2581105105_e490c1557d_b-1024×616-1

پاکستان ایک کمزور جمہوریت ہے اور پاکستانی فوج اور سویلین اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ اس کے جمہوری چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر سے نمٹنے، انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے، جمہوری پسپائی کو روکنے اور مؤثر معاشی پالیسیوں کے نفاذ میں ناکام رہی ہیں۔ بلوچستان میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر عدم اطمینان ریاست کے استحکام کے لئے ایک بڑھتے ہوئے مسئلے کے طور پر سامنے آتا ہے۔


پاکستانی میڈیا، جو زیادہ تر  دہشت گردی کی  خبریں دینے میں مشغول رہتا ہے، بلوچستان کے عدم استحکام کے پس پردہ بہت سے عوامل کے بارے میں خبریں فراہم کرنے میں  جامعیت سے کام نہیں لیتا۔  محض دہشت گردی پر توجہ مبذول رکھ کر، پاکستانی ریاست سلامتی پر مرکوز طرزِنظر اختیار کرتی ہے جو فوجی طاقت کو غلط طور پر  ایک کثیر الجہتی مسئلے کے حل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے بجائے ریاست کو مصالحت اور سماجی و اقتصادی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔


بلوچ لانگ مارچ کا مطالبۂ تبدیلی


دسمبر ۲، ۲۰۲۳ کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی معروف کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جنوب مغربی بلوچستان کے شہر تربت سے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب تک مارچ شروع کیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بلوچ برادری کے تقریبا ۴۰۰ افراد شریک تھے۔ ان کے احتجاج کو “بلوچ لانگ مارچ” کا نام دیا گیا، جس نے بلوچستان میں اغوا، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف اپنے مؤقف کی وجہ سے توجہ حاصل کی۔ مزاحمت کی طویل تاریخ میں تازہ ترین مارچ میں مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بالاچ مولا بخش اور تین دیگر نوجوان بلوچوں کو بغیر کسی ثبوت یا مناسب کارروائی کے، مبینہ طور پر “دہشت گردی کی سرگرمیوں” میں ملوث ہونے پر قتل کیا۔ حکومت کی جانب سے بنائے گئے جبری گمشدگیوں سے متعلقہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق پاکستانی ریاست نے ۲۰۱۱ سے اب تک مجموعی طور پر ۱۰،۰۷۸  جبری گمشدگیاں شمار کی ہیں جن میں سے ۲،۷۵۲ صرف بلوچستان سے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی ریاستی سکیورٹی سروسز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کو ‘قتل کرو اور پھینک دو’ (کِل اینڈ ڈمپ)  کی پالیسی قرار دیا ہے۔



بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی متشدد علیحدگی پسند اور نسلی قوم پرست تنظیموں کی تدریجی ترقی کے جواب میں بلوچستان  کی عسکر کاری، بلوچوں کی شکایات کی ایک طویل فہرست میں کردار ادا کرتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعمیر کیے جانے والے چینی انفرا اسٹرکچر اور معدنیات نکالنے کے منصوبوں کے تحفظ کے لیے فوجی چوکیوں میں اضافہ ایک فوجی ماحول پیدا کرتا ہے جس سے سخت  ناراضگی  پیدا ہوتی ہے اور مقامی  طور پر یہ تاثر  پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔قابو پانے اور دباؤ ڈالنے کی غرض سے  پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ظالمانہ ہتھکنڈوں نے بلوچ قوم پرست تحریک کو منتشر کر دیا اور اس کے نتیجے میں ایک ایسی صوبائی حکومت وجود میں آئی جس کے پاس قانونی حیثیت اور صوبے پر گرفت کا فقدان تھا، جس نے سویلین حکومت کے ساتھ مل کر سنجیدہ مذاکرات اور مؤثر حل کو تقریباََ ناممکن بنا دیا۔

