پاکستان کی سرحدوں پر نگرانی میں سختی: اسلام آباد کی نئ حکمتِ عملی؟

کچھ عشروں سے  پاکستان کی حکومت کی طرف سے افغانستان، اور کسی حد تک ایران سے ملنے والی سرحد پر لوگوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ اس صورتِ حال کو اسلام آباد یا راولپنڈی میں کبھی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ مگر حال میں پاکستان سرحدی گزرگاہوں کے اس نظام کو بدلنے کےلئے کوشاں ہے۔  اب جب روس کو افغانستان پر حملہ کئے تین دہائیاں بیت گئیں، اور افغانستان میں طالبان کے قبضے کو ۲۰ سال اور ان کی شکست کو ۱۵ سال گزر چکے ہیں، تب پاکستان کے حکام تورخم کی گزرگاہ سے پاکستان داخل ہونے والے ہر افغان شہری سے مکمل دستاویزات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی تبدیل ہو رہی ہے، اور اس تبدیلی کے پیچھے پاکستان کے وہ خدشات ہیں جو افغانستان  کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر مبنی ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں یہ تبدیلی قابلِ ذکر ہے، کیونکہ آج تک پاکستان نے اپنی افغان پالیسی اس یقین پر تشکیل کی ہے کہ اسے افغانستان پر برتری حاصل ہے۔

حالیہ پیشرفت

پاکستان کی سرحدی نظام کو بہتر بنانے کی خواہش کوئی نئی نہیں ہے۔ پچھلے چند سالوں سے اس انتظام کو بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔ مگر گزشتہ چند ہفتوں سے اس مقصد پر ایک نئی عجلت سے کام کیا جا رہا ہے۔ مئی میں پاکستان نے تورخم بارڈر کراسنگ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور افغان شہریوں کی بغیر دستاویزات کے پاکستان میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ اگرچہ پاکستان نے کچھ ہی عرصے بعد بارڈر کراسنگ کھول دی، پھر بھی اس بندش اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ کی وجہ سے پاک افغان تعلقات پر  منفی اثر پڑا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کا مقصد افغانستان سے داخل ہونے والے دہشت گردوں کی روک تھام ہے۔

اس واقعے کے علاوہ جون میں پاک ایران سرحد پرپاکستان نےایک نئے گیٹ کی تعمیر شروع کر دی۔   یہ گیٹ بلوچستان کے علاقے تفتان میں ہے، اور اس کا افتتاح ۱۴ اگست کو ہو گا۔ ایران کی سرحد کی طرف بھی  سیستان بلوچستان کے علاقے میرجاوے میں ایک ایسا ہی گیٹ کچھ عرصے سے موجود ہے جسے ماضی میں چند مواقع پر ایران نے بند کیا۔ پاکستان کی اس نئے گیٹ کی تعمیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان  میں آمد و رفت کو کنٹرول اوربہتر چھان بین بھی کرنا چاہتا ہے۔

چند سوالات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ۲۳۵ سرحدی گزرگاہیں ہیں۔ ان میں سے صرف دو مقامات، چمن اور طورخم پر سخت سیکورٹی نافذ ہے اور داخلے کے لئے مکمل دستاویزات پیش کرنا ضروری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ہر سرحدی گزرگاہ پر ایسی چیکنگ کر سکے۔ تو پھر صرف طورخم اور چمن کے مقام پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا کیا جواز ہے؟ کیا وہ دہشت گرد جو افغانستان سے پاکستان داخل ہونا چاہتے ہیں طورخم اور چمن کے علاوہ باقی ۲۳۳ سرحدی گزرگاہوں سے داخل نہیں ہو سکتے؟ تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تورخم اور چمن میں سختی کا مقصد کسی حد تک افغانستان پر دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم پاکستان کے  اس ردِ عمل کے پیچھے بظاہر کچھ اور وجوہات بھی ہیں۔

پاکستان کی تشخیص میں تبدیلی

مئی اور جون کے ان واقعات سے قبل پاکستان میں ایسے کئی افغانی پکڑے گئے جن کے پاس نادرا سے حاصل کیے ہوئے مبینہ جعلی شناختی کارڈ موجود تھے۔ کچھ خبروں کے مطابق یہ جعلی شناختی کارڈ نادرا کے افسران کو رشوت کے بدلے میں حاصل کیے گئے۔ ان افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اتفاق سے امیرِ طالبان، ملّا منصور کے پاس بھی ایک جائز پاکستانی پاسپورٹ تھا۔ اسی پاسپورٹ پر ملّا منصور نے ایران تک سفر کیا، اور تفتان کے ذریعے پاکستان واپس آ رہے تھے جب وہ امریکی ڈرون حملے کا شکار ہوئے۔

آج پاکستان اپنی ان غیر محفوظ سرحدوں کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ماضی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان افراد کی بغیر دستاویزات کے  کھلی آمدورفت کو فائدہ مند سمجھا جاتا تھا، مگر اب ایسی نقل وحرکت کو قومی سلامتی کے لئے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آئی ایس آئی کو شبہ ہے کہ افغان انٹیلیجنس ایجنسی “این ڈی ایس” کے جاسوس پاکستان کے حکومتی اور “سویلین” اداروں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بگڑتے ہوۓ پاک افغان تعلقات کے مدِ نظرایسے معاملات میں پاکستانی حکام بہت زیادہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

پاکستان اب اس بات کو سمجھتا ہے کہ کابل میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے۔  افغانستان اب پہلے سے زیادہ طاقتور اور قابل ہے، جس وجہ سے پاکستان کی افغانستان کے مقابلے میں برتری کی پوزیشن میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کو یہ احساس ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ سے اب وہ ممکنہ طور پر غیر محفوظ ہے۔

طورخم اور باقی سکیورٹی کے اقدامات میں سختی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان افغانستان سے آنے والے “نان سٹیٹ ایکٹرز” یا دہشت گردوں سے زیادہ خطرہ کابل سے محسوس کر رہا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پاکستان اس وقت اپنی افغان پالیسیوں کا جائزہ لے کر انہیں تبدیل کرنے کے عمل میں ہے۔ سرحدی گزرگاہوں پر ہر افغان کی دستاویزکاری اور پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے بڑھتے ہوئےمطالبات اس تبدیلی کی علامات ہیں۔ پاکستان میں افغانستان سے متعلقہ خیالات اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے مشرقی اور جنوبی مشرقی افغانستان میں امن و امان کی صورتِ حال کے مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔ اس خرابی کا سبب افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی کاروایئاں ہوں گی۔

***

Image:  Noorullah Shirzada-AFP, Getty

Posted in , Afghanistan, Pakistan, Security

Rajeshwari Krishnamurthy

Rajeshwari Krishnamurthy

Rajeshwari Krishnamurthy is Assistant Director, Institute of Peace and Conflict Studies (IPCS), New Delhi; Coordinator, IPCS' Centre for Internal and Regional Security (IReS); and Member, IPCS Editorial Board. She is also Member, Advisory Council, Research Institute for Women, Peace, and Security (RIWPS), Afghanistan. At the IPCS, she focuses on the security dynamics and politics in South Asia (specifically Afghanistan, Pakistan, and Bangladesh), and West Asia. Her research covers issues in international security, transnational terrorism, radicalism and counter-radicalism, ethnic and religious conflict, armed conflict, reconciliation processes, WPS, geopolitics, political stability, conflict-resolution, and democracy and nation-building.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *