Screenshot 2025-12-08 095555

جس سال کو پاکستان کے لیے محتاط رہنے کے سال کے طور پر قیاس کیا جا رہا تھا، وہ ایک غیر معمولی واقعاتی سال بن گیا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان نے اپنے آپ کو غیر متوقع طور پر عروج پر پایا: امریکا کے ساتھ تعلقات بہترہوئے، بھارت کے ساتھ بحران کو بخوبی سنبھالا گیا اور اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی میں بڑھتا ہوا کردار اختیار کیا۔تاہم اس جغرافیائی و سیاسی حرکیت کے برعکس اندرونِ ملک کامنظرنامہ مشکلات کا شکار تھا، جن میں  دہشت گردی میں اضافہ، افغانستان کے ساتھ تعلقات کی ابتری اور جمہوریت وانسانی حقوق کے حالات کی خراب ترہوتی صورتحال  پیش پیش تھیں۔

انہونی بہتری: پاکستان اور ٹرمپ 2.0

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے ساتھ، کئی تجزیہ کاروں نے یہ قیاس کیا کہ 2025 میں پاکستان ٹرمپ کی ترجیحی فہرست میں اعلیٰ مقام پر نہیں ہوگا۔تاہم جب حکومتیں ٹرمپ 2.0 کے لیے اپنے قدم جمانے کے لیے کوشاں تھیں، پاکستان نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ قدم بڑھائے۔ اسلام آباد نے نئی انتظامیہ کی لچک اور سودا کاری نوعیت کو بھانپتےہوئے ٹرمپ کے ذاتی اور سیاسی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی؛ خواہ وہ  آئی ایس- کے کے خلاف تعاون ہو، اہم معدنیات اور تیل کی تلاش ہو، یا خاندان کی ملکیت والے کرپٹو ایکسچینج سے منسلک سرمایہ کاری ہو، پاکستان نے ایسے مواقع پیدا کیے جن سے دوسرے کم ہی فائدہ اُٹھا سکے، جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں سب سے کم تجارتی محصولات کے سمیت وسیع تراقتصادی اور تزویراتی معاہدے طے پائے۔ پاکستان نے ایران-اسرائیل کشیدگی اور غزہ کی جنگ میں بھی خود کو ایک اہم بین الاقوامی رابطہ کار کے طور پر پیش کیا۔ اسلام آباد نے بھارت-پاکستان بحران اور غزہ امن معاہدے میں ٹرمپ کے کردار کو عوامی طور پر اجاگر کیا، اور انہیں 2025 اور 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ نتیجتاً ہونے والی بہتری نے پاکستان کو تزویراتی فوائد فراہم کیے ہیں، جس کاواضح اظہار بھارت-پاکستان مسئلہ اور مشرق وسطیٰ میں اس (پاکستان) کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ  پر امریکی حمایت سے ہوتا ہے۔

مئی کا بحران: میزائل، ثالثی اور فیلڈ مارشل

اس سال  نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ کے بعد کے سب سے شدید فوجی تنازع  کا مشاہدہ  بھی  کیا۔اگرچہ بحران کاآغاز  ایک شناسانمونہ پرتھا، تاہم استعمال میں لائے گئےطریقے اور نتائج توقع سے بالاتر تھے۔ 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر  کے  پہلگام میں عسکریت پسندوں نے حملہ کیا اور 26 سیاحوں کو ہلاک کردیا۔ بھارت نے پاکستان پر ملوث ہونے کا الزام لگایا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ایک مختصر مگرشدید چار روزہ (7-10 مئی) فوجی تصادم ہوا، جس میں دونوں فریقین نے کروز اور بیلسٹک میزائلز، ڈرونز، لڑاکا طیاروں اور انفارمیشن اور  الیکٹرانک وار فئیر کا استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے 10 مئی کو جنگ بندی قائم کرنے میں مدد کی، جس کا صدر ٹرمپ نے کریڈٹ خود لیا؛ بھارت نے اس بیانیےکی سختی سے نفی کی،  جبکہ پاکستان نے اس کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے اندر فضائیہ کی جانب سےریفیلز سمیت بھارتی طیاروں کو مار گرائے جانے اور تصادم میں مضبوط کارکردگی کے وسیع تر تاثر  نے (مخلوط) ہائبرڈ سیاسی نظام کے لیے عوامی حمایت کو فروغ دیا۔کچھ عرصہ بعد جنرل منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جو صدر اور کمانڈر اِن چیف جنرل ایوب خان کے بعد، جنہوں نے 1959 میں خود کو یہ عہدہ دیا تھا، اس عہدے کو رکھنے والے دوسرے افسر بنے۔