  
بلوچستان کے سماجی و اقتصادی جبر کا طریقۂ کار منظم جرائم اور علیحدگی پسند گروہوں میں شمولیت  کو ہوا دینے کا ایک اور سبب ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کثیر الجہتی غربت انڈیکس سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان کی سطحٔ غربت قومی سطحٔ غربت سے دگنی یعنی ۷۱.۲ فیصد ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق  بلوچستان میں بلند شرح ترکِ تعلیم، تعلیم اور صحت میں وسیع صنفی تفاوت، وسیع  پیمانے پر غذائی عدم تحفظ اور ناکافی انفرا اسٹرکچر اور نجی شعبے کا قلیل اقتصاد ہے۔ بلوچ عوام کی معاشی پسماندگی کے سبب  گوادر میں ان کی  بڑھتی ہوئی ناراضگی اور مزاحمت نے  حکومت کو اپنے معاشی عزائم کے حصول کے لئے زیادہ جارحانہ طرزِنظر اپنانے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے دشمنی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری رہتا ہے جو بلوچستان کے عدم استحکام کو مزید ہوا دیتا ہے۔


مصالحت اور اصلاحات کی قابلِ عمل راہیں


بلوچ لانگ مارچ وفاقی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ بلوچ عوام کے ساتھ سماجی و اقتصادی اصلاحات اور مصالحت کا آغاز کرے، جس میں علیحدگی پسند تشدد اور عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو دور کیا جائے۔ چونکہ فوج طاقت کے ذریعے قوم پرستی کے جذبات کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے مصالحت اور اصلاحات پر مبنی دو رُویہ طرزِنظر ہی واحد قابلِ عمل متبادل ہے۔


مصالحت


ایک امید افزا مصالحتی عمل، بلوچ عوام کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے، جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی، صوبے کو چلانے اور وفاقی سطح پر  (بلوچ)عوام کے مفادات کی نمائندگی کے لئے قابل اعتماد مقامی قیادت کی تقرری اور باغی گروہوں کے ساتھ بیک چینل ( غیر رسمی، غیر سرکاری) مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔


مصالحتی پالیسی کا ایک اہم پہلو ماورائے عدالت جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب اور متاثرین کے اہل خانہ کو ہرجانہ ادا کرنا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو غیر آئینی اقدامات کرنے والے افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے ذریعے جوابدہ بنائے۔ پچھلی حکومتوں کے دور میں جبری گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ مصالحت کی کوششیں بھی جاری رہیں، جس سے ایک ایسا ماحول  پیدا ہوا جس میں ناراض بلوچ سیاسی دھارے میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اکتوبر ۲۰۰۹ میں بینظیر بھٹو کی مصالحتی کمیٹی برائے بلوچستان نے صوبے کی سلامتی اور سماجی و اقتصادی شکایات سے نمٹنے کے لیے ایک  منصوبہ  پیش کیا۔ تاہم یہ منصوبہ کبھی آگے بڑھ نہ سکا کیونکہ بلوچ قوم پرست تحریک کو خدشہ تھا کہ حکومت اسے بلوچ قوم پرستوں کے وجود کے مزید خاتمے سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کرے گی۔


اس سیاسی عمل کا ایک لازمی پہلو بلوچستان کی صوبائی حکومت کے لیے خودمختاری میں اضافہ ہے، جس کی ضمانت اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے دی گئی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کو اسلام آباد میں قیادت کی توسیع کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس کسی بھی قسم کی اصلاحات کا آغاز کرنے کے مینڈیٹ (اختیار/حقِ حکومت)اور جواز کی کمی ہوگی۔ حکومت کو دیرپا تبدیلی لانے کے لیے قابل اعتماد مقامی شخصیات کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

 


