئے کئی اقدامات کے باوجود موجودہ سروس  سینٹرک کلچر (خدماتی طرزِ عمل) زیادہ تر جوائنٹ کلچر  کی اُمنگوں کی جگہ لے لیتا ہے، جس میں سب سے پہلے سی ڈی ایس کی تاریخی تقرری شامل ہے۔ مسائل سے پُراس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، مشاہدین کے لیے بہتر ہو گاکہ وہ ڈیفنس فورسزوژن 2047 کو حقیقت میں ڈھل جانے والے ایک ٹھوس منصوبے کےبجائے (محض)  اقدار کا ایک بیان سمجھیں۔ یوں یہ دستاویز ایک اہم قطب نما کی مانند ہے جو فوجی بیانیوں کی سہ طرفہ تشریقِ نو کی راہ دکھاتا ہے، گوکہ عملی طورپرفوجی جدید کاری کی رفتار کم ہے۔ 

بھارت کی خارجہ پالیسی میں طاقت کو دوبارہ مرکز بنانا 

اس دستاویز میں ساشکت اتم نربھروِکسِت بھارت (‘بااختیار خودمختار ترقی یافتہ بھارت’) کے لیے ایک نیا عسکری کردار متصور کیا گیا ہے۔ اس تصور میں، ایک مضبوط فوج آزاد تزویراتی فیصلوں کوعملی شکل دینے اور بھارت کی کثیر الجہتی وابستگیوں اور تزویراتی خودمختاری کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ تاریخی طور پر بھارتی خارجہ پالیسی میں فوج کو آخری حل کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس دستاویز کے مطابق فوج ’’ امن سے لے کر مکمل جنگ تک  کی ہرحالت میں کردار ادا کرے گی‘‘ اور ملک کے خطّی اورعالمی مقاصد کی حمایت میں‘‘ اہم ثابت ہوگی۔ 

یہ متن اس امر کو اُجاگر کرتا ہے کہ فوجی تعاون کو گہرا کر کے، بھارت خود کو ‘ایک ترجیحی سیکورٹی پارٹنر’ کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے، جیسا کہ دستاویز میں کہا گیا ہے، بھارت “ہم خیال ممالک کا ایک جال” بنا رہا ہے تاکہ باہمی عمل کاری میں کوئی  رکاوٹ نہ ہو اوراعتماد بڑھے۔ روس کے ساتھ لاجسٹکس سپورٹ کا باہمی تبادلہ (آر ای ایل او ایس) اور امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون میں اضافہ اس کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ 

تنازعات کی مکمل وسعت 

تصور پیش کرتی یہ دستاویز (ویژن ڈاکومنٹ) بھارت کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی حد کو تو بیان کرتی ہے تاہم نہ تو بھارت کے روایتی حریفوں کی جانب سے لاحق خطرات کی وضاحت کرتی ہے اور نہ ہی تنازعات کی بدلتی ہوئی پیچیدگیوں اور  درپیش ممکنہ حالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ ایسی وضاحتوں کے بغیر، وژن ذاتی تشریحات اور تنظیمی محدودیت کا شکارہوسکتا ہے، کیونکہ خطرے کی تشخیص اورپالیسی کا ردعمل پیشہ ورانہ کلچراورترجیحات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ ایک بہتر دستاویزمخصوص بھارتی ضروریات کو مدنظر رکھ سکتی تھی جو چین اور پاکستان کی جانب  سے محسوس کردہ سازشی خطرے سے متعلق ہیں—جس میں سے چند ایک میں دہشت گردی، متواتر سرحدی تنازعات، معلوماتی جنگ، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بھارتی فوج کی فوری تبدیلی بھی شامل ہے۔ 

مستقبل کے بڑے مسابقتی تنازعات میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے چین  اپنی فوجی طاقت کو ازسرِنو مرتب رہا ہے تاکہ وہ تیز رفتار، شدید اور کثیر الجہتی جنگ میں مہارت حاصل کر سکے، جس سے بھارت کے سیکیورٹی ماحول میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چین نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو براہِ راست مدد (لائیو سپورٹ) فراہم کی اورساتھ ہی بحرِ ہند کےعلاقے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور بھارت کے قریبی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کیا۔ ان شدید خطرات کے باوجود دستاویز کے مصنفین نے چین یا پاکستان کے بارے میں خاص تذکرہ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ 

