wheat-1095×616

 

 حصص کی مقامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے سبب بھارتی روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ کے بعد ڈالر ۷۷.۹ روپے کا ہو چکا ہے۔ بھارتی روپے کی قدر میں گراوٹ کے لیے دو بنیادی عوامل براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اولاً، بھاری مقدار میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارا جس کا بھارتی معیشت کو کئی برس تک سامنا رہا۔ دوئم، یوکرین میں جاری جنگ کے باعث سرمایہ داروں کی امریکہ جیسی محفوظ منڈیوں کی جانب پرواز کی بدولت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں آنے والی کمی۔ بھارت اپنی مجموعی سلامتی کو لاحق خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے گندم کی برآمد پر بھی پابندی عائد کر چکا ہے جبکہ جنگ افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کو مزید ابتر بنا چکی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مفاد رکھنے والوں کے لیے یہ عنصر بے حد باعث تشویش ہے کیونکہ بھارت کے گندم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے نے اس کی قیمتوں میں چھ فیصد تک اضافہ کیا ہے جبکہ عالمی سطح پر گندم فراہم کرنے والا یوکرین روئے زمین کو اپنی زرعی اجناس فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ بحران کے باوجود بھی ”ساخت کے اعتبار سے مضبوط“ ہونے کے سبب بھارتی معیشت میں بلند شرح نمو دیکھنے کو ملے گی۔ بھاری پیمانے پر ٹیکس اکھٹا ہونے، خدمات کے شعبے میں بڑھتی ہوئی برآمدات اور داخلی سطح پر مستقل بنیادوں پر موجود طلب کے سبب منڈیوں میں قدرتی طور پر موجود رجعت پسندی اس کے حق میں کام دکھائے گی۔ لیکن موجودہ پیش رفت یہ تجویز کرتی ہیں کہ بھارتی معیشت پر جنگ کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جنگ نے پہلے سے موجود معاشی مسائل کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے داخلی سطح پر بھارتی معیشت میں پہلے سے موجود کمزوریوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ صارفین کے روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں طلب و رسد کے فرق نے بھارتی معیشت کو دھچکا پہنچایا ہے۔ یوکرین میں جنگ نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ بھارتی معیشت عالمی سطح کے دھچکوں سے محفوظ نہیں – بھارتی منڈیوں کی معیشت عالمی منڈیوں کے ساتھ گہرے ربط میں ہے جو پیچیدہ نوعیت کے باہمی انحصار کا اشارہ دیتی ہے۔ بھارتی منڈی اگرچہ آج توانائی پر انحصار کرتی ہے، تاہم اس جنگ نے بھارت کو اپنی ترجیحات کے ازسرنوجائزے کا موقع دیا ہے نیز توانائی پر انحصار کے بجائے اپنی معیشت کو دوبارہ استعمال کے قابل ذرائع توانائی پر منتقل کرنے کی کوشش کے لیے ایک موقع دیا ہے تاکہ استبدادی ریاستوں پر اس کا انحصار کم ہو سکے۔

بھارتی معیشت بحران میں

بھارت نے ۱۹۹۱ میں اپنی معیشت کو ”کھولتے“ ہوئے عالمگیریت کی جانب پہلا قدم رکھا۔ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے میں مسلسل نمو اور خدمات کے وسیع تر شعبے نے بھارت کے جی ڈی پی میں اضافہ کیا جس سے بھارت کو ۱۹۹۰ اور ۲۰۰۰ کی دہائی میں بلند تر شرح نمو حاصل کرنے میں مدد ملی۔ تاہم کم حقیقی فی کس آمدنی، غربت کی بلند شرح اور توانائی کی برآمد پر انحصار مع تنوع کا شکار زرعی شعبے پر مسلسل انحصار ۲۰۱۰ کی دہائی کے اواخر میں مجموعی طور پر بھارتی معیشت کی حلق میں پھنسی ہڈی بنے رہے۔