بھارت اور پاکستان دونوں فریقین  نے تصادم میں فتح کا دعویٰ کیا، اور دونوں حکومتوں نے داخلی سیاسی فائدہ حاصل کیا۔تاہم  ہر فریق نے مختلف اسباق حاصل کیے ہیں: بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان کے ‘ایٹمی دھوکے‘ (نیو کلئیر بلف) کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے (روک تھام ) ڈیٹیرنس کو دوبارہ قائم کیا۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی— پاکستان کے لیے ایک خطِ فاصل ہے، کیونکہ وہ زراعت اور معاشی بقا کے لیے سندھ طاس پر انحصار کرتا ہے—اور پاکستان کا شملہ معاہدہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل رکھنے کااظہار  جنوبی ایشیا کے نازک سیکورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی قیادت کی طرف سے (دہانہ گیری) برنک مین شپ میں اضافے اور یہ اظہار کہ آپریشن سندور ختم نہیں ہوا، پاکستان کے لیے  ناخوشگوار اشارہ ہیں؛ مستقبل کے کسی تصادم کے منظرنامے میں، کشیدگی کے  تیز رفتار مراحل، اہداف کے دائرۂ کار میں وسعت، اور جدید تر سٹینڈ آف پریسیژن کے استعمال کی آمادگی پاکستان کو زیادہ خطرناک کشیدگی کے اختیارات کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

غزہ اور خلیج کے درمیان: پاکستان کامشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی میں بڑھتا ہوا عروج 

مشرق وسطیٰ میں سال 2025 کا اتار چڑھاؤ پاکستان کے لیے خاص طور پر برمحل تھا۔خصوصاً سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو محتاط انداز سے بڑھاتے ہوئے پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی میں اپنے لیے ایک سفارتی اور فوجی کردار یقینی بنایا ہے۔

پاکستان نے ایک نازک توازن قائم رکھا (اور) اس نے ایرانی محفوظ شُدہ جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی شدید مذمت کی اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے سفارتی طور پر ایران کاساتھ دیا۔ ایرانی قیادت کے اسلام آباد کے حالیہ اعلیٰ سطحی دورے—جس میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، جو ایرانی جوہری پالیسی وضع کرتی ہے،  کے سیکرٹری (کا دورہ بھی) شامل ہے–(اور ان) کے ساتھ مصری وزیر خارجہ (کا دورہ)، جو ایرانی جوہری مسئلہ کو اپنے ایجنڈے کے طور پر لے کر آئے، علاقائی جوہری پھیلاؤ کو حل کرنے میں ممکنہ پاکستانی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شاید اس محتاط سفارت کاری کے نتیجے میں، ایران نے پاکستان-سعودی عرب اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ کا خیرمقدم کیا اور اس معاہدے کو ‘ایک جامع علاقائی حفاظتی نظام کے آغاز’ کے طور پر تسلیم کیا۔

اس معاہدے پر دوحہ میں اسرائیلی فوجی حملوں کے بعد دستخط کیےگئے۔اگرچہ اس سوال کے بارے میں کہ آیا یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے توسیعی جوہری روک تھام (نیو کلیئر ڈیٹیرنس)کو شامل کرتا ہے، تصدیق  (عوامی اور گمنام دونوں طور پر) اور تردید موجود رہی ہیں، تاہم ایسی باہمی دفاعی ضمانتوں کا عملی نفاذ ایک مشکل کام ہوگا جو پاکستان کی کریڈیبل منیمم ڈیٹیرنس کی پالیسی کے برعکس ہے۔تاہم اس معاہدے کی بدولت پاکستان کو ضروری مالی وسائل رکھنے والا ایک اہم دفاعی شریکِ کارحاصل ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس معاہدہ کے دستخط سے اور پاکستان کی مئی 2025 بحران کی کارکردگی نے مشرق وسطی میں پاکستان کے مقام کو بڑھایا ہے جس میں ایران اور دیگر ممالک نے ایک ملتے جلتے مشترکہ سلامتی انتظام میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔ خلیج تعاون کونسل کے (اراکین کے)مابین نیٹو جیسےکثیرالجہتی مشترکہ سلامتی انتظام کے بارے میں بھی بحث کی جا رہی ہے،  جس میں دیگر مسلم ممالک بھی اراکین کے طور پرشامل ہوں ۔پاکستان اس قسم کے انتظام کے لیے ضروری قوت فراہم کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہو سکتا ہے، تاہم ایسے اتحاد کو رکن ممالک میں خطرے کے تصور میں اختلاف کے باعث مشکلات کا سامنا ہوگا۔