اسی طرح مغربی ایشیا میں جاری بحران بھارت کی فوجی صلاحیت اوراس کے تزویراتی لائحہ عمل کے بارے میں بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ سب سے نمایاں واقعے میں امریکی بحریہ نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایرانی فریگٹ (جنگی بحری جہاز) آئرس ڈینا کواس وقت ٹورپیڈو مارا جب یہ جہاز بھارتی میزبانی میں کی گئی (جنگی) مشق سے واپس آ رہا تھا۔ اس پیش رفت نے بھارت کی تزویراتی  خود مختاری اور بحرہند کے خطے (آئی او آر) میں بحری اختیارکے بارے میں سوالات اُٹھائے  ہیں، اوراس کے پڑوس میں تنازعہ کی وسعت  پر بھارتی یقین دہانیوں سے متعلق زیادہ وضاحت کی متقاضی ہے۔ ویژن ڈاکومنٹ کی پیروی میں یہ امر بہتر طور پر واضح ہونا چاہیے کہ خصوصاً علاقائی شراکت داروں اور آئی او آر کے جزیرہ ممالک کو یقین دلانے کے لیے بھارت ایسی صورت حال سے کیسے نمٹے گا۔

اہم امریہ ہے کہ موجودہ فوجی تنازعات کے رجحانات یہ ظاہر کرتےہیں کہ فوجی طاقت اور تعاون دنیا کے سب سے اہم آبنائے (تنگ بحری راستوں) سے گزرنے کو یقینی بنانے، گرے زون وارفیئرکی سرگرمیوں کو روکنے اور نئے جنگی محاذوں میں خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری آلۂ کاربنتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ دستاویز کا نو مرتب شدہ اور جدید فورسز کے لیے منصوبہ ایسی مشکلات سے نمٹنے میں مدد دے گا—جس میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دینا، ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ڈیساسٹر ریلیف (ایچ اے ڈی آر) میں حصہ لینا، اور بحری شعبوں سمیت خلا کی عسکریت کا مقابلہ کرنا شامل ہے—تاہم دستاویز اس امر کی مناسب وضاحت نہیں کرتی کہ بھارتی خارجہ پالیسی کے مقاصد کی حمایت میں  شدید طاقت کا مظاہرہ کس طرح علاقائی استحکام میں مدد دے گا اور(کس طور)  بین الاقوامی خطرات کے خلاف ایک بفر(رکاوٹ) کے طورپرکام کرے گا۔ 

جوائنٹنس (سروسز کا اشتراک) کی پہیلی کو حل کرنا

یہ دستاویز بھارتی فوج کے لیے سروسزکے اشتراک کو ایک اہم مقصد کے طور پر بھی قائم کرتی ہے۔ جوائنٹنس سے مراد  تینوں سروسز کی تنظیموں اور وسائل کو ملانا ہے تاکہ فوجی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے دستاویز میں ایک جدید نصاب اورتربیتی ہدایات نامہ  بنانے کا منصوبہ اور جوائنٹ اسٹاف کے لیے مسلح افواج کے نئےتربیتی ادارے قائم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فوج دوست ممالک  (ایف ایف سی) کے ساتھ تعاون کے ذریعے انضمام اور مشترکہ کارروائی کے مواقع بھی تلاش کرے گی تاکہ عملیاتی ہم آہنگی اور اجتماعی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ 

آزادی سے قبل، جوائنٹنس 1940 کی دہائی کے اوائل سے ہی بھارتی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے ایک مرکزی تشویش رہی ہے۔ تاہم حالیہ دفاعی اصلاحات کے اقدامات، جیسے کہ محکمہ فوجی امور (ڈی ایم اے) اور اگنی پتھ کی تنظیم، بمشکل ہی جوائنٹنس کےاہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ جیسا کہ اس مصنف نے کہیں اور (بھی یہ) دلیل دی ہے کہ مناسب قانونی حمایت کے بغیر، ڈی ایم اے کے سربراہ کے طورپرسی ڈی ایس کے پاس انٹیگریٹڈتھیٹر کمانڈز کی تنظیم  اور سروسز کے اشتراک کے نفاذ کے اختیارات نہیں ہیں۔ مضحکہ خیز طور پر، ایچ کیو آئی ڈی ایس، جسے سروسز کے اشتراک (جوائنٹنس) کے نفاذ  کی ذمہ داری دی گئی ہے، نہ صرف دفاعی بجٹ کا ایک محدود حصہ حاصل کرتا ہے اور(اسے) جوائنٹ اسٹاف کے لیے بجٹ کی تخصیص میں تینوں سروسز کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتاہے، بلکہ اسے ٹرائی سروس جوائنٹ ایجنسیوں کو فروغ دینےکے لیے  ڈیپیوٹیشن  پرعملے کی  فراہمی کے لیے انہیں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔علاوہ ازیں اگنی پتھ دراصل مشترکہ اقدامات کے خلاف ایک قدم ہے: جوائنٹنس کے لیے طویل المدتی بھرتیوں اور مختلف شعبوں میں تقرریاں ضروری ہیں، جبکہ اگنی پتھ مختصر المدت ہے اور (اس میں) بھرتی صرف مخصوص سروسز کے لیے ہی ہوتی ہے۔ 
ویژن ڈاکومنٹ اس امرپر بڑی حد تک خاموش ہے کہ بھارتی مسلح افواج ان تنظیمی دُشواریوں سے کیسے نمٹیں گی۔ 