مفاہمت کی پچھلی کوششیں نیم دِلانہ رہی ہیں کیونکہ بلوچ نمائندگان کو اپنے لوگوں کی حمایت حاصل نہیں تھی۔۲۰۲۱ میں وزیر اعظم عمران خان نے شاہ زین بگٹی کو بلوچستان میں  وزیرِ اعظم کا معاونِ خصوصی  برائے مفاہمت و ہم آہنگی مقرر کیا، تاہم ان کے اثر و رسوخ، قبائلی حمایت، بطور ثالث ان کی ساکھ، اور بامعنی مذاکرات کرنے کی خواہش کی کمی نے بات چیت کو بالکل ہی ختم کر دیا۔ بااثر بلوچ رہنما اور کارکن جیسا کہ  ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمیع دین بلوچ  یا موجودہ بلوچ رہنما جیسا کہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی جو بلوچ عوام کی شکایات کو سمجھتے ہیں، وہ حکومت اور قوم پرستوں کے درمیان عدم اعتماد کو ختم کر کے نتیجه خیز مفاہمتی عمل کو آسان بنا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو حقِ رائے دہی سے محروم نوجوانوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ریاست کی خواہش کے اظہار کے لیے حکومت سے باہر کی جماعتوں اور طلبہ گروپوں، جیسا کہ بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن-آزاد  (بی ایس او -آزاد)، بی ایس او -مینگل اور بی ایس او – پجّر  کو بھی مصالحتی عمل میں شامل کرنا چاہیے۔


آخر  الامر،  پاکستان کی قیادت کبھی بھی بلوچستان کی علیحدگی  کے مطالبے پر کان نہیں دھرے گی، تاہم وہ باغی گروپوں کے ساتھ بیک چینل  بات چیت شروع کر سکتی ہے اور انہیں غیر متشدد ذرائع سے سیاسی مطالبات کرنے کے لیے قابل عمل راستے فراہم کر سکتی ہے۔ مرکزی دھارے کے بلوچ قوم پرست سیاست دان یہ نہیں مانتے کہ پاکستان کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے پاس باغیوں کے ساتھ مصالحت کے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی اختیار ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ حقیقی مفاہمت براہ راست فوج کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے۔ برسوں کی انسدادِ بغاوت کی کارروائیوں کے بعد، جس نے محض بلوچوں کی ناراضگی کو مزید گہرا کیا، پاکستانی فوج کو بلوچستان کے استحکام کے لیے ایک قابل قبول سمجھوتے کے طور پر سیاسی حل میں  مزید صوبائی خودمختاری اور علیحدگی پسند گروپوں کے فعال کردار پر غور کرنا چاہیے۔ اگرچہ  یہ سمجھوتے علیحدگی پسند گروپوں کو وقتی طور پر مضبوط بنانے کا سبب بن سکتے ہیں، تاہم یہ ایک خطرہ ہے جس کا سامنا حکومت اور فوج کو کرنا پڑے گا۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے والےعسکریت پسند گروپوں کے لیے سیاسی مذاکرات میں شرکت کا اہل بننے کے لیے ہتھیار ڈالنے کی شرط شامل کر سکتے ہیں۔


خلاصہ یہ ہے کہ مصالحت میں فوجی اور انٹیلی جنس افسران کے مجرمانہ اقدامات کی جوابدہی، نمائندہ حکومت، اور قوم پرست جماعتوں، علیحدگی پسند گروپوں اور طلبہ تنظیموں کے ساتھ قابل اعتماد بات چیت شامل ہونی چاہیے۔


اصلاحات


تعلیم، صحت اور روزگار کے میسر مواقع میں فرق  سے نمٹتے ہوئے، دوبارہ تقسیم کر کے  وسائل بلوچ عوام تک پہنچانے سے موجودہ اسٹیک ہولڈرز (شراکت داروں) اور وفاقی حکومت کے درمیان اعتماد پیدا ہو گا جس سے قیامِ امن اور مصالحت کی سعی قابلِ اعتبار ٹھہرے گی۔