 پاکستان  نے امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدہ طے پانے تک کی سفارتکاری میں فعال کردار ادا کیا۔گو کہ معاہدے پر دستخط کے بعد کے مہینوں میں بار بار اسرائیلی خلاف ورزیوں کی کئی اطلاعات ملی ہیں، انٹر نیشنل سٹیبلائزیشن فورس (بین الاقوامی استحکام)  میں پاکستان اور اس کی فوج کے کردار کے بارے میں سوالات اُٹھتے ہیں۔اگرچہ پاکستان کی شمولیت مسلم دنیا میں اس کے سیاسی اور عسکری مقام کا اعتراف ہو سکتی ہے، تاہم  یہ کسی غیر متوقع واقعے کی صورت میں پاکستان پر غیر ضروری سفارتی دباؤ بھی ڈال سکتی ہے۔

ممکن ہے کہ 2026 میں پاکستان کا مشرق وسطیٰ کی سلامتی میں کردار مرکزی اہمیت اختیار کر جائے۔ تاہم اسے خطے میں امریکہ اور چین کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا، جہاں اول الذکر روایتی طور پر سیکورٹی فراہم کرنے والا رہا ہے اور آخر الذکر کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا بھارت کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی تعلقات پر اور بھارت-مشرق وسطیٰ اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کیا اثر پڑے گا۔

پراکسی جنگیں، سرحدی حملے اور افغان ادائیگی

ٹی ٹی پی نے 2025 میں بھی اپنے حملے جاری رکھے، سیکیورٹی فورسز، حکومتی اہلکاروں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملہ اور وانا میں کیڈٹ کالج کا ہائی جیک بھی شامل ہیں۔ بلوچستان میں اس سال کے اپنے سنگین ترین حملے میں بی ایل اے نے مارچ میں جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کیا، جس میں 400 مسافر سوار تھے، جس میں 23 مسافر اور 33 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سے جعفر ایکسپریس پر کئی بار حملے کیے گئے، اگرچہ وہ ناکام رہے۔

یہ حملے صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے: نومبر میں ایک ٹی ٹی پی خودکش حملے نے اسلام آباد کی ضلعی عدالت کو ہلا کر رکھ دیا، جس میں 12 افراد ہلاک ہو ئے—ایک دہائی میں اسلام آباد کا یہ پہلا حملہ تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے بھارت کی پراکسی جنگ کا حصہ ہیں اور اس نے اپنے مشرقی ہمسائے پر افغانستان سے کام کرنے والےگروپوں کو مالی، لوجسٹکس (رسد و ترسیل) اور اطلاعاتی معاونت فراہم کر نے کا الزام لگایا ہے۔ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اس چیلنج کا سامنا کرنے کی کوشش میں، پاکستانی حکومت نے آپریشن عزمِ استحکام (2024) کے تحت، حرکی اور غیر حرکی دونوں کارروائیوں کو جاری رکھا اور ساتھ ہی طالبان حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان گروپوں کو لگام دے۔ تاہم  پاکستان کی طالبان حکومت کی سرحد پار دہشت گردی پر قابو پانےمیں ناکامی یا نارضامندی پر طویل عرصے سے پنپنے والی مایوسی بالآخر 2025 میں اپنے انجام کو پہنچی: 9 اکتوبر کو پاکستان نے کابل، خوست، جلال آباد اور پکتیکا  کےشہروں پر سرحد پار حملے کیے جن کا ہدف ٹی ٹی پی کی قیادت اور جنگجو تھے۔افغان طالبان نے دو دن بعد جوابی کار روائی میں سرحد پر پاکستانی فورسزپر حملہ کیا۔اس  نے شدید حملوں اور جوابی حملوں کےایک سلسلے کو جنم دیا جو 19 اکتوبر تک جاری رہا جب تک کہ قطر  نے جنگ بندی کی ثالثی کی۔

اس کے بعد سے  پاکستان  نے سفارتی تعلقات کا درجہ کم کر دیا اور طالبان کو ‘افغانستان کی انتظامیہ’ کے نام سے پُکارا۔ تجارت معطل کر دی گئی، بار بار اور غیر معینہ مدت کے لیے سرحدیں بند کی جانے لگیں، اور طالبان کے خلاف بیانات میں شدت آ گئی، (اور) افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی سرحدی کشیدگی کی قیمت بن گیا ہے۔طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی دھڑا بندی، بالخصوص کٹر قندھاریوں اور حقانی (گروپ سے) وابستہ عناصر کے درمیان عمل داری کی مسابقت پر پاکستان کی رائے کے سبب قطر-ترکی کے زیرِ سرپرستی مذاکرات کے دو ادوار غیر نتیجہ خیز رہے؛ دسمبر میں سعودی سہولت کاری کے تحت مذاکرات بھی زیادہ ثمر ور نہ ہو سکے۔کئی اطوار سے سال 2025 افغانستان میں پاکستان کی پالیسی برائے اسٹریٹیجک ڈیپتھ (تزویراتی گہرائی)  کے لیے موت کی گھنٹی ثابت ہوا۔