نگران (کیوریٹرز) یہ امید رکھتے ہیں کہ ‘مستقل سرمایہ کاری،’ ٹیکنالوجیکل اور مالی وسائل کا تخلیقی استعمال، اور ‘سوچ و توجہ میں لچک’ اس تصورکو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ تاہم، ہر نکتےکے لیے ایک تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔ یونین بجٹ 2026-27 میں دفاع کے سرمایہ جاتی خرچ کے لیے جو رقم ‘ کثیر دوائرِ کار کی عملی صلاحیت’ کو بڑھانے کے لیے مختص کی گئی ہے، وہ وژن ڈاکومنٹ میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے اور 16ویں فنانس کمیشن کی سفارشات سے بہت کم ہے۔ بھارت کی مقامی دفاعی پیداوار اہم ٹیکنالوجیز، توانائی اور نادر زمینی دھاتیں(رئیر ارتھ میٹیریلز) کی  کافی حد تک بیرونِ ملک سپلائی پر منحصر ہے، یعنی عالمی بحرانات اس کی متوقع ترقی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ ویژن ڈاکومنٹ مشترکہ نظریاتی سوچ، سول اور ملٹری تعلقات کے امتزاج اور صلاحیت کی ترقی جیسے بنیادی شعبوں میں  کثیرالشعبہ مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط تصوری اور عملی بنیاد قائم کرنے میں ناکام ہے۔

آخر میں، یہ دستاویز بھارتی تزویراتی کلچر کو اپنانے اورمسلح افواج میں اشتراک کے خلاف نوآبادیاتی ورثے کو ختم کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے۔ چونکہ بھارتی تزویراتی کلچرسماجی درجہ بندی کے طریقوں، بشمول ذات پات کے نظام کے،  پر قائم ہے، جو کسی بھی پیمانے پر جوائنٹنس کے خلاف ہے، اس لیے ایسے اقدامات جدیدیت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ تاہم، یہ تصور اس امر کی وضاحت کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ بھارتی تزویراتی کلچر کس طور دفاعی افواج کے مشترکہ مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ 

وِکسِت بھارت کے بیانیے کو مضبوط بنانا 

حکمت عملی کے نقطہ نظر سے، یہ دستاویز بھارتی سیاسی سوچ میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ 
تاہم یہ روایتی یا غیر روایتی خطرات کے کسی بھی جائزے کا خاکہ نہیں پیش کرتی اور نہ ہی اہم میدانوں جیسے کہ بحرِ ہندکے خطے میں بھارت کے سیکیورٹی کردار کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ داخلی سطح پر یہ ابھی بھی مستقبل کی ایک  تصوراتی تصویر ہے جس پر عملدرآمد کے لیے ضروری وسائل پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ ان دُشواریوں اور حد بندیوں کے باوجود، وژن ڈاکومنٹ وزیراعظم مودی کے وِکسِت بھارت سیاسی منصوبے کو مضبوط بنانے کے مختلف اقدامات اور پالیسی پروگراموں کی فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے۔ تاہم اس لحاظ سے، ان دستاویزات کو بنیادی طور پر روایتی اور بیان بازی کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے، جس میں خطرات غیر واضح ہیں اور(جس کا) نفاذ غیر یقینی ہے۔ 

This article is a translation. Click here to read the article in English.

 
Share this:  

Related articles

مغربی ایشیا میں فضائی جنگ: پاکستان کے لیے اسباق Hindi & Urdu

مغربی ایشیا میں فضائی جنگ: پاکستان کے لیے اسباق

28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر…

इस्लामाबाद चैनल: मध्यस्था एवं अभिजात अस्तित्व   Hindi & Urdu

इस्लामाबाद चैनल: मध्यस्था एवं अभिजात अस्तित्व  

सन् 1971 के ग्रीष्म काल में, एक पाकिस्तानी सैन्य विमान…

पाकिस्तानी रक्षा उद्योग की नई दिशा का चित्रण  Hindi & Urdu

पाकिस्तानी रक्षा उद्योग की नई दिशा का चित्रण 

पाकिस्तान का रक्षा उद्योग, जिसने दशकों तक प्रतिबंधों और युद्धकालीन…