تعلیمی بحران کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر سرکاری اسکولوں کے لیے فنڈز میں اضافہ کرے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۸۰۰,۰۰۰ بچے سکول نہیں جاتے۔ ۲۰۲۲ میں آنے والے بڑے سیلاب نے ۵۵۰۰ اسکول تباہ کر دیئے تھے جن میں سے صرف ۵۰ کی مرمت کی جا سکی۔ پالیسی کو سابقہ اقدامات سے زیادہ مؤثر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ کمیٹیاں قائم کرے جو ان فنڈز پر عمل درآمد کی نگرانی کریں اور احتساب کو یقینی بنائیں۔


اسی طرح صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ بنیادی صحت کے مزید  یونٹ بنائے اور صحت کی دیکھ بھال کے متعلقہ  عملے کو بھرتی کرے تاکہ صوبے کی احتیاطی ادویات، بچوں کی نگہداشت اور حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کی سنگین ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ بلوچستان میں ڈاکٹر اورمریض کا موجودہ  تناسب ۱:۱۰۰۰ ہے جبکہ  نرس اور مریض کا تناسب ۱:۵۰ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دینے والی نجی این جی اوز اور کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کرکے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ مثلاََ  آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) نے گلگت بلتستان میں غربت اور صحت سے متعلقہ ضروریات میں کمی کے لیے وسیع کام کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے دستیاب وسائل کی اسٹریٹیجک سرمایہ کاری اے کے ڈی این جیسی ایجنسیوں کے ساتھ شراکت داری  (کی صورت میں) ہوگی۔


آخر  الامر، صوبے کی مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ وفاقی ملکیت کی تیل اور گیس کمپنیوں کی ملکیت اور انتظام میں بلوچستان کو اس کا حصہ دے۔ بلوچستان میں انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) ، شپنگ اور قدرتی وسائل نکالنے کے منصوبے، جیسا کہ سی پیک کے تحت روزگار کے سلسلے میں مقامی بلوچ آبادی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سی پیک کے منصوبے تقریباً مکمل طور پر صرف چینی مزدوروں کو ملازمت دیتے ہیں جو تعمیراتی منصوبوں میں مقامی مزدوروں کی جگہ لیتے ہیں، جو صوبے میں عدم اطمینان کا بنیادی سبب بنا۔ بلوچوں کو روزگار فراہم کرنا انہیں تکنیکی مہارت کی تربیت فراہم کرنے  کا ایک نمو پذیر ذریعہ ہوگا؛ تکنیکی تربیتی مراکز کی مالی اعانت کے ذریعے صوبائی حکومت کارکنان  کی تربیت کر سکتی ہے، پیداواری صلاحیت  بڑھا سکتی ہے اور صوبے کی اقتصادی پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے۔


ماحصل


پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو صوبے کی ترقی میں بلوچ عوام کو یقینی طور پر شامل کرنا چاہیے۔ طویل مدت تک جابرانہ اقدامات ریاست اور اس کے عوام کے مابین اعتماد کو ختم کرتے رہیں گے، جو  سلامتی، استحکام اور حقیقی اقتصادی ترقی  کے کسی بھی امکان کی راہ میں رُکاوٹ بنیں گے۔ اگر وفاقی حکومت صوبے کے سماجی و معاشی مسائل کو حل کرنے سے گریز کرتی ہے تو مفاہمت کامیاب نہیں ہوگی۔ بلوچ عوام کی شکایات کے مؤثر ازالے اور دشمنی و تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے پاکستانی ریاست کو چاہیے کہ وہ سلامتی پر مرکوز طرزِ نظر سے ہٹ کر ایک ایسے طرزِ نظر کا رُخ کرے جو  سماجی و اقتصادی ترقی اور مقامی سیاسی جواز کو ترجیح دے۔

 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Landscape of Balochistan via Michael Foley on Flickr

Image 2: Protests against killing of Karima Baloch via Picryl

Share this:  

Related articles

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام

جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی اولین تہذیبوں سے لے…

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت

سال ۲۰۲۳ کے اوائل میں  نیپال کے کوشی صوبے میں مون…

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات Hindi & Urdu

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات

بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز کی تکڑی…