سال کے اختتام پر، طالبان-عسکریت پسندی کا بندھن پاکستان کے لیے ایک دیرپا پالیسی مسئلہ رہنے والا ہے، جس کے سبب مستقبل میں سرحد  پار حرکی کارروائیاں، اپنے محدود فوائد کے باوجود، ممکن ہیں۔ پاکستان کاباقی ماندہ اقتصادی یا سفارتی اثر و رسوخ  ٹی ٹی پی سے متعلق طالبان کے نظریاتی موقف میں کسی  تبدیلی کے لیے ممکن ہے کہ کافی نہ ہو۔ کسی مذاکراتی حل کے بغیر پاکستان کو اپنے داخلی تحفظ کے شدید خطرے کا سامنا کرتا رہنا پڑے گا۔

سال 2025 میں پاکستان کی داخلی شورش

سال 2025 اندرونِ ملک کئی محاذوں پر ایک مشکل سال تھا—آئینی تبدیلیاں، شہری آزادیاں، انتخابی جواز اور بڑھتے ہوئے اقتصادی اور ماحولیاتی دباؤ۔

 ستائیسویں ترمیم: ریاست کی تشکیلِ نو 

گو کہ  26ویں آئینی ترمیم کے تنازعے—جس نے چیف جسٹس کی تعیناتی پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار کے تحت کر دی اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق خدشات پیدا کیے—ابھی تک ختم نہیں ہوئے تھے،  جب 27ویں ترمیم  نے 1973 کے آئین میں مزید ترامیم کر دیں۔ نئی ترمیم عدالتی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لاتی ہے جو اختیارات کی علیحدگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ ایک وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) قائم کرتی ہے جو آئینی تشریحات میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدودکرتے ہوئے، سپریم کورٹ (ایس سی) کا کردار سنبھال لیتی ہے۔ متنازعہ طور پر نئی ایف سی سی کے چیف جسٹس کا تقرر صدر، وزیر اعظم کے مشورے سے کریں گے۔ مزید برآں، ترمیم کے تحت اب ہائی کورٹ کے ججز کو ان کی رضامندی کے بغیر دیگر صوبوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے عدلیہ پر انتظامی کنٹرول میں اضافہ ہو گا۔
پاکستان کے صدر اور فیلڈ مارشل کو دیا جانے والا تا حیات استثنا ریاست پر اشرافیہ کے کنٹرول کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ ترمیم کی منظوری کے طریقے اور اس کے مواد کو پاکستان اور بین الاقوامی برادری دونوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی ‘جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں’ کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔

صحافت کی آزادی اور انتخابی جواز پر دباؤ

پاکستان پریس فریڈم رینکنگ میں مزید نیچے چلاگیا ہے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی 2024 میں 152 سے کم کر کے 158 کر دی گئی ہے، جس کی وجہ میڈیا اور سیاست پر سیاسی و عسکری اثر و رسوخ اور الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ایک سخت گیر ترمیم ہے، جو حکومت کو سوشل میڈیا اور آن لائن مواد سے نمٹنے کےوسیع اختیارات دیتی ہے۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے مطابق نومبر میں ہونے والے ضمنی انتخابات ‘مہماتی پابندیوں کی بار بار خلاف ورزیوں [اور] نتائج کی شفافیت میں خامیوں’ کی وجہ سے مجروح ہوئے۔ پی ٹی آئی جیسی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے خلاف مزید کریک ڈاؤن کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے زیرِ قیادت صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر بھی غور کر رہی ہے۔ یہ صوبائی حکومت سے اس کے اختیارات چھین لے گا اور صوبے کو براہ راست وفاقی کنٹرول کے تحت لے آئے گا جس سے پی ٹی آئی کاعلاقے پر اثر و رسوخ کمزور ہو جائےگا۔