بھارتی معیشت اگرچہ جی ڈی پی کی بلند شرح کے سبب بڑھتی رہی، تاہم بھارتی بجٹ میں سالانہ مالیاتی خسارہ خطرناک شرح کے ساتھ بڑھ چکا ہے جبکہ غریب تک روایتی ”ٹرکل ڈاؤن افیکٹ“ کے ذریعے کسی قسم کے معاشی فوائد نہیں پہنچ رہے یا اگر پہنچ رہے ہیں تو معمولی مقدار میں۔ اس صورتحال نے امیر اور غریب کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے، محض چند افراد پیداواری فوائد کی اکثریت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ اکثریت معاشی فوائد سے محروم ہے۔

بھارتی معاشی اداروں کو معیشت میں سستی کے رجحان کے سبب امڈتی مشکلات سہنا پڑ رہی ہیں کیونکہ وہ بطور قرض خواہ ادھار لیے گئے سرمائے کی وصولی میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ مجموعی منجمد اثاثوں (این پی اے) کا مسئلہ بنکوں کے شعبے میں ابتری کا باعث بنا ہے جس کا نتیجہ حکومتی مداخلت کی صورت میں ہوا ۔ بینکنگ کے نوآموز ادارے حکومتی فنڈز کے سہارے سے چلائے جاتے رہے ہیں۔ ان پیش رفتوں نے بھارتی مالیاتی اداروں کو نقد رقوم سے محروم کر دیا اور ”اثاثوں کے اعتبار سے مالدار لیکن نقد کی کمی کا شکار“ درمیانے طبقے کی اصل حالت کا پول کھول دیا جسے معاشی زوال کے دنوں میں زرنقد (لیکوئیڈ فنڈز) تک بھی معمولی رسائی حاصل رہی۔

جنگ کے معاشی اثرات

روس یوکرین جنگ نے بھارتی معیشت میں موجود لیکوئیڈٹی بحران (نقدی کی کمی اور بلند شرح سود کی کیفیت) کو بدترین شکل دے ڈالی ہے۔ زر نقد تک محدود رسائی کے سبب صارفین کی خرچ کردہ رقوم میں کمی آئی ہے جس کی بڑی وجہ کووڈ وبا ہے۔ بڑی کمپنیاں محدود وصولی کے اندیشے کے پیش نظر منڈیوں میں رقوم لانے کو تیار نہیں ہیں جبکہ صارفین نقد رقوم تک محدود رسائی کے باعث خرچ کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔

کروڈ آئل کی درآمد کی بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ اہم تیلوں کی قیمتوں میں مسلسل جاری اضافے نے بھارتی خزانے کوچوٹ پہنچائی ہے۔ ابھرتے ہوئے اس معاشی بحران کا سب سے بڑا نشانہ گھروں کے باورچی خانے بنے ہیں۔ ”سورج مکھی کا تیل“ جیسی مصنوعات جو یوکرین میں بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی ہیں اور روایتی بھارتی باورچی خانے کا لازمی جزو ہیں، جنگ کی وجہ سے مزید مہنگی ہو چکی ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق ”ذرائع توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ترسیل کے اخراجات میں اضافے نے کھانے پینے کی اشیاء خاص کر جلد خراب ہوجانے والی اشیاء کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔“ یہ سلسلہ روس یوکرین جنگ کے بھارت پر معاشی اثرات پر ہمارے فہم میں اضافہ کرتا ہے۔

 کروڈ آئل کی بطور جنس بڑھتی ہوئی قیمتیں ہمیشہ بھارتی صارفین کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ ریاست سالہا سال سے دوبارہ قابل استعمال ذرائع توانائی کے بجائے کروڈ آئل کو غیر ضروری حد تک ترجیح دیتی آئی ہے۔ ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومتوں نے زیادہ ماحول دوست ذرائع توانائی کی جانب بھارت کا رخ موڑنے کے لیے محدود سطح پر کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر ٹیکس میں چھوٹ کے باوجود ان کی مہنگی قیمت کی وجہ سے بھارتی صارفین نے انہیں خریدنے میں معمولی دلچسپی دکھائی۔ ایسے وقت میں کہ جب آبادی کا ایک بڑا حصہ ۱۰ ہزار بھارتی روپے کماتا ہے بجلی سے چلنے والی گاڑی کی قیمت بھارتی مارکیٹ میں دس لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ قیمتوں میں اس قدر عدم مطابقت کا نتیجہ بھارتی صارفین کی جانب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی خریداری کی صورت میں ہوا ہے جس سے قدرتی ذرائع توانائی پر ان کا انحصار بڑھا ہے۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب مالیاتی ادارے جو شہریوں کی مدد کرنے کے اولین ذمہ دار ہیں، بحران سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر رہے ہیں، ادائیگیوں کا بوجھ اب بڑی حد تک صارفین کی جانب منتقل ہو چکا ہے۔ ان کی یہ چال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب موجود سالانہ بجٹ نے بدلتی حقیقتوں کو نظر انداز کیا ہے اور انفراسٹرکچر کی ترقی نیز شہری منصوبہ بندی کے منصوبے بجٹ اخراجات میں غالب دکھائی دیتے ہیں جبکہ وبا کے باوجود بھی کمزور طبقوں کے لیے معاشی معاونت قلیل مقدار میں ہے۔