سیلاب، مالیاتی دباؤ  اور 2025 کی اقتصادی جھلک

پاکستان کی معیشت نے 2024 کے مقابلے میں معمولی نوعیت کی بہتری دکھائی، جس کی شرح ترقی کا تخمینہ 3.0 فیصد تھا۔ تاہم حکومت کے اپنے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2025 میں آنے والے المناک سیلاب نے جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ختم کر دیا اور افراط زر کو اپریل میں 0.3 فیصدسے بڑھا کر سال کے اختتام تک 6.1 فیصد تک پہنچا دیا، جس کی وجہ خوراک کی قلت اور سپلائی چین (سلسلۂ رسد و ترسیل) میں رکاوٹیں تھیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ (خسارہ)  کے واپس آنے اور ریاستی زیرِ انتظام اداروں میں آئی ایم ایف کی رپورٹ کے بدعنوانی کو اجاگر کرنے سے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
چھوٹے اور ضرورت کے مطابق سولر منصوبوں کی تیزی سے توسیع  نے توانائی  کے ضمن میں کچھ راحت فراہم کی، تاہم آزاد بجلی پیدا کرنے والوں کے  پرانے معاہدوں اور گردشی قرض (سرکلر ڈیٹ) نے ان مالی فوائد کو محدود رکھا۔ اگرچہ حکومت نے سنجیدہ اصلاحاتی کوششیں کی ہیں، 2026 میں مستحکم لیکن کم ترقی کی توقع ہے، جبکہ مسلسل اقتصادی اور ماحولیاتی دباؤ کارکردگی کو محدود کرتے رہیں گے۔

سال 2026 میں پاکستان کے لیے کیا رکھا ہے؟

کمزور ملکی بنیادوں کے باوجود، پاکستان نے 2025 میں بیرون ملک غیر متوقع قوت دکھائی۔ٹرمپ 2.0 کو ایک تزویراتی موقع میں تبدیل کر کے اس نے سفارتی مہارت دکھائی جب اس نے تعاون کو دہشت گردی (کے خلاف تعاون )سے لے کر معدنیات، توانائی اور تجارت تک بڑھا دیا۔علاقائی ڈیٹیرنس کے خدشات کے باوجود،بھارت کے ساتھ مئی کے بحران نے پاکستان کی فوجی قابلیت کے بارے میں تاثرکو مزید مضبوط کیا۔مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی میں بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث پاکستان کی جغرافیائی سیاسی لیاقت بڑھی، تاہم اس نے ملک کو غیر مستحکم علاقائی دشمنیوں اور بڑی طاقتوں کی مسابقت سے بھی جوڑ دیا۔

تاہم یہ بیرونی فوائد اندرونی کمزوریوں کے سبب متوازن ہوجاتے ہیں۔پاکستان کو ایک دشمن طالبان حکومت اور ٹی ٹی پی کے مسلسل خطرے ، جمہوری اصولوں اور ادارہ جاتی توازن میں کمی، اور سیلاب، مہنگائی اور بدعنوانی کی وجہ سے اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ مشکلات 2026 میں بھی پاکستان پر دباؤ ڈالتی رہیں گی۔

سال 2025 کی غیر متوقع صورتحال آنے والے سال کے لیے پراعتماد پیش گوئیوں کی حوصلہ شکنی کرتی  ہے۔ پھر بھی، دو توقعات یقینی ہیں: پاکستان کی بین الاقوامی غیر متوقع حالات کو سنبھالنے کی قابلیت کو نظر انداز کرنا محض خام خیالی ہوگی، تاہم بیرون ملک (کارکردگی سے ملنے والا) کوئی بھی فائدہ غالباً ملکی، سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے دباؤ کے سبب محدود ہی رہے گا۔

This article is a translation. Click here to read the article in English.


***


Image 1: The White House via Whitehouse.gov

Image 2: TahirSultanBhutta via Wikimedia

Share this:  

Related articles

پاکستان کی تہدیدی افغان سفارت کاری: ناکامی کی طرف گامزن؟ Hindi & Urdu

پاکستان کی تہدیدی افغان سفارت کاری: ناکامی کی طرف گامزن؟

فوجی طاقت کا  بطور آلۂ کار استعمال یا اسے استعمال…

जवाबदेही के बिना व्यवस्था: क्षेत्रीय स्थिरता पर पाकिस्तान के 27 वें संशोधन के निहितार्थ Hindi & Urdu

जवाबदेही के बिना व्यवस्था: क्षेत्रीय स्थिरता पर पाकिस्तान के 27 वें संशोधन के निहितार्थ

पाकिस्तान की राष्ट्रीय विधायिका ने 12 नवंबर, 2025 को, विरोध प्रदर्शनों…

تہران میں ہلچل: پاکستان کے لیے تزویراتی خدشات کا تجزیہ Hindi & Urdu

تہران میں ہلچل: پاکستان کے لیے تزویراتی خدشات کا تجزیہ

ایران میں حالیہ احتجاجی لہر  نے تہران کے حکام میں…