تخفیف کے لیے مختصر و طویل المدتی حکمت عملیاں

بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روسی خام تیل کی خریداری کے ذریعے صورتحال سے فائدہ اٹھا کے داخلی بحران کو حل کرنے کی جانب قدم بڑھا سکتا ہے۔ توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت کی وجہ سے ”بھارت کو ملک چلانے کے لیے تیل چاہیئے“ کیونکہ تیل روزمرہ استعمال کی ایک جنس ہے جو عوام الناس اور اسی طرح ہر طبقے کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ روسی معیشت کی حمایت جاری رکھنے کے سبب بھارت کو ممکنہ طور پر اس تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے کہ وہ روسی کیمپ میں جا بیٹھا ہے تاہم سستے داموں میں روسی تیل خریدنا بھارت کے فائدے میں ہے۔ بھارت کے روسی تیل خریدنے کے سبب توانائی کی درآمد کی قیمتوں میں کمی ہو گی اور وبا کے سبب معیشت میں ہونے والی سست روی سے بحالی میں مدد ملے گی۔ چونکہ ”زرد انقلاب“ جس کا مقصد بھارت کو ”خوردنی تیل کی پیداوار“ میں خود کفیل بنانا تھا، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پایا ہے، اور خوردنی تیل اب بھی بڑے پیمانے پر درآمد کی جانے والی جنس ہے، ایسے میں روس سے تیل کی خریداری اس امر کو یقینی بنائے گی کہ بھارتی باورچی خانے اپنے ایک بنیادی جزو سے محروم نہ ہونے پائیں۔ 

آنے والے برسوں میں بھارت کو قدرتی ذرائع توانائی پر انحصار میں کمی لانی چاہیئے تاکہ یہ دوبارہ کبھی بھی مغرب اور روس کے درمیان دو طرفہ لڑائی میں کسی مشکل سے دوچار نہ ہو، کم از کم توانائی کی مناسب مقدار میں فراہمی کے معاملے میں تو بالکل بھی نہیں۔ اس ہدف کو پانے کے لیے بھارت کثیرالجہتی فکر اپنا سکتا ہے۔ صوبوں کو فوری طور پر بحران کے اثرات میں کمی کے لیے اپنے کمزور طبقوں کو کم ازکم ایک بار سبسڈی دینے پر غور کرنا چاہیئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارت اثاثوں کے معیار پر خدشات اور بینک بیلنس شیٹس کی مضبوطی جیسے امور سے نمٹ کے بھارتی بنکنگ سسٹم کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہ بھارت ماحول دوست کاروباری حلقوں کو اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زی) میں جگہ دے کے خود کو انسان و ماحول دوست معیشت میں ڈھال سکتا ہے۔ حکومت ”منافع بخش بھارتی منڈی“ میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے صنعت کار حلقوں کو ترغیبات بھی دے سکتی ہے۔ مثالی صورتحال میں، صنعت کار بھارتی صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت اور معیار پر گہری سوچ بچار کے بعد اپنی مصنوعات متعارف کروائیں گے جو ہر بھارتی کو مقامی طور پر تیار کردہ ”بجلی سے چلنے والی بھارتی گاڑی“ رکھنے کے قابل بنائے گی۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Scott Wallace/World Bank via Flickr

Image 2: Manjunath Kiran/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟ Hindi & Urdu

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟

 اگست ۲۰۲۲ میں، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر…

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات Hindi & Urdu